منگل، 24 مارچ، 2026

موت کا احساس، زندگی کا شعور

کبھی آپ نے ایسا خواب دیکھا ہے جس میں آپ اپنی موت کو اپنے بالکل قریب محسوس کرتے ہیں؟ سانس رکتی ہوئی لگتی ہے، دل تیزی سے دھڑکتا ہے، اور ایک انجانا خوف آپ کو گھیر لیتا ہے۔ مگر جیسے ہی آنکھ کھلتی ہے، آپ سکون کا سانس لیتے ہیں اور دل ہی دل میں خوش ہوتے ہیں کہ یہ سب محض ایک خواب تھا۔ اگر کوئی اس حالت میں آپ کو جگا دے تو آپ اس کے شکر گزار ہوتے ہیں۔

مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ کبھی ایسا خواب بھی آتا ہے جو بے حد حسین ہوتا ہے—خوشیوں سے بھرا ہوا۔ جب آنکھ کھلتی ہے تو دل اداس ہو جاتا ہے، اور اگر کسی نے جگایا ہو تو اس سے ہلکی سی ناراضگی بھی ہوتی ہے کہ اس نے ایک خوبصورت لمحہ چھین لیا۔

یہی کیفیت دراصل ہماری روزمرہ زندگی سے بہت ملتی جلتی ہے۔ نیند اور بیداری کا یہ سلسلہ گویا زندگی اور موت کا ایک مختصر سا عملی مظاہرہ ہے۔ انسان روزانہ سوتا ہے، جیسے ایک عارضی موت سے گزرتا ہے، اور اس دوران کبھی خوشی کے خواب دیکھتا ہے تو کبھی خوف کے۔

اسی طرح دن کے اجالے میں بھی انسان جاگتے ہوئے طرح طرح کے خواب بُن رہا ہوتا ہے—کبھی کامیابی کے، کبھی خوشیوں کے، اور کبھی انجانے خدشات کے۔ مگر ایک حقیقت ایسی ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا: موت۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ڈاکٹر کسی انسان کو بتا دیتا ہے کہ وہ ایک مہلک بیماری میں مبتلا ہے اور اس کی زندگی محدود رہ گئی ہے۔ اس لمحے انسان کی سوچ بدل جاتی ہے۔ وہی زندگی جو پہلے لامتناہی لگتی تھی، اچانک بہت مختصر محسوس ہونے لگتی ہے، اور وہ اپنی باقی زندگی ایک مختلف احساس کے ساتھ گزارنے لگتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا فرق پڑتا ہے اگر ہمیں موت کا احساس خواب میں ہو یا جاگتے ہوئے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ فرق صرف ہماری سوچ کا ہے۔ ہم میں سے کچھ لوگ زندگی کی مصروفیات میں کھو کر موت کو بھول جاتے ہیں، جبکہ کچھ خوابوں میں خود کو ہمیشہ زندہ سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں۔

حالانکہ موت ایک اٹل حقیقت ہے، جس سے نہ کوئی بچ سکتا ہے اور نہ ہی انکار کر سکتا ہے۔ مگر ہم اسے اکثر ایک دور کے خواب کی طرح نظرانداز کر دیتے ہیں۔ اگر انسان واقعی یہ سمجھ لے کہ اسے ایک دن اس دنیا سے جانا ہے، تو اس کی زندگی کا انداز ہی بدل جائے۔

وہ ہر لمحہ زیادہ شعور کے ساتھ جئے گا، اپنے اعمال کا جائزہ لے گا، اور اپنی ترجیحات کو درست کرے گا۔ کیونکہ اسے معلوم ہوگا کہ وقت محدود ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں غفلت اور علم کا فرق واضح ہوتا ہے۔ غافل وہ ہے جو حقیقت کو جانتے ہوئے بھی اس پر عمل نہیں کرتا، جبکہ صاحبِ علم وہ ہے جو اس حقیقت کو سمجھ کر اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالتا ہے۔

آخر میں سوال یہ نہیں کہ کون کامیاب ہے اور کون ناکام، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون حقیقت کو سامنے رکھ کر زندگی گزار رہا ہے۔ کامیابی اسی کے لیے ہے جو زندگی کے خوابوں میں کھو کر بھی موت کی حقیقت کو نہ بھولے، اور اس کے لیے تیاری کرتا رہے۔

کیونکہ زندگی ایک خواب ہو سکتی ہے، مگر موت ایک سچ ہے—اور اس سچ سے نظریں چرانا ہی اصل ناکامی ہے۔

👉 “زندگی چاہے خواب ہو، مگر موت وہ سچ ہے جس سے جاگنا ہی پڑتا ہے۔”
اس دنیا سے رشتے کو سمجھنا دشوار نہیں بس ایک لمحے کے لئے اپنے آپ کو ان لوگوں کی جگہ پر رکھ کر سوچیں جو کبھی ہماری طرح کی ہی سوچ رکھتے تھے اور اب دنیا ان کے بعد ان کے متعلق کیسی ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں