سوچ کی غذا

جمعرات، 15 اکتوبر، 2026

حکومتی سطح پر عوام سے روا رکھی جانے والی آئینی و قانونی ناانصافیاں

پاکستان میں ریاستی سطح پر قانونی اور آئینی تحفظ کی چھتری تلے عوام کے ساتھ ناانصافیاں ہو رہی ہیں، جنہیں عوام کی نمائندہ حکومتوں نے باقاعدہ ترامیم کے ذریعے نافذ کر رکھا ہے۔ اس کی نمایاں مثالیں ٹیکس کا ظالمانہ نظام اور بجلی (پاور و انرجی) کے نرخ ہیں—جو نہ صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ معاشرتی انصاف اور اخلاقیات کے پیمانوں پر بھی پورا نہیں اترتیں۔


1. غیر منصفانہ ٹیکس نظام اور 'نان فائلر' کا بوجھ

مثلاً، اگر کوئی شہری سر چھپانے کی خاطر مکان بنانے کے لیے زمین خریدنا چاہے، تو اسے وہ تمام اضافی ٹیکسز ادا کرنے پڑتے ہیں جو انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے والوں (نان فائلرز) پر لاگو ہوتے ہیں۔ خواہ اس نے یہ جمع پونجی دہائیوں کی سخت محنت سے اکٹھی کی ہو—ایسی آمدن جس پر قانونی طور پر ٹیکس لاگو ہی نہیں ہوتا تھا!

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین