مریم نے عوام کو گُڈیوں پر لگا کر خود جہاز اُڑانا شروع کر دئے؟

آجکل مریم کے لگژری جہاز کے تذکرے بھی بسنت کی گڈیوں کی طرح اونچی اڑان پر ہیں۔  یہی رویہ قوم کے شعوری ہونے کی نشانی ہوتا ہے۔ سوال کرنا قوم کا حق اوراس کا تسلی بخش جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اس پر پنجاب حکومت کا وضاحتی جواب بھی آچکا ہے جس میں وہ اس طیارے کی خریداری کے مقصد کو پنجاب ائیر میں شمولیت بتا رہے ہیں جبکہ اس طیارے کو ابھی تک پاکستان میں رجسٹر نہیں کروایا گیا لیکن اس مختصر وضاحت کے بعد عوامی سطح پر کئی اور سوال جنم لے رہے ہیں مثلاً یہ کہ یہ طیارہ عوامی مسافروں کے لئے نہیں بلکہ کاروباری یا اداروں کے ذاتی استعمال والا ہے یا اگر پنجاب حکومت میں اتنی صلاحیت تھی تو وہ پی آئی اے کو ہی خرید کر اپنا شوق پورا کر لیتے لیکن اب اس میں کیا حکمت ہے کہ انہوں نے قومی ائیر لائین خریدنے کی بجائے اپنی نئی ائیر لائین متعارف کروانے کو ترجیح دیا اس کی تفصیلی وضاحت تو بہرحال پنجاب حکومت ہی دے سکتی ہے۔

حکومتیں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے کے لئے طیارے خریدتی رہتی ہیں اور سوشل میڈیا پر جہاں حکومت پر تنقید کی جارہی ہے وہیں لوگ حکومت کے حق میں بھی رائے دے رہے ہیں لیکن اس میں بنیادی نقظہ یہ ہونا چاہیے کہ ہماری تنقید یا تائید غیر جانبدارانہ ہو جو مکمل طور پر انا پرستی، ضد اور ہٹ دھرمی سے آزاد ہو جس کا مقصد اصلاح ہو اور یہ  ہدف سے کسی بھی طرح کے تعلق یا واسطے سے مکمل طور پر بے نیاز ہو اور ایسی سوچوں کے قومی سطح پر یقیناً مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ 

عوامی شعور کے اس رویہ سے عوامی احتساب کے عمل کو تقویت ملتی ہے جو کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اس سے عوام کے اندر ملکی املاک کی ملکیت اور اہمیت کے احساس کی طرف اشارہ ملتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ملکی معاملات میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

حکومت کو اب چاہیے کہ وہ اپنے متعلقہ وزیر سے پریس کارنفرنس کروایں اور عوامی سطح پر اٹھنے والے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے عوامی حوصلہ افزائی کے زریعے سے شعور کو اپنا موثر ہتھیار بنا کر ترقیاتی اور فلاحی کاموں میں مثبت نتائج کے لئے استعمال کریں تاکہ عوام اپنی صلاحیتوں کو فضول بحثوں میں استعمال کرنے کے بجائے اس کا اطلاق ترقیاتی کاموں کی نگرانی اوران میں شرکت کرتے ہوئے فعال بنانے میں استعمال کر سکیں۔

لیکن یہ سب تب ہی ممکن ہے جب حکومت عوامی سوالوں پر ان کو مطمئن کرتے ہوئے مکمل اعتماد حاصل کر کے ان کی سوچوں کی سمت کو درست کر سکیں اور حکومت پنجاب نے اس کے لئے کئی عملی اقدامات بھی اٹھائے ہیں جن میں وزیر اعلیٰ سے شکایات کا پورٹل اور صوبائی محتسب کو با اختیار بنانے کے اقدامات ہیں۔ 

اب یہ حکومت کا امتحان ہے کہ وہ کس قدر اپنے شفافیت، برابری اور خود احتسابی کے دعووں میں مخلص ہیں اور اسے بہترین موقعہ سمجھتے ہوئے اس سے عوامی مقبولیت اور خدمت کے مواقعوں کو تلاش کرنا ہوگا یہی وہ موڑ ہے جہاں اکثر حکومتیں لا پرواہی اور اپنے آپ کو جوابدہی کے عمل سے ماورا سمجھتے ہوئے ناکام ہو جا یا کرتی ہیں اور قوم یہ کہنے میں بجا ہو گی کہ مریم نے قوم کو گڈیوں پر لگا کر خود جہاز اُڑانا شروع کر دئے ہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

دیکھے جانے کی تعداد