سوچ کی غذا

اتوار، 10 ستمبر، 2023

عوام کو ملک کے ساتھ مخلص سیاسی قیادت کا ساتھ دینا ہو گا

ہمیں بحیثیت قوم ایک ایسی سوچ پیدا کرنا ہو گی جس میں اپنے ذاتی مفادات کو قربان کر کے قومی مفادات کو ترجیح دینا ہو گی۔ ڈالرز کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اپنی کرنسی میں کاروبار کو ترجیح دینا ہو گی۔ دولت کو ملک سے باہر لے جانے کے بجائے واپس لانا ہو گا۔ اپنے وقت، دولت اور توانائیوں سے ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنا ہو گا۔

اگر ہم واقعی ملکی مسائل کے حل کے لئے مخلص ہیں تو پھر ہمیں پہلے قوم بننا ہو گا۔ قوم وہ ہوتی ہے جس کی سوچ ایک ہو۔ جب سوچ ایک تھی تو وسائل نہ ہونے کے باوجود، دنیا کی فاتح قوم سے نجات حاصل کر کے ایک آزاد ریاست حاصل کر لی اور اگر اب دوبارہ اپنی آزاد ریاست کو بیرونی قرضوں اور مداخلت سے آزاد کرا کے جینے کا حق حاصل کرنا ہے تو پھر دوبارہ سے ایک قوم بننا ہو گا۔

ہمیں بحیثیت قوم ایک ایسی سوچ پیدا کرنا ہو گی جس میں اپنے ذاتی مفادات کو قربان کر کے قومی مفادات کو ترجیح دینا ہو گی۔ ڈالرز کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اپنی کرنسی میں کاروبار کو ترجیح دینا ہو گی۔ دولت کو ملک سے باہر لے جانے کے بجائے واپس لانا ہو گا۔ اپنے وقت، دولت اور توانائیوں سے ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنا ہو گا کیونکہ اُس وقت تک یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا جب تک یہ دھرتی بدعنوانی، سمگلنگ، لاقانونیت، حقوق کی خلاف ورزیوں، ناپ تول میں کمی اور ملاوٹ سے پاک نہیں ہو گی اور یہاں رہنے والوں کے دلوں میں دوسروں کی ہمدردی والی سوچ پیدا نہیں ہو گی۔ پاکستان کو اگر حقیقی پاکستان بنانا ہے تو پھر اس کے مطلب و مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے ماحول کو حقیقی بنانا ہو گا۔ پاکستان کا لفظی ترجمہ بھی پاک دھرتی بنتا ہے۔ پاکستان کا مطلب اگر لا الہ الا اللہ ہو اور اس کے اندر ہر وہ برائی جاری ہو جس کا اسلام سے دور دور کا بھی تعلق نہ ہو بلکہ اس کی ممانعت کی گئی ہو اورجسے اسلام اور کفر میں فرق بتایا گیا ہو تو پھر اس کی ترقی کے خواب کو کسی غافل کا خواب تو کہا جا سکتا ہے مگر باشعور انسان کا قطعاً بھی نہیں۔

یہ غربت، مہنگائی، بیروزگاری، لاقانونیت ہمارے ان اعمال کا نتیجہ ہے جو 75 سالوں سے قومی غلطیوں کی صورت ہم بار بار دہرا رہے ہیں۔ کیا رشوت کا لینا دینا، نیچے سے لے کر اوپر تک کمیشن کی لت اور ہر طرح کی بدعنوانی سے کوئی لا علم ہے اور کیا ان کے ہوتے ہوئے اسے پاکستان (پاک سرزمین) کہا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر وہ اوصاف پیدا کرنے ہوں گے جن سے ہم کم از کم یہ دعویٰ تو کر سکیں کہ ہمارے فعل ایک اچھے شہری کے ہیں۔ اس کے لئے ہمیں چھپائے ہوئے ڈالرز کو مارکیٹ میں عام کرنا ہو گا۔ چھپائی ہوئی خوراک، چینی، آٹا، چاول اور دوسری اجناس کو مارکیٹ میں لانا ہو گا۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔ دوسرے پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنی اصلاح کرنا ہو گی۔

ریاست محض جغرافیائی حدود کا نام نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندر رہنے والے عوام اور نظام حکومت بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ عوام کی سوچ و عمل کا ریاست کے معاملات سے گہرا تعلق ہے۔ اس کا نظام حکومت عوام کے سوچ وعمل سے ہی مشروط ہوتا ہے۔ اس کی بہتری یا تباہی میں عوام کی سوچ و عمل کا ہی کردار ہوتا ہے۔ اس ملک کے حکمران ہم میں سے ہی ہوتے ہیں۔ ہم نے ہی ان کی خاندانوں اور معاشرے کے اندر تربیت کر کے ان عہدوں تک پہنچایا ہوتا ہے اور اگر ان کی صحیح تربیت کی گئی ہوتی تو آج یہ وقت دیکھنے کو نہ ملتا۔ عوام کے اندر جس دن اپنے ملک اس کی املاک اور اداروں کی اہمیت اور اس کی ملکیت کا احساس جاگ جائے گا اس دن سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ عوام کو جس دن اچھے اور برے میں تمیز آ جائے گی اپنے ملک کے آئین و قانون کی پاسداری کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا اس دن سے ہماری سمت درست ہو جائے گی اور ہماری ترقی کے سفر کا آغاز ہو گا۔

اس کے لئے ہمیں اپنے سوچ و عمل سے قوم بننا ہو گا اور اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر قربان کرنے کا عملی ثبوت دینا ہو گا۔ اپنے ملک کو اپنا گھر سمجھنا ہو گا اور جس دن ہم یہ سمجھ لیں گے تو پھر ہمیں اس کو لوٹنے کی بجائے اس کو بنانے کی فکر لاحق ہو گی اور پھر ہم اپنے گھر کو لوٹ کر غیروں کے دیس نہیں بھاگیں گے بلکہ ان بھاگنے والوں کا بھی محاسبہ کریں گے۔ بدعنوانی کا حصہ بننے کی بجائے اس کے خلاف ڈھال بنیں گے۔ اس کے وسائل کو ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرنے کی بجائے قومی مفادات کے لئے استعمال کریں گے۔ پھر ہم عوام کو اس کی حفاظت کرنا بھی آتی ہو گی اور اپنی خدمت پر مامور ان لوگوں جن کی تنخواہیں خزانے سے جاتی ہیں، سے کام لینا بھی آتا ہو گا اور اس دن سیاست شوق نہیں رہے گا بلکہ مجبوری بن جائے گا۔ لوگ سیاست سے بھاگیں گے اور عوام خود اچھے لوگوں کو ڈھونڈ کر مجبور کر کے مسند اقتدار پر بٹھائیں گے۔

قوم بننے کا مطلب ہے کہ ہر کوئی اپنی سوچ و عمل کو ملک و قوم کے مفادات سے ہم آہنگ کر کے اپنی اپنی استعداد اور اختیار کے مطابق اپنا حصہ ڈالے۔ مذہبی منافرت، عہدوں اور اختیارات کی مسابقت، قول و فعل کی منافقت اور خود غرضی کی معاشرت کو چھوڑنا ہو گا اور ہر کسی کو اس کے نظریات اور آزادی کے ساتھ آئین و قانون کے دائرے کے اندر رہ کر زندگی گزارنے کا حق دینا ہو گا۔ مذہب کے تقدس کے نام پر قتل و غارت کو ختم کرنا ہو گا اور انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانا ہو گا۔ جبری گمشدگیوں، حق آزادی رائے کی آواز کو دبانے جیسے خوف سے پیدا ہونے والے اپنے ہی دیش میں اجنبیت کے تاثر کو ختم کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنے گرد مذہب، قومیت، علاقائیت، زبان اور دوسرے تعصبات کے حصار ختم کر کے محض پاکستانی ہونے کی شناخت پر اتفاق کرتے ہوئے سب کو مل جل کر اس ملک کی تقدیر کو سنوارنے کے لئے شانہ بشانہ آگے بڑھنا ہو گا۔

قوم کو اچھے برے میں تمیز کرتے ہوئے ان عناصر کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی جو ملک و قوم کے لئے مخلص ہیں اور جن کا ماضی اس اخلاص سے مطابقت رکھتا ہے۔ ہر اس عنصر کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی جن کا قول و فعل ملک و قوم سے اخلاص کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا خواہ اس کا کسی بھی ادارے سے یا کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق ہو۔ سیاست دانوں کے نعروں کو ان کے قول و فعل کے ساتھ مطابقت کے ساتھ دیکھنا ہو گا۔ اور اگر کوئی لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں لاتا یا بدعنوانی کو ختم کرنے میں ساتھ نہیں دیتا تو وہ اس ملک و قوم کے لئے مخلص نہیں ہو سکتا۔

ہمارے پاس اس کی کسوٹی آئین و قانون ہی ہے۔ اگر تو ہم اس کسوٹی پر پورے اترتے ہوں تو پھر ہم اس ملک کے لئے مخلص ہیں اور اگر ہم اس کسوٹی پر پورے نہیں اترتے تو پھر ہمارے کھوکھلے نعرے اس ملک کو کچھ نہیں دے سکتے جیسا کہ ہماری تاریخ اس کی گواہ ہے۔

 

جمعہ، 1 ستمبر، 2023

توہین مذہب کے معاملے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے

 

ناموس مذہب کے نام پر افراتفری، تشدد، قتل و غارت، انتشار اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہمارا بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہم مسلمان جو کبھی بردباری، عفوودرگزر، صبروتحمل اور انسانی حقوق کے محافظ سمجھے جاتے تھے آج عالمی سطح پر انسانی حقوق کی پامالی کرنے والے اور شدت پسند کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ اگر ہم پاکستان کے موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو مذہبی توہین کے واقعات میں بہت ہی ذیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ مروجہ توہین مذہب کی منطق انسانی عقل و شعور ہی نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات سے بھی کوئی مطابقت نہیں رکھتی اور قابل افسوس بات یہ ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی سرا اسلام کی خدمت پر خود ساختہ مامور  مذہبی طبقے سے بھی جڑتا ہے جنہوں نے معاشرے کے اندر  اس اشتعال انگیزی کو ہوا دی جس کی لپیٹ میں اب پوری قوم آچکی ہے۔  اس کے ذمہ دار وہ نام نہاد علماء ہیں جنہوں نے بغیر علم کے دین کے نام پرمسجد ومنبر کو روزگار کا زریعہ اور تبلیغ  کو سیاسی دکانداری بنایا ہوا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو معاشرے کے اندر دین کے پیشوا کے طور پر جانا اور سمجھا جاتا ہے  جو معاشرے کے اندر ایک نمونے کے طور پر دیکھے جاتے ہیں ۔کل انہوں نے اپنی نفرت بھری تقریروں سے معاشرے کا جینا دوبھر کیا ہوا تھا  اور آج خود ہی اپنی محنت کی زد میں آچکے ہیں ۔

اخباری اطلاعات کے مطابق آج راولپنڈی کے رہائشی حافظ شاہد محمود اور عمران اصغر کی شکائت پر مفتی حنیف قریشی کے خلاف 298 اے کے تحت پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ مبینہ طور پر کہا جاتا ہے کہ ممتاز قادری کی اشتعال انگیزی سے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے پیچھے بھی انہی صاحب کی تبلیغ کا اثر تھا۔رپورٹ کے متن کے مطابق مفتی حنیف قریشی پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے صحابہ کے خلاف بغض  کا اظہار کیا ہے جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔ 

اگر ہم اعدادوشمار دیکھیں تو ٢٠٠١ سے لے کر اب تک دو درجن کے لگ بھگ ایسے واقعات ہوچکے ہیں  جن میں پچاس کے قریب جانیں ضائع ہوئیں اور 150 کے قریب لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ اور ان جرائم میں ملوث افراد کی ہر سطح پر عملی طور پرحوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ اور مظلوموں کی داررسی کرنے والوں کو  سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔وکلا کو محض اس لیے نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ ایسے مقدمات میں پیروی کیوں کرتے ہیں۔ سال ٢٠٠٤ سے اب تک تقریبا اٹھارہ کے لگ بھگ وکلا لقمہ اجل بن گئے اور ان کے ساتھ اتنے ہی عام لوگ بھی مارے گئے جیسے کہ اسلام آباد ٢٠٠٧ کے واقعہ میں تقریبا ١٧ عام شعری بھی مارے گئے۔ اسی طرح  ملتان  میں رشید رحمان کو مار دیا گیا۔ حالیہ جڑانوالہ اور فیصل آباد میں  عیسائی عبادت گاہوں اور ان کی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا جس کی تحقیق بھی مبینہ طور پر ایک مذہبی سیاسی جماعت کے ملوث ہونے کے ثبوت مل رہے ہیں  ۔ اسلام آباد کچہری میں کتنی الم ناکی سے وکلاء کوظلم و بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ میں خود اللہ کا شکر سے بمشکل بچا تھا ،اگر ایک منٹ کی تاخیر ہوجاتی تو آج بیان کرنے کی بجاے بیان ہو رہا ہوتا۔ احمدیوں کی عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کے کئی ڈاکٹرز اور وکلاء کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔  

حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان میں توہین مذہب کے قانون کی خلاف ورزی میں زیادہ تر سزائیں بھی مسلمانوں کو ہی ہوئی ہیں اور جہاں جہاں بھی کسی غیر مسلم پر کوئی مقدمہ بنایا گیا ہے اس کی تہہ میں جانے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی ذاتی رنجش کی بنا پر مقدمہ کا اندراج کروایا گیا یا اس کے پیچھے اشتعال انگیزی تھی۔ سیالکوٹ کا واقعہ کتنا دردناک تھا جس میں سراسر غلط معلومات کی بنیاد پر مشتعل ہجوم نے ہمارے دوست ملک کے ایک باشندے کو اتنی بے دردی سے بھرے بازار میں قتل کیا کہ پوری قوم کے سر ندامت سے جھک گئے۔ اسی طرح کوٹ رادھاکشن  اور اسلام آباد کے واقعات انتہائی دردناک تھے۔ اور یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا  جس کی کڑی جڑانوالہ  کا واقع ہے جس میں کتنی املاک کا نقصان ہوا، اسی طرح چند روز قبل  فیصل آباد میں واقعہ ہوا، جس سے ہماری اقلیتی برادری کے اندر ایک خوف سا پھیل چکا ہے جس سےنہ صرف پاکستان کی بلکہ پورے  عالم اسلام کے مسلمانوں کی رسوائی ہورہی ہے جس کے سدباب کے لئے حکومت   کو  اس سے سختی سے نمٹنے کا کوئی لائحہ عمل بنانا چاہیے۔

اگر ہم اس معاملے کا جائزہ لیں تو چند عوامل ایسے ہیں جن  سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ مذہبی سے زیادہ معاشرتی معاملہ  بن چکا ہے۔ میں معاشرتی اس اعتبار سے کہتا ہوں کہ اس میں مذہبی تو ہین تو گاہے بگاہے ہی ثابت ہوتی ہے مگر معاشرتی پستی ، لاقانونیت اور اخلاقی اقدار کی کمی ہر جگہ نطر

اب اگر اسلامی اور قانونی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جہالت اور لا قانونیت کے سوا کچھ بھی نہیں کیو نکہ اگر کوئی چھوٹی بڑی غلط فہمی یا غلطی سر زد ہوتی بھی ہے تو قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا نہ تو اسلام میں کوئی جواز موجود ہے اور نہ ہی  جدیدقانون میں۔ ایک جمہوری اور اسلامی ریاست میں ریاست ہی کے خلاف کاروائی اور سزا دینے کا حق رکھتی ہے۔

اسلامی نقطہ نظر بہت ہی واضح ہے کہ “ایک انسان کا نا حق قتل پوری انسانیت کا قتل ہے“ یہاں مسلمان نہیں کہا گیا بلکہ انسان کہا گیا ہے اور پیغمبر اسلام صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں بہترین اخلاقیات کو پروان چڑھانے اور عام کرنے کے لیے بھجا گیا ہوں۔ انسانیت کا قتل بغیر کسی ثبوت یا صفائی کا موقعہ مہیا کئے، گمراہی نہیں تو اور کیا ہے ۔ اور ایک اسلامی معاشرے میں اقلیتوں کے مال و جاں کی حفاظت ریاست کے ذمہ سونپی گئی ہے اور اگر محافظ ہی قاتل بن جائیں تو اس سے بڑی بددیانتی اور گمراہی کیا ہو سکتی ہے۔ جیسے ایک صوبے کے گورنر کو اس کے محافظ نے قتل کردیا۔ دیکھیں توجتنے بھی واقعات ہوئے ان میں اشتعال اور ذاتی رنجش کا عنصر ضرور سامنے آیا مگر اس کے باوجود بھی اس کی طرف سنجیدگی سے توجہ نہیں دی جا رہی ۔ ان نفساتی پہلوؤں کو  زیر غور لاکر ان کے بارے کوئی حکمت عملی ترتیب دی جانی چاہیے۔اس ضمن میں چند تجاویز دینا چاہوں گا۔

تمام مکاتب فکر کے علماء کی قومی سطح پر ایک کانفرنس بلائی جانی چاہیے جس میں ملک کے جید علماء اپنے متفقہ فتوے کے زریعے سے علماء کے اندر اس معاملے کی حساسیت کو پیدا کرتے ہوئے ان کو ترغیب دیں کہ وہ اپنے اپنے مراکز پر عوام کی اصلاح کی کوشش کریں اور عوام کے اندر دین کی روح سے غافل ملاؤں کی طرف سے غلط ذہن سازی کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اسی طرح سکولوں کے سلیبس کے اندر بھی سیرت طیبہ کے درگزر کرنے، مساوات، شفقت ، بردباری، اور ایک اسلامی ریاست کے اندر غیر مسلموں  کی حفاظت کی ذمہ داری ، اللہ کے بنی ﷺ کے اخلاق اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ ان کے سلوک  کی اعلیٰ مثالوں جیسے موضوعات کو شامل کیاجائے تاکہ بچوں کے اندر اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی کے وہ پہلو اجاگر ہوں جن سے معاشرے کے اندر محبت اور رواداری فروغ پا سکے۔

مسلمانوں کو اللہ کے نبی ﷺکے اخلاق پر عمل کرکے اسلام کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہیے جن کی ان کے بد ترین دشمن بھی تعریف کرتے تھے ۔ ان کی بعثت سے قبل ان کی چالیس سال کی زندگی میں پورے عرب و عجم میں احترام کی وجہ ان کا اعلیٰ اخلاق تھا۔انکو نبوت کی فضیلت تو چالیس سال کی عمر میں ملی اس سے پہلے ان کے انسانوں کے ساتھ معاملات اور اخلاق کی وجہ سے وہ ایک منفرد مقام رکھتے تھے  جن میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔  

اسی طرح ملک کے اندر اب تمام مساجد اور مدارس کی رجسٹریشن مکمل ہوچکی ہے تو پھر ان کے مہتم اور ذمہ داران کو بھی ایک ڈسپلن کے تحت لا کر ان کے لئے بھی کوئی ضابطہ اخلاق ہونا چاہیے تاکہ ان اداروں کا کوئی ذمہ دار مہتمم ہو اور ان کی کوئی ٹریننگ ہو کہ اداروں کو کیسے چلایا جاتا ہے ۔ مدارس اور مساجد  ہمارے بہت ہی اہم ادارے ہیں اور ہماری تعلیم و تربیت میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ضرورت ان کو صحیح طرح سے استعمال کرنے کی ہے ۔ان لوگوں کے اندر بہت زیادہ پوٹینشل ہے ضرورت ان کو استعمال کر کے ترقی کے عمل کا حصہ بنانے کی ہے۔ اس طرح کی  مذہب کے نام پراشتعال انگیزی کبھی بھی کوئی ذمہ دار آدمی نہیں کرتا اور جب ان اداروں کی باگ ڈور ذمہ دار لوگوں کے سپرد ہو گی تو ایسی اشتعال انگیزی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ ان ذمہ داروں کے چناو میں تعلیم کا بھی خیال رکھا جائے۔پھر ان کو ملکی ترقی کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے  انہیں اور بھی ذمہ داریا ں سونپی جاسکتی ہیں ۔یہ ہمارے پاس رضاکاروں کا ایک بہت بڑا  ریسورس ہیں ضرورت توجہ دینے کی ہے۔ جیسے ان کو نکاح خواں کی رجسٹریشن دی گئی ہے اسی طرح اور بھی ذمہ داریاں مثلا‘ پولیو  یا وبائی امراض کے بارے مہم سازی ،ثالثی ، امن کونسلوں  جیسی ذمہ داریاں اور نمبرداروں کی طرح تصدیق کے عمل میں شمولیت وغیرہ سونپ کر مصروف کیا جا سکتا ہے۔

ان کی ذہن سازی کرکے  ان کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ ان کے رویوں کی وجہ سے نہ صرف ہمارےمعاشرے میں نفرتیں جنم لے رہی ہیں بلکہ  ہم اسلام کی بدنامی کا سبب بھی بن رہے ہیں جس سے اسلام کی تبلیغ بھی متاثر ہورہی ہے۔ جب ایک مولوی دوسرے مولوی سے نفرت کروا رہا ہوگا تو پھر معاشرے میں امن کیسے بحال ہوسکتا ہے۔ جب ہم نے اللہ کے گھروں  (مسجدوں) پر نظریات اور مسلک کے پہرے لگائے ہوئے ہونگے اور کسی کو آزاد مرضی سے وہاں گھسنے اور عبادت کرنے کی اجازت ہی  نہیں دیں گے تو پھر ہماری اس اجارہ داری سے اسلام کے ایک دوسرے کو سننے  ، حال جاننے اور اجتماعیت کے تصور کو پنپنے کا کیسے موقع ملے گا۔ جب ہم ایک دوسرے سے بات ہی نہیں کریں گے تو پھر اصلاح کا عمل کیسے وجود پا سکتا ہے۔

ہماری علمی سطح کا یہ حال ہے کہ  مبینہ طور پر بہالپور یونیورسٹی کا ایک نوجوان لیکچرار کو صرف اس لئے جیل میں ڈال دیا گیا کہ وہ خدا کے وجود کا انکاری تھا۔ ہم ایک اسلامی ریاست کے اندر تمام مکاتب فکر کے علماء  کا علم اور ریاستی وسائل ہونے کے باوجود کسی  کو دلیل سے قائل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور ہمارے پاس اس کا ایک ہی حل ہے کہ اس کو پابند سلاسل کر دیا جائے  یا اس کا سر تن سے جدا ۔ یہاں جس پر ایک دفعہ جھوٹا یا سچا مذہب کے متعلق توہین کا کوئی الزام لگ جائے تو پھر ہمارے معاشرے کے اندر جنونیت سے خوف زدہ ذہنوں کے پاس اس کا کوئی شعوری حل ممکن نہیں بلکہ اس کو معاشرے کی خواہشوں کے طابع لے کر ہی چلنا ہوتا ہے ۔ عدالتوں کے جج ایسے مقدمات سے کتراتے ہیں کوئی وکیل ایسے ملزم کے لئے پیش ہونے کی جرات نہیں کرسکتا اور  تو اور اس موضوع پر لکھنا بھی  موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ 

 

 

پیر، 28 اگست، 2023

حکومت کو انتظامی امور پر توجہ دے کرعوام کو ریلیف دینا ہوگا

عبوری حکومت کوموجودہ معاشی بحران میں  ترقی کے پہیے کو روان کرنے کے لئے ملک کے اندر  مہنگائی ، بیروزگاری اور غربت سے بڑھتی ہوئی بے یقینی کی صورتحال سے نمٹنا ہوگا تاکہ عوام کو سکون کا احساس دے کر بہتری کے لئے پر امید بنایا جاسکے۔ان کی ذمہ داریوں میں انتظامی امور کو بہتر بناتے ہوئے عوام کو ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے زریعے سے حکومت کی منتقلی اور ان کو ایک اچھے انتظامی امور کا نمونہ دینا ہوگا۔ تاکہ اگلی حکومت پر عوام کا ایک نگرانی  کا منصوبہ دیا جاسکےجسے وہ دباؤ سے بحال رکھوا سکیں۔ وہ اگلی حکومت کو اس دلیل کے ساتھ جوابدہ ٹھہرائیں کہ اگر عبوری حکومت حالات کو درست کر سکتی ہے تو پھر ایک انتخابی حکومت کی ناکامی بھی قابل برداشت نہیں ہوسکتی

حکومت کو حقیقت تسلیم کرتے ہوئے عمل سےساکھ کو بحال کرنا ہوگا۔ اب اس ٹیکنالوجی کی دور میں کسی سے بھی کوئی راز پوشیدہ نہیں سب جانتے ہیں کہ  ان کے وجود ، طاقت اور حکمت عملیوں کی بنیاد کیا ہے۔ اور نہ ہی اس تاثر کو بدلنے کی کوششوں میں وقت، توانائی اورپیسہ ضائع کرنے کی کوئی ضرورت ہے بلکہ اس تاثر کو بہتر کرکے اپنی بنیادوں اور محسنوں  کی ساکھ کو بہتر کرکے عوام کے دلوں میں محبت پیدا کی جاسکتی ہے۔

اور اس کے لئے پہلے سے ہی عبوری حکومت کے محدود اختیارات کی حدوں کوکافی حد تک وسعت دی جاچکی ہے اور اس کے لئے کسی طرح کی بھی نئی اصلاحات کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی ان کے پاس اب عوامی مطالبات سے فرار کا کوئی بہانہ ہے۔ صرف موجودہ قوانین پر عمل درآمد کروانے کی ضرورت ہے۔ افسر شاہی میں اچھی شہرت ، تجربہ اور کارکردگی کی بنیاد پر انتظامی عہدوں پرتعیناتیوں  کی ضرورت ہے ۔ ایسے لوگوں کو سربراہ بنایا جائے جو ملک و قوم کی خدمت کو ذاتی فائدوں پر ترجیح دیتے ہوں اور وہ افسر شاہی کے مافیہ کے ہاتھوں یرغمال بننے کئ بجائے ان کو کنڑول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کی وجوہات میں معاشی بحران سے بھی زیادہ بد انتظامی اور بد عنوانی کا ہاتھ ہے۔ ایک ہی شہر کے اندر ایک ہی بازار میں ہر کسی نے اپنی مرضی کے نرخ لگائے ہوئے ہیں  اور متعلقہ محکمے جنہوں نے نرخوں کو حکومتی  تعین کردہ لسٹوں  کے مطابق یقینی بنانا ہے وہ کبھی بازار میں نظر ہی نہیں آئے۔ اگر وہ  کبھی کبھار بھی بغیر اطلاع کے  کم از کم رو زمرہ کی اشیاء خوردو نوش کی نرخ اور ان کی کوالٹی کوچیک کرنے کی روٹین کو بنائے رکھیں تو دکانداروں پر چیکنگ کا خوف رہے اور وہ عوام کے ساتھ ظلم کرنے سے با ز رہیں۔ جس سے نہ صرف عوام کی جیبیں محفوظ ہوجائیں بلکہ ان کی صحت بھی بہتر ہو اور حکومت کی صحت پر اٹھنے والے اخراجات بھی کم ہوجائیں۔

بجلی کے بلوں پر احتجاج کے پیش نظر جس طرح سے گریڈ سترہ اور اس سے اوپر والے افسران کی مفت ترسیل کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے خوش آئند ہے اور اس پر عمل بھی ہونا چاہیے محض سابقہ حکومت کی کفائت شعاری کی پالیسی کی طرح کا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح سے عوامی دباؤ کی بنیاد پرباقی تمام مراعات کوبھی ختم کرکےبرابری کو ترویج دینا چاہیے تاکہ جب ان کی آسائشیں ختم ہوں تو ان کو عوام کی مشکلات اور تکلیف کا بھی احساس ہو کہ وہ کسی طرح سے زندگی گزار رہے ہیں۔

پاکستان میں حکومت کی رٹ کی کوئی کمی نہیں اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ آج تک آپ نے کبھی کسی ڈپٹی کمشنر، جج ، پولیس آفیسر،  جرنیل، وزیریا بیورو کریٹ سے کسی کو بدتمیزی کرتے دیکھا ہے۔ یا کبھی  ان کے اپنے کام رکتے دیکھے ہیں ۔ صرف  مسائل عام عوام کے لئے ہی ہیں۔  ہماری افرادی قوت میں بے تحاشا صلاحیتیں ہیں مگر ان کا استعمال عوام کی خدمت کی بجائے مسائل کھڑے کرنے پر ہورہا ہے۔

انتظامی عہدوں پر بیٹھے اور ریاست  کے اہلکاروں کے اثاثے اور آمدن میں  مطابقت کو دیکھنے کی اشد ٖضرورت ہے اور ان کی سکروٹنی ہونی چاہیے کہ ان کے  شاہانہ اخرجات کہاں سے پورے ہورہے ہیں بلکہ ان کے گھروں کی بھی تلاشی لی جانی چاہیے تاکہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت قوم کو واپس ملے۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان کے ہر ترقیاتی ٹھیکے میں اوپر سے لے کر نیچے تک کمیشن چلتی ہے۔ اسے بند ہونا چاہیے۔

افسر شاہی کو کنٹرول کرنے کے لئے بھی ان کی نفسیات کو پیش نظر رکھ کر لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کی محدود سوچ  اور اختیاراتی اجارہ داری کی سوچ کو خدمت کی طرف موڑنے کے لئے ان کی  سوچ کو عوامی اختیارات سے ہی ضرب لگانی پڑے گی اور ان کے اندر ان کے اختیارات کوآئینی و قانونی اختیارات کی جوابدہی کے تابع لاکر یہ احساس پیدا کرنے اور اس کا یقین بٹھانے کی ضرورت ہے  کہ ان کا کام بادشاہت نہیں بلکہ خدمت ہے اور ان کی تنخواہیں عوام کی جیب سے آتی ہیں۔ کسی ایک مولا جٹ کو نوکری سے فارغ کرکے  جیل بھیج دیں سب ٹھیک ہوجائیں گے جیسے ہی ان کو اپنا عہدہ اور اختیارات خطرے میں لگیں گے یہ اپنی اصلیت کی طرف لوٹ آئیں گے ۔ لہذا ان کو اختیاراتی ڈسپلن میں رکھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔

حکومت کو عوامی اعتماد حاصل کرنے کے لئے فوری طور پر تمام  محکموں کے اندر تنخواہوں میں  برابری اور حکومتی اخراجات میں کمی کردینی چاہیے اور ریاستی وسائل کی بنیاد پر بنائے گئے امتیازی سلوک کو فوری بند کر دینا چاہیے اورعوام کی داد رسی کے لئے سخت اقدام اٹھانے چاہیں

یہ تبدیلی کا سفر حکومت کو نچلی سطح سے شروع کرنا چاہیے۔ صوبوں کی اکائی ضلع کی سطح پر عوام کو ریلیف دے کر امن ، استحکام اور ترقی کا یہ سفر شروع کیا جاسکتا ہے ۔

صوبائی حکومتیں صرف  ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں کیمرہ لگا دیں اور اس کا کنکشن ڈائریکٹ ایک ہوم سیکرٹری کے دفتر میں ہو اور ایک  چیف منسٹر کے دفتر میں اور اسے یہ حکم دیا جائے کہ کوئی بھی سائل آپ سے ملنے آئے اس کو روکا نہیں جاسکتا ۔ آپ کو ہر حال میں اس کی داد رسی کرنی ہوگی۔دفتر کے باہر کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ سارے معاملات خود بخود ہی ٹھیک ہوجائیں گے۔پنجاب  جو آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اس کے 42 اضلاع ہیں  اور 42 مولا جٹوں کو کنٹرول کرنا  اس صوبے کے  چیف منسٹر کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ۔ اسی طرح باقی اضلاع میں بھی  کے پی کے کے 38، بلوچستان 36، سندھ 30، گلگت بلتستان 14، کشمیر 10 اور اسلام آباد 1ضلع ہے جو مجموعی طور پر 171بنتے ہیں ۔کیا اس ملک میں 171 ایماندار ، اہل اور قابل لوگ بھی  موجود نہیں یا اتنےسے لوگوں کو بھی کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔ کچھ بھی ناممکن نہیں بس ضرورت ہے اخلاص اور نیت کی۔

ڈپٹی کمشنر کے پاس ایک ہی بہانہ ہوگا کہ میں کس طرح پورے ضلع کے سائلین کو ڈیل کر سکتا ہوں ۔ سادہ سا حل ہے کہ کسی بھی محکمے کے خلاف کوئی شکائت آتی ہے تو اس کو کہہ دے کہ اپنی کارکردگی ٹھیک کریں ۔ شکائت کا مطلب ہے کہ آپ کی کارکردگی ٹھیک نہیں۔ جب کارکردگی ٹھیک ہوگی تو شکائتیں خود بخود ہی رک جائیں گی۔ اور اگر شکایات نہیں رک رہیں تو اس کا مطلب ہوا کہ  اس کے ضلع میں ماتحت محکموں میں لوگوں کے کام نہیں ہورہے اور وہ انتظام کرنے میں ناکام ہوگیا ہے اس کو تبدیل کر دیا جائے۔

اسی طرح ڈپٹی کمشنر اپنے دفتر میں بیٹھ کر اپنے ماتحت محکموں کے سربراہان کے دفاتر کو کیمروں کے زریعے سے مانیٹر کرے ۔ اس ٹیکنالوجی کے دور میں کوئی کام بھی مشکل نہیں بشرطیکہ ہمارے سیاستدان حل کرنے میں مخلص ہوں تو

اتوار، 27 اگست، 2023

سوچوں پر پہرے اور عدم تحفظ کا ماحول

انسان جب اپنی سوچوں کو تحریروں میں لاتا ہے تو پھر اس کی خواہشات، ارادے، چاہتیں، احساسات، تحفظات اور بہت کچھ دوسرے انسانوں تک پہنچتا ہے جس سےان پر ردعمل بھی ابھرتا ہے اور پھران کے نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس رد عمل کے اثرات  میں ایسے  اشارے بھی ہوتے ہیں جن میں محبت یا نفرت کا اظہار ہوتا ہے جو یقیناً ہمارے لئے خوشی، رائے قائم کرنے اور اپنی اصلاح کے لئےفائدہ مند ثابت ہوتا ہے ۔ لیکن بعض دفعہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہماری تحریروں نے کس انسان پر کیا تاثر چھوڑا ہے، خاص کر اس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں تو  اشاعت وسیع اور اس کے اثرات کو جاننا انتہائی پیچیدہ ہوچکا ہے۔ کچھ ایسے ہی چھپے رستم لوگ جن کے مفادات متاثر ہورہے ہوتے ہیں وہ ظاہر نہیں کرتے مگراپنے مقصد کو نقصان پہنچنے کا  بدلہ  لینے کی خاطر انتقام کی حد تک چلے جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کی چالوں اور انتقام کے جذبے سے ہم  چونکہ لا علم ہوتے ہیں اس لئے  ان کی چالوں کے خطرات سے بچنا انتہائی مشکل ہوجاتاہے۔ ایسی صورت میں اللہ کا فضل ہی کارگر ہوسکتا ہے جس کے لئے ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہیے۔

آج میں کچھ ایسے ہی واقعات آپ کو سنانے جارہا ہوں جن سے نہ صرف ہمارے احساسات  متاثر ہوتے ہیں بلکہ خوف و اندیشہ اورنقل حرکت میں بھی محتاط ہونا پڑتا ہےاور ساتھ ساتھ مالی طور پر بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے جس ہماری ذات کے علاوہ ہمارے ساتھ ہمارے خاندانوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

میرے ساتھ ہونے والے ان واقعات  نے مجھے بہت محتاط کردیا  ہے مجھے اپنی سرگرمیوں کو محدود کرنا پڑا ، جس سے میری آزادی بھی متاثر ہوئی ، میرا اظہار رائے کا حق بھی متاثر ہوا اور مجھے ذہنی , جسمانی اور مالی طور پر نقصان بھی اٹھانا پڑا ۔

کئی دفعہ ایسے لوگوں کے تعاقب کا سامنا کرنا پڑا ، دروازوں پر ڈندے برسائے گئے، گاڑی کو سڑک پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی اب یہ لوگ کون ہیں اس بارے کچھ کہہ نہیں سکتا مگر ان کی روداد ضرور سنا سکتا ہوں۔اور پریشان کن بات تو یہ ہے کہ اس ملک میں نہ تو کوئی شکائت کارگر ہوتی ہے اور نہ ہی ان سے کوئی تحفظ حاصل ہوسکتا ہے۔

ایک دن میں گھر پر بیٹھا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی اور میں باہر گیا تو دو نوجوان تھے جن میں سے ایک  نے اپنا تعارف کسی ریڈیو سٹیسشن پر کام کرنے اور ساتھی کا پیشہ  ڈاکٹر بتایا ۔ میں نے پوچھا فرمائیے میں  آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں۔ تومجھے کہنے لگے کہ یہاں پر زمین کی کیا قیمت چل رہی ہے میں نے اندازے سے بتایا تو پھر میرے گھر کے ساتھ بنے فلیٹس کے بارے معلومات لینے لگے ، میں نے ان کو بتایا کہ چوکیدار وہاں پر موجود ہوگا آپ اس سے معلومات لے سکتے ہیں مگر انہوں نے میرے ساتھ جانے پر اسرار کیا میں ان کے ساتھ  چلاگیا اور ان کو بتایا کہ فلیٹس کھلے ہیں اور آپ جاکر اندر سے دیکھ سکتے ہیں مگر وہ مجھے اندر ساتھ جانے پر زور دینے لگے جس پر مجھے تعجب ہوا ور میں تھوڑا محتاط بھی ہوگیا۔مجھے ان کے اس رویے پر کچھ گڑبڑ ہونے کا خدشہ ہواور میں نےتھوڑے سخت لہجے میں کہا کہ آپ جائیں اور دیکھ لیں تب وہ اندر چلے گئے تو میں گھر لوٹ آیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر دستک ہوئی باہر گیا تو وہی دونوں تھے اور  کہنے لگے کہ ہم کل دوبارہ آئیں گے تو آپ ہمارے ساتھ جا کر کچھ پلاٹ وغیرہ دکھا دیں۔ میں نے کہا بھئی میں اس بارے کچھ نہیں جانتا مگر وہ گزارش کے انداز میں بضد تھے ، میرے ساتھ پانچ سال کا بیٹا بھی تھا ،ایک نےاپنے پرس سے سو روپے نکالے اور میرے ساتھ کھڑے بیٹے کو دینے لگا۔ میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کو منع بھی کیا مگر انہوں نے زبردستی بیٹے کی جیب میں ڈال دئیے اور مجھ سے موبائل نمبر پوچھنے لگے۔ مجھے اخلاقاً نمبر بتانا پڑا ۔ دوسرے دن پھر مجھے فون آیا اور اپنا تعارف کروانے کے بعد کہنے لگے کہ ہم آج دوبارہ ا ٓپ کی طرف آ رہے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ ہماری گاڑی میں  چلیں تاکہ ہم کچھ پلاٹ دیکھ سکیں ، تو میں نے انکار کر دیا کہ میں کچھ نہیں جانتا اور میں فارغ بھی نہیں ہوں ۔ آپ کسی پراپرٹی ڈیلر کو ملیں، وہ اسرار کرتے رہے مگر میں نے معذرت کرتے ہوئے فون بند کریا۔

اسی طرح ایک دفعہ میری گاڑی کو ایک ملنگ دوست نے روک لیا میری فیملی بھی ساتھ تھی اور بہروپیے کی طرح عمل کرنے لگا ، پیسے مانگے، میں نے اپنی استعداد کے مطابق پیسے دئے تو پانچ سو کا مطالبہ کرنے لگا اور ساتھ ہی اپنی پیشہ ورانہ انداز میں برا بھلا بھی کہے جا رہا تھا  اس کے الفاظ محض قابل اعتراض ہی نہیں بلکہ تضحیک آمیزبھی  تھے ۔بہرحال میں ملنگوں سے الجھنے سے تو رہا  میں نے اس سے جان چھڑواتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی مگر اس کے الفاظ نے مجھے کئی دن تک پریشان رکھا۔

ایک دن میں صبح صادق اپنے ڈرائینگ روم میں بیٹھا تھا تو ایک درویش صفت انسان اونچی آواز میں کچھ نعرے لگاتے ہوئے گزرا۔ میں نے اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔ وہ گلی کے آخر تک جا کر وآپس آگیااور میرے گھر کے گیٹ پر دو تین زور دار ڈنڈے برسائے، مجھے فقط میرے گھر کے گیٹ پر ڈنڈے برسانے  کا اندازعجیب تو ضرور لگا لیکن میں پھر بھی اس  کو ضرورتمند سمجھ کر اس کی مدد کے لئے  پہنچا تو وہ گلی کے آخری کونے سے مڑ رہا تھا۔ مجھے افسوس یہ ہے کہ میں اس کا پیغام تو نہ سن سکا مگر اس کے اشاروں سے سبق حاصل کرتے ہوئے حسب عادت اپنی تحریروں میں توقف ضرور کر دیا  کیونکہ تحریروں کا مقصد کسی کو زند پہنچانا تو نہیں ہوتا اور خاص کر جب کوئی اس طرح سے  انتباہ کر رہا ہوتو جان کی امان بھی تو چاہیے ہوتی ہے۔

ایک دفعہ میں جب دو ڈھائی بجے بچوں کو سکول سے لے کرگھر آیا اورجیسے ہی گھر میں داخل ہوا تو الماریوں سے کپڑے اور ہر چیز بیڈ کے اوپر اتھل پتھل پڑی تھی ۔دیکھا تو کوئی گھر کے او ٹی ایس سے  سریے توڑ کرنیچے نازل ہوا تھا ، میرے اور بچوں پر خوف سا تاری ہوگیا ، چیزوں کو سنبھالا تو لیپ ٹاپ ، ڈیجیٹل کیمرہ اور بچوں کی وڈیو گیم غائب تھیں ، پولیس کو بلایا ، رپورٹ درج ہوئی ، موبائل لیبارٹری  والے آئے ، فنگر پرنٹس لئے ، واضح پرنٹس پر اطمنان کا اظہار بھی کیا ، مگر نہ کوئی گرفتار ہوسکا اور نہ کوئی اتہ پتہ ملا ۔ چوریاں تو ہوتی رہتی ہیں مگر اس واقعہ کے اندر کچھ عجیب اتفاقات بھی دیکھنے میں ملے جن کی وجہ سے کافی دنوں تک  میں اس بات پر غور و خوض کرتا رہا۔  ایک لفافے میں پرائزبانڈ پڑے تھے وہ بھی قسمت سے بچ گئے اور ایک دراز میں تین ہزار پاکستانی روپے اور ۸۰کینیڈین ڈالر بھی تھے جو خوش قسمتی سے محفوظ رہے ۔  خدا جانے اس کو یہ سب کچھ نظر نہیں آیا یا اس کی ترجیحات کچھ اور تھیں ۔کچھ دنوں بعد مجھے بہارہ کہو تھانہ میں کچھ ملزمان کی گرفتاری کا علم ہوا تو میں  وہاں گیا سب انسپکٹر صاحب کو ملا اوران سے اپنے ملال کا اظہار کرتے ہوئے اپنے لیپ ٹاپ میں لکھی ہوئی چند کتابوں اور ڈیٹا کے چوری ہونے پرپریشانی کا اظہار کیا جس پر مجھے محسوس ہوا جیسے انکے اندر میرے لئے ہمدردی  کے احساسات پیدا ہوئے ہیں ۔انہوں نے اپنے موبائل سے خاص  زرائع پر رابطے شروع کردئے اور انکے انداز سے معلوم ہورہا تھا کہ وہ میری مدد کرنا چاہ رہے ہیں ۔ مگر اچانک انکے انداز بھی بے بس سے لگنے لگے ۔

ایک دفعہ میری چلتی گاڑی کے ساتھ ایک گاڑی نے کچھ اس طرح سے سڑک پر اٹکیلیاں کھیلنا شروع کردیں کہ جان بچانے کے لئے گاڑی کنٹرول کرتے کرتے ایک درخت سے جا ٹکرائی، تھوڑے بہت زخموں سے جان بخشی ہوگئ، اور وہ انجان دوست رفو چکر ہو گئے ، جاکر ہسپتال سے پٹیاں لگوا لیں، الزام لگاتے بھی تو کس پر۔

بہرحال پاکستان ہے اور یہاں ملک و قوم سے محبت، اپنے خیالات اور اظہار رائے کو دوسروں تک پہنچانے کا ٹیکس ان چھوٹی موٹی اٹکیلیوں کی صورتوں میں دینا تو بنتا ہی ہے ، بس دعا کریں کہ اللہ کسی بڑے حادثے سے بچائے۔

موبائل پر کبھی کبھی وقت بے وقت نا معلوم نمبروں سے کالیں آنا  اور آگے سے پر اسرار خاموشی کی ہیبت تو یہاں ہمارے دیش کا ایک معمول کا عمل ہے۔ شروع میں میسنجر کے زریعے سے یہ ہمدرد لوگ مفید مشوروں سے مستفید  بھی کرتے تھے کہ آپ محتاط رہا کریں اور بتاتے تھے کہ ان کو ایسی تحریروں کی وجہ سے تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔ میں ان دوستوں کومخلص سمجھ کر ہمیشہ اپنی تحریروں کو معرفت کے انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ کیونکہ میر امقصد کسی کی دل آزاری یا دکھ پہنچانا تو ہوتا نہیں ہے۔

اور میرامقصد تو صرف اپنے محسوسات کا اظہار اور انسانی حقوق اور ترقی کے خواب کی تکمیل میں ایک چھوٹی سی کوشش ہی تو ہے۔

ملک میں ایک خوف کا سا سماں ہے۔ صحافت کی کتنی آوازیں دبانے کے لئے جانوں تک سے کھیلاگیا اور کچھ اپنی جانیں بچا کر محفوظ مسکن کی تلاش میں اپنے وطن سے دور اس مٹی کی محبت کے لئے ترس رہے ہیں۔  

ایسے ہتھکنڈوں سے  سوچوں پر پہرے لگا کر آزادا ور تعمیری سوچ کے زریعے سے ترقی  کی راہوں کی تلاش  میں رکاوٹیں تو کھڑی کی جاسکتی ہیں انہی دبا نے کی کوشش  میں ملک سےانکو بھگایا ضرور جاسکتا ہے  مگر وہ دبتی نہیں بلکہ وہ  کسی آزاد ماحول کا رخ کر کے پہلے سے بھی زیادہ ابھر کر سامنے آتی ہیں ۔ لہذا بہتر یہی ہوتا ہے کہ سوچوں کے اظہار کے زریعے سے عوام کے رد عمل کو سمجھ کر حالات میں بہتری کی کوشش کی جائے چہ جائے کہ عدم تحفظ کے خوف کو بڑھا کر آوا ز کے دب جانے سے سب کچھ ٹھیک ہونے کا گماں کر لیا جائے۔  

 

بدھ، 9 اگست، 2023

ملکی حالات سے ابھرتے سیاسی خدوخال جمہوری نہیں لگ رہے۔

زمینی حقائق کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شائد جمہوری اقدار ہمیں موافق آتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہیں۔ اس کی ایک وجہ تو قومی سطح پر سیاسی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات کا فقدان بھی ہے جو ایک جمہوری نظام کے اندر کامیابی کے لئے لازم ہوتے ہیں لیکن جو ہماری پارلیمان قانونی اصلاحات کر  رہی ہے ان سے ابھرتے ہوئے تاثر سے لگتا ہے کہ سیاسی جماعتیں  خود بھی یا تو جمہوریت سے نا امید ہوچکی ہیں یا پھر فی الحال ان کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ اس حقیقت کو بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ موجودہ  ملکی معاشی حالات میں  ریاست پچھلے ڈیڑھ سال سےجاری سیاسی عدم استحکام کی سوچ اور سرگرمیوں میں  مزید کسی چھوٹ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

جس کی سب سے بڑی وجہ خود سیاسی جماعتیں ہی ہیں جن کو اس دوران کافی موقع دیا گیا کہ وہ اصولی سیاست کی طرف لوٹ آئیں ، جن میں تحریک ا انصاف کا رویہ تو انتہائی قابل تشویش رہا ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے اپنے آپ کو سیاست سے الگ رکھنے کی پوری کوشش کی گئی ہے مگرسیاسی حلقوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہمارے مذاج  اس طرح کی آزاد، حساس اور با ختیار سیاست کے عادی نہیں ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ہم پچھلی سات دہائیوں سےرائج روائتی  سیاست کے عادی ہوچکے ہیں ، جس میں جمہوریت کی روح رواں طاقت اسٹیبلشمنٹ رہی ہے جس  کا انہوں نے  خود بھی کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ ہر فیصلہ ان کی خواہش کے مطابق ہوتا رہا ہے جس کے پیش نظراب ہمارے سیاستدان  بھی ان سہولت کاریوں کے عادی ہوچکے ہیں ۔

نیوٹرل ہوئی ہےتو اس خلا کو پر کرنے کے لئے دوسرے اداروں نے وہی کردار اپنا لیا ہے اور ایسے حالات بنائے جارہے ہیں جن سے یہ پیغام جارہا ہےکہ وہ سیاست کو آزاد نہ چھوڑیں وگرنہ سیاست کا سنبھلنا ممکن نہیں رہے گا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری سیاسی جماعتوں کے اندر سیاست کو جمہوری اور اصولی رکھنے کی صلاحیتوں کا فقدان ہے

اگر ایسا نہ ہوتا تو ہماری سیاسی جماعتیں یقیناً اسٹیبلشمنٹ کے  اپنے آپ کو سیاست سے دور رہنے کے دعوے پر یقین رکھتے ہوئے اپنے عمل  سے یہ ثابت کرتیں کہ وہ ان کی اس فیصلے سے خوش ہیں اور وہ آپس میں مذاکرات کی میز پر بیٹھ کراصولی سیاست  وجمہوریت  اور اس کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا کوئی مستقبل بارے لائحہ عمل دیتیں ۔ اور اگر پھر بھی کوئی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا اشارہ ملتا تو ان کو جوابدہ بھی ٹھہراتیں۔مگر وہ نہ تو آپس میں مذاکرات کرسکیں اور نہ ہی پر امن سیاسی اور جمہوری ماحول بنا سکیں۔ جس کو اقتدار مل جاتا ہے وہ دوسروں کو انتقام کا نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں اور جن سے اقتدار چلا جاتا ہے انکی سیاست کا محور ملکی فلاح کی بجائے اقتدار کا حصول ہوجاتا ہے اورسیاست کے اصولوں کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔

سپریم کورٹ نے زبردستی تحریک انصاف کو حکومت کے ساتھ انتخابات کے انعقاد کے لئے مذاکرات  پر بٹھایا مگر اس سے کوئی نتیجہ اخذ نہ ہوسکا۔ حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں پر بھی الزام ہے کہ انہوں نے تحریک انصاف کو وہ اہمیت نہیں دی جو دینی چاہے تھی  لیکن تحریک انصاف کے کچھ قائدین کی طرف سے اب یہ بیانات بھی سامنے آرہے ہیں کہ عمران خان نے جان بوجھ کر یہ موقع ضائع کردیا  اور پھر 9 مئی کے واقعہ کے دوران ان کے کارکنان کی سرگرمیوں نے تو ان کی ساری کی ساری سیاست کا کٹہ چھٹہ کھول کر رکھ دیا ہے کہ جیسے وہ اس گھمنڈ میں تھے کہ اپنی مقبولیت کے زور پر سب کچھ زبردستی منوا لیں گےاور وہ کسی بھی صورت اقتدر  کے حصول سے کم کسی بھی حالت  میں امن کے حق میں نہیں تھے۔ جس کی ایک دلیل ان کی وہ ساری سیاسی سرگرمیاں ہیں جن کو وہ  وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہوجانے کے بعد سے جاری رکھے ہوئے تھے جس میں ان کی مکملسیاست چوک چوراہوں تک محدود ہوکر رہ گئی تھی۔جس میں انہوں کئی بیانیے بنائے جن میں ایک سائفر کا بھی تھا جس پر اب ان کے اپنے لوگ ہی سیاسی کھیل کا انکشاف کر رہے ہیں اور عمران خان نے خود کئی یو ٹرن بھی لئے ہیں ۔جس کا آج وہ نقصان بھی اٹھا رہے ہیں ۔

;ان کو چاہیے تھا کہ وہ اگلے انتخابات عوام کی نمائندگی کا حق بھی ادا کررہے ہوتے۔ جس میں; وہ مکمل طور پر ناکام رہے اور ان کی سرگرمیوں کی بدولت جس میں وہ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی خواہش اور بلا حدود و قیود تنقید کی وجہ سے نہ صرف سیاسی جماعتوں کا اعتماد کھو بیٹھے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے قریب بھی اپنا اعتماد ضائع کر بیٹھے۔ اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں کردار پر تو اعتراض کیا جاسکتا ہے جس کاعمران خاں سمیت سب حصہ رہےہیں مگر ان کے ایک ریاستی ادارے کے کردار اور ذمہ داریوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس پر بے جا تنقید کرنی چاہیے۔ عمران خاں وزیر اعظم کے اعلیٰ منصب پر رہ چکے ہیں اس لئے ان کی سوچ اور عمل میں پختگی ہونی چاہیے ۔جب وہ خود اقتدار میں تھے تو وہ فوج کی حکومتی امداد کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے اور فوج پر تنقید کو ملک دشمنی سے تشبیہ دیتے تھے  ۔ویسے بھی ریاست کے کسی ادارے کے سربراہ کے ساتھ کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ملنے  کی خواہش یا  سیاست میں کردار کا مطالبہ نہ تو آئینی طور پر جائز ہے اور نہ ہی جمہوری اور اخلاقی اقدار اس کی اجازت دیتے ہیں ۔  بلکہ وہ خود  عسکری ادارے کے سربراہ کی اپوزیشن سے ملاقاتوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

اب لگتا یوں ہے کہ پچھلے ایک ڈیڑھ سال اور خاص کر 9مئی کے بعد کے سیاسی حالات کے پیش نظر پاکستان کے مقتدر حلقوں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ جب تک ملک کی معیشت سنبھل نہیں جاتی اور پاکستان ترقی کے سفر پرمستقل گامزن نہیں ہوجاتا یا کوئی پائیدار حل نہیں مل جاتا غیر سنجیدہ اور غیرجمہوری سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور اس سے ابھرنے والا تاثر پھر سے ایک ہائبرڈ جمہوریت   کے خدوخال پیش کر رہا ہے جس کا وزیراعظم شہباز شریف سے صحافیوں کی طرف سے سوال بھی کیا گیا جس پر انہوں نے مبینہ طور پرکہا کہ اگر ایسا تاثر ابھرتا بھی ہے تو وہ یہ سب کچھ ملک کی بہتری کے لئے کر رہے ہیں۔ پھر حکومت میں موجود سیاسی جماعتوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہوں نے پاکستانی معیشت کو بہتر کرنے کے لئے سخت فیصلے کئے ہیں جن سے وجود پانے والی مہنگائی اور عوام کو درپیش مشکلات نے ان کی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہےاور  ان کے ساتھ رکھے گئے غیر مساویانہ رویوں اورتحریک انصاف کو مہیا کی گئی سہولت کاریوں سے وجود پانے والی صورتحال کے ذمہ داران  کوہی اپنے کئے کو سنبھالنا ہوگا۔

سیاسی جماعتیں 2018 کے انتخابات کےحقیقی  نتائج کے تناسب والے مینڈٹ کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔ اگر انہوں نے سخت فیصلے کرکے اپنی ساکھ کو داؤ پر لگایا ہے تو اس کی وجہ 2018 کے انتخابات کی دھاندلی تھی  جس کا وہ صلہ ڈیمانڈ کر رہے ہیں ۔جس  کا حل  وہ قوانین میں ترامیم کے زریعے سے  ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہے مگر اس سے مستقبل میں جمہوری حلقوں کو مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ عہدے اور سوچیں بدلنے سے حالات بھی بدل جاتے ہیں اور پھر پچھتاوے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ایسی ایسی قانونی ترامیم کی جارہی ہیں جو بنیادی انسانی حقوق سے بھی  متصادم ہیں جن کی موجودہ حکومت کو قیمت ادا کرنا پڑسکتی ہے۔

"ووٹ کو عزت دو" کا نظریہ بھی بدلا بدلا لگ رہا ہے بلکہ اس کی جگہ اب"طاقت کو عزت دو" کا عملی ماحول بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ گویا مبینہ سول مارشل لاء کا کا تاثر ختم کرنے  کے لئے لاء کو مارشل کیاجارہا ہےتاکہ قانون پرعملدرآمد کے لئے عسکری طاقت میسر ہوکیونکہ جب عدالتوں تک "قانون کی طاقت "کی بجائے "طاقت کے قانون" کی  اشیر باد کو باعث شرف سمجھا جاتا ہے تو پھر قانون کو بھی اسی طاقت سے ہم آہنگ کرنے میں حرج ہی کیا ہے۔ اس پر مریم نوازاپنی خاموشی سے شائد حکومت کے موجودہ انسانی حقوق اور آزادی صحافت سے متصادم قانونی اصلاحات کے گناہوں سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھنے کا جواز پیدا کر رہی ہوں مگر انکی آج کی  خاموشی سے  کل لا تعلقی کا دعویٰ کرنا مشکل ہوجائے گا۔  اسی طرح حکومت میں موجود سیاستدانوں کو بھی اگرکل  انہی قوانیں کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو پھریہ مکافات عمل ہی ہوگا۔

مانا کہ اب پاکستان کے پاس زیادہ وقت نہیں کہ وہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ اور اعتماد کو بحال کرنے اور معاشی طور پر مستحکم ہونے کے حاصل شدہ مواقعوں کو ضائع کرے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ جس نے بھی سیاست کرنی ہے وہ  آئینی، اصولی اور جمہوری اقدار کے حدود کے اندر رہ کر ملکی مجبوریوں کے پیش نظر اپنی سرگرمیوں کو حالات کی مطابقت میں رکھے ۔ یہاں تک کی سوچ تو جائز ہےاور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اسوقت  ریاست کے لئے  معیشت جمہوریت سے بھی زیادہ اہم  ہے مگر اس کی بہتری کا راستہ بھی جمہوریت کی پگڈنڈیوں سے ہی گزرتا ہوا تلاش کرنا ہوگا۔ جمہوریت کو ریگولرائز کرنے کی سوچ تو قابل برداشت ہوسکتی ہے مگر اس کو پابند سلاسل کرنے کی سوچ مزید سیاسی گھٹن پیدا کرے گی۔

اگر ہم پائیدارامن، ترقی اور خوشحالی چاہیتے ہیں تو پھر جمہوریت کو مضبوط کرنا ہوگا اور اس کے لئے طاقت کے ایوانوں کو با اختیار بنانے کی بجائےپارلیمان اور الیکشن کمیشن کو مضبوط اور بااختیار بنانا ہوگا اور اس کی سربراہی کسی عوامی بالادستی پر یقین رکھنے والی سیاسی شخصیت کے حوالے کرنا ہوگا اور اس طرح طاقت کے ایوانوں کو بھی محفوظ سوچ کے تحت رکھنے کے لئے وہاں بھی اصلاحات لانا ہونگی جن سے ر یاست کے اداروں کی طاقت کو  آئین کے تحت لا کر اسے پارلیمان کے دست و بازو بنانا ہوگا۔  اختیارات اور ذمہ داریوں کی شراکت اورجوابدہی کاکوئی لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ جمہوریت کو اپنے قومی اقدار سے ہم آہنگ تو بنایا جا سکتا ہے مگر اس کوانسانی حقوق کی پاسداری اورقانونی کی حکمرانی سے جدا کرکے فائدےحاصل نہیں کیا جاسکتے 

جمعرات، 13 جولائی، 2023

سولہ ستمبر کے بعد سپریم کورٹ کا نیا دور شروع ہوگا

قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں عدلیہ آزاد اور مضبوط ہوگی

اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ وہی ملک ترقی کرتے ہیں  جہاں انصاف یقینی ہو۔ انصاف ہی جمہوریت، قانون کی حکمرانی ، انسانی حقوق کی پاسداری  اور سیاسی استحکام کو یقینی بناتا ہے۔اور جب یہ تمام شرائط پوری ہوجائیں توعوام کے اندر وہ اعتماد پیدا ہوتا ہے جس سے حق بات کہنے اور سننے کا حوصلہ پیدا ہو ۔پھر عالمی سطح پر اعتماد بحال ہوکر بیرونی سرمایہ کاری کی راہیں ہموار ہوجاتی ہیں  اور حکومت نے شائد اسی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے جسٹس فائز عیسیٰ کا بحثیت اگلے چیف جسٹس کا نوٹیفکیشن وقت سے پہلے جاری کر دیا ہے تاکہ غیر یقینی صورتحال ختم ہو۔ ان کے چیف جسٹس بننے سے یقیناً حالات بہتر ہونگے مگرمکمل غیر جانبدار ی اور شفافیت کے لئے عدالتی اصلاحات کی ضرورت ہوگی۔ جس میں ججز کی تعیناتی کے عمل کو موثر بنانے کی انتہائی ضرورت ہے ۔  

نامزد چیف جسٹس فائزعیسیٰ سولہ ستمبر کو اپنا چارج سنبھالیں گے اور پاکستان میں بہتری کی ایک نوید کا آغاز ہوگا۔ اس بات کو میں کسی مفروضے کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا بلکہ اس کے گواہ ان کے وہ فیصلے ہیں جن کی بنیاد پر کوئی بھی اس ملک کا مقتدر حلقہ ماضی میں ان سے خوش نہیں رہا جس کی وجہ ان کا غیر جانبدارانہ اور شفاف انصاف ہے جس کے ہم عادی نہیں ہیں ۔

فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر پاکستان تحریک انصاف، فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان ناراض ہوگئے تھے  کیونکہ اس میں انہوں نے واضح طور پر کہاتھا کہ آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آرسیاست میں دخل اندازی بند کریں اور انہوں نے ذمہ داران کے خلاف ایکشن لینے کا بھی حکم دیا تھا جس کی وجہ سے  ان کو عہدے سے ہٹانے کی کوششیں تیز ترہوتی ہوئی دکھائی دیں اورکئی مفاد پرست ججز کی لاٹریاں بھی نکلیں اور مستقبل کے بندوبست کے پیش نظر ججز کی تعیناتیوں اور بھرتیوں کی منڈی لگی رہی جس کے نتائج آج ہم بھگت رہے ہیں ۔

میمو گیٹ کے فیصلے پر پیپلزپارٹی ان سے ناراض ہوئی ۔کوئٹہ بم دھماکے میں مسلم لیگ کی حکومت ان سے ناراض ہوئی تھی۔ اور ابھی ان کو آڈیو لیک کمیشن  کی سربراہی دینے پر سپریم کورٹ کے اندر پریشانی لاحق ہے جس کو محض ایک پریکٹس کی بنیاد پر  اپنی پریشانی کو سہارا دینے کے لئے قاضی جسٹس فائز عیسیٰ کو کام کرنے سے روک دیا گیا۔ اسی طرح قاضی فائز عیسیٰ کو وکلاء کی ہڑتال پر سخت چڑ ہے کہ سائلین سے بھاری فیس لے کر جب وہ عدالت میں اپنی تاریخ پر آئیں تو وکلاء کی طرف سے ان کے ساتھ پیشی پر اس لئے انکار کر دیا جائے کہ وہ  ہڑتال پر ہیں انتہائی ظالمانہ رویہ ہے ۔

پارلیمان کی طرف سے ان کو دستور کی گولڈن جوبلی پر بلایا گیا اور جس پر ان کو ان کے مخالفیں کی طرف سےتنقید کا نشانہ بھی بنایاگیا۔ وہاں انہوں نے حکومت کو واضح طور پر یہ پیغام دے دیا تھا کہ اگر آپ کل میرے فیصلوں سے کوئی بے جا  نرمی یااصولی مزاحمت سے بچنے  کی امید وابسطہ رکھے ہوئے ہیں تو وہ ختم کردیں ۔   

پھر ان کوان سے مشورہ کئے بغیر  فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستوں کو سننے والے بنچ میں شامل کرلیاگیا جو ان کی دلیری اور بہادری کی ایک اور مثال بن گئی ۔ ان کو شامل کرنے کی وجہ ایک سلگتی ہوئی خواہش تھی  جس پر ان سے مہر ثبت کروانے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ فوجی عدالتوں بارے ایک واضح موقف رکھتے ہیں ۔ لیکن ان کی آئین و قانون  کی پاسداری کی مثال نے  سب کو بے نقاب کر دیا اور انہوں وہ ساری باتیں بھری عدالت کے سامنے رکھ دیں جو چہ مگوئیوں میں کہی جارہی تھیں ۔ انہوں نے  سپریم کورٹ کے آج کل بنائے جانے والے تمام بنچز پر اپنی عدالتی رائے  کو واضح کردیا کہ ان کے نزدیک بنچز قانونی طور پر جائز نہیں ہیں ۔اور پھر ان کے اس نوٹ کو سپریم کورٹ کے ویب سائیٹ سے بھی ہٹا دیا گیا جس سے تمام نیتوں کی وضاحت  قوم کو مل گئی کہ کس طرح سے سپریم کورٹ کے اندر لوگ ان کی قانونی  رائے سے خائف اور پریشان ہیں ۔

جس بندے نے خود کوئی پلاٹ نہیں لیا وہ  پلاٹوں  کی بندر بانٹ اور ریاستی وسائل سے کھیلنےوالوں کے لئے کیسے قابل برداشت ہوسکتے ہیں ۔ جنہوں نے حفاظ کرام کو بیس نمبروں سے اس لئے محروم کر دیا کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے  جس سے اقلیتوں کے حقوق کی تلفی ہوتی ہے ۔

انکے خلاف معزولی کا ریفرنس بھی ان سے ظالمو کو ممکنہ لاحق خطرات کے پیش نظر ہی تھا جو ان کی انصاف کے معاملے میں شفافیت سے خائف تھے۔ جس میں جسٹس فائز عیسیٰ  اور ان کے خاندان کو رسوائی اور پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر اللہ کی طرف سے ان کی  بے گناہی کا فیصلہ بھی ہوا۔ انہوں نے ایک وقت پر استعفیٰ بھی دینے کا ارادہ کر لیا تھا مگر پھر اس کو صرف اور صرف اس ملک اور عوام کی خدمت کی خاطر ترک کر دیا۔ اب اگر ان کوخدمت کا موقع مل رہا ہے تو یقیناً وہ  عوام کی مشکلات کو کم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ ان کے اس ریفرنس میں ملوث لوگ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں رہے  اور سب ایک دوسرے کو بے نقاب کرتے رہے اور اپنی صفائی میں تسلیاں دینے کی کوشش کرتے رہے ۔ اس وقت کی ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے بیانات بھی تاریخ کا حصہ ہیں  جن میں وہ قصورواروں کو بے نقاب کرتے رہے ۔

27 اپریل 2021 کو میرا ایک کالم "مجاہد قاضی فائز عیسیٰ" کے عنوان سے چھپا تھا جس میں نے ان کے اندر ان صلاحیتوں کا ذکر بھی کیا تھا جو ایک جج کے اندر ہونی چاہیں مثلاً اس کو اس عہدے کی خواہش نہ ہو، وہ اہلیت اور قابلیت رکھتا ہو اور  پھر انصاف پر مبنی فیصلے بھی کرتا ہو۔ اسی  کالم سے ایک پیرا   ریفرنس کے طور پر ملاحظہ فرمائیں۔

 قلات کا شہزادہ، بین الاقوامی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل جس کو گھٹی میں قضاء ملی اور جب ان کو قاضی کے عہدے کے لئے چنا گیا تو ایک اطلاع کے مطابق انکی تین کروڑ ماہانہ آمدن تھی ۔ ان کے کھاتے میں کئی منفردات جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کو براہ راست چیف جسٹس آف بلوچستان ہائی کورٹ لگایا گیا جس کو بعد میں چیلنج بھی کیا گیا مگر وہ اس سے سرخ رو ہوئے اوروہ جن کو نہ تو عزت کی کمی تھی اور نہ مال و دولت کی بلکہ ان کو لانے کا مقصد ہی پاکستان کی عدلیہ کو ایک ایسا جج دینا تھا جس کی واقعی ضرورت تھی "

