سوچ کی غذا

ہفتہ، 18 اپریل، 2026

کائنات، شعور اور عمل: ایک سائنسی و فلسفیانہ کالم

 

دنیا میں انسان ہمیشہ سے ایک بنیادی سوال کے ساتھ جڑا رہا ہے: حقیقت کیا ہے؟ کیا یہ وہ جامد اشیاء ہیں جنہیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، یا پھر یہ ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے جو ہر لمحہ نئی صورت اختیار کر رہا ہے؟

جدید فلسفہ اور سائنسی فکر اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ کائنات کو محض ٹھہری ہوئی اشیاء کا مجموعہ سمجھنا ایک محدود تصور ہے۔ زیادہ گہری نظر سے دیکھا جائے تو یہ پوری کائنات ایک مسلسل “process” یعنی جاری عمل ہے، جس میں ہر شے “ہونے” کے مرحلے سے گزر رہی ہے، نہ کہ کسی حتمی حالت میں موجود ہے۔

کائنات: ایک مسلسل عمل

اس تصور کے مطابق کائنات کوئی جامد ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک بہتا ہوا وجود ہے۔ یہاں ہر چیز حرکت میں ہے، ہر شے تبدیلی کے اندر ہے، اور ہر لمحہ نئی تشکیل لے رہا ہے۔ وجود دراصل “ہونا” ہے، نہ کہ “ہو چکا ہونا”۔

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین