سوچ کی غذا

بدھ، 29 اپریل، 2026

نظامِ عدل—مہاڑ نہیں، معیار بدلنے کی ضرورت

"جب انصاف ترازو سے نہیں بلکہ تعلقات سے تولنا شروع ہو جائے—تو مسئلہ قانون نہیں، نظام کا معیار ہوتا ہے۔" 

پاکستان میں آئینی ترامیم ایک معمول کا حصہ رہی ہیں، مگر حالیہ برسوں میں یہ عمل محض قانونی ضرورت کے بجائے ادارہ جاتی کشمکش کا مظہر بنتا جا رہا ہے۔ آئین کی روح “اختیارات کی تقسیم” (Separation of Powers) میں ہے، جہاں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ ایک دوسرے پر توازن قائم رکھتے ہیں۔ لیکن جب یہ توازن بگڑ جائے تو نظام انصاف محض ایک نظریہ بن کر رہ جاتا ہے۔

گزشتہ چند سالوں میں عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی کھینچا تانی نے اس توازن کو شدید متاثر کیا۔ جب پارلیمان نے اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے آئینی ترامیم کا راستہ اختیار کیا تو عدلیہ کی جانب سے اس میں مداخلت نے اداروں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیا۔

چھبیسویں، ستائیسویں اور ممکنہ اٹھائیسویں ترامیم اسی کشمکش کا تسلسل ہیں۔ اپوزیشن انہیں عدلیہ کے اختیارات میں کمی قرار دیتی ہے، جبکہ حکومت کے اقدامات میں عجلت بھی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ترامیم درست ہیں یا غلط، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان سے نظامِ عدل کا معیار بہتر ہو رہا ہے؟

بدقسمتی سے ہمارا مسئلہ قوانین کی کمی نہیں بلکہ ان کے اطلاق میں عدم توازن ہے۔ “میرے جج اور تیرے جج” کی سیاست نے عدلیہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماضی میں بنچوں کی تشکیل سے ہی فیصلوں کی پیش گوئیاں ہونا، سیاسی نوعیت کے مقدمات میں متضاد تشریحات، اور مخصوص نتائج کے حصول کے لیے عدالتی عمل کا استعمال—یہ سب عوامل عوام کے اعتماد کو مجروح کر چکے ہیں۔

پانامہ کیس سے لے کر دیگر اہم فیصلوں تک، عدلیہ کا کردار سوالات کی زد میں رہا۔ اسی طرح پارلیمان بھی اپنی قانون سازی کو مؤثر انداز میں نافذ کروانے میں ناکام رہی۔ نتیجتاً ریاستی نظام ایک ایسے دائرے میں گھومتا رہا جہاں قانون موجود تھا مگر انصاف غائب۔


"جب انصاف ترازو سے نہیں بلکہ تعلقات سے تولنا شروع ہو جائے—تو مسئلہ قانون نہیں، نظام کا معیار ہوتا ہے۔"

آج بھی عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے شکوک و شبہات موجود ہیں۔ ججز کے تبادلوں جیسے انتظامی معاملات کو بھی سیاسی رنگ دے دیا جاتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ افراد کا نہیں بلکہ پورے نظام کے اعتماد کا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ عدلیہ کی ساکھ کو سب سے زیادہ نقصان خود عدلیہ کے بعض رویوں سے پہنچا۔ اگر عدلیہ نے اپنی آزادی کو غیر جانبداری کے ساتھ نہ جوڑا تو اس کی خودمختاری محض ایک دعویٰ بن کر رہ جائے گی۔ اسی طرح حکومت بھی اگر اصلاحات کے نام پر طاقت کے توازن کو اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کرے گی تو یہ عمل مزید بگاڑ پیدا کرے گا۔

لہٰذا اصل ضرورت آئینی ترامیم سے زیادہ نظام کے معیار کی اصلاح ہے۔

  • ججز کو اپنے فیصلوں سے غیر جانبداری ثابت کرنا ہوگی
  • پارلیمان کو قانون سازی میں تسلسل اور سنجیدگی دکھانی ہوگی
  • وکلاء برادری کو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر انصاف کو ترجیح دینا ہوگی

خاص طور پر وکلاء کا کردار نہایت اہم ہے۔ عدالتوں کا بائیکاٹ، ہڑتالیں اور سیاسی بیانیے نہ صرف انصاف کے عمل کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عوامی اعتماد کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ اگر وکلاء واقعی نظام کی بہتری چاہتے ہیں تو انہیں اپنی جدوجہد کو آئینی اور قانونی دائرے تک محدود رکھنا ہوگا۔

اسی طرح وکالت کے نظام میں موجود طبقاتی تقسیم—خصوصاً اعلیٰ عدالتوں میں پیشی کے لیے لائسنس کے پیچیدہ نظام—کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں ایک وکیل کو ہر سطح کی عدالت میں پیش ہونے کا حق حاصل ہوتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں یہ نظام مواقع کی غیر مساوی تقسیم کا باعث بن چکا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک ججز، پراسیکیوشن اور دیگر اہم عہدوں پر تعیناتیاں مکمل طور پر میرٹ پر نہیں ہوں گی، تب تک انصاف کا نظام شفاف نہیں ہو سکتا۔

آخر میں سوال یہ نہیں کہ عدلیہ کی مہاڑ کس کے ہاتھ میں ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس مہاڑ کو کس سمت لے جایا جا رہا ہے۔

اگر معیار درست ہو جائے تو مہاڑ خود بخود سیدھی ہو جاتی ہے۔

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین