آج کے دور میں موبائل فون صرف باہمی رابطے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ روزمرہ زندگی، کاروبار، روزگار، تعلیم اور بینکاری کا بنیادی ستون بن چکا ہے۔ ایسے میں عوام کا سب سے بڑا اور بجا سوال یہ ہے کہ جب ٹیلی کام کمپنیاں صارفین سے اربوں روپے کا منافع کما رہی ہیں تو آخر نیٹ ورک کی کوالٹی میں سدھار کیوں نہیں لایا جا رہا؟
یہ تمام مسائل دراصل پاکستان میں صارفین کے حقوق (Consumer Rights) کی عدم پاسداری اور ریگولیٹری کمزوری کی واضح علامت ہیں۔ ہمارے ہاں عموماً ادارے تب متحرک ہوتے ہیں جب عوامی غصہ حد سے بڑھ جائے یا میڈیا پر شور مچے۔ اگر ریاست واقعی اپنے شہریوں کو مرکزی اہمیت دینا چاہتی ہے تو اسے کسی بحران کا انتظار کرنے کے بجائے پہلے سے فعال اور پیشگی نگرانی کا موثر نظام قائم کرنا ہو گا۔
آج کل زیادہ تر سروسز ہفتہ وار یا ماہانہ پیشگی (Prepaid) پیکجز کی صورت میں دی جا رہی ہیں۔ کمپنیاں مہینے کے شروع میں ہی تمام رقم وصول کر لیتی ہیں، لیکن پورا مہینہ مطلوبہ سروس فراہم نہیں کی جاتی۔ اسی طرح موبائل کال سروس بھی مخصوص علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جو براہِ راست صارف کے حقوق اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان میں ٹیلی کام سیکٹر کو ریگولیٹ کرنے کی بنیادی ذمہ داری 'پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی' (PTA) پر عائد ہوتی ہے۔ پی ٹی اے کو چاہیے کہ وہ اپنی نگرانی کے نظام کو جدید اور موثر بنائے۔ شکایت کے اندراج کا ایک ایسا شفاف میکانزم ہونا چاہیے جو شکایت کے وقت صارف کے علاقے اور سروس کی کیفیت کا تکنیکی ریکارڈ محفوظ کر سکے، تاکہ سروس کا معروضی تجزیہ کر کے کمپنیوں کی جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
موبائل کمپنیاں صارفین کے ساتھ طے شدہ معاہدے (SLA) کی پاسداری کی قانونی طور پر پابند ہیں۔ اگر سروس معاہدے کے مطابق نہیں دی جا رہی تو اس کا محاسبہ ہونا چاہیے اور اس تحویل کی ضمانت دینا اتھارٹی کا فرض ہے۔ نیز، Right to Information (RTI) کے تحت صارف کا یہ حق ہے کہ وہ دن میں کسی بھی وقت اپنے علاقے میں سروس کی کوالٹی اور سپیڈ کا آفیشل ریکارڈ حاصل کر سکے، اور اس ریکارڈ تک رسائی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
اگر پی ٹی اے کی طرف سے صارفین کی داد رسی کا کوئی نظام پہلے سے موجود ہے تو اس کی آگاہی بھی ضروری ہے۔ کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ کال کنیکٹ ٹونز یا ایس ایم ایس کے ذریعے صارفین کو ان کے حقوق اور شکایت درج کروانے کے طریقہ کار سے آگاہ کریں۔
جمہوری اور نمائندہ حکومتوں کا کام عوامی فلاح کے اداروں کو تحرک میں لانا اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ کمپنیوں کی کارکردگی میں بہتری سخت سزا و جزا کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر کوئی کمپنی 4G کے نام پر چارج کرے اور سپیڈ 2G جیسی دے، تو اس پر بھاری جرمانے عائد کیے جانے چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پیکجز کی قیمتیں عوام کی قوتِ خرید کے مطابق ہونی چاہئیں اور ان کی بالائی حد (Price Ceiling) مقرر ہونی چاہیے۔
بہتری کے لیے چند اہم تجاویز:
1. تھرڈ پارٹی آڈٹ: سروس کے معیار کو پرکھنے کے لیے غیر جانبدار تھرڈ پارٹی کنسلٹنٹس سے مستقل بنیادوں پر کوالٹی آڈٹ کروایا جائے اور اس کی رپورٹس شائع کی جائیں۔
2. جدید اور فوری ہیلپ لائن: پی ٹی اے ایک ایسا مختصر اور آسان شکوہ نمبر (تھری ڈیجٹ کوڈ) یا ون ٹیپ موبائل ایپ متعارف کروائے جس کے ذریعے صارف سروس خراب ہوتے ہی فوراً شکایت درج کروا سکے۔ موجودہ دور میں AI (مصنوعی ذہانت) کی مدد سے یہ عمل چند سیکنڈز میں خودکار طریقے سے انجام دیا جا سکتا ہے۔
3. ڈیٹا سیکیورٹی اور کارروائی: ملینز صارفین کی پرائیویسی، ڈیٹا سیکیورٹی اور سروس کوالٹی رپورٹس کی روشنی میں غفلت برتنے والی کمپنیوں کے خلاف فوری اور ڈسٹرکٹو ایکشن لیا جائے۔
ملکی معیشت میں ٹیلی کام سیکٹر کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے۔ حکومت مستقبل میں نوجوانوں کے روزگار، فری لانسنگ، ڈیجیٹل انڈسٹری اور آئی ٹی سے متعلق جن منصوبوں کا ارادہ رکھتی ہے، ان کی کامیابی کا تمام تر انحصار بہترین اور تیز رفتار انٹرنیٹ پر ہے۔ لہٰذا، حکومت اور پی ٹی اے کو فوری طور پر موبائل کمپنیوں کی جوابدہی کو حتمی بنانا ہو گا۔
