سوچ کی غذا

اتوار، 18 اکتوبر، 2026

پیکا ایکٹ اور آزادیِ اظہار: ’پیکا الرٹ‘ وقت کی اہم ضرورت

پاکستان میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت ہونے والی کارروائیوں اور حالیہ مہینوں میں میڈیا پرسنز کے خلاف درج ہونے والے مقدمات اور گرفتاریوں نے صحافتی حلقوں اور عوامی سطح پر ایک بار پھر گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ تاہم، یہ تشویش محض مفروضوں پر مبنی نہیں بلکہ اعداد و شمار بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔ میڈیا حقوق کی معتبر تنظیم ’فریڈم نیٹ ورک‘ (Freedom Network) اور ڈی ڈبلیو (DW) کی رپورٹس کے مطابق، حالیہ ایک سال کے دوران صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے خلاف تشدد، دھمکیوں اور مقدمات کے کم از کم 142 واقعات دستاویزی طور پر ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں پچھلے سال کے مقابلے میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ صرف ایک ماہ (اگست) میں صحافیوں کے خلاف 8 بڑے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان اقدامات سے معاشرے میں یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ ایسے قوانین کا مقصد ڈیجیٹل جرائم کی روک تھام سے زیادہ، آزادیِ اظہارِ رائے کو دبانا اور مخالف آوازوں کو زیر کرنے کے لیے انتقامی حربے استعمال کرنا ہے۔ چونکہ پاکستان کی تاریخ میں مختلف ادوار کے اندر ریاستی طاقت کا ایسا استعمال ایک عام مشق رہا ہے، اس لیے عوامی سطح پر ان خدشات کو تقویت ملنا کوئی بعید از قیاس نہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ یہ تاثر کلی طور پر درست نہ ہو، اس لیے ایک ایسے حل کی تلاش ضروری ہے جس سے یہ غیر منصفانہ تاثر ہمیشہ کے لیے زائل کیا جا سکے۔

کسی بھی قانون کے متعلق اس طرح کے تاثرات دراصل قوانین کے اندر موجود سقم کی وجہ سے ہوتے ہیں، جن سے حاصل ہونے والے صوابدیدی اختیارات کا استعمال ایسے تاثرات کا سبب بنتا ہے۔ ادارے یقیناً اپنے مروجہ طریقہ کار کے مطابق تحقیقات کرتے ہوں گے، مگر کارروائی کے طریقہ کار میں یہ شفافیت عوامی سطح پر ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔ جیسا کہ پیکا کے تحت درج اکثر مقدمات میں یہ تاثر غالب نظر آتا ہے کہ غیر جانبدارانہ انکوائری یا ملزم کو صفائی کا موقع دیے بغیر، اچانک ایف آئی آر درج کر کے فوری طور پر حراست میں لے لیا جاتا ہے، جس سے بعض حلقوں سے یہ آواز اٹھتی ہے۔ اسی لیے آج ایک ایسی حکمت عملی کی ضرورت ہے جہاں قانون کا نفاذ انتقام کے بجائے اصلاح کا پہلو نمایاں کرے۔

اس مسئلے کا سب سے بہترین اور تعمیری حل ’پیکا الرٹ‘ کا اجراء ہو سکتا ہے۔ یعنی پیکا کے تحت کسی بھی باقاعدہ مقدمے کے اندراج یا گرفتاری سے قبل متعلقہ شہری یا صحافی کو باقاعدہ طور پر خبردار (Warn) کیا جانا چاہیے۔ چونکہ یہ قانون نسبتاً نیا ہے اور انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والے عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد قانون کی ان باریکیوں سے ناواقف ہے، اس لیے بعض اوقات تحریروں یا ویڈیوز میں یہ حد نہ چاہتے ہوئے بھی، یا محض جذبات اور انجانے میں عبور ہو جاتی ہے۔ اگر گرفتاری اور سزا سے پہلے کوئی ایسا طریقہ کار موجود ہو جس سے یہ مغالطہ ختم کیا جا سکے، تو ریاستی کارروائی کی غیر جانبداری پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکے گا۔

اس مجوزہ حکمت عملی کے تحت، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی مبینہ خلاف ورزی پر ملزم کو کم از کم دو سے تین مرتبہ باقاعدہ ’ڈیجیٹل الرٹ‘ یا وارننگ جاری کریں۔ اس اقدام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ملزم کا یہ عذر یا اعتراض ہی ختم ہو جائے گا کہ اس سے یہ غلطی انجانے میں ہوئی یا اس کا مقصد اشتعال انگیزی نہیں تھا۔ اگر وہ اپنی غلطی کی تصحیح کر لیتا ہے تو معاملہ وہیں ختم ہو جانا چاہیے۔ تاہم، تیسرے الرٹ کے بعد بھی اگر کوئی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا ہے، تو اسے تحریری طور پر اپنا بیان اور وضاحت جمع کرانے کا موقع دیا جائے، اور مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں ہی مقدمہ اور گرفتاری عمل میں لائی جانی چاہیے۔

بلاشبہ قانون کا بنیادی مقصد معاشرے میں نظم و ضبط قائم کرنا اور جرم کے انجام کا خوف پیدا کرنا ہوتا ہے تاکہ لوگ کسی بھی ایسے اقدام سے باز رہیں جس سے امن عامہ یا کسی کے حقوق کی خلاف ورزی کا خدشہ ہو۔ لیکن اگر قانون کا پہلا قدم ہی شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا بن جائے، تو وہ اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔ ’پیکا الرٹ‘ کا یہ نظام نافذ کرنے سے نہ صرف قانون کا اصل مقصد یعنی عوامی آگاہی اور اصلاح کا پہلو سامنے آئے گا، بلکہ انتقامی کارروائیوں کا تاثر بھی مکمل طور پر ختم ہو جائے گا، جس سے صحافتی برادری کے تحفظات کا خود بخود خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

موجودہ ٹیکنالوجی کے دور میں اس نوعیت کے شفاف نظام کی تشکیل کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ حکومت کو عوامی سطح پر پائی جانے والی تشویش کو کم کرنے اور ریاستی اداروں کی عزت و تکریم کو بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ خدشات کو جس قدر ممکن ہو کم کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں ایک ایسا غیر جانبدار ادارہ یا میکانزم بنایا جا سکتا ہے جہاں کسی بھی گرفتاری یا قانونی چارہ جوئی سے قبل کیس کو آزاد عدلیہ کے سامنے ابتدائی قانونی رائے کے تحت گرفتاری کی اجازت کے لیے بھیجا جانا لاگو کیا جائے کیونکہ ان مقدمات میں کوئی ایمرجنسی تو ہوتی نہیں۔ جب تک پیکا قوانین کے طریقہ کار کو عدالتی نگرانی اور ڈیجیٹل وارننگز کے ذریعے شفاف نہیں بنایا جاتا، تب تک ریاستی اقدامات پر شکوک و شبہات کے بادل منڈلاتے رہیں گے ۔ (پبلشڈ ہم سب-18 اکتوبر 2026)

میگزین