آج ہماری وہ ضرورت صحیح معنوں میں پوری ہونے کی صورت دکھائی دے رہی ہے ۔ 

جس کو جان کے خطرے کی دھمکیاں بھی ملتی رہیں مگر وہ اپنی رہائش سے پیدل سپریم کورٹ  واک کرتے پہنچ جاتے ہیں ۔ جن کا خدا اور موت کے دن پر مصمم یقین ہے جن کے نزدیک خوشامد اور تعلق  انصاف کی کرسی پر بیٹھے ہوئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے ۔ جس کے نزدیک آئین و قانون اور  اس کی پاسداری کا حلف ہی انصاف کا معیار ہو  پھر اس  سے بہتری کی نوید کیوں نہ لگائی جائے ۔ دعا ہے کہ اللہ قاضی فائز عیسیٰ کا حامی و ناصر ہو۔

اس بیان کا مقصد یہ ہے کہ بہتری کی امیدوں کے لئے ماحول کی زرخیزی کے آثار موجود ہیں مگر اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمان  فوائد حاصل کرنے کے لئے مثبت اور جائز اصلاحات کے زریعے سے لاحق خطرات کا سد باب کر سکے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ وہ عدلیہ کا احترام بحال کرنے کے ساتھ ساتھ عام شہری کا احترام بھی بحال کریں گے۔ نظام انصاف کے ماحول میں لاء آف ٹارٹ پرعملدرآمد عدلیہ کی ترجیحات میں شامل ہوگا تاکہ اس ملک میں آئین و قانون کی بالادستی  کو یقینی بنایا جاسکے اور الزامات کی ثقافت اور سیاست کا خاتمہ ہو۔ ریاست کے وسائل کی طاقت سے بنائے گئے قلعے ٹوٹیں گے اورسول بالادستی کو فروغ ملےگا۔

مگر اس کے لئے سیاستدانوں کو بھی پارلیمان کو مضبوط بنانا ہوگا اپنا خوف ختم کرکے احتساب کے عمل میں آزاد اور مضبوط عدلیہ کے قیام کے لئے ان کا ساتھ دینے کی تیاری کرنی ہوگی۔ فیض آباد دھرنا کیس جیسے فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے حکمت عملی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ  اس ملک کے ساتھ ہونے والے کھلواڑکا حساب برابر کرکے اس باب کو ہمیشہ کے لئے بند کیا جاسکے۔

اس کے لئے سازگار ماحول 16 ستمبر کے بعد مہیا ہونے والا ہے اور اس کی راہ میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بھی بظاہر کوئی رکاوٹ دیکھنے میں نہیں آرہی مگر اس کا حوصلہ بہر صورت پارلیمان کی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنا ہوگا۔اداروں پر محض تنقید ہی نہیں کرنی ہوتی بلکہ ان کو مضبوط بنانے کے لئے اقدامات  بھی کرنے ہوتے ہیں  تب ہی آئین کی بالادستی کے ثمرات حاصل ہوتے ہیں ۔آئین کے اندر چیک اینڈ بیلنس سسٹم کو مکمل طور پر فعال اور موثر بنانے کے لئے اصلاحات لانے کا ماحول بھی سازگار اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے   نظام کو بہتر بنانے کا بہتریں موقعہ ہوگا۔مکمل اور آزاد عدلیہ کے لئے احتساب کے عمل کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے جس کا آغاز بھی نظام عدل سے ہی ہونا چاہیے ۔ جسٹس فائز عیسیٰ ججوں کی تعیناتی اور بنچز کی تشکیل وغیرہ بارے اپنی سوچ کا اظہار متعدد بار کر چکے ہیں اور وہ یقیناً اس کے لئے  کوشش بھی کریں گے مگر  پارلیمان کو بھی اپنے حصے کی ذمہ داریاں پوری کرنے کی ضرورت ہے ۔

سپریم کورٹ  کے اندر کی تقسیم  محض چیف جسٹس کے بدل جانے سے ختم نہیں ہوجائے گی۔ اس تقسیم کی بنیاد وہ بندوبست ہے جس کو دہائیوں پر مشتمل اقتدار کے خواب کے پیش نظر عمل میں لایا گیا۔ عدلیہ کے ساتھ اس اقتدار کو ہم آہنگ بنائے رکھنے کے لئے ہم خیال ججز کو بھرتی بھی کیا گیا اور اعلیٰ عدلیہ میں تعینات بھی کیاگیا جس کے مبینہ شواہد بھی گردش کر رہے ہیں اور ان کی سب سے بڑی وجہ ان تعنیاتیوں میں سنیارٹی کے اصول کی خلاف ورزی ہے جس نے ان تمام خدشات کو جنم دیا۔ اب ان مبینہ شواہد کی بنیاد پر عدالتوں کی غیر جانبداری اور شفافیت کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی بھی ضروری ہے  تاکہ عدالتوں پر عوام کا اعتماد بحال کرکے ادارے کی ساکھ کو بچایاجاسکے۔جس کے لئے قاضی فائز عیسیٰ پر ایک بھاری ذمہ داری ہے جس کے لئے  سپریم کورٹ کے ججز اورحکومت کو بھی ساتھ دینا چاہیے  تاکہ ملک میں آئین و قانون کی پاسدار کو یقینی بنایا جاسکے۔  تمام وہ فیصلے جو عدلیہ کی بدنامی کا سبب بنے ان کی تلافی بھی ضروری ہے۔ 

اتوار، 25 جون، 2023

قوم حکمرانوں سے شاہی محلات خالی کرنے کا مطالبہ کرتی ہے ۔

جس ملکی کی دو تہائی  آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہی ہو ۔ ملک بدحال معاشی صورتحال کا شکار ہو ۔ لوگ بھوک سے مر رہے ہوں تو اس ملک کے حکمران ، سربراہ یا مقتدر طاقتیں عالی شان محلوں میں نہیں رہتے ۔ مساوات ، محبت اور بھائی چارے کا تقاضہ یہ ہے کہ سب کا طرز زندگی ایک جیسا ہو ۔ سب کو ریاست کے وسائل تک برابر رسائی حاصل ہو جس کی بنیاد ضروریات ہوں ، بحثیت شہری برابری کے حقوق ان کی بنیاد کا پیمانہ ہوں ۔

جب انسان کو آسودگی حاصل ہوتی ہے اور اس کا رہن سہن شاہانہ ہوتا ہے تو اس کو دوسروں کی پریشانیوں کا احساس نہیں ہوتا ۔ جن کی بجلی کبھی جھمکی بھی نہ ہو ان کو ملک کے دور دراز علاقوں میں لوڈ شیڈنگ سے پریشان حال لوگوں کی تکلیفوں کا کیا اندازہ ہو۔جن کے پاس موجود شاہانہ زندگی کے وسائل ریاست کے خزانے سے موجود ہوں خواہ وہ بھاری بھرکم سودی قرضوں سے ہی حاصل ہورہے ہوں ان کو کیا احساس کہ لوگ  کس طرح گزر بسر کررہے ہیں یادو وقت کی روٹی کو بھی ترس رہے ہیں ۔

اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے مسئلہ غربت ، مہنگائی اور بیروزگاری کا سبب عوام  نہیں بلکہ اس کا سبب اس ملک کے وسائل کے بلبوتے پر آسودہ حال لوگوں کے اعمال اور کارنامے ہیں ۔ جنہوں نے اپنے مفادات کے حصول کی کوشش میں بائیس کروڑ عوام کے مستقبل کو آج کی اس تاریک صورتحال میں دھکیلا ۔ ان کو یہ احسان نہیں ہوا کہ وہ اپنی تجوریاں تو بھر رہے ہیں مگر غریب عوام جن کی جیب سے ان کو آسودگی میسر تھی ان کا کیا بنے گا ۔ وہ عوام کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتے رہے اور خود کو اس ملک کے تمام وسائل کا مالک سمجھتے رہے ۔

اب انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ حکمرانوں اور بشمول تمام سرکاری خزانے سے مستفید ہونے والے محکموں کو شاہی محلات سے باہر نکال کر ایک عام شہری کی طرز زندگی  پر رہن سہن میں لایا جائے تاکہ ان کو احساس ہو کہ اس ملک کے غریب عوام کس کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اور تب ان سے یہ امید وابسطہ کی جاسکتی ہے کہ وہ اس ملک کی تقدیر بدلنے کا کچھ کریں گے وگرنہ محض خالی دعووں اور دلاسوں نے تو ستر سالوں سے اس ملک کا یہ حال کردیا ہے۔

اب بھی ان کے عمل سے کوئی بہتری کا نشان نظر نہیں آتا۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی سینٹ کے چئیرمین ، وائس چیئرمین اور کمیٹیوں کے سربراہان کی مراعات بارے قانون بنانے کی کوشش کی گئی ہے  جس سے ان کی نیتوں کو خوب بھانپا جاسکتا ہے۔ ان کو تو اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کو باہر کہیں سے قرض نہیں مل رہا ۔ اب یہ صورت حال ہوچکی ہے کہ ان کو کوئی سود پر قرضہ دینے کے لئے بھی تیار نہیں ۔ وگرنہ یہ کفائت شعاری کےتو محض کھوکھلے نعرے لگا رہے ہیں عملی طور پر سب صفر ہے۔  

ان کو رضاکارانہ طور پر تمام سہولتیں اور مراعات ختم کردینی چاہیں اور اجلاس بھی قناتوں اور سائبانوں کے نیچے ہونے چاہیں۔ تمام سیکیورٹی اور پروٹوکول ختم کردینا چاہیے ۔ جان ، مال ، عزت سب کی برابر ہے ۔ اگر کسی کو اپنی جان اتنی ہی پیاری ہے تو کوئی مجبوری نہیں وہ اپنے گھر میں بیٹھے اور اپنے وسائل پر اپنی حفاظت کا بندوبست کرے۔ عوام کو ان کا درد محسوس کرنے والے ان کی حالت زار کو سمجھنے والے عوامی نمائندے چاہیں ۔جو باقی سرکاری محکوں کے لئے سادگی اور مساوات کی مثال قائم کرکے ان کے لئے ترغیب کا سبب بنیں اور ان کو برابری کے پیمانے پر وسائل سے مستفید ہونے کے لئے مجبور کرنے کا اخلاقی اور قانونی جواز بھی رکھتے ہوں ۔

وگرنہ  محض نعرے تو کئی مہینوں سے پارلیمان کی عالی شان عمارت میں لگ رہے ہیں لیکن وہاں سے کوئی سادگی اور برابری کی مثال دیکھنے کو نہیں مل رہی ۔

قوموں کے مسائل باتوں سے حل نہیں ہوتے عمل سے ہوتے ہیں ، محنت سے ہوتے ہیں ۔ تعجب ہوتا ہے جب حکومت میں موجود قومی اسمبلی کے ممبران یا وزراء بڑے بڑے جلسوں میں بہت ہی اچھی باتیں کرتے ہیں ۔ کہ ایسا ہونا چاہیے ۔ یوں ہونا چاہیے ۔ ان سے کوئی یہ پوچھے کہ ملک و قوم کے اختیارات تمھارے پاس ہیں وسائل تمھارے حکم کے تابع ہیں تو پھر یہ انتظام و انتصرام کس نے کرنا ہے۔ 

اگر عمل کرنے والا کوئی ہو تو ایک دن کےانتظام سے ہم سورج کی حدت سے سولر سسٹم کے زریعے اپنی دن بھر کی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں اوررات کو مارکیٹوں کو بند کرکے  تقریباًپانچ ہزار میگا واٹ کے سرپلس پر جاسکتے ہیں۔ مگر ہمارے حکمرانوں ترجیحات اگر عوام کی خدمت بنیں تو۔ 

یہ ایک توانائی کے متعلق مثال ہے ۔

آج دنیا میں جو نظام حکومت میں محکموں کا ماڈل ہے اس کا آغاز حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شروع کیا اور ان کا ایک مشہور واقعہ ہے۔ آپؓ کے غلام نے بازار سے گھی کا کنستر اور دودھ کا مشکیزہ آپؓ کے لیے 40 درہم میں خرید لیا۔ بعد ازاں غلام نے آپؓ کو یہ بتایا کہ آپؓ کا کیا ہوا عہد پورا ہو گیا اور وہ آپؓ کے لیے بازار سے گھی اور دودھ کا کنستر خرید لایا ہے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا

فتصدق بهما، فانی اکره ان آکل اسرافا،کيف يعنينی شان الرعية اذا لم يمسسنی ما مسهم۔ (المنتظم، 4: 250

ترجمہ: ‘تم ان دونوں چیزوں کو خیرات کر دو کیونکہ مجھے یہ بات نا پسند ہے کہ میں اسراف کے ساتھ کھاؤں، مجھے رعایا کا حال کیسے معلوم ہو گا اگر مجھے وہ تکلیف نہ پہنچے جو تکلیف انہیں پہنچ رہی ہے۔

پاکستان کا اصل نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور اس کا نام اور اس کا آئین جو قرآن و سنت کے قوانین کو اس ملک کے نظام کا اساس مانتا ہے اور اس پر عمل کو یقینی بنانے کی ضمانت دیتا ہے وہ یہ تقاضہ کر رہا ہے کہ  مساوات کو رائج کرنے کے علاوہ کوئی بھی پیمانہ اب قابل عمل نہیں رہا اور نہ ہی اس کے علاوہ موجودہ مشکلات کا کوئی حل تلاش کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی اس سے ہٹ کر  کسی درجے کو رائج رکھنے کے جواز کا حق رکھتا ہے ۔ 

پیر، 19 جون، 2023

حکومت کی کفائت شعاری کا راز بے نقاب ہوگیا۔


ملک ڈیفالٹ کی طرف جارہا ہے اور ہمارے حکمرانوں کو اپنے مفادات اور مراعات کی فکر لگی ہوئی ہے۔باتیں کفائت شعاری کی کرتے ہیں اور عمل شاہانہ ہے۔ کفائت شعاری پر جو کمیٹی بنائی تھی وہ اب سوئی پڑی ہے اور اس کی سفارشات بھی شائد ردی کی ٹوکری کے سپرد ہوگئی ہیں۔

سیلریز اینڈ پریویلیج آف سینٹ ایکٹ 2023 کے نام سے ایک ایکٹ پاس ہوا ہے ۔ یہ ایکٹ نو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کوپیش کرنے والے یوسف رضا گیلانی ، فاروق ایچ نائیک، عطاء الرحمان، ڈاکٹر شہزاد، اعظم نزیر تارڑ، فوزیہ ارشد، رضا ربانی، عبدالغفور حیدری  وغیر جیسے معززین شامل ہیں۔ یہ مراعات موجودہ اور سابق چیئرمین سینٹ کے لئے ہیں ۔اور سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اس میں  تمام جماعتیں مشتمل اور متفق ہیں۔ اس کے چند چیدہ چیدہ  نکات درج ذیل ہیں۔  

بارہ ملازم ، آٹھ گارڈز، وی وی پی آئی سیکیورٹی اس کے علاوہ جہاں بھی وہ جائیں گےان وفاقی یا صوبائی حکومت سیکیورٹی دینے کی پابند ہوگی، اپنے اور اپنی فیملی کے سفر کے لئے جہازبھی مانگ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سینٹ کی فنانس کمیٹی، جو چئیرمیں سینٹ خود بناتا ہے ، جو بھی فیصلہ کرے گی وہ مراعات دی جاسکتی ہیں۔

اسی ایکٹ کی دفعہ 21 ان کی رہائش پر 6 مستقل سیکیورٹی گارڈز اور 4 حکومت کی طرف سے اور اس کے علاوہ پولیس کی طرف سے بھی سیکیورٹی مہیا کی جائے گی ۔ اسی طرح سیکشن 16 کی رو سے فنانس کمیٹی بارہ تک پرسنل سٹاف  مستقل بنیادوں پر یا کنٹریکٹ کی بنیاد پر دے سکتی ہے۔پھر سیکشن 20 فنانس کمیٹی کو ان مراعات کو بڑھانے کا اختیار بھی دیتا ہے ۔ سالانہ آٹھ لاکھ تک اس کی حد رکھی گئی ہے مگر کمیٹی اس کو ضرورت کے مطابق بڑھانے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری یا پرائیویٹ ہسپتال سے علاج  یا وہ گھر پر سہولت چاہتے ہوں تو اس کے لئے حکومت اخراجات برداشت کرے گی۔

سفر کے لئے وہ اگر چاہیں تو حکومت کے اخراجات پر حکومتی یا پرائیویٹ جہاز بھی وہ لے سکتے ہیں اور ان کا پروٹوکول ریاست کے ڈپٹی ہیڈ کا ہوگا۔ اور  وہ ایک سے چار ممبران تک ساتھ لے کر جاسکتے ہیں ۔ اسی طرح اگر سرکاری گھر میں رہیں تو ٹیلی فون اور گاڑیاں مفت ہونگی اوراگر اپنے گھر میں رہیں گے تو ڈھائی تین لاکھ تک کرایہ بھی ملے گا۔

اس سے پہلے پارلیمان نے اپنی توہین کے لئے قانون منظور کروایا تھا تاکہ کوئی ان پر بات نہ کر سکے۔  شائد ان کو عدلیہ کی عزت دیکھ کر رشک آیا ہو۔ظلم کی انتہا ہورہی ہے ۔ لیکن حکمرانو یاد رکھو یہ تمھاری  قانون سازیاں تمھاری ذہنی استعداد کی خمازی کر رہی ہیں اور تمھارے تمام تر دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں ۔ اور اگر آپ لوگوں نے اپنی ان غلطیوں کو نہ روکا تو یہ تمھاری اس بادشاہت کو بھی بہا کر لے جائیں گی ۔

قانون سازی کا معیار دیکھئے کہ قانون بنانے والے اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں ۔ پھر باتیں کرتے ہیں عدلیہ کی مراعات کی ۔ تو سن لو اس کے بھی آپ ہی ذمہ دار ہیں ۔ آپکو عوام کی نمائندگی کے لئے حکومت کا قلمدان دیا گیا ہے اور اگر آپ عوام کے مفادات کے لئے کام نہیں کرسکتے تو کسی کو بھی حکومت میں رہنےکا کوئی اختیار نہیں ۔ عوام کو مجبور نہ کرو کہ وہ تمھاری بادشاہت کو نوچ ڈالیں اور تمھارے یہ حفاظتی اقدامات دھرے کے دھرے رہ جائیں۔ اگر عوام کا احساس نہیں تو اس کائنات کے خالق کے غضب سے ڈرو جس کی کائنات سے نکلنا مشکل ہے ۔ کوئی اس کے ساتھ بغاوت نہیں کرسکتا۔

اور جو یہاں سے سب کچھ لوٹ کر باہر لے کر جارہے ہیں وہ یہ مت بھولیں کہ ان کو ان کا یہ مال و دولت کہیں بھی فائدہ نہیں دے سکے گا اور اس کی دنیا میں کئی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے بھی اپنی ریاستوں سے لوٹ کر دوسری ریاستوں میں جمع کیا ان کو  سب کچھ سے ہاتھ دھونا پڑے اور نہ ان کی عزت رہی اور نہ ہی ان کا مال کام آیا۔ ان کی نسلیں آج بھیک مانگنے پر مجبور ہیں اور بھوک ہڑتالیں کر رہی ہیں ۔ آپ سب سمجھتے ہیں میں کسی کانام لے کر رسوائی نہیں کرنا چاہتا اور یاد رکھو کہ  جہاں تم پنا ہ لیتے ہو وہ بھی جانتے ہیں کہ جو اپنے ملک اور عوام کے لئے مخلص نہیں وہ ان کے لئے بھی کبھی مخلص نہیں ہوسکتے ۔ ساری دنیا بے وقوف نہیں ہے اور یہ فطرت کا اصول ہے اور یہی انتقام ہے کہ انسان سب کچھ گنوا بھی بیٹھتا ہے اور اس کا حساب پھر بھی اسی کے ذمہ ہوتا ہے ۔

خدا را عوام کے پاس کوئی تو آپشن رہنے دیں کہ وہ آئینی انقلاب کی راہ سے اکتاہٹ محسوس نہ کرنے لگیں اور  جمہوریت اور سیاست کو ہی مسائل سے نکلنے کا زریعہ سمجھے رہیں اور قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی راہ پر چل نکلیں۔

عوام کی نمائندگی اگر آپ کو ملی ہوئی ہے تو اس کو غنیمت جانیں ایسا نہ ہو کہ یہ نمائندگی آپ کے ہاتھ سے نکل جائے  یا چھین لی جائے اور آپ ہاتھ ملتے رہ جائیں۔اور اس کا تجربہ آپ میں سے تمام جماعتیں  کر چکی ہیں مگر شائد آپکو اس سے وہ سبق نہیں ملا جس کا آج کے حالات تقاضہ کر رہے ہیں ۔

موجودہ معاشی حالات میں ان لوگوں کی ایک اس حرکت  نے صرف سیاستدانوں نہیں  بلکہ جمہوریت  اور انصاف سے بھی  عوام کا اعتماد اٹھا دیا ہے اور یہ تمھاری سیاسی قبر کے لئے کافی ہوگا۔عوام کو کفائت شعاری کے درس دئیے جارہے ہیں اور اپنا حال کیا ہے اس کا راز یہ ایکٹ کھول رہا ہے ۔

فضولیات اورعیاشیوں کے نام پر لوٹ کھسوٹ کو بند کر کے قوم کو ممکنہ ایک ہزار ارب کا تحفہ پیش کرتے ہوئے کفایت شعاری کا درس دیتے تو شاید اس کا اثر بھی ہوتا مگر پر عیش ماحول میں بیٹھے ہوئے پالیسی سازوں کو کیا خبر کہ عوام گزارہ کیسے کر رہے ہیں۔ ان کو تو صرف اپنی فضول خرچیوں اور عیاشیوں کے بند ہونے کی فکر نے پریشان کیا ہوا ہے۔ عوام کو ملکی اخراجات کا حقیقی مختصر جائزہ ہی پیش کر دیتے تو شاید تمہارے ضمیر کو ایک لمحے لے لئے ملامت کا سامنا ہو پاتا۔

انصاف اور مساوات کا آغاز سربراہان کے عمل سے شروع ہوتا ہے نہ کہ ان کے کھوکھلے دعوؤں سے جن کا پرچار 75 سالوں سے اور خاص کر پچھلے 5 سالوں سے ہو رہا ہے۔ جس قوم کے قسمت سازوں کو قیام پاکستان سے سفارش، رشوت اور بدعنوانی کی گھٹی سے لے کر کمیشن کی لت کی عملی تربیت سے آراستہ کیا گیا ہو تو پھر ان سے ایمانداری اور اصلاح کی امیدیں وابستہ کرنے سے بڑا بھونڈا پن نہیں ہو سکتا۔

اس قانون کو اگر ختم نہ کیا گیا بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اب عوام کے پاس وقت ہے کہ ماضی کی تمام نا انصافیوں پر آواز اٹھائیں کہ ریاستی خزانے سے حاصل کردہ تنخواہیں،وضائف اور مراعات میں برابری کے علاوہ کوئی صورت قابل قبول نہیں ۔ خواہ وہ جج ہو، جرنیل ہو ، پارلیمنٹیرین ہویا بیوروکریٹ سب کے لئے برابر ہونا چاہیے۔  

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین