سوچ کی غذا

استفسار آئین کی عزت کیلئے ربط کے لحاظ سے چھانٹی کردہ اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ تاریخ کے لحاظ سے چھانٹی کریں سبھی اشاعتیں دکھائیں
استفسار آئین کی عزت کیلئے ربط کے لحاظ سے چھانٹی کردہ اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ تاریخ کے لحاظ سے چھانٹی کریں سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 15 جولائی، 2022

آئین کی عزت سے ہی ملک و قوم کی عزت ہے

 

آئینی اداروں کو اپنی حدود میں رہنے کی ترغیبیں دینے والے سیاستدانوں نے ملک کے سب سے بڑے آئینی ، عوامی نمائندہ اور انتظامی ادارے پارلمنٹ اور ملکی انتظام انتصرام کے اعلیٰ عہدوں کی تضیک کی حدیں پار کردیں ۔ آئینی کا مذاق اڑایا اور پارلیمان کی رکھوالی کے منصب پر مامور سپیکر کو استعمال کرتے ہوئے  حکومت کو بچانے کے لئے ایک ایسا کھیل کیھلا جس کی جمہوری ادوار میں مثال نہیں ملتی ۔

اور پھر صرف یہ ہی نہیں بلکہ آئین کی حفاظت اور اپنے حلف کی پاسداری میں عدالتوں کے آئینی دائرہ اختیار کو بھی نظر انداز اوراس کا مذاق اڑایا گیا اور ابھی تک وہ روش اپنی جگہ پر قائم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس اخلاقی ، سیاسی اور آئینی بحران کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے  کاروائی کرکے پاکستان کو اخلاقی پستی کے شکار سیاستدانوں کی غیرآئینی اور غیر دانشمندانہ سرگرمیوں سے جان چھڑانے کے لئے اپنے حالیہ فیصلے میں حکومت اور پارلیمان کو  ایک واضح حکمت عملی وضع کرنے کا موقع فراہم کیا ہے تاکہ اس طرح کے خطرات کا مستقبل میں راستہ بند کیا جاسکے ۔

اب حکومت پر منحصر ہے کہ وہ آئین اور عدالت عالیہ کے رائے کی روشنی میں اقدامات اٹھا کر آئین ،جمہوریت اور قانون کی عملداری کو یقینی بناتی ہے یا پھر اس کوایک بار پھر اپنی سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھا دیتی ہے ۔ اب وقت ہے اداروں کو تقویت ، اعتماد اور ایک آخری انتباہ دینے کا کہ اب مزید سیاسی کھلواڑوں کی کوئی گنجائش نہیں ۔

آئین اور قانون کو اس کی روح کے مطابق حرکت میں لاکر نظام انصاف کو اپنی طاقت استعمال کرنے کا موقع دینا ہوگا تاکہ کوئی ایسی مثال بن سکے جو ماضی کے تمام طعنوں کو دھو سکے اور سات دہائیوں سے ہونے والی قومی بےوقوفیوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے ۔

اس ملک میں اگر ججز اور جرنیلوں کی مثالیں خوش آئیند نہیں تو سیاستدان بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں لیکن اس کا مورد الزام اداروں کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا اور نہ ہی شخصیات کی غلطیوں کے ادارے جوابدہ ہیں البتہ اس پر اداروں کو اپنے عمل سے پشیمانی کا اظہار ضرور کرنا چاہیے جس کا طریقہ یہی ہے کہ ادارے اس طرح کے واقعات کے مستقبل میں خدشات کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور اس کے سدبات کے لئے کوئی لائحہ عمل بنانے میں ساتھ دیں ۔

اب پارلیمنٹ کو چاہیے کہ اداروں کی امامت کرتے ہوئے آگے بڑھے اور اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے قانونی کاروائی کو عمل میں لائے لیکن اس میں ایک بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس میں انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے اور کسی بھی قسم کے سیاسی انتقام کی ہلکی سی بھی جھلک نہیں ہونی چاہیے ۔

 حکومت کو ایک بات کا انتہائی سنجیدگی سے خیال رکھنا ہوگا کہ کوئی بھی عمل ایسا نہ ہو جس کو تاریخ کے کٹہرے میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے اور حکومتی وزرا کو اپنی آراء دینے سے حتی الوسع اجتناب کرنا چاہیے اور ان کے بیانوں سے حکومت کی پالیسی کی جھلک ملنی چاہیے جس کے پیچھے کابینہ کے فیصلوں کی طاقت ہو وگرنہ یہ سیاسی کشیدگی کا سلسلہ کبھی بھی ختم نہیں ہوگا ۔  

تحریک انصاف نے اپنے خلاف ایک بہت بڑا محاذ کھول لیا ہے جس کا پس منظر سیاسی انتقام اور غیر آئینی اقدامات سے تو ہے ہی جس کا وہ اب خود ہی اعتراف کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں مگر زیادہ تراس کا تعلق ان کے رویوں سے ہے جس کا سلسلہ ابھی بھی نہ صرف جسلے جلوسوں میں بلکہ صدر ہاؤس سے بھی جاری ہے ۔

اتنی ساری الجھنوں کو شروع کرنے سے پہلے یہ بھی سوچنا چاہیے تھا کہ جن حقائق کی بنیاد پر وہ سازشی خدشات کا اظہار کررہے ہیں ان حقائق کا حصہ وہ خود بھی رہے ہیں ۔ اور ثبوتوں میں جرم کے شواہد ہی نہیں اعتراف جرم کا بھی ساماں ہے ۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں سپیکر کی رولنگ کو کالعدم دیا جاچکا ہے اور سپریم کورٹ نے اصول وضع کردیا ہے کہ اکلیت اکثریت پر اپنے فیصلے نہیں ٹھونس سکتی اور جس رولنگ کے پیچھے پارلیمان کی طاقت نہ ہو اس کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ۔ مزید اضافی نوٹ میں صدر سابق وزیراعظم اور ڈپٹی سپیکر پر آرٹیکل کی دفعات کے لگنے کی رائے کا اظہار کوئی چھوٹی بات نہیں اور پھر سینٹ میں اس پر قراداد بھی جمع ہوچکی ہے جسے تحریک انصاف کو سنجیدہ لینا ہوگا ۔

اور اب رویوں کو بدلنے کا آخری موقعہ ہے جس کے آثار بحرحال نظر نہیں آرہے ۔ آج بھی فواد چوہدری کے رویے میں دھمکی آمیز انداز سے ان کے لئے مشکلات میں اور بھی اضافہ ہونے کے خدشات ہیں کیونکہ نرمی تب ہی ممکن ہوگی اگر الجھنوں میں کمی آئے وگرنہ پھر مصلحتیں ، محبتیں اور مفاہمتوں کی نیتیں کمزوری دکھنے لگتی ہیں اور اسی مشق نے حالات کو اس سنگینی تک پہنچایا ہے ۔ فواد چوہدری کی غیر سنجیدہ حرکتوں کا بہرحال خمیازہ تو اب محرک کرداروں کو ہی بھگتنا پڑے گا ۔

اچھی بات ہے اگر اس اسمبلی میں ایک فوجی ڈکٹیٹر پر غداری کا مقدمہ چلانے کی بات ہوئی اور اس پر کاروائی عمل میں لائی گئی تھی تو پھر سیاستدانوں کو بھی استثنیٰ نہیں ہونا چاہیے اور یہی آئین کی روح کی منشاء ہے ۔ مگر میں پھر کہوں گا کہ اس میں انصاف اور غیر شفافیت ہونی ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتی ہوئی نظر بھی آنی چاہیے کیوںکہ یہ اسمبلی مستقل رہنے کی جگہ نہیں بلکہ یہاں شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں مستقل حکمرانی اگر ہے تو وہ آئین کی ہے اور اسی میں ہم سب کی بہتری کا راز پوشیدہ ہے ۔  

ماضی کے واقعات سے سبق حاصل کرتے ہوئے اب جو بھی فیصلے ہوں سیاسی ہوں ، عدالتی ہوں یا ادارہ جاتی ان میں آئین کی عزت کے بارے رعایات کا پہلو قطعاً نہیں ہونا چاہیے ۔


جمعرات، 13 جولائی، 2023

سولہ ستمبر کے بعد سپریم کورٹ کا نیا دور شروع ہوگا

قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں عدلیہ آزاد اور مضبوط ہوگی

اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ وہی ملک ترقی کرتے ہیں  جہاں انصاف یقینی ہو۔ انصاف ہی جمہوریت، قانون کی حکمرانی ، انسانی حقوق کی پاسداری  اور سیاسی استحکام کو یقینی بناتا ہے۔اور جب یہ تمام شرائط پوری ہوجائیں توعوام کے اندر وہ اعتماد پیدا ہوتا ہے جس سے حق بات کہنے اور سننے کا حوصلہ پیدا ہو ۔پھر عالمی سطح پر اعتماد بحال ہوکر بیرونی سرمایہ کاری کی راہیں ہموار ہوجاتی ہیں  اور حکومت نے شائد اسی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے جسٹس فائز عیسیٰ کا بحثیت اگلے چیف جسٹس کا نوٹیفکیشن وقت سے پہلے جاری کر دیا ہے تاکہ غیر یقینی صورتحال ختم ہو۔ ان کے چیف جسٹس بننے سے یقیناً حالات بہتر ہونگے مگرمکمل غیر جانبدار ی اور شفافیت کے لئے عدالتی اصلاحات کی ضرورت ہوگی۔ جس میں ججز کی تعیناتی کے عمل کو موثر بنانے کی انتہائی ضرورت ہے ۔  

نامزد چیف جسٹس فائزعیسیٰ سولہ ستمبر کو اپنا چارج سنبھالیں گے اور پاکستان میں بہتری کی ایک نوید کا آغاز ہوگا۔ اس بات کو میں کسی مفروضے کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا بلکہ اس کے گواہ ان کے وہ فیصلے ہیں جن کی بنیاد پر کوئی بھی اس ملک کا مقتدر حلقہ ماضی میں ان سے خوش نہیں رہا جس کی وجہ ان کا غیر جانبدارانہ اور شفاف انصاف ہے جس کے ہم عادی نہیں ہیں ۔

فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر پاکستان تحریک انصاف، فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان ناراض ہوگئے تھے  کیونکہ اس میں انہوں نے واضح طور پر کہاتھا کہ آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آرسیاست میں دخل اندازی بند کریں اور انہوں نے ذمہ داران کے خلاف ایکشن لینے کا بھی حکم دیا تھا جس کی وجہ سے  ان کو عہدے سے ہٹانے کی کوششیں تیز ترہوتی ہوئی دکھائی دیں اورکئی مفاد پرست ججز کی لاٹریاں بھی نکلیں اور مستقبل کے بندوبست کے پیش نظر ججز کی تعیناتیوں اور بھرتیوں کی منڈی لگی رہی جس کے نتائج آج ہم بھگت رہے ہیں ۔

میمو گیٹ کے فیصلے پر پیپلزپارٹی ان سے ناراض ہوئی ۔کوئٹہ بم دھماکے میں مسلم لیگ کی حکومت ان سے ناراض ہوئی تھی۔ اور ابھی ان کو آڈیو لیک کمیشن  کی سربراہی دینے پر سپریم کورٹ کے اندر پریشانی لاحق ہے جس کو محض ایک پریکٹس کی بنیاد پر  اپنی پریشانی کو سہارا دینے کے لئے قاضی جسٹس فائز عیسیٰ کو کام کرنے سے روک دیا گیا۔ اسی طرح قاضی فائز عیسیٰ کو وکلاء کی ہڑتال پر سخت چڑ ہے کہ سائلین سے بھاری فیس لے کر جب وہ عدالت میں اپنی تاریخ پر آئیں تو وکلاء کی طرف سے ان کے ساتھ پیشی پر اس لئے انکار کر دیا جائے کہ وہ  ہڑتال پر ہیں انتہائی ظالمانہ رویہ ہے ۔

پارلیمان کی طرف سے ان کو دستور کی گولڈن جوبلی پر بلایا گیا اور جس پر ان کو ان کے مخالفیں کی طرف سےتنقید کا نشانہ بھی بنایاگیا۔ وہاں انہوں نے حکومت کو واضح طور پر یہ پیغام دے دیا تھا کہ اگر آپ کل میرے فیصلوں سے کوئی بے جا  نرمی یااصولی مزاحمت سے بچنے  کی امید وابسطہ رکھے ہوئے ہیں تو وہ ختم کردیں ۔   

پھر ان کوان سے مشورہ کئے بغیر  فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستوں کو سننے والے بنچ میں شامل کرلیاگیا جو ان کی دلیری اور بہادری کی ایک اور مثال بن گئی ۔ ان کو شامل کرنے کی وجہ ایک سلگتی ہوئی خواہش تھی  جس پر ان سے مہر ثبت کروانے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ فوجی عدالتوں بارے ایک واضح موقف رکھتے ہیں ۔ لیکن ان کی آئین و قانون  کی پاسداری کی مثال نے  سب کو بے نقاب کر دیا اور انہوں وہ ساری باتیں بھری عدالت کے سامنے رکھ دیں جو چہ مگوئیوں میں کہی جارہی تھیں ۔ انہوں نے  سپریم کورٹ کے آج کل بنائے جانے والے تمام بنچز پر اپنی عدالتی رائے  کو واضح کردیا کہ ان کے نزدیک بنچز قانونی طور پر جائز نہیں ہیں ۔اور پھر ان کے اس نوٹ کو سپریم کورٹ کے ویب سائیٹ سے بھی ہٹا دیا گیا جس سے تمام نیتوں کی وضاحت  قوم کو مل گئی کہ کس طرح سے سپریم کورٹ کے اندر لوگ ان کی قانونی  رائے سے خائف اور پریشان ہیں ۔

جس بندے نے خود کوئی پلاٹ نہیں لیا وہ  پلاٹوں  کی بندر بانٹ اور ریاستی وسائل سے کھیلنےوالوں کے لئے کیسے قابل برداشت ہوسکتے ہیں ۔ جنہوں نے حفاظ کرام کو بیس نمبروں سے اس لئے محروم کر دیا کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے  جس سے اقلیتوں کے حقوق کی تلفی ہوتی ہے ۔

انکے خلاف معزولی کا ریفرنس بھی ان سے ظالمو کو ممکنہ لاحق خطرات کے پیش نظر ہی تھا جو ان کی انصاف کے معاملے میں شفافیت سے خائف تھے۔ جس میں جسٹس فائز عیسیٰ  اور ان کے خاندان کو رسوائی اور پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر اللہ کی طرف سے ان کی  بے گناہی کا فیصلہ بھی ہوا۔ انہوں نے ایک وقت پر استعفیٰ بھی دینے کا ارادہ کر لیا تھا مگر پھر اس کو صرف اور صرف اس ملک اور عوام کی خدمت کی خاطر ترک کر دیا۔ اب اگر ان کوخدمت کا موقع مل رہا ہے تو یقیناً وہ  عوام کی مشکلات کو کم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ ان کے اس ریفرنس میں ملوث لوگ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں رہے  اور سب ایک دوسرے کو بے نقاب کرتے رہے اور اپنی صفائی میں تسلیاں دینے کی کوشش کرتے رہے ۔ اس وقت کی ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے بیانات بھی تاریخ کا حصہ ہیں  جن میں وہ قصورواروں کو بے نقاب کرتے رہے ۔

27 اپریل 2021 کو میرا ایک کالم "مجاہد قاضی فائز عیسیٰ" کے عنوان سے چھپا تھا جس میں نے ان کے اندر ان صلاحیتوں کا ذکر بھی کیا تھا جو ایک جج کے اندر ہونی چاہیں مثلاً اس کو اس عہدے کی خواہش نہ ہو، وہ اہلیت اور قابلیت رکھتا ہو اور  پھر انصاف پر مبنی فیصلے بھی کرتا ہو۔ اسی  کالم سے ایک پیرا   ریفرنس کے طور پر ملاحظہ فرمائیں۔

 قلات کا شہزادہ، بین الاقوامی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل جس کو گھٹی میں قضاء ملی اور جب ان کو قاضی کے عہدے کے لئے چنا گیا تو ایک اطلاع کے مطابق انکی تین کروڑ ماہانہ آمدن تھی ۔ ان کے کھاتے میں کئی منفردات جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کو براہ راست چیف جسٹس آف بلوچستان ہائی کورٹ لگایا گیا جس کو بعد میں چیلنج بھی کیا گیا مگر وہ اس سے سرخ رو ہوئے اوروہ جن کو نہ تو عزت کی کمی تھی اور نہ مال و دولت کی بلکہ ان کو لانے کا مقصد ہی پاکستان کی عدلیہ کو ایک ایسا جج دینا تھا جس کی واقعی ضرورت تھی "

آج ہماری وہ ضرورت صحیح معنوں میں پوری ہونے کی صورت دکھائی دے رہی ہے ۔ 

جس کو جان کے خطرے کی دھمکیاں بھی ملتی رہیں مگر وہ اپنی رہائش سے پیدل سپریم کورٹ  واک کرتے پہنچ جاتے ہیں ۔ جن کا خدا اور موت کے دن پر مصمم یقین ہے جن کے نزدیک خوشامد اور تعلق  انصاف کی کرسی پر بیٹھے ہوئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے ۔ جس کے نزدیک آئین و قانون اور  اس کی پاسداری کا حلف ہی انصاف کا معیار ہو  پھر اس  سے بہتری کی نوید کیوں نہ لگائی جائے ۔ دعا ہے کہ اللہ قاضی فائز عیسیٰ کا حامی و ناصر ہو۔

اس بیان کا مقصد یہ ہے کہ بہتری کی امیدوں کے لئے ماحول کی زرخیزی کے آثار موجود ہیں مگر اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمان  فوائد حاصل کرنے کے لئے مثبت اور جائز اصلاحات کے زریعے سے لاحق خطرات کا سد باب کر سکے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ وہ عدلیہ کا احترام بحال کرنے کے ساتھ ساتھ عام شہری کا احترام بھی بحال کریں گے۔ نظام انصاف کے ماحول میں لاء آف ٹارٹ پرعملدرآمد عدلیہ کی ترجیحات میں شامل ہوگا تاکہ اس ملک میں آئین و قانون کی بالادستی  کو یقینی بنایا جاسکے اور الزامات کی ثقافت اور سیاست کا خاتمہ ہو۔ ریاست کے وسائل کی طاقت سے بنائے گئے قلعے ٹوٹیں گے اورسول بالادستی کو فروغ ملےگا۔

مگر اس کے لئے سیاستدانوں کو بھی پارلیمان کو مضبوط بنانا ہوگا اپنا خوف ختم کرکے احتساب کے عمل میں آزاد اور مضبوط عدلیہ کے قیام کے لئے ان کا ساتھ دینے کی تیاری کرنی ہوگی۔ فیض آباد دھرنا کیس جیسے فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے حکمت عملی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ  اس ملک کے ساتھ ہونے والے کھلواڑکا حساب برابر کرکے اس باب کو ہمیشہ کے لئے بند کیا جاسکے۔

اس کے لئے سازگار ماحول 16 ستمبر کے بعد مہیا ہونے والا ہے اور اس کی راہ میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بھی بظاہر کوئی رکاوٹ دیکھنے میں نہیں آرہی مگر اس کا حوصلہ بہر صورت پارلیمان کی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنا ہوگا۔اداروں پر محض تنقید ہی نہیں کرنی ہوتی بلکہ ان کو مضبوط بنانے کے لئے اقدامات  بھی کرنے ہوتے ہیں  تب ہی آئین کی بالادستی کے ثمرات حاصل ہوتے ہیں ۔آئین کے اندر چیک اینڈ بیلنس سسٹم کو مکمل طور پر فعال اور موثر بنانے کے لئے اصلاحات لانے کا ماحول بھی سازگار اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے   نظام کو بہتر بنانے کا بہتریں موقعہ ہوگا۔مکمل اور آزاد عدلیہ کے لئے احتساب کے عمل کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے جس کا آغاز بھی نظام عدل سے ہی ہونا چاہیے ۔ جسٹس فائز عیسیٰ ججوں کی تعیناتی اور بنچز کی تشکیل وغیرہ بارے اپنی سوچ کا اظہار متعدد بار کر چکے ہیں اور وہ یقیناً اس کے لئے  کوشش بھی کریں گے مگر  پارلیمان کو بھی اپنے حصے کی ذمہ داریاں پوری کرنے کی ضرورت ہے ۔

سپریم کورٹ  کے اندر کی تقسیم  محض چیف جسٹس کے بدل جانے سے ختم نہیں ہوجائے گی۔ اس تقسیم کی بنیاد وہ بندوبست ہے جس کو دہائیوں پر مشتمل اقتدار کے خواب کے پیش نظر عمل میں لایا گیا۔ عدلیہ کے ساتھ اس اقتدار کو ہم آہنگ بنائے رکھنے کے لئے ہم خیال ججز کو بھرتی بھی کیا گیا اور اعلیٰ عدلیہ میں تعینات بھی کیاگیا جس کے مبینہ شواہد بھی گردش کر رہے ہیں اور ان کی سب سے بڑی وجہ ان تعنیاتیوں میں سنیارٹی کے اصول کی خلاف ورزی ہے جس نے ان تمام خدشات کو جنم دیا۔ اب ان مبینہ شواہد کی بنیاد پر عدالتوں کی غیر جانبداری اور شفافیت کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی بھی ضروری ہے  تاکہ عدالتوں پر عوام کا اعتماد بحال کرکے ادارے کی ساکھ کو بچایاجاسکے۔جس کے لئے قاضی فائز عیسیٰ پر ایک بھاری ذمہ داری ہے جس کے لئے  سپریم کورٹ کے ججز اورحکومت کو بھی ساتھ دینا چاہیے  تاکہ ملک میں آئین و قانون کی پاسدار کو یقینی بنایا جاسکے۔  تمام وہ فیصلے جو عدلیہ کی بدنامی کا سبب بنے ان کی تلافی بھی ضروری ہے۔ 

منگل، 14 جنوری، 2025

معلوم اور نامعلوم کے بیچ میں لٹکتا بے بس انصاف

 

کہا جاتا ہے کہ ظلم اور نا انصافی کو مٹانے کے لئے قانون اور انصاف کی تعلیم اور اس کی آگاہی دی جائے۔آج  حکومتی سطح پر  قانون سازیاں بھی ہوتی ہیں سوسائٹی کی سطح پر اس کی آگاہی کے پروگرام بھی ترتیب دئے جاتے ہیں۔  حقائق کو بیان کرتے ہوئے حل دیے جاتے ہیں لیکن جب انصاف کا نظام ہی پسماندہ ہو چکا ہو تو آئین، قانون، ان کی تعلیم و آگاہی اور انصاف مہیا کرنے والے ادارے سب بے فائدہ ہو جاتے ہیں۔  

جب کسی شہری کو کوئی جانی مالی یا ذہنی اذیت کا خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اس کی دادرسی کی پہلی امید پولیس سٹیشن سے ہوتی ہے جسے ریاست نے شہریوں کی جان، مال، عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری دی ہوئی ہوتی ہے اور قانون یہ کہتا ہے کہ کسی بھی وقوعہ کی اطلاع پر فوراً سب سے پہلے اس کا اندراج عمل میں لایا جائے خواہ اس کی اطلاع دینے والے کا وقوعے سے کوئی تعلق ہو یا  نہ ہو مگر ہمارے ہاں سب سے مشکل کام ہی کسی جرم کی رپورٹ کو درج کروانا ہے بلکہ قومی سطح کا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ جہاں جرم کا اندراج ہی نہیں ہوگا وہاں انصاف کے عمل کا آغاز کیسے ہوگا؟

چلیں آپ کو اپنا  ذاتی اور تازہ تجربہ سناتا ہوں۔مجھے کچھ دنوں سے نا معلوم افراد کی طرف سے تعاقب کا خدشہ ہو رہا تھا جو پچھلے منگل کو دھمکیوں تک آن پہنچا جس کی اطلاع کے لئے میں تحریری درخواست لے کر پولیس سٹیشن پہنچا تو  پہلے ڈیوٹی آفیسر سے ملاقات کے لئے ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا اور جب اپنی روداد سنائی تو ان کا جواب  تھا کہ "ملزم ہی نا معلوم ہوں تو پھر ہم کیا کرسکتے ہیں؟" جس پر انتہائی حیرت ہوئی۔میں نے عرض کیا کہ اگر کسی وقوعہ کے ملزم نا معلوم ہوں تو  اس میں جرم سرزد نہیں ہوتا؟ میں نے ان کو بتایا کہ 2018 میں میرے گھر سے لیپ ٹاپ اور ڈیجیٹل کیمرےبھی پر اسرار طریقے سے چوری ہوئے تھے جن کے واضح فنگر پرنٹس بھی ملے تھے جن کی رپورٹ اسی تھانے میں درج ہے وہ بھی آج تک نہین ملے۔  بہرحال کچھ عرض گزارشات کے بعد انہوں نے محرر کو میری درخواست وصول کر کے ڈائری نمبر مرحمت فرمانے کی ہدایات دے دیں۔

مجرم کی تو حتیٰ الوسع یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی شناخت نہ ہو سکے مگر وہ جتنا بھی چالاق ہو کوئی نہ کوئی ایسی نشانی ضرور چھوڑ جاتا ہے جس سے اس کا سراغ مل جائے۔ مگر ہمارے ہاں نا معلوم ہمیشہ نا معلوم ہی رہتے ہیں یہ ان کی بھی تفخرانہ خاصیت ہے جو شائد قانون اور انتظامی امور کی پہنچ سے بھی بالا تر ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا کیوں کہ کچھ اور معلوم ہو یا نہ ہو مگر اپنی انسانی، شہری اور صحافتی اوقات اچھی طرح معلوم ہے جس کے ارشد شریف کی روح، مدثرناڑو کا خاندان اور مطیع اللہ جان کا وجود گواہ ہیں۔

بات صرف معلوم نا معلوم کی بھی نہیں راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم میں بھرے مجمعے میں میڈیا کے سامنے چیف جسٹس کو جو خطاب نوازے گئے وہ پوری دنیا نے سنے اور  دیکھے۔

جب ججز کے شعور، اختیار اور بے بسی کا یہ حال ہو کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے سانحات پر کوئی قانونی کاروائی کرنے کی بجائے خطوط کے زریعے چیف جسٹس کو آگاہ کرنا ہی اپنے منصب کی شان سمجھتے ہوں تو پھر کیا کہنا یا سننا۔ ججز ایگزیکٹو سے سننا چاہتے ہیں اور ایگزیکٹو ویسے ہی آزاد ہیں (اس جھنجھٹ سے) کیونکہ انہوں نے کمیشن بنا ئے ہوئے ہیں جو خود مختار ہیں اور  سب کی بے حسی کا یہ حال کہ ان کو  اپنی توجہ دلاتے سردیوں کی ٹھٹرتی راتوں میں بچے، عورتیں اور بزرگوں بھی دہشت گرد دکھتے ہیں۔

جب ججز کی بھرتیوں، تعیناتیوں اور ترقیوں پر سودے بازی ہوتی ہو اور اپنے بندے ججز لگانے کی ثقافت وجودپا چکی ہو ایسی  عدالتوں سے ہم خیال ججز کی اصطلاحات متعارف کرواتے ہوئے عدالت کے نام پر سیاست  کرنے سے زیادہ کیا توقع کی جا سکتی ہے اور ان کے فیصلوں کی صوتحال یہ ہوتی ہے کہ بنچز کی تشکیل سے ہی ان کے بارے قائم تاثرات ان کے فیصلے سنانے لگتا ہے۔

ایسے ماحول میں انصاف کی توقعات کے پیمانے بھی ایسے ہی ہوا کرتے ہیں " وکیل کیا کرنا ہے جج کو ہی کر لیتے ہیں "اس لئے وہاں قانون و انصاف کی تعلیمات اور آگاہی کسی کام کی نہیں ہوتی۔ وہاں صرف قانون سازی کی مشقیں اور اس کی آگاہی کی ورکشاپیں ہی ہوا کرتی ہیں ان کا اطلاق نہیں ہوا کرتا بلکہ ایک قانون بنایا جاتا ہے پھر اس کی ریشہ دوانیوں کو دور کرنے کے لئے نیا قانون، اس کے اطلاق کے لئے ایک ادارہ اور پھر اس کی نگرانی کے لئے ایک اور ادارہ بس یہی مشقیں چلتی رہتی  ہیں کارکردگی صرف بدعنوانی کی صورت میسر آتی ہے۔

بدعنوانی کو ہی لے لیں اس کے متعلق قوانیں اور اداروں کی کوئی کمی ہے؟ لیکن قومی سطح سے لے کر عوامی سطح تک ساری صلاحیتیں خواہ وہ قانون کے استعمال کی ہوں، اس کے اطلاق یا اس پر انصاف  مہیا کرنے کی سب بدعنوانی کو تحفظ دینے میں لگی ہوئی ہیں۔ تعجب اور شرمساری کا تو یہ مقام ہے کہ ریاست کے وسائل ہی کے استعمال سے ریاست کا کباڑہ کیا جا رہا ہے اور قوم تماشہ دیکھ رہی ہے۔

جب انصاف کے ماحول کو یقینی بنانے والے اپنی بے بسیوں کے عقب سے عوام کو اصلاحات کے زریعے حل کی بجائے خرابیوں کے حقائق سنانے کے دھوکے میں مصروف ہوں تو معلوم یوں ہوتا ہے کہ پورا نظام ہی پسماندہ ہو چکا ہے جس کی اصلاح سیاسی انقلاب سے ہی ممکن ہے جس کے لئے شعور اور اعلیٰ اخلاقیات درکار ہوتے ہیں جن کے لئے سیاست، جمہوریت اور ریاست کی بنیادوں کو آئینی حدود کے اندر رہ کر عملی نمونے پیش کر کے ٹھیک کرنا پڑتا ہے۔

نظام کی اصلاح کی اصل  ذمہ داری سیاسی عمل کا حصہ ہوتی ہے جس کے لئے مخلص، با اصول اور سیاسی شعور رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو عوام کی شعوری تحریک کی مرہون منت ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ "عوام ووٹ تو دیتے ہیں مگر مینڈیٹ چرا لیا جائے تو وہ کیا کریں؟"لیکن جب کسی مخالف طاقت کے مد مقابل میدان میں نکلے ہوئے ہوں تو اس طرح کی توجیہات بے معنی سی لگتی ہیں۔ جمہوریت میں یہ جنگ سیاستدانوں اور عوام کو اکٹھے مل کر لڑنی ہوتی ہے۔ کسی بھی شعبے کی کارکردگی اس کے اندر نگرانی، ڈسپلن، اتحاد، یکجہتی اور اہلیت پر منحصر ہوتی ہے۔ اور سیاست میں ڈسپلن لائے بغیر نہ تو آئین کی پاسداری کو ممکن بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی سول بالادستی کو۔ آخر میں مختصراً  کہوں گا کہ انصاف کی تعلیم ہو یا عام تعلیم ،  سیاسی  نظام ہو یا ریاستی انتظام اس کی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات سے تزئین و آرائش کرنی کی ضرورت ہے۔

مجھ جیسوں کا قصور یہ ہے کہ وہ بہتری کے لئے کوشاں کیوں ہیں؟ اور حالات کے ہاتھوں  اب یہ کوشش انتہاء پسندی سے خائف معرفت کی زبان اور الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف سوچ اور ذہانت کی سطح پر شعوری اضطراب میں مبتلا ہو چکی ہے بلکہ اعصاب بھی شل ہو رہے ہیں۔ مگر کیا کریں وطن کی محبت میں جب اندر گھٹن ہوتی ہے تو اس کو تحریروں میں ڈھال کر بوجھ ہلکا کر لیتا ہوں اور جب باہر سے دم گھٹتا ہے   تو توقف کر لیتا ہوں۔ آخر میں صرف اتنا ہی

کچھ بھی کہنے سے ڈر لگتا ہے

اپنا گھر بھی دشمن کا گھر لگتا ہے

چاہا بہت نہ کھولوں لب اپنے

پر منافقت اب یہ صبر لگتا ہے

قاضی ملاں، محافظ ہو یا کوئی صحافی

ہر کسی کی باتوں میں شر لگتا ہے

جلا کر رکھ دیا ہےمیرے چمن کو

بےحسی کو تیری جو انداز خبر لگتا ہے

درندوں کو بھی دے گیا ہے مات

دیکھنے میں جو مانند بشر لگتا ہے

شاید بدل گیا ہے قیامت کا تصور

اب تو ہر روز یوم حشر لگتا ہے۔


(شائع ہم سب 14 جنوری 2025)

منگل، 23 دسمبر، 2025

عدالت عالیہ کا جذباتی اور جارحانہ حکمنامہ

عدالت عالیہ نے پنجاب پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس کے تحت فیصلوں کو نہ صرف روک دیا بلکہ کئے گئے فیصلوں کو بھی واپس کر دیا جو ایک انتہائی حیران کن انصاف ہے جس کے اندر قانون و انصاف کے تقاضے کہاں تک پورے کئے گئے وہ بہتر جاتنی ہونگی مگر ان کے اخبارات کی زینت بننے والے کمنٹس سے ابھرتے جذبات اور جارحانہ انداز سے بہت ہی مختلف اشارہ مل رہا ہے۔

انکا یہ کہنا کہ اگر آرڈیننس رہ گیا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں خالی کروا لیا جائے گا بالکل اسی طرح کا انداز منصفی ہے جو بابا رحمتے قانون ساز اسمبلی کے ممبران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ دو چار ایم پی اے تو میں کھڑے کھڑے گھر بھیج دونگا۔ 

انہوں نے مبینہ طور پر چیف سیکرٹری کو مخاطب کرتے ہوئے کمیٹی کے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کو زیادہ انصاف کا شوق ہے تو ایل ایل بی کا امتحان دیں جج لگ جائیں۔ میرے خیال میں تو وہ امتحان  دے کر ہی اس عہدے پر بیٹھے ہیں لیکن جج بننے کے لئے امتحان دینا کوئی شرط نہیں جس کی مثال کے لئے عدالت عالیہ یا عظمیٰ کے کسی بھی جج کا عہدہ کافی ہے۔

عدالت عالیہ سے عرض ہے کہ  ایل ایل بی قانون کو سمجھنے کے لئے ہوتی ہے لوگوں کے تنازعات ختم کرنے کے لئے ضروری نہیں اور اگر کسی کو ایل ایل بی کرنے کے بعد بھی قانون کی سمجھ نہ آئے تو پھر اس کا کیا کیا جائے یا جو جج بننے کے بعد بھی قانون کی دھجیاں اڑاتا پھرے اس کا کیا کیا جائے؟ کیا ایل ایل بی پڑھنے کے بعد آئین کی ایک ہی جج دو تشریحات کر سکتا ہے؟ قانون تو کیا یہ عقل کے پیمانوں پر بھی پورا اترتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ ایل ایل بی تو قانون ساز اسمبلی کا ممبر بننے کے لئے بھی ضروری نہیں جو قانون و آئین کے خالق ہیں۔ جن کے قلم کی جنبش سے آئین و قانون ہی نہیں بلکہ عدالتیں معرض وجود میں آئیں۔

ایل ایل بی میں تو انہی قوانین کے مجموعے کا علم اور اس کے استعمال اور ڈاکٹرائن پڑھائی جاتی ہیں جسکا عملی اطلاق ہو رہا ہوتا تو آج ہمارے ملک کا یہ حال ہوتا؟ 

عصر حاضر کے قاضی کے لئے علم و تجربہ سے زیادہ ریفرنس چاہیے ہوتے ہیں۔ اگر قاضی کی اہلیت کی شرائط کو دیکھا جاتے تو اس میں پہلی شرط ہی یہ ہے کہ اس کو اس عہدے کی خواہش نہ ہو۔ آج ہمارے نظام عدل میں کتنے ایسے ججز ہونگے جو اس شرط پر پورے اترتے ہونگے؟

اگر آرڈیننس کو پڑھا جائے تو ان کمیٹیوں کو ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹیوں کا نام دیا گیا ہے جو چھ ممبران پر مشتمل ہوتی ہیں جن میں ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، متعلقہ اسٹنٹ کمشنر، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، علاقے کا متعلقہ ڈپٹی پولیس آفیسر اور ایک کسی سرکاری ایجنسی سے کمیٹی کی طرف سے لیے گئے ممبر پر مشتمل ہوتی ہے۔ 

پاکستان کا آئین و قانون ہی کمشنرز کو زمینوں کے متعلق تنازعات کے فیصلوں کا اختیار دیتا ہے اور ان کی تعناتیوں کے لئے ایل ایل بی کا ہونا کوئی شرط نہیں۔

تنازعات کو ختم کرنے کے لئے تو عدالت کا ہونا بھی ضروری نہیں پولیس کو تنازعات نمٹانے کا اختیار ہے اور ان کی تنازعات متعلق تفتیشیں ہی عدالتی فیصلے کی بنیاد ہوتی ہیں اور ان کی رائے پر عدالتیں انصاف کی مہر ثبت کرتی ہیں۔

ہم نے پنچائتوں کے ایسے ایسے انصاف دیکھے ہیں جن پر عدالتیں بھی بڑے فخر سے اپنی مہر ثبت کرتی ہیں۔ انکی ساکھ ہی انکے فیصلوں کی اتھارٹی ہوتی ہے۔ انکی غیر جانبداری، شفافیت اور برابری کا عمل ہی ان کا برانڈ ہوتا ہے۔ 

ان کمیٹیوں اور ٹربیونلز نے ریاست کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے کتنی محنت سے معاملات کو نمٹایا ہوگا۔ یہ کمیٹیاں تو حقوق ملکیت کے ریکارڈ پر فیصلے کرتی ہیں جن کے اندر نا انصافی کے نہ ہونے کے برابر چانس ہوتے ہیں۔

اب اگر کسی کی طبیعت یا رسم و رواج پر بھاری اترے تو کیا کہا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں تو بیٹیوں اور بہنوں کو جائیداد میں حصہ دینا یا مانگنا بھی بے غیرتی اور بے عزتی سمجھا جاتا ہے۔ ایسی عزت اور غیرت کی رکھوالی کے لئے عدالتوں کے سہارے سال ہا سال مقدمات زیر التوا رہتے ہیں۔ 

ہو سکتا ہے اس آرڈیننس میں قانونی سقم ہوں مگر ان کی نشاندہی کر کے اصلاح کی کوشش کی جاتی۔ ہو سکتا ان کے قریب یہ بھی سقم ہو کہ اس میں وکیل کے زریعے نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ بھی قانونی سقم ہو کہ عدالت میں اگر کوئی معاملہ زیر التوا ہو تو عدالت کو عرض کر سکتے ہیں کہ وہ معاملہ ان کو بھیج دیں۔ انکے نزدیک یہ بھی سقم ہو گا کہ وہ طوالت پر مبنی ضابطوں کا نہیں اپناتے جن میں بابے آدم کے دور کے اخباری اشتہارات وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ بھی سقم ہوگا کہ فیصلہ 90 دنوں میں کرنا انصاف کا تقاضہ ہے۔ انکے نزدیک یہ بھی سقم ہوگا کہ قبضہ کا حصول فیصلے کا حصہ ہے ایسا نہیں کہ سائل کے ہاتھ میں فیصلہ تھما دیا جائے اور وہ اس پر عمدرآمد کے لئے در بدر دھکے کھاتا پھرے۔

مگر یہ قانونی سقم نہ تو اس آئین و قانون کی خالق قانون ساز اسمبلی کے نزدیک ہے اور نہ اس آئین کی اتھارٹی کے نزدیک جس کو آئین ہی آرڈینس جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے اور نہ ہی اس غریب عوام کے نزدیک جن کے مظلوم، بے یارومددگار اور بے کس افراد اپنے حقوق کے حصول کے لئے سالہا سال عدالتوں کے باہر دھکے کھاتے ہیں مگر حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ 

کیا روائتی نظام انصاف میں کوئی سقم نہیں جس کے اندر دادا انصاف کے لئے جاتا ہے اور پوتا فیصلہ تو شائد حاصل کر لے مگر اس کو یہ کئی نسلوں تک سمجھ نہیں آتی کہ اب اس پر عملدرآمد کیسے اور کب ہونا ہے؟ 

آپ کو معلوم ہے کہ اس آرڈیننس کے زریعے سے اپنا حق حاصل کرنے والوں کے عدالت عالیہ کے اس حکم امتناہی پر کیا ریمارکس ہیں؟ آج کل سوشل میڈیا پر کھل کر عدلیہ بارے عوامی اعتماد پر بات ہو رہی ہے۔ چند فیس بک کے حوالے سے شئیر کرتا ہوں۔

"تم لوگوں کو عدالتی سپریمیسی کی فکر ہے لیکن جس غریب کے پلاٹ کا قبضہ عدالت چھڑوانے میں 30 30 سال لگا دیتی ہے کسی قتل کے ملزم کو سزا دینے میں عدالت 20 20 سال ٹرائل کرتی ہے کسی غریب کی جمع پونجی لوٹی جانے پر عدالتیں ریکوریوں میں 5 5 سال گھسیٹتی ہے

کسی طاقتور سے غریب کے حق حلال کے پیسے دلوانے میں عدالتیں ملزمان سے حلفیہ بیان لیکر چھوڑ دیتی ہوں ایسے عدالتی نظام پر بلڈوزر پھیر دینا چاہیے"۔(عظمت علی)

"عدالتی بالا دستی کے نام پر نہ خود دھائیوں سے کچھ کیا نہ کسی اور کو کرنے دینا ہے سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ اگر ہماری عدالتیں اپنا کام کرتیں تو اس قانون کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی؟"(ناصر بٹ)

"آخر ججوں اور وکیلوں نے بھی تو روزی روٹی کمانی ہے۔ قتل، اغوا برائے تاوان جیسے مقدمات سی سی ڈی حل کر دے، تجاوزات اور قبضے پیرافورس چھڑوا دے تو ان دیوانی مقدمات کا کیا بنے گا جو یہ جج اور وکیل ملی بھگت سے سے تاریخ در تاریخ دے کر لٹکائے رکھتے ہیں؟ با اثر مجرم ہی پیسے والا ہوتا ہے ریٹ بھی زیادہ وہی دیتا ہے اب اگر حکومت ان طاقتور پارٹیوں کو فِکس کرنے لگے تو ہمارا نظام انصاف تو بے روزگار ہو جائے گا۔ عدلیہ اپنی برادری کے معاشی قتل عام پر خاموش کیسے رہ سکتی ہے۔

یقین کریں کہ پاکستان میں ہر خرابی کی جڑ ہماری عدلیہ ہے اور ہر جُرم کے سرپرست مسند عدل پر بیٹھے انصاف فروش درندے ہیں"۔(ظفر الاسلام)

 ان میں سے بہت سارے سخت فقرے میں حزف کئے ہیں۔ ان کی باتیں ٹھیک ہیں کیونکہ ہمارا مروجہ نظام انصاف ظالم کی حمائت میں زیادہ اور مظلوم کے حق میں کم ہے۔ ظالم جائیدادوں پر قبضے کرکے عدالتوں سے اسٹے آرڈر لے لیتے ہیں اور پھر سالوں اس پر طوالت کے زریعے فائدے اٹھاتے رہتے ہیں۔

اگر قانونی سقم ہوں تو بھی کوئی جج اپنے سامنے مقدمے پر تو حکم امتناہی جاری کر سکتا ہے مگر کسی آئینی و قانونی انتظامی عہدیدار یا کسی آئینی و قانونی کمیٹی، ٹربیونل یا اتھارٹی کے ایسے فیصلے جن کا ان کو علم ہی نہ ہو کو بغیر دیکھے کیسے ختم کر سکتا ہے؟ 

میرا یہ بھی سوال ہے کہ زمینوں کے تنازعات کے فیصلےکرنے کا جو اختیار محکمہ مال کے پاس ہے وہ آئینی و قانونی ہے یا نہیں اور کیا عدالتیں ان کے ریکارڈ کے بنیاد پر فیصلے نہیں کرتیں؟ 

کمیٹیوں کو مبینہ طور پر اس بنیاد پر کام کرنے سے روکا گیا ہے کہ اس سے سول رائٹس اور جوڈیشل سپرمیسی ختم کی گئی ہے حالانکہ آرڈیننس میں اگر کمیٹی فیصلہ نہ کر پائے تو ٹربیونل کو بھیج سکتی ہے جس کو سول کورٹ کا درجہ حاصل ہے جس میں لاء گریجویٹ ہی ہونگے اور اس کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے جسے چیف جسٹس کا بنایا ہوا ڈویژن بنچ سنے گا۔ 

عدالت عالیہ نے کیس کو فل کورٹ بنچ کو بھیج دیا ہے جو خوش آئیند ہے کہ کم از کم انہوں نے اپنے جذباتی اور جارحانہ سوچ کی طبع آزمائی کی بجائے فل کورٹ کو ایک اجتماعی رائے قائم کرنے کا موقع دیا اور یقیناً یہ فیصلہ پاکستان کی تاریخ میں کیس سٹڈی ثابت ہوگا۔ چونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے اس لئے اس پر مزید کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ ان کے آئینی و قانونی رتبے کے تقدس کا بھی احساس ہے مگر اس بھی زیادہ اپنی عزت کا خیال ہے۔

حکومت سے گزارش ہے کہ یہ آرڈنینس مفادات عامہ کا معاملہ ہے اس لئے اس پر پوری تیاری کے ساتھ پیش ہوں اور اس معاملے کو وفاقی آئینی عدالت کو ریفر کیا جانا چاہیے تاکہ قانون ساز اسمبلی اور عدالتوں کے اختیارات کی تشریح احسن طریقے سے ہو سکے۔ اس کیس کی کاروائی بھی قومی نشریاتی اداروں کے زریعے سے براہ راست دکھائی جانی چاہیے۔

پیر، 16 دسمبر، 2024

عوامی شعور کو درست سمت دے کر جتھوں کی دھونس سے چھٹکارہ مل سکتا ہے

اس میں کوئی شک نہیں کہ جائز مطالبات کے لئے آواز اٹھانا، احتجاج کرنا اور ریلیاں نکالنا سیاست اور جمہوریت کا حسن ہی نہیں بلکہ یہ عوام اور سیاسی جماعتوں کا جمہوری اور بنیادی حق ہے مگر ان میں ملک و قوم کے مفادات سے ہٹ کر ذاتی مفادات، ضد اور انتقامی جذبے کا شامل حال ہو جانا ان کی اہمیت کو ختم کر دیتا ہے۔ اور اسی طرح اگر یہ سلسلہ جاری رہے تو مایوسی، بددلی اور انصاف کو طاقت کے ذریعے سے حاصل کرنے کی جستجو سیاست اور جمہوریت کو فائدہ دینے کی بجائے اسے جتھوں کی سیاست کا شکار کر دیتی ہیں جو معمول ہمارے ملک میں پچھلی کئی دہائیوں سے دیکھنے کو مل رہا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام سے معاشی بدحالی، انتہا پسندی اور دہشت گردی جنم لے کر ملکی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہیں۔

اگر ہم جمہوریت کی تاریخ اور دور جدید میں کامیاب جمہوری نمونوں کا مطالعہ کریں تو اس کی مثالیں ہمیں نارتھ امریکہ اور یورپ میں ملتی ہیں جن میں سر فہرست ہم سکینڈی نیوین ممالک کو دیکھتے ہیں اور وہاں پر سیاسی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات بہت واضح ملتے ہیں جس سے اس حقیقت کا پتا چلتا ہے کہ جمہوریت سے فائدہ اٹھانے کے لئے عوام کے اندر ان دو خوبیوں کا ہونا ناگزیر ہے۔

ہم جمہوریت کے نعرے بھی لگاتے ہیں اور اس کی طرز پر انتخابات کا ڈرامہ رچا کر حکومتیں بھی تشکیل دے لیتے ہیں حتیٰ کہ اگر کوئی ڈکٹیٹر بھی ریاست کا نظام سنبھالے تو اس کو بھی اپنی آمریت کو جمہوریت کی کوئی نہ کوئی شکل دینی ہی پڑتی ہے جو عالمی سطح پر تعلقات کو بحال رکھنے کے لئے ہماری مجبوری ہیں لیکن ہم نے کبھی جمہوریت پر نہ تو یقین رکھا ہے اور نہ ہی اس کو حقیقت میں پنپنے بڑھنے دیا ہے۔

اس دوغلی جمہوریت کی سیاست میں بھی ہمیں جو تسلسل کے ساتھ سننے کو ملتا ہے وہ یہ ہے کہ فلاں سیاسی قائد نے عوام کو شعور دیا ہے خواہ وہ خود آمریت ہی کی پیداوار ہو، وہ خود اقتدار تک جمہوریت نہیں بلکہ آمرانہ مفادات اور کوششوں ہی کی بدولت پہنچا ہو۔ اگر کسی نے عوام کو سیاسی شعور دیا ہوتا تو آج اس ملک و قوم کی یہ حالت نہ ہوتی۔ یہ شعور ہی کی خرابی ہے کہ عوام ان مفادات پرست مداریوں کے ہتھے چڑھی ہوئی ہے۔ دراصل یہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے میڈیا کے ذریعے رائے ہموار کر کے عوامی جذبات کے اندر اپنی ہمدردیاں حاصل کی گئی ہوتی ہیں یا عوام کی بنیادی ضروریات کے پورا کرنے کا جھانسہ دے کر ان کی کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کو استعمال کیا گیا ہوتا ہے جسے شعور کا نام دے کر عوام کو مسلسل دھوکے میں رکھا گیا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم جمہوریت سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھائیں تو ہمیں جمہوریت کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس کو اصلی حالت میں ان کی شمولیت کے ذریعے سے عوامی شعور کا حصہ بنانا ہوگا تاکہ وہ صحیح سیاسی قیادت کو پہچان سکیں۔

سیاسی شعور اس کو کہتے ہیں جس کے اندر اگر مخالفین میں بھی اچھا کردار ہو تو اس کی تعریف، حوصلہ افزائی اور حمایت ملے اور اگر اپنا بھی کوئی غلط کر رہا ہو تو اس کی تنقید، حوصلہ شکنی اور مخالفت کی جائے۔ اگر تو یہ سیاسی شعور موجودہ عوامی آرا میں دیکھنے کو ملتا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ عوام کے اندر سیاسی شعور پایا جاتا ہے اور اگر اس کے برعکس حمایت یا مخالفت کی بنیاد انا پرستی، سیاسی الحاق اور ضد ہے تو پھر اسے سیاسی شعور نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی اس کی بنیاد پر جمہوریت سے مستفید ہو کر اچھے سیاست دان یا ریاست کے نظام کو چلانے کے لئے اچھے حکمران تلاش کئے جا سکتے ہیں۔ اسے جمہوریت نہیں بلکہ کسی بد تہذیب معاشرے کے اندر جتھوں کے زور کی بنیاد پر اقتدار کے حصول کا نظام کہا جا سکتا ہے۔

عوامی شعور کو صحیح سمت دے کر جتھوں کی سیاست سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ عوام کو ناصرف صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی ترغیب دی جائے بلکہ عملی طور پر ان کی آواز کو بامقصد بنانے اور انہیں اہمیت دینے کا عملی ماحول پیدا کیا جائے۔ ان کو جمہوریت کی بنیاد سیاسی جماعتوں سے لے کر وفاق اور صوبوں میں حکومت سازی کے عمل تک میں عملی طور پر شمولیت دے کر ان کے اندر شعور کو اجاگر کرنا ہو گا۔ اس کے لئے میڈیا کے علاوہ فنون لطیفہ اور ڈراموں و فلموں کے اندر بھی جمہوریت اور سیاست کو موضوع بنایا جا سکتا ہے۔

عوام کی طرف سے جائز اور آئینی مطالبات کو اہمیت دیتے ہوئے پارلیمان میں زیر بحث لا کر ان کو حکمت عملی سے منطقی انجام تک پہنچانے کی پالیسی بنائی جانی چاہیے۔ اگر کسی بھی مطالبے پر قومی اسمبلی کے کسی حلقے کے ووٹرز کی تعداد کے برابر عوامی تائید حاصل ہوتی ہے تو اسے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ایجنڈے میں شامل کر کے ان پر بحث کی جائے۔ اگر وہ عوامی مطالبہ آئین و قانون کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے تو اس کے پورا ہونے کا عملی ثبوت دیا جائے اور جو مطالبات غلط ہوں وہ خواہ کسی بھی جماعت کی طرف سے ہوں ان کے منفی پہلوؤں کو دلائل کی روشنی میں میڈیا پر آشکار کر کے قوم کے اندر با شعور رائے کو ہموار کرنے کی ثقافت کو فروغ دیا جائے اور اگر کوئی جماعت اپنے مطالبات کو عدالت میں لے کر جاتی ہے تو اس کی کارروائی کو براہ راست دکھایا جائے اور اس پر قومی سطح کے غیر جانبدار آئینی ماہرین کا ایک پینل قومی میڈیا پر اپنی آرا دے تاکہ عوام کی شعوری اصلاح کر کے ان کی سوچوں کو صحیح سمت دی جا سکے۔

عوامی شعور کی اصلاح کے لئے پارلیمان اور اداروں کے ماحول کے اندر اس کی جھلک ملنی چاہیے۔ اس کے لئے سب سے پہلے سیاسی قائدیں خواہ ان کا اپوزیشن سے تعلق ہو یا حکومت میں شامل جماعتوں سے، ان کے خلاف ہر طرح کے زیر التوا مقدمات کی سپریم کورٹ یا ہائیکورت کے غیر متنازع اور غیر جانبدار ججز کے کمیشن سے سکروٹنی کروائی جانی چاہیے تاکہ معلوم ہو کہ وہ تعصب اور سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں یا ان میں آئین و قانون کی خلاف ورزی کا کوئی مواد موجود ہے جس پر وہ ان کو جاری رکھنے یا ختم کرنے کی رپورٹ جاری کریں تاکہ عوام کے اندر پائے جانے والے تعصبانہ اور سیاسی انتقام والے تاثر کو ٹھیک کیا جا سکے اور اس کا آغاز حکومت میں موجود جماعتوں کے قائدین کو اپنے آپ کو انکوائری تک پارلیمانی عہدوں سے علیحدہ ہو کر پیش کرنا چاہیے تاکہ عوام میں ان کے بارے اچھا تاثر پیدا ہو۔

سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین جمہوریت کا اثاثہ ہوتے ہیں اس لئے ان کے اندر بھی بہتری لانا انتہائی ناگزیر ہے جس کے لئے الیکشن کمیشن کی طرف سے ان کی نگرانی کا کوئی میکنزم ہونا چاہیے جس کے تحت سیاسی قائدین کے بیانات اور قول و فعل کو آئین و قانون، جمہوریت اور سیاست سے ہم آہنگ بنانے کے لئے سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کی جائے اور اس کا اپنی ویب سائٹ پر ایک ڈیش بورڈ لگائیں جسے تواتر کے ساتھ اپ ڈیٹ کرتے ہوئے اس کی سالانہ رپورٹ کو پارلیمان میں پیش کیا جائے جس پر بحث کے بعد ایسے سیاست دان جو اپنے قول و فعل میں آئین و قانون، جمہوریت اور سیاست کی اساس کو جھوٹ، غلط فہمیاں اور بے بنیاد الزامات کی سیاست کرنے کے مرتکب پائے جائیں، پر پانچ سالوں کے لئے پابندی لگا دی جائے جسے اگر وہ تعصبانہ، غلط یا بے بنیاد سمجھیں تو الیکشن کمیشن میں ثبوتوں کے ساتھ وضاحت پیش کر کے ہٹوا بھی سکتے ہوں اور اس فیصلے کے خلاف عدالتوں میں جانے کا حق بھی موجود ہو۔ اس حکمت عملی سے سیاسی جماعتوں کے اندر با کردار سیاست دانوں کی گرفت کو مضبوط کرنے کا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔

سیاسی شعور سے یہ توقع کی جانی چاہیے کہ جمہوریت کو محض سیاست دانوں کی نہیں بلکہ اچھے با کردار سیاست دانون کی ضرورت ہوتی ہے۔ سیاسی شعور اس قابل بھی ہونا چاہیے کہ اس سے یہ توقع رکھی جا سکے کہ عوام سیاست دانوں اور ان کے آباؤاجداد کے ماضی پر بھی نظر رکھیں تاکہ ان کو معلوم ہو کہ ان کا خاندانی ڈی این اے کتنا جمہوری ہے اور ان کے سیاسی دعوے ان کے اپنے یا ان کے آباؤاجداد کے ماضی سے کتنی مطابقت رکھتے ہیں۔

اداروں کو سیاست سے پاک کر کے آئین و قانون اور عوامی فلاح و بہبود کا پابند بنانے کی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے تاکہ سیاست، جمہوریت اور حب الوطنی کے نام پر ذاتی مفادات کی آنکھ مچولی کا کھیل ختم کیا جا سکے۔ جب ملک کے انتظامی امور پر مامور افسران کے عمل سے عوامی فلاح و بہبور ہوتی ہوئی دکھائی دے گی تو یقیناً عوام کے دل میں ناصرف سیاست اور جمہوریت کی قدر بڑھے گی بلکہ پارلیمان کی بالادستی کا شوق اور جمہوری انقلاب کا جذبہ پیدا ہوگا جو آمریت کے خلاف جمہوریت کے لئے ڈھال ثابت ہوگا اور جب تک سیاسی جماعتوں، سیاسی قائدین اور ممبران پارلیمان کا اپنا کردار ان سے مطابقت کے معیار پر پورا نہیں اترتا ہوگا تب تک یہ سیاسی انتقام کے مکافات عمل سے جان چھڑانا ممکن نہیں اور یہ باریاں اسی طرح چلتی رہیں گی۔

اداروں کے سربراہان کے اندر عہدوں کی طلب اور طمع کے ماحول اور پارلیمان سے اس کی تائید کی سرتوڑ کوششوں کو شعور کی علامت قطعاً بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ عہدے ذمہ داریوں کا نام ہوتے ہیں اور کوئی بھی با شعور انسان اگر ایمانداری، خدمت اور جوابدہی کی سوچ رکھتا ہو تو ذمہ داریوں کو وہ شوق سے قبول نہیں کرے گا چہ جائے کہ اس کو اس پر مجبور کیا جائے۔ یہ عہدوں کی طلب اور طمع ہماری قومی سطح کی عمومی صورت حال کی عکاس ہیں جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہمارے اندر احساس ذمہ داری ختم ہو چکا ہے۔ اگر یہ عہدوں کا شوق عوامی خدمت کے جذبے کے تحت ہوتا تو آج ملک و قوم کی یہ حالت نہ ہوتی۔ آج بھی اگر قومی سطح پر اس کا شعور اجاگر ہو جائے تو ان عہدوں کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ملے گا، سب ان سے بھاگیں گے اور با کردار لوگوں کو مجبور کر کے عہدے دینے پڑیں گے۔ تب جو ماحول پیدا ہوگا اس میں احتجاج اور دھرنوں کی نوبت ہی نہیں آئے گی، محض کسی پر انگلی اٹھا دینا ہی اس کے منصب سے علیحدہ ہو جائے کے لئے کافی ہو گا اور نہ ہی کوئی محض جھوٹے الزامات کی بنیاد پر کسی کی عزت کو اچھالنے کی کوشش کرے گا کیونکہ اسے معلوم ہوگا کہ اسے ثبوت دینا پڑیں گے یا پھر سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔

منگل، 19 جولائی، 2022

موجودہ سیاسی کشیدگی کا حل کیا ہے ؟

 

اس وقت قوم کے پاس دو ہی راستے ہیں ۔ پوری قوم کو بشمول اداروں کے مل کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہوں نے آئین و قانون کی حکمرانی کی طرف جانا ہے یا تذبذب کی طرف ۔ سیاست کے اصول طے کرنا ہونگے اور پھر اس پر عمل کو یقینی بنانا ہوگا تب ہی اس کشیدگی سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے ۔  

سیاسی کشیدگی دن بدن بڑھتی جارہی ہے اور اس کی وجہ سیاستدانوں کا خودساختہ سیاسی الجھاؤ ہے جس کی وجہ ان کی تنگ نظری ، آئین سے تغافل اور زاتی مفادات ہیں ۔اور جب تک سیاستدان اپنی سوچوں کو قوم و ملک کی ترقی اور سلامتی کے ساتھ مربوط نہیں کریںگے حالات کی بہتری کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ اور پریشان کن بات یہ ہے کہ ان کو ابھی تک یہ احساس ہی نہیں ہوا ۔

اب چند سیاستدانوں کے رویوں اور کردار کی وجہ سے پورا سیاسی ماحول پریشان ہے اور جو نظام کے تحت چلنا چاہ رہے ہیں وہ بھی بے بس نظر آرہے ہیں ۔ اس صورتحال کا حل الیکشن بھی نہیں ۔ کیونکہ موجودہ ضمنی الیکشنز کے بعد بھی الزامات اور مطالبات میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ جیتنے والے بھی الیکش کمیشن پر الزامات لگائے جارہے ہیں ۔  

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر تو عام انتخابات کی طرف ہی جانا ہے تو پھر اس کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جائے اور اگر موجودہ اسمبلیوں میں ہی آئینی طریقے سے اپنے حق کے لئے کوشش کرنی تو پھر وہ کی جائے ۔ لیکن صورتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف الیکشنز میں بھی حصہ لے رہی ہے ، صوبوں میں حکومتیں بھی رکھی ہوئی ہیں اور ساتھ مرکز میں حکومت کے خاتمے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں ۔ جس سے لگتا ہے کہ وہ خود بھی ابھی تک کوئی واضح فیصلہ نہی کر پارہے کہ وہ چاہتے کیا ہیں ۔ اگروہ واقعی الیکشنز ہی حل سمجھتے ہیں تو تمام صوبائی اسمبلیوں سے بھی استعفے دیں اور اپنے مطالبے پرڈٹ جائیں ۔

اب صرف یہ ہی نہیں اوپر سے اداروں پر بھی حملے جاری ہیں ۔ اگر تو ان کے حق میں کوئی فیصلہ آتا ہے تو خوش ہوتے ہیں تعریفیں کرتے ہیں اور اگلے ہی لمجے اگر کوئی فیصلہ مزاج کے خلاف آتا ہے تو پھر اس پر تنقید ہی نہیں الزامات لگانا شروع کردیتے ہیں ۔ اور صرف وہ ہی نہیں اب تو دوسری جماعتوں نے بھی اداروں سے مطالبات کرنے شروع کر دیئے ہیں کہ ادارے تحریک انصاف کے ساتھ خصوصی شفقت کا سلوک رکھے ہوئے ہیں ۔ ان غلط فہمیوں کا بھی ازالہ ہونا چاہیے ۔

اس طرح اداروں پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے ۔ اس وقت فوج نے تو لا تعلقی کا اظہار کرکے خاموشی سادھ لی ہے ۔ ابھی بھی ان کی طرف اشارے تو کئے جارہے ہیں مگر انہون نے اپنے آپ کو آئینی ذمہ داریوں تک محدود کرکے اپنے آپ کو الگ کر لیا ہے ۔ مگر الیکشن کمیشن اور اعلیٰ عدلیہ مسلسل دباؤ کا شکار ہیں اس کی وجہ وہ مقدمات ہیں جو زیر سماعت ہیں ۔ اس لئے وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر اس صورتحال سے علیحدہ بھی نہیں کر سکتے ۔  

اب اس تذبذب سے پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام  کی صورتحال میں ملک کی پہلے سے بدحال معیشت مزید خرابی کی طرف جارہی ہے ۔ اگر یہ صورتحال مزید تعطل کا شکار رہی تو پھر حالات بے قابو ہونے کا بھی خدشہ ہے ۔  

اب ایسی صورتحال میں پہلا فرض تو سیاسی قیادت پر آتا ہے کہ وہ پختگی کا مظاہری کریں اور اپنے اختلافات کو مزاکرات کی میز پر لا کر کوئی حل ڈھونڈنے کی کوشش کریں جس کی کوئی توقع نظر نہیں آرہی ۔

تو دوسری صورت میں اداروں پر یہ ذمہ داری آتی ہے کہ وہ آئین و قانون کو حرکت میں لائیں اور بلا تفریق آئین و قانون کی پاسداری کے لئے کسی کو بھی خاطر میں لائے بغیر کہ کوئی کیا کہہ رہا ہے انصاف پر مبنی اپنا کردار ادا کریں اور ہر ایک کے ساتھ بلا تفریق آہنی ہاتھوں سے نمٹیں ۔ جو بھی الزام لگاتا ہے اس کو کٹہرے میں لائیں اور ثبوت مانگیں اور اگر وہ ثبوت دینے سے قاصر ہے تو اس کے خلاف کاروائی کرکے اس کی فسطائیت کو منطقی انجام تک پہنچائیں ۔

اور جو مقدمات عدالتوں میں یا الیکشن کمیشن میں زیر التوا ہیں ان کو تیز رفتاری سے فیصلوں کی طرف بڑھائیں ۔ یہی الزامات سے جان چھڑوانے اور سیاسی جماعتوں کے تحفظات کو دور کرنے کا واحد طریقہ ہے ۔

صرف ایک دو مقدمات میں فیصلوں کی دیر ہے سب کی سمتیں درست ہوجائیں گی ۔ حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اداروں کو تحفظ فراہم کریں ۔ اور الزامات کی صورت میں قانونی کاروائی کو حرکت میں لا کر معاملات کو عدالتوں میں پہنچائیں ۔

کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیے مگر اداروں کی تکریم بھی تو بحال ہونی چاہیے اور اس میں جس کی جتنی ذمہ داری بنتی ہے اس کو پوری کرنی چاہیے ۔

اداروں کو بھی چاہیے کہ اب وہ رعائت والی عادت بدلیں اور سختی سے قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور یہی آخری حل رہ گیا ہے ۔

حکومت کو انتظامی امور میں آزادانہ طور پر کام کرنے کا پورا ماحول مہیا ہونا چاہیے اور اگر کوئی  حکومتی عہدیدار نااہلی کا مظاہرہ کرے یا اختیارات سے تجاوز کرتا ہے تو اس کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے ۔

حکومت کو آزادی سے کام کرنے دیا جائے گا تو ہی وہ قانون کی عملداری میں اپنا کردار ادار کرسکتی ہے۔ اگر انتظامی عہدوں پر ان کواپنی مرضی کے افسران ہی نہ لانے دیے جائیں ۔ وہاں پچھلی حکومت کے ساتھ ہمدردیاں رکھنے والے لوگ بیٹھے ہوں تو اچھی کارکردگی کیسے دکھائی جاسکتی ہے ۔ کسی کے ہاتھ باندھے ہوئے ہوں تو وہ کیسے اپنی کارکردگی دکھا سکتا ہے ۔

الیکشن سے پہلے اصلاحات کے زریعے سے الزامات ، خدشات ، غلط فہمیوں اور بگڑے مزاجوں کا علاج ہونا چاہیے وگرنہ الیکشن سے بھی مطلوبہ سیاسی استحکام کے نتائج حاصل کرنا ناممکن ہوگا ۔

سیاسی عدم استحکام کی ایک وجہ سوشل میڈیا کی بے تکی آزادی ہے جس کا جو دل میں آتا ہے وہ کہہ دیتا ہے اور کوئی تحقیق یا جوابدہی کا عمل ہی موجود نہیں ۔

ایک اندازے کے مطابق دس بارہ کروڑ لوگوں کے پاس موبائل ہیں اور شرپسند کرداروں کے ہتھے چڑھے ہوئے ہیں جس میں جھوٹ اور غلط معلوما ت کے زریعے سے وہ اپنی خواہشات کی تکمیل میں عوام کے ذہنوں کو خراب کر رہے ہیں ۔

حق اظہار رائے کی خوبصورتی اس کی قانونی حدود و قیود کے ساتھ ہی ہوتی ہے ۔ اس حق کا یہ مطلب نہیں کہ آپ انسانی تکریم کو بھی ملحوظ خاطر نہ رکھیں اور جس کی چاہیں پگڑی اچھالتے پھریں ۔ اگر کوئی کسی پر سنگین الزام لگاتا ہے تو پھر اس کے پاس اس کی حمائت میں ثبوت بھی ہونے چاہیں ۔ اور بے بنیاد الزامات کے ماحول کو ختم کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے

شہریوں کی عزت و تکریم کی حفاظت ان کی آئینی ذمہ داری ہے ۔ اگر کوئی شہری یا ادارہ اس طرح کی حق اظہار رائے کے نام پر فسطائیت کا شکار ہوتا ہے تو پھر اس کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ حکومتی اداروں سے رجوع کرے اور حکومت کو چاہیے کہ اس پر کاروائی کا آغاز کرے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ایک دو ایسے معاملات میں انصاف ملا اور ہرجانے وصول کئے گئے تو یہ حق  اظہار رائے کے نام پر فسطانیت ایک دن میں رک جائے گی ۔

اس وقت قوم کے پاس دو ہی راستے ہیں ۔ پوری قوم کو بشمول اداروں کے مل کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہوں نے آئین و قانون کی حکمرانی کی طرف جانا ہے یا تذبذب کی طرف ۔ سیاست کے اصول طے کرنا ہونگے اور پھر اس پر عمل کو یقینی بنانا ہوگا تب ہی اس کشیدگی سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے ۔  

بدھ، 13 جولائی، 2022

آگے بڑھنا ہے تو قومی بیوقوفیوں کو سدھارنا ہوگا ۔

کچھ قومی سطح کی ایسی غلطیاں ہیں جو دھائیوں سے دھرائی جارہی ہیں مگر ہم نے ان کی اصلاح کے لئے کوئی کوشش نہیں کی اور اگر کی بھی ہے تو اس میں ذاتی مفادات کا عنصر حاوی رہا ہے ۔ ان اصلاحات کو ریاست ، آئین ، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لئے نہیں کیا گیا ۔

تاریخ گواہ ہے کہ جن ریاستوں میں انصاف کا نظام غیر جانبدار اور شفاف تھا ان کا اندرونی یا بیرونی خطرات کچھ نہیں بگاڑ سکے ۔ آج ہمارے نظام عدل کا کیا حال ہے کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ۔ ہماری تاریخ میں ججز کا کردار بوقت ضرورت انصاف کی بجائے کچھ اور ضروریات کے گرد گھومتا رہا ۔

ایک عام شہری کے حقوق سے لے کر ریاست کے آئین کی حفاظت تک کی ذمہ داری نظام انصاف پر آتی ہے ۔ لہذا اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اور ایسی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے جس سے قابل ، اہل اور اچھے کردار کے ججز کی تعنیاتیوں کو عمل میں لایا جاسکے ۔

اگر نظام عدل میں قابل ، اہل اور اچھے کردار کے ججز کو تعینات کیا جائے تو وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے تمام خطرات سے نمٹنے کی جرات اور جذبہ رکھتے ہوتے  ہیں ۔ انکو اپنی جان ، مال اور عزت سے زیادہ ذمہ داریوں کی پرواہ ہوتی ہے

اسی سے جڑا مسئلہ قانون کی پاسداری میں ناکامی ہے ۔ ہم تمام مشکلات کا حل قانون بنانے کو ہی سمجھتے ہیں ۔ قانون  پر عمل میں کوتاہیوں پر ایک اور قانون اور اتھارٹی بنا دیتے ہیں جس سے مزید کشمکش اور ریاست پر مالی بوجھ ڈال دیتے ہیں مگر پہلے سے موجود قانون اور اداروں کو مضبوط اور جوابدہ بنانے پر کوئی توجہ نہیں دیتے ۔  اس کو انتظامی اور عدالتی امور کی مضبوطی  اور توازن سے ہم آہنگ کرکے  بہتر بنایا جاسکتا ہے

میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہم نظام عدل کو سیاست کا حصہ نہ بناتے اور اس کو مضبوط رہنے دیتے تو یہ قومی غلطیاں ابتداء ہی میں رک جاتیں اور یہ نوبت نہ آتی ۔

ایک اور قومی مسئلہ تعلیم و تربیت کا ہے جس نے نام نہاد خود اعتمادی کے نام پر عدم برداشت ، جہالت اور بدتمیزی کی ثقافت کو پروان چڑھایا ہے جس میں زیادہ تر پرائیویٹ سکولوں کے نظام کا کردار ہے ۔ لہذا بنیادی تعلیم کے شعبے کو حکومت کی تحویل میں ہونا چاہیے جس میں ایک جیسا نصاب اور تربیت ہو اور قوم کے اندر ملک و قوم اور اس کی املاک کی ملکیت اور اہمیت کے احساس کو اجاگر کیا جاسکے ۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ کردار سازی پر زیادہ توجہ دی جائے ۔

ایک بڑی قومی غلطی عوامی خزانے سے مہیا وسائل اور وظائف میں تفریق ہےجس نے معاشرے کے اندر محرومی اور طبقاتی تقسیم کو پیدا کیا ہے ۔ ملک میں انتشار ، بدنظمی اور کشمکش کی وجوہات میں ایک بہت بڑی وجہ اس تفریق کی بنیاد پر مہیا کئے گئے ان آسودہ حال افراد کا بھی ہاتھ ہے جو پہلے دوران سروس ان وسائل اور اختیارات کے استعمال سے من مانیاں کرتے رہتے ہیں اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد ایک مافیا بن کر ملکی نظام کو جام کئے رکھتے ہیں ۔ اور اس تفریق نے ہمارے ملک کے اندر ظالمانہ تقسیم  کی بنیاد پر ایلیٹ اور عام شہریوں کے تاثر کو جنم دیا ہوا ہے ۔ لہذا مساوات کو قائم کرتے ہوئے  اصلاح کی غرض سے ان وسائل اور اختیار میں مساوات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے جو قومی سرمایہ اس غیر مساویانہ تقسیم کی مد میں چند ہاتھوں میں جا رہا ہے اسے صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات پر استعمال کرکے  سب کے لئے برابری کی بنیاد پر سہولیات مہیا کرکے ہر ایک کی ضروریات کو بہم پہنچایا جاسکتا ہے جس سے نہ صرف برابری پیدا ہوگی بلکہ محرومیوں کا بھی خاتمہ ہوگا۔  

نظام کو مستحکم بنانے کے لئے ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے ایسی اصلاحات لانا ہونگی جن سے سیاست کو قومی وسائل اور طاقت سے لیس افراد کی خواہشوں اور من مانیوں سے محفوظ کیا جا سکے اور حکومتی معاملات میں مداخلت کو بھی ختم کیا جاسکے ۔ اسے محض اعلیٰ عہدوں پر تعینات شخصیات کی سوچ کے مرہون منت نہیں چھوڑا جاسکتا ۔ اس عدم استحکام کے خوف کو بہرحال ختم کرنا ہوگا اور تمام ریاستی اداروں کو احساس دلانا ہوگا کہ یہ وسائل ، اختیارات اور طاقت کا تعلق قومی ذمہ داریوں سے ہے اور ان کے استمال میں تجاوز مجرمانہ فعل ہے جس کی جوابدہی کو یقینی بنانے کے لئے عملی مثالیں قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔

میڈیا چینلز کو کاروباری لوگوں کے چنگل سے آزاد کروانا ہوگا وگرنہ یہ مافیا جمہوریت کا کوئی بس نہیں چلنے دے گا ۔ یہ صحافت کو یوں ہی غلام بنائے رکھے گا جس سے ٹیگرٹی ، ایمانداری اور غیر جانبداری یوں ہی  روزی کی خاطر رسوا اور نام نہاد صحافتی مداری قوم کو تماشے دکھاتے دکھاتے قومی سلامتی کو کمزور کرتے چلے جائیں گے۔

میڈیا چینلز کی منظوری اور رجسٹریشن کے لئے صحافت کا تجربہ اور اچھی شہرت کے حامل افراد  کی شمولیت کی پالیسی اپنانا ہوگی وگرنہ یہ سیاسی حالات اسی طرح سے ہائی جیک ہوتے رہیں گے ۔ کسی بھی شے کی خوبصورتی اسکے ساتھ متعین حدود قیود سے ہی ہوتی ہے اور اس کو سمجھتے ہوئے جنرل ازم سے منسلک طبقہ  کو بھی اپنے لئے کوئی متفقہ نظم و ضبط اپنانا اور تسلیم کرنا ہوگا وگرنہ یہ کاروباری اپنے مقاصد حاصل کرکے علیحدہ ہوجائیں گے اور صحافت اپنی رہتی سہتی ساکھ بھی کھو بیٹھے گی ۔

آج کل کی نام نہاد فضول کی جذباتی صحافت جو وی لاگز پر چند ہزار ویوز کی خاطر ملکی سلامتی سے کھیل رہی ہے  کو جتنی جلد ہوسکے روکنا چاہیے ۔ اس وقت ہماری سب سے بڑی غلطی جو ابھی جا ری ہے اور جس کا کوئی مداوا بھی نہیں ہوگا وہ فوج کے خلاف نفرت کو پھیلانا ہے اور عوام کو فوج کے خلاف لا کر کھڑا کرنا ہے ۔

جب فوج نے غیر جانبداری کا اعلان کر دیا ہے اور عمل سے ثابت بھی کر رہے ہیں تو پھر اس طرح کی افواہیں پھیلانے اور الزامات لگانے والی سرگرمیوں کو بزور طاقت روکنے کی ضرورت ہے اور یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ صحافت اور سیاست کے بہروپیوں کو کنٹرول کرے اور اگر کوئی معمولی سابھی الزام لگائے تو اس کی تفتیش ہونی چاہیے چہ جائے کہ اتنے بڑے بڑے الزامات لگائے جارہے ہوں اور حکومت بدنامی  کے ڈر سے ان پر ہاتھ ڈالنے سے اجتناب برت رہی ہو  ۔ ملک اداروں سے ہوتے ہیں اور اداروں کی طاقت عوام کی پشت پناہی سے ہوتی ہے ۔

ان قومی  بے وقوفیوں کے  وجہ سے ہماری قومی توانائی ، وقت اور صلاحیتوں کا استعمال غلط سمت میں استعمال  ہوکر بہتری کی بجائے مزید بدحالی کا سبب بنتا جارہا ہے لہذا ہمیں ان کا سدباب کرکے ترقی اور پائیداری کے سفر کا آغاز کرنا ہوگا۔  

اتوار، 30 اکتوبر، 2022

فوج ، سیاستدان اور آئین


موجودہ سیاسی حالات کا اگر جائزہ لیں تو ایک بات واضح نظر آتی ہے کہ فوج اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنے کا فیصلہ کر چکی ہے اور کل کی ڈی جی ، آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آر نے   ایک غیر معمولی پریس کانفرنس کرکے تمام باتیں واضح کر دی ہیں  ۔ اور یہ پاکستان کی تاریخ میں کسی ڈی جی ، آئی ایس آئی  کی پہلی کانفرنس ہے جو انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کے دوران کی ہو۔ جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات کی نزاکت کا بخوبی اندازہ ہے  اور انہوں نے وہ تمام امور اس پریس کانفرنس میں زیر بحث لائے جن پر آج کل پاکستان کے سیاسی حلقوں میں خدشات ، تحفظات اور الزامات پائے جارہے تھے ۔

انہوں نے اپنی غیر جانبداری میں نیوٹریلٹی ، جانوروں سے تشبیہ ، میر جعفر و میر صادق کے القابات اور چوکیدار کی غداری تک کے اپنے اوپر اٹھنے والے  تمام الزامات کا جواب دیا اور یہ باور کروایا کہ اس کی وجہ ان کا کوئی غیر آئینی قدم نہیں بلکہ اس کی بنیاد غیر آئینی اقدامات پر مدد نہ کرنا ہے ۔

اسی طرح انہوں نے سائفر پر بھی وضاحتی بیانیہ سامنے رکھا اور اس کی حقیقت سے پردہ چاک کیا کہ کب کب کیا کیا باتیں ہوئیں  جو کہ پریس کانفرنس کا حصہ ہے جن کو یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ۔اور عمران خان کے بیانیوں کو واضح طور پر جھوٹ کہہ دیا

ان پر  صحافیوں کی طرف سے سخت سوال اٹھائے گئے جن میں ان کی دو ہزار اٹھارہ  کے الیکشن میں مداخلت تک پوچھا گیا اور انہوں نے اس کے رد عمل میں اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے  واضح کیا کہ انہوں نے فوج کے کمانڈروں کا اجلاس بلایا فوج کے کردار کو زیر بحث لاکر اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کیا کہ فوج کو اپنے آئینی اختیارات تک محدود ہوجانا چاہیے اسی میں ملک و قوم کی بہتری ہے ۔ اور دو ہزار اکیس کے بعد سے انہوں نے خواہ وہ ضمنی الیکشن ہوں ، بلدیاتی الیکشن ہوں یا عدم اعتماد کی تحریک کسی بھی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کی۔

اور ان کی اس بات کی شہادتیں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے آ چکی ہیں ۔ جن میں تحریک انصاف کی فوج کی ٹرولنگ بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے فوج کی نیوٹریلٹی کو بنیاد بناکر ان پر تنقید کی انتہا کردی جو ان کو اپنےدو ہزار اٹھارہ کی مداخلت کی قیمت کے طور پر ادا کرنا پڑی ۔ اور اس ٹرولنگ  کی برداشت پر دوسری جماعتوں کے قائدیں فوج پر انگلی بھی اٹھا رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے قائدیں کے ساتھ اب بھی لاڈلوں والا سلوک کیا جارہا ہے ۔ کیونکہ ماضی میں اگر کوئی فوج پر معمولی سی بات بھی کرتا  تو اس انتہائی سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ تو اس سے بھی یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عمران خان کے ساتھ یہ لاڈ نہیں بلکہ اپنی نیوٹریلٹی کو ثابت کرنے کی کوشش ہے  اور وہ اپنی سابقہ غلطیوں کی قیمت چکا کر بھی  اپنے کردار کو آئینی حدود میں رکھنا چاہتے ہیں ۔

ایک صحافی کے سوال پر  کہ آپ نے عمران خان کے ساتھ جو آپ کا  شفقت بھرا رویہ ہے یہ کسی اور کے ساتھ تو نہیں رہا جس پر انہوں نے یہ کہا کہ کہ اگر کوئی پاکستان کے کسی ادارے پر الزامات لگاتا ہے تو آئینی طور پر حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس پر ایکشن لے  ۔اور ان کا یہ موقف سو فیصد ٹھیک تھا ۔ یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اداروں کے آئینی اقدامات پر ان کو مکمل تحفظ اور بے جا اٹھنے والے الزامات پر قانونی ایکشن لے ۔

ارشد شریف کی شہادت پر ان کے خلاف جو الزامات کا سلسلہ جاری تھا اس پر بھی انہوں نے معلوم حقائق کی روشنی میں وضاحت پیش کی اور  بتایا کہ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پر غیر جانبدارانہ تحقیق کرکے حقائق قوم کے سامنے لائیں اور اس تحقیق میں سے اپنے آئی ایس آئی کے نمائندے کو بھی صرف اس لئے ہٹا لیا ہے کہ غیر جانبداری پر کوئی انگلی نہ اٹھ سکے ۔

اب اس پریس کانفرنس کے بعدجس جس نے  بھی اس طرح کے الزامات لگائے ہیں  ان کی  ساکھ پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ابھر آیا   ہے ۔ جس میں وہ تمام صحافی ، سیاستدان  شامل ہیں جنہوں نے اس طرح کے آزادی اظہار رائے کے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے  الزامات لگائے ہیں اوران  کی وضاحت  دینا  بھی ان کا  ہی فرض ہے ۔

فوج کی پریس کانفرنس میں زیادہ تر اشارے تحریک انصاف کے موجودہ سیاسی پس منظر میں کردار کی طرف جاتے ہیں ۔ اور اگر ماضی کی تاریخ کے حوالوں سے دیکھا جائے تو صرف فوج کو ہی ریاست میں مداخلت کا ذمہ دار نہیں  ٹھہرایا جاسکتا بلکہ اس میں سیاستدانوں کا بھی حصہ ہے جو اس  کھیل میں شامل رہے ہیں اور آج بھی دہرائے جارہے ہیں اس طرح   عدلیہ کے فیصلے بھی نظر انداز نہیں کئے جاسکتے ۔

تو اس سارے منظر نامے کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو آج  یہ بات واضح ہوکر سامنے آرہی ہے کہ  جب فوج اپنے آپ کو  غیر جانبدار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے تو سیاستدانوں کا ایک گروہ ان کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنے کردار کو جاری رکھیں  دوسرے لفظوں میں انکو بلیک میل کیا جارہا ہے کہ اگر  انہوں نے ان کا ساتھ نہیں دیاتو پھر ان کی سابقہ غلطیوں کے حوالوں سے نشانہ بنایا جاتا رہے گا۔

آئینی حدود اور اختیارات تو اپنی جگہ مگر ہماری  صورتحال سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا مسئلہ محض سیاسی یا آئینی نہیں رہا  بلکہ اخلاقی  بن چکا ہے ۔ کہ ہم خودنمائی کی اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ جہاں ہمیں   انفرادی طور پر اپنے آپ کے سوا کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا ۔ صرف اپنا قول و فعل ہی سچائی کے قریب لگتا ہے  اور اسی کو ہم میعار سمجھتے ہیں جو انتہائی  خطرناک صورتحال ہے ۔ ہماری سوچ پر ہمارے اس عمل کی اس قدر دھاک بیٹھ چکی ہے اورمعاشرے نے اس رواج کو اس طرح اپنا لیا ہے کہ اب اس خود غرضی کو برا بھی نہیں سمجھا جاتا ۔ تو اس سوچ کا شاخسانہ جہاں بھی نمودار ہوتا ہے وہ اپنا رنگ دکھا کر  ملک وقوم کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا ۔

 ہم سب اسی دھرتی کے سپوت ہیں مگر درج بالا سوچ کے حامل جب کسی عہدہ اختیار یا طاقت پر پہچتے ہیں تو  وہاں ان کی سوچ کے عمل سے خرابی  شروع ہوجاتی ہے ۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہمیں ہمارے معاشرتی ماحول  کو اخلاقی تربیت سے آراستہ کرکے  بدلنے کی ضرورت ہے ۔

اب سوچنے کی ضرورت یہ ہے کہ ہمیں اب ماضی کی غلطیوں کو تھوڑی دیر کے لئے بھلا کر اگر سب سٹیک ہولڈرز واقعی ملک میں آئین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے بارے مخلص ہیں تو پھر سب سر جوڑ کر بیٹھیں اور مستقبل میں  غیر آئینی اقدامات کی خدشات کو ختم کرنے کے لئے کوئی لائحہ عمل بنا کر اس کو   عمل میں لانے کاآغاز کریں ۔

جب فوج اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو آئینی حدود میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ بات بذات خود ایک اعتراف ہے اور کوئی بھی اس حقیقت سے انکاری نہیں اور  دوسری طرف عدلیہ اور سیاستداں بذات خود بھی اپنے آپ کو اس  سارے غیر آئینی عمل سے بری الزمہ کرار نہیں دے سکتے  تو پھر اس اعادے کے بعد بار بار باتوں کو دہرانے کی بجائے اُس غیر آئینی سوچ کے دہرائے جانے کے خدشات پر قدغن لگانے کی ضرورت ہے ۔

ہم جس جمہوریت کے سفر پر رواں ہیں اس کے ابھی ہم نے کئی مراحل طے کرنے ہیں ۔ اور سب سے مشکل دورانیے   کا آغاز ہوچکا ہے ۔ جب غیر ذمہ دار  معاشرے کو  یکدم آزادی اور آزادی اظہار رائے کا حق مل جائے اور اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہ ہو تو پھر ایسے معاشروں کا شر ہی بہت بڑا چیلنج بن جاتا ہے جس کا آج کل ہم سامنا بھی کر رہے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر اس آزادی اظہار رائے نے جو گل کھلائے ہوئے ہیں اس سے شائد شیطان بھی پناہ مانگ رہا ہو ۔

جب ہم پارلیمانی نظام سے مستفید ہونے کی بات کرتے ہیں تو پھر ہمیں اس پارلیمانی نظام کی کامیاب مثال برطانیہ میں ملتی ہے جہاں پچھلے ایک ماہ میں تین وزیر اعظم بدل گئے ہیں مگر کوئی غیر اخلاقی بات نہیں ہوئی ، کسی بھی عالمی طاقت یا کسی دوسری ریاست پر الزام نہیں لگایا گیا ، کسی نے کسی ادارے کی مداخلت کا ذکر تک نہیں کیا ۔ آپ ان کے پارلمنٹ ہاؤس میں ان کے  بحث مباحثے کو دیکھیں تو کتنے تحمل ، تدبر اور شائستگی کے ساتھ وہ باری باری ایک دوسرے کو کتنے دھیان سے سن رہے ہوتے ہیں اور چند قطاروں میں آگے پیچھے بیٹھ کر اپنے مسائل  کو زیر بحث بھی لا رہے ہوتے ہیں ، اعتراضات بھی اٹھ رہے ہوتے ہیں ، جواب بھی دئے جارہے ہوتے ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی کروایا جارہا ہوتا ہے ۔ اور جو بات انتہائی دلچسپ ہے وہ یہ ہے کہ ان کا آئین کسی کتابی شکل میں نہیں ہےاور انہوں نے پھر بھی اس کو ایک رواج کے طور پر اپنا یا ہوا ہے ۔

اب اس سارے ماحول کو اپنے پارلیمنٹیرین سے موازنہ کرکے دیکھیں تو رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے کہ ہمارے شاہانہ نما پارلیمنٹ میں خودنمائی کے دلرادہ ہمارے نمائندگان کیا کیا گل کھلاتے ہیں ۔

کسی بھی ادارے کی عزت و تکریم اس میں موجود لوگوں کے اعمال اور کردار سے جڑی ہوئی ہوتی ہے ، انہوں نے خود ہی اپنے نظام کی کامیابی  کو ممکن بنانا ہوتا ہے  اور اگر وہ خود ہی اپنے مسائل کو وہاں سے اٹھا کر چوک چوراہوں میں پہنچ جائیں اور پھر دوسروں پر انگلیاں اٹھانی شروع کردیں کہ وہ  ان کا تماشہ کیوں دیکھ رہے ہیں تو پھر  زمانہ محو حیرت تو ہوگا ۔

اور پھر ستم کی بات یہ ہے کہ اپنی غلطیوں سے نظریں ہٹانے کے لئے نظام کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیتے ہیں ۔ 

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین