فوج کے خلاف تعصب ملک دشمنی سے کم نہیں

مضبوط فوج اور آزاد ریاست کی قدر ان سے جانیں جو اپنے ہی ملک میں رہتے ہوئے غیر محفوظ زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسا نہیں کہ ان کے پاس وسائل نہیں یا ان کے پاس اپنی فوج نہیں تھی بلکہ ان کے اندر بھی ریاست اور فوج کے خلاف تعصب کی آگ بڑھکائی گئی اور آج اس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔

دور کی بات نہیں ابھی ایک دہائی پہلے کی بات ہے جب لیبیا کی عوام ایک مثالی زندگی گزار رہی تھی اور پھر چند نام نہاد انسانی حقوق فوبیا کی شکار سول سوسائٹی کے نا عاقبت اندیشوں نے عالمی ایوارڈز اور ذاتی تشہیر کی حوس میں سوشل میڈیا پر تحریک چلا کر عوام کو حکومت کے خلاف بڑھکایا اور نتائج سب کے سامنے ہیں۔ آج تیرہ سال کے لگ بھگ ہونے والے ہیں ملک خانہ جنگی سے دوچار ہے اور قوم اچھے وقتوں کو یاد کر کے واپسی کے لئے ترس رہی ہے۔ ایسی ہی کئی دوسری مثالیں موجود ہیں جن کو  دہرانے کی ضرورت نہیں

ضرورت ہے تو ان سے سبق حاصل کرنے کی اور ایسے نام نہاد انسانی حقوق کے خود ساختہ چیمپئنز یا ملک سے دور نا معلوم جگہوں پر چھپ کر ملک پر تعصباتی جنگ مسلط کرنے والے وی لاگرز جو شخصیت پرستی کی مرض کے شکار زیرو کارکردگی والوں کی حمائت میں ریاست کے خلاف سرد جنگ کا علم اٹھائے ہوئے ہیں ان کی چالوں کو سمجھ کر اپنے آپ کو ایسی سوچوں سے لا تعلق کرنے کی ضرورت ہے۔

اس وقت عالمی سطح پر پزیرائی کی بنیاد سیاسی اور عسکری قیادت کی ڈپلومیسی اور جرات مندانہ فیصلے ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستانی فوج کی بہادری کے قصے اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستانی فوج نے اپنی صلاحیتوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان کا  دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ 

ملک میں بہتری کی کوششوں سے انکار نہیں مگر یہ آئین و نظام کے اندر رہتے ہوئے کی جاتی ہیں اور ان کے اصل محرکات سیاسی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات ہوتے ہیں جن کا مقصد ملک کو مضبوط بنانا اور عوام کو خوشحالی دینا ہوتا ہے۔ اس وقت پاکستان کی کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں جو یہ دعویٰ کر سکے کہ ان کو خدمت کا موقع نہیں ملا بلکہ اس وقت بھی تمام کے پاس مرکز نہیں تو صوبائی سطح پر تو ابھی بھی اس کے نمونے پیش کرنے کا موقع موجود ہے۔ 

سندھ میں پیپلز پارٹی، کے پی میں تحریک انصاف اور پنجاب میں مسلم لیگ نواز کے پاس حکومت ہے تو پھر کیوں ناں پہلے کارکردگی میں مقابلہ کے زریعے عوام میں پزیرائی حاصل کرتے ہوئے اگلے انتخابات کی تیاری کی جانی چاہیے جو اب زیادہ دور نہیں۔ اور اگر کسی کو اداروں کے خلاف تحفظات یا شکایات ہیں تو ان کو آئین میں موجود طریقہ کار کے مطابق موجود فورمز جن میں تمام صوبوں کو نمائندگی میسر ہے رکھے جائیں۔

اور جمہوریت کی یہ بھی خوبصورتی ہیں کہ اگر اختلافات کے با وجود اکثریتی فیصلہ کر لیا جائے تو پھر اس پر کار بند ہو کر اسے کامیابی سے ہم کنار کروانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ اور ریاست اور اداروں کے خلاف تعصب کے تاثر کو ختم کرتے ہوئے قومی یکجہتی اس وقت پہلی ترجیح ہونی چاہیے جس کے لئے باقائدہ قومی سطح پر تحریک چلائی جانی چاہیے۔  تمام تر تعصبات کا خاتمہ انتہائی نا گزیر ہے۔

ریاست کی سطح پر کوششوں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی کیس سٹڈی کی جانی چاہیے اور اس وقت جس طرح سے پاکستان پر اسلامی دنیا کا اعتماد بڑھا ہے اور وہ پاکستان کو اپنا بگ برادر کہہ رہے ہیں یہ ایک بے مثال کامیابی ہے۔ پاکستان جہاں ان ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے کر رہا ہے وہیں ان کے ساتھ عوامی اور ثقافتی سطح پر تقابلی پروگرام کئے جانے چاہیں جن میں ان ریاستوں میں استحکام کے خاتمے اور خانہ جنگی کا سبب بننے والے عوامل پر تحقیق اور ان کو دوسرے اسلامی ممالک یا ایسی ہی صورتحال سے دوچار ریاستوں کے عوام کے اندر شعور اجاگر کرنے کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے۔ 

اگر ممکن ہو تو ریاستوں کے اندر باہمی ثقافتی ایکسچیج پروگرامز ترتیب دئے جائیں اور ملکوں کے اندر تعصبات پر مبنی نا پختہ سوچوں کے حامل لوگوں کو بھیجا جائے۔ وہ نہ صرف تبادلہ خیالات کر سکیں بلکہ وہاں رہ کر عملی طور پر مشکلات کا مشاہدہ کریں تاکہ ان کے اندر یہ احساس جاگے کہ آزاد ریاست اور مضبوط فوج کتنی بڑی اللہ کی نعمت ہے۔       

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

دیکھے جانے کی تعداد