پیر، 9 مارچ، 2026

شہدا کے خاندانوں کو "عظیم قومی خاندان" کا درجہ دیا جانا چاہیے

 ہمیں اپنے فوجی اور سویلین شہداء پر فخر ہے اور اس کا عملی ثبوت دیتے ہوئے شہداء کے خاندانوں کو قومی سطح پر اکنالج کرتے ہوئے "عظیم قومی خاندان " کے خصوصی ایوارڈ سے نوازا جانا چاہیے۔

ہمارے ان شہداء کا خاندان اور خاص کر ان کی بیوی بچے بہت بڑی آزمائش سے گزرتے ہیں۔ ہم انکے اس بے مثال رشتے کی کمی تو پوری نہیں کر سکتے مگر انہیں یہ احساس تو دے سکتے ہیں کہ وہ اس غم میں اکیلے نہیں بلکہ پوری قوم ان کی ان مشکل گھڑیوں میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ قومی کی شفقت اور سایہ ہمیشہ ان کے سروں پر قائم ہے۔ انکا ایک عظیم خاندان سے تعلق ہے اور پوری قومی کو ہرپل انکی اس عظیم قربانی کا احساس ہے اور  ان کے ملک و قوم پراس احسان پر انہیں ہر پل سلام پیش کر رہی ہے۔

تمہی سے اے مجاہدو جہاں کا ثبات ہے

جس کا اظہار ہر روز ہر قدم پر ہر دفعہ نئے جوش اور جذبے کے ساتھ ہونا چاہیے اور یہ سب کچھ عملی طور پر قومی حکمت عملی سے ہی ممکن ہے۔ انہیں پاکستان کے ہر ادارے کے اندر ترجیح بنیادوں پر پروٹوکول کے ساتھ سہولیات مہیا کی جانی چاہیں تاکہ انہیں ہر روز قوم کی ان سے محبت تازہ دکھائی دیتی رہے۔

انکے قومی شناختی کارڈ ہی دوسری قوم سے مختلف ہونے چاہیں جن پر خصوصی عظیم قومی خاندان کا نشان ہونا چاہیے جو شہداء کے والدین ، بیوی اور بچوں کو جاری کئے جائیں۔

یہ حضرات پاکستان کی کسی بھی سطح کے تعلیمی، صحت اور ملازمت کے حصول کے لئے جائیں تو وہاں ان کو ہر ادارے کے اندر ہر طرح کی سہولیات ترجیح بنیادوں پر مہیا ہونی چاہیں۔ عظیم قومیں اپنے عمل سے پہچانی جاتی ہیں اور اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھولتیں۔

ہمیں اپنے ان محسنوں کو وہ ماحول دینا ہوگا جس پر وہ شہید کا خاندان ہونے پر فخر محسوس کریں اور پوری قوم کے اندر اس رتبے کے حصول کے لئے جذبہ اور ولولہ اجاگر ہونے  کے ساتھ ساتھ ان پر موت و زندگی کا اصل فلسفہ  واضح ہو۔

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

لہو جو ہے شہید کا وہ قوم کی زکوۃ ہے

حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ اس سلسلے میں خصوصی اقدامات اٹھائے جائیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

دیکھے جانے کی تعداد