بدھ، 8 اپریل، 2026

شکریہ شہباز شریف، شکریہ پاکستان

اس وقت عالمی منظرنامہ ایک نازک موڑ پر کھڑا تھا، جہاں خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے دنیا کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی سفارتی کاوشیں اور وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت قابلِ توجہ بن کر سامنے آئی ہیں، جنہوں نے ممکنہ بحران کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں ایسے مواقع کم ہی ملتے ہیں جب باضابطہ اور مکمل اتفاقِ رائے سے قبل ہی جنگ بندی کی فضا قائم ہو جائے۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کی تجاویز اور اس کی قیادت کو عالمی سطح پر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ کی جانب سے بھی اس امر کا اعتراف سامنے آیا کہ پاکستان نے کشیدگی میں کمی کے لیے تعمیری کردار ادا کیا۔ دو ہفتوں کے لیے جنگ کو معطل کرنے کی تجویز دراصل اسی سفارتی اعتماد کا مظہر ہے، جس نے حالات کو مزید بگڑنے سے روکا۔

پاکستان کے لیے یہ لمحہ باعثِ اطمینان ہے کہ اس نے نہ صرف اپنی امن پسند پالیسی کو عملی شکل دی بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ مکالمہ، تدبر اور مسلسل سفارتکاری بڑے سے بڑے بحران کا رخ موڑ سکتی ہے۔ یہ اقدام اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ طاقت صرف عسکری برتری کا نام نہیں بلکہ مؤثر حکمتِ عملی اور اصولی موقف بھی اس کا اہم حصہ ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس بحران میں ایران کی مزاحمت نے بھی ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں محدود وسائل کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہنا طاقت کے روایتی تصورات کو چیلنج کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یوں یہ صورتحال عالمی نظام میں توازنِ طاقت کے نئے امکانات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

یہ پیش رفت میرے گزشتہ کالم میں پیش کیے گئے خیال کی توثیق کرتی ہے کہ تبدیلی ہمیشہ بحران کی مرہونِ منت نہیں ہوتی، بلکہ ایک واضح نظریاتی سمت اور مؤثر سفارتکاری کے امتزاج سے بھی عالمی سطح پر مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ اسی تناظر میں "Human-Centric Balance Framework" یہ باور کراتا ہے کہ طاقت کی اصل بنیاد انسانی سوچ اور اس کا اخلاقی استعمال ہے۔

امریکہ نے اپنے اہداف کے حصول کا دعویٰ ضرور کیا ہے، تاہم یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ طویل کشیدگی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور عالمی دباؤ اکثر بڑی طاقتوں کو بھی اپنے فیصلوں پر نظرثانی پر مجبور کر دیتے ہیں۔ تاریخ اس کی متعدد مثالوں سے بھری پڑی ہے۔

آخرکار، یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان کی بروقت سفارتی کاوشوں نے نہ صرف ایک ممکنہ بڑے بحران کو ٹالنے میں کردار ادا کیا بلکہ عالمی سطح پر مکالمے اور توازن کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا

امید کرتا ہوں کہ پاکستان نے جس طرح سے جنگ کو رکوا کر بحران کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اب عالمی برادری کے پر امن ممالک کو ساتھ ملا کر دیرپا استحکام  کے لئے اپنی کوششوں سے  پائیدار اور حتمی امن کو قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا جو ہمارا اصل مقصد ہے۔

شکریہ شہباز شریف، شکریہ پاکستان۔

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے خیال میں ہمارے تمام تر مسائل کی بنیادی وجہ ہماری سوچ ہے جیسا کہ ہم میں سے اکثریت کی سوچ کا زاویہ ہماری اپنی ذات ہے۔ مفادات ہر کسی کو عزیز ہوتے ہیں مگر غلطی تب ہوتی ہے جب ہم اپنے ذاتی مفادات کو اپنے اجتماعی یا ملکی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں ۔ ہم ذاتی مفادات کی خاطر ملکی اور اجتماعی مفادات کو نہ صرف یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں بلکہ ان کو نقصان پہچانے سے بھی گریز نہیں کرتے اور یہی سوچ ہمارے ایک قوم بنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہمیں ایک قوم بننے کے لئے سب سے پہلے اپنی سوچوں کو بدلنا ہوگا اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہمارے اندر اس ملک اور اس کی املاک کی ملکیت اور اہمیت کا احساس پیدا نہیں ہوجاتا۔

سوچ کی غذا

فوج کے خلاف تعصب ملک دشمنی سے کم نہیں

مضبوط فوج اور آزاد ریاست کی قدر ان سے جانیں جو اپنے ہی ملک میں رہتے ہوئے غیر محفوظ زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسا نہیں کہ ان کے پاس وسائل نہیں یا ...

دیکھے جانے کی تعداد