سوچ کی غذا

بدھ، 8 اپریل، 2026

شکریہ شہباز شریف، شکریہ پاکستان

"شکریہ شہباز شریف، شکریہ پاکستان" — یہ وہ جملے ہیں جو آج عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں غیر معمولی طور پر گونج رہے ہیں۔

اس کی وجہ محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں، بلکہ ایک ایسا عالمی پس منظر ہے جہاں دنیا پہلے ہی شدید اقتصادی دباؤ کا شکار تھی۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، سکڑتی ہوئی معیشتیں اور حکومتی آمدنی کے کم ہوتے ذخائر نے کئی ریاستوں کو داخلی و خارجی خطرات سے دوچار کر رکھا تھا۔ ایسے میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی مکمل جنگ میں تبدیل ہو جاتی تو تیل کی قیمتیں دوگنا ہونے اور عالمی معیشت کو سالانہ تین ٹریلین ڈالر تک کے نقصان کا خدشہ موجود تھا۔ بظاہر حالات ایسے تھے کہ اس بحران کے خاتمے کی کوئی واضح امید دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

لیکن انہی غیر یقینی حالات میں پاکستان نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ مسلسل سفارتی رابطوں اور مکالمے کے ذریعے ایک امید کو زندہ رکھا گیا، اور بالآخر ایسی فضا قائم ہوئی جس میں کشیدگی میں کمی ممکن ہو سکی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان اور وزیرِاعظم شہباز شریف کا کردار زیرِ بحث آتا ہے۔

بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں ایسے مواقع کم ہی ملتے ہیں جب باضابطہ اور مکمل اتفاقِ رائے سے قبل ہی جنگ بندی کی فضا قائم ہو جائے۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کی تجاویز اور اس کی قیادت کو عالمی سطح پر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ کی جانب سے بھی اس امر کا اعتراف سامنے آیا کہ پاکستان نے کشیدگی میں کمی کے لیے تعمیری کردار ادا کیا۔ دو ہفتوں کے لیے جنگ کو معطل کرنے کی تجویز دراصل اسی سفارتی اعتماد کا مظہر ہے، جس نے حالات کو مزید بگڑنے سے روکا۔

پاکستان کے لیے یہ لمحہ باعثِ اطمینان ہے کہ اس نے نہ صرف اپنی امن پسند پالیسی کو عملی شکل دی بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ مکالمہ، تدبر اور مسلسل سفارتکاری بڑے سے بڑے بحران کا رخ موڑ سکتی ہے۔ یہ اقدام اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ طاقت صرف عسکری برتری کا نام نہیں بلکہ مؤثر حکمتِ عملی اور اصولی موقف بھی اس کا اہم حصہ ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس بحران میں ایران کی مزاحمت نے بھی ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں محدود وسائل کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہنا طاقت کے روایتی تصورات کو چیلنج کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یوں یہ صورتحال عالمی نظام میں توازنِ طاقت کے نئے امکانات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

یہ پیش رفت میرے گزشتہ کالم میں پیش کیے گئے خیال کی توثیق کرتی ہے کہ تبدیلی ہمیشہ بحران کی مرہونِ منت نہیں ہوتی، بلکہ ایک واضح نظریاتی سمت اور مؤثر سفارتکاری کے امتزاج سے بھی عالمی سطح پر مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ اسی تناظر میں "Human-Centric Balance Framework" یہ باور کراتا ہے کہ طاقت کی اصل بنیاد انسانی سوچ اور اس کا اخلاقی استعمال ہے۔

امریکہ نے اپنے اہداف کے حصول کا دعویٰ ضرور کیا ہے، تاہم یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ طویل کشیدگی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور عالمی دباؤ اکثر بڑی طاقتوں کو بھی اپنے فیصلوں پر نظرثانی پر مجبور کر دیتے ہیں۔ تاریخ اس کی متعدد مثالوں سے بھری پڑی ہے۔

آخرکار، یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان کی بروقت سفارتی کاوشوں نے نہ صرف ایک ممکنہ بڑے بحران کو ٹالنے میں کردار ادا کیا بلکہ عالمی سطح پر مکالمے اور توازن کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا

امید کرتا ہوں کہ پاکستان نے جس طرح سے جنگ کو رکوا کر بحران کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اب عالمی برادری کے پر امن ممالک کو ساتھ ملا کر دیرپا استحکام  کے لئے اپنی کوششوں سے  پائیدار اور حتمی امن کو قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا جو ہمارا اصل مقصد ہے۔


ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین