ناانصافیوں کا ذمہ دار کون؟

انصاف کے معنی برابری ،   غیر جانبداری ، ہر ایک ساتھ ایک جیسا  برتاؤ رکھنا ، ٹکڑے کرنا  ،  حق ادا کرنا   اور ہر شے کے اس کی صحیح جگہ پر ہونے کے  لئے جاسکتے ہیں ۔ اس کےلئے لفظ عدالت کا بھی استعمال ہوتا ہے  گرچہ تکنیکی طور پر ان میں فرق ہے۔ انصاف کا متضاد ظلم ہے ۔

انصاف کا مفہوم بہت گہرا ہے جس  کے دائرے میں ہمارےکردار ، گفتار اور قضاء کے پہلو   بھی آجاتے ہیں ۔ ہر کوئی اپنے اعمال میں انصاف کے پہلوؤں کا ذمہ دار ہے اور اگر وہ اپنی ان ذمہ داریوں کو نبھانے میں ناکام رہتا ہے  جس کے نتیجے میں کسی کا حق تلفی ہو تو پھر اس کو یہ حق پہنچتا ہے  کہ وہ اپنے حق کے بارے مطالبہ کر سکے اور اگر اس کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جاتا تو پھر  وہ عدل کے لئے صاحب اختیارات اور  ذمہ داران  سے رجوع کرسکتا ہے ۔ اور ایسے حالات میں ذمہ داران جن  میں مقامی صاحب اختیار سے لے کر حکومت اور عدلیہ تک  کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ اگر کوئی انصاف کے حصول کے لئے ان کے پاس آتا ہے تو وہ اس کو غیرجانبداری ، برابری اور اچھے برتاؤ کے ساتھ اس کو اس کا حق دلوایں ۔

آج ہم صرف عدالتوں کو ہی انصاف کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں  اور ہر کوئی اپنے  معاملے کے بارے کوئی فکر نہیں کرتا نہ ہی کسی کو  یہ خیال ہوتا ہے کہ آیا اس کے اعمال میں انصاف کا پہلو موجود ہے یا نہیں ۔

انصاف کا اخلاقیات سےبھی بہت گہرا تعلق ہے اور اسکے معاشرے کے اندر فضائل میں ، امن و سکون ، زندگی کی آسانیاں ، عمر کا طویل ہونا ، رزق میں برکت ، دنیا و آخرت میں کامیابی ، محبت و دوستی میں اضافہ اور مخالفت و دشمنیوں کے خاتمے جیسےفوائد کا موجب کہا گیا ہے ۔ اور اگر ہم اس کے بارے غور کریں اور ہر کوئی اپنے معاملات میں انصاف کو قائم کرے تو پھر ہماری زندگیوں میں کتنا سکون ہوجائے گا ۔ جب ہمارے اخلاقیات اعلیٰ ہوجائیں گے تو پھر ہمارے تھانے اور عدالتیں خالی ہوجائیں گی ۔

اور تحقیق سے یہ ثابت ہے کہ  دنیا کے جن ممالک میں اخلاقیات اعلیٰ ہیں  اور لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں  وہاں کے تھانے اور عدالتیں ویران ہوتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں ہمیشہ سے عدالتوں کی کمی ہی محسوس کی جاتی رہی ہے ۔ ہر کوئی دوسرے پر تنقید کرتا ہے مگر اپنے عمل کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔ جاپان  اور کئی دوسرے ترقی یافتہ ممالک موجود ہیں جہاں اخلاق اعلیٰ ہیں یا پھر انصاف صحیح معنوں میں دستیاب ہے تو وہاں جرائم کی تعداد بہت ہی کم ہے ۔

ہمارے ہاں انصاف کا خیال تو کجا  گنگا ہی الٹی بہہ رہی ہے ۔عدالتوں میں کتنے ہی مقدمات  ایسے ہوتے ہیں جن کا مقصد ہی انصاف نہیں بلکہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننا ہوتا ہے ۔ جس کی وجہ انصاف کا بر وقت نہ ملنا ہے ۔ جس کو سو فیصد یقین ہوتا ہے کہ اس کا حق نہیں بنتا وہ انصاف کے نظام کی خرابیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عدالت کا سہارا لے کر تاخیری حربوں کے زریعوں سے معاملے کو کئی کئی دہائیوں تک لٹکائے رکھتا ہے ۔ اور جس کا حق بنتا ہے وہ خواہ مخواہ ہی وقت ، توانائیاں اور اپنا مال ضائع کرتا رہتا ہے ۔ کتنے ہی لوگ اس انصاف کے نظام سے بد دل اور نا امید ہو کر اپنے حق کی آواز ہی نہیں اٹھاتے اور خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ۔

ہمارے اداروں اور عدالتوں کے اندر کیا صورتحال ہے کسی سے بھی پوشیدہ نہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ یہ نظام مظلوم کی بجائے ظالم کو زیادہ فائدہ دے رہا ہے جس سے ظلم کم ہونے کی بجائے کئی گنا صرف اس  لئے بڑھ رہا ہے کہ کسی کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا ۔

تو جیسے میں عرض کر رہا تھا کہ انصاف کا آغاز ہمارے انفرادی اعمال سے شروع ہوتا ہے اور اگر اس میں کوئی رکاوٹ یا حصول میں مشکل ہو تو پھر حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انصاف کو یقینی بنائیں اور حکومتیں اس ذمہ داری کو نبھانے کے لئے عدالتیں قائم کرتی ہیں ۔

اور عدل کے منصب کو بہت ہی ذمہ دارانہ سمجھا جاتا ہے ۔ بلکہ اچھی سوچ  ، جوابدہی کا خیال اور غیر جانبداری کو روا رکھنے کے لئے فکر مند لوگ تو اس منصب سے دور بھاگتے ہیں ۔ اس منصب کی وجہ سے وہ عام شہریوں میں گھلنا ملنا ، عوامی معلومات کے زرا ئعے جیسا کہ آج کے جدید دور میں میڈیا کا کردار ہے سے  ان کو اپنے آپ کو مکمل الگ تھلگ رکھنا پڑتا ہے ۔ حکومتی عہدیداروں سے اپنے آپ کو دور رکھنا پڑتا ہے ۔ ہر اس معاملے سے اپنے  آپ کو دور رکھنا ہوتا ہے جس سے انصاف پر منفی اثرات مرتب ہونے کا  احتمال ہے ۔

مگر آج ہمارے اخلاقیات کا کیا حال ہے  سب کے سامنے ہے ۔ کس طرح لوگ اس کو عزت و تکریم اور جاہ و جلال کا زریعہ سمجھتے ہیں اور اس کے حصول کے لئے کیا کیا سفارشات اور پیشکشیں کرتے ہیں ۔ اور پھر انتظامیہ اور عدلیہ کے آپس کے تعلقات اور ایک دوسرے سے فائدے اٹھانے کے قصے ہر کوئی جانتا ہے ۔

تو اس کا ذمہ دار ہم اپنی اجتماعی اخلاقی صورتحال سے لے کر اس   میں ملوث اور  ذمہ دار   ہرکردار کو ٹھہرا سکتے ہیں  ۔ اور جتنا جس کا کردار ہے لیکن زیادہ ذمہ داری عدلیہ پر ہی آتی ہے ۔ جن کے بارے یہ وعید سنائی گئی ہے کہ دو طرح کے قاضی جہنم میں جائیں گے جو یا تو اہلیت نہیں رکھتے یا پھر اہلیت کے باوجود فیصلے صحیح نہیں کرتے اور صرف تیسری قسم کے قاضی جو اہلیت بھی رکھتے ہیں اور فیصلے بھی انصاف پر مبنی کرتے ہیں وہ جنت میں جائیں گے ۔ تو اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی اخلاقی اعلیٰ اقدار  کو ہی اہمیت دی گئی ہے اور ہر ایک کو اپنی انفرادی حیثیت میں اپنا احتساب کرنے پر زور دیا  گیا ہے  کہ ہر کوئی انصاف کے عمل میں اپنی ذمہ داریوں اور اس معاملے کی نزاکت کی نوعیت کو سمجھے اور اگر وہ سمجھتا ہے کہ اس سے انصاف نہیں ہو سکے گا تو وہ اس منصب کو لینے سے اجتناب کرے اور اسی لئے اعلیٰ اخلاق کے لوگ  کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو دور رکھیں ۔