سوچ کی غذا

اتوار، 11 اکتوبر، 2026

حکومت موبائل کمپنیوں کی نگرانی کے عمل کو موثر بنائے

پاکستان میں موبائل سروسز کی کیفیت انتہائی ناقص ہے، بالخصوص انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کے مترادف ہو چکی ہے۔ صبح کے اوائل میں جب نیٹ ورک پر بوجھ کم ہوتا ہے تو سروس کسی حد تک بہتر چلتی ہے، لیکن جیسے ہی صبح کے ۱۰ یا ۱۱ بجتے ہیں، براؤزنگ تقریباً ٹھپ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس صورتِ حال نے صارفین کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔

آج کے دور میں موبائل فون صرف باہمی رابطے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ روزمرہ زندگی، کاروبار، روزگار، تعلیم اور بینکاری کا بنیادی ستون بن چکا ہے۔ ایسے میں عوام کا سب سے بڑا اور بجا سوال یہ ہے کہ جب ٹیلی کام کمپنیاں صارفین سے اربوں روپے کا منافع کما رہی ہیں تو آخر نیٹ ورک کی کوالٹی میں سدھار کیوں نہیں لایا جا رہا؟

صارفین کی عام شکایات درج ذیل ہیں:
پیکجز کی گرانی: قیمتیں بے تحاشا لیکن ڈیٹا کی مقدار اور کوالٹی انتہائی کم۔
ناقص نیٹ ورک: سست ترین رفتار اور سگنلز کا بار بار غائب ہو جانا۔
کال ڈراپ: گفتگو کے دوران آواز کا کٹنا اور رابطہ منقطع ہونا۔
غیر معلن کٹوتیاں: بغیر کسی واضح وجہ کے کریڈٹ یا بیلنس کا غائب ہو جانا۔
غیر تسلی بخش داد رسی: شکایت درج کروانے پر غیر سنجیدہ رویہ۔

یہ تمام مسائل دراصل پاکستان میں صارفین کے حقوق (Consumer Rights) کی عدم پاسداری اور ریگولیٹری کمزوری کی واضح علامت ہیں۔ ہمارے ہاں عموماً ادارے تب متحرک ہوتے ہیں جب عوامی غصہ حد سے بڑھ جائے یا میڈیا پر شور مچے۔ اگر ریاست واقعی اپنے شہریوں کو مرکزی اہمیت دینا چاہتی ہے تو اسے کسی بحران کا انتظار کرنے کے بجائے پہلے سے فعال اور پیشگی نگرانی کا موثر نظام قائم کرنا ہو گا۔

آج کل زیادہ تر سروسز ہفتہ وار یا ماہانہ پیشگی (Prepaid) پیکجز کی صورت میں دی جا رہی ہیں۔ کمپنیاں مہینے کے شروع میں ہی تمام رقم وصول کر لیتی ہیں، لیکن پورا مہینہ مطلوبہ سروس فراہم نہیں کی جاتی۔ اسی طرح موبائل کال سروس بھی مخصوص علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جو براہِ راست صارف کے حقوق اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان میں ٹیلی کام سیکٹر کو ریگولیٹ کرنے کی بنیادی ذمہ داری 'پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی' (PTA) پر عائد ہوتی ہے۔ پی ٹی اے کو چاہیے کہ وہ اپنی نگرانی کے نظام کو جدید اور موثر بنائے۔ شکایت کے اندراج کا ایک ایسا شفاف میکانزم ہونا چاہیے جو شکایت کے وقت صارف کے علاقے اور سروس کی کیفیت کا تکنیکی ریکارڈ محفوظ کر سکے، تاکہ سروس کا معروضی تجزیہ کر کے کمپنیوں کی جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔

موبائل کمپنیاں صارفین کے ساتھ طے شدہ معاہدے (SLA) کی پاسداری کی قانونی طور پر پابند ہیں۔ اگر سروس معاہدے کے مطابق نہیں دی جا رہی تو اس کا محاسبہ ہونا چاہیے اور اس تحویل کی ضمانت دینا اتھارٹی کا فرض ہے۔ نیز، Right to Information (RTI) کے تحت صارف کا یہ حق ہے کہ وہ دن میں کسی بھی وقت اپنے علاقے میں سروس کی کوالٹی اور سپیڈ کا آفیشل ریکارڈ حاصل کر سکے، اور اس ریکارڈ تک رسائی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اگر پی ٹی اے کی طرف سے صارفین کی داد رسی کا کوئی نظام پہلے سے موجود ہے تو اس کی آگاہی بھی ضروری ہے۔ کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ کال کنیکٹ ٹونز یا ایس ایم ایس کے ذریعے صارفین کو ان کے حقوق اور شکایت درج کروانے کے طریقہ کار سے آگاہ کریں۔

جمہوری اور نمائندہ حکومتوں کا کام عوامی فلاح کے اداروں کو تحرک میں لانا اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ کمپنیوں کی کارکردگی میں بہتری سخت سزا و جزا کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر کوئی کمپنی 4G کے نام پر چارج کرے اور سپیڈ 2G جیسی دے، تو اس پر بھاری جرمانے عائد کیے جانے چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پیکجز کی قیمتیں عوام کی قوتِ خرید کے مطابق ہونی چاہئیں اور ان کی بالائی حد (Price Ceiling) مقرر ہونی چاہیے۔

بہتری کے لیے چند اہم تجاویز:

1. تھرڈ پارٹی آڈٹ: سروس کے معیار کو پرکھنے کے لیے غیر جانبدار تھرڈ پارٹی کنسلٹنٹس سے مستقل بنیادوں پر کوالٹی آڈٹ کروایا جائے اور اس کی رپورٹس شائع کی جائیں۔

2. جدید اور فوری ہیلپ لائن: پی ٹی اے ایک ایسا مختصر اور آسان شکوہ نمبر (تھری ڈیجٹ کوڈ) یا ون ٹیپ موبائل ایپ متعارف کروائے جس کے ذریعے صارف سروس خراب ہوتے ہی فوراً شکایت درج کروا سکے۔ موجودہ دور میں AI (مصنوعی ذہانت) کی مدد سے یہ عمل چند سیکنڈز میں خودکار طریقے سے انجام دیا جا سکتا ہے۔

3. ڈیٹا سیکیورٹی اور کارروائی: ملینز صارفین کی پرائیویسی، ڈیٹا سیکیورٹی اور سروس کوالٹی رپورٹس کی روشنی میں غفلت برتنے والی کمپنیوں کے خلاف فوری اور ڈسٹرکٹو ایکشن لیا جائے۔

ملکی معیشت میں ٹیلی کام سیکٹر کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے۔ حکومت مستقبل میں نوجوانوں کے روزگار، فری لانسنگ، ڈیجیٹل انڈسٹری اور آئی ٹی سے متعلق جن منصوبوں کا ارادہ رکھتی ہے، ان کی کامیابی کا تمام تر انحصار بہترین اور تیز رفتار انٹرنیٹ پر ہے۔ لہٰذا، حکومت اور پی ٹی اے کو فوری طور پر موبائل کمپنیوں کی جوابدہی کو حتمی بنانا ہو گا۔

 

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین