سوچ کی غذا

جمعرات، 15 اکتوبر، 2026

حکومتی سطح پر عوام سے روا رکھی جانے والی آئینی و قانونی ناانصافیاں

پاکستان میں ریاستی سطح پر قانونی اور آئینی تحفظ کی چھتری تلے عوام کے ساتھ ناانصافیاں ہو رہی ہیں، جنہیں عوام کی نمائندہ حکومتوں نے باقاعدہ ترامیم کے ذریعے نافذ کر رکھا ہے۔ اس کی نمایاں مثالیں ٹیکس کا ظالمانہ نظام اور بجلی (پاور و انرجی) کے نرخ ہیں—جو نہ صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ معاشرتی انصاف اور اخلاقیات کے پیمانوں پر بھی پورا نہیں اترتیں۔


1. غیر منصفانہ ٹیکس نظام اور 'نان فائلر' کا بوجھ

مثلاً، اگر کوئی شہری سر چھپانے کی خاطر مکان بنانے کے لیے زمین خریدنا چاہے، تو اسے وہ تمام اضافی ٹیکسز ادا کرنے پڑتے ہیں جو انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے والوں (نان فائلرز) پر لاگو ہوتے ہیں۔ خواہ اس نے یہ جمع پونجی دہائیوں کی سخت محنت سے اکٹھی کی ہو—ایسی آمدن جس پر قانونی طور پر ٹیکس لاگو ہی نہیں ہوتا تھا!

اگرچہ وہ نسل در نسل ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہو اور اس کی آمدن ٹیکس کی حد میں نہ آنے کے باعث وہ نان فائلر رہا ہو، لیکن اب محض 'فائلر' نہ ہونے کی سزا کے طور پر اس سے بے جا ٹیکسز وصول کیے جاتے ہیں۔ کیا یہ قانون آئین کے بنیادی حقوق سے متعلق **آرٹیکل 23 اور 24** کی کھلم کھلا دھجیاں اڑانا نہیں ہے؟


2. بجلی کے نرخ: ایک عجیب و غریب معمہ

اسی طرح بجلی کے نرخوں سے متعلق نافذ العمل قوانین دنیا کا ایک نیا عجوبہ دکھائی دیتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں میں اتنی اخلاقی جرات بھی نہیں کہ وہ عالمی سطح پر عوام کے ساتھ روا رکھی جانے والی اس زیادتی کا اعتراف کر سکیں۔

یہاں قانون یہ ہے کہ جو جتنی زیادہ بجلی خریدے گا، اسے فی یونٹ اتنی ہی زیادہ مہنگی پڑے گی۔ اور ظلم کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا؛ اگر چار پانچ افراد پر مشتمل کوئی غریب خاندان گرمیوں کی تپش سے مجبور ہو کر زیادہ بجلی استعمال کر بیٹھے، تو اگلے مہینوں میں کم بجلی استعمال کرنے کے باوجود اسے پچھلی غلطی والے 'مہنگے سلیب' کے مطابق ہی بل ادا کرنا پڑے گا۔

کیا اس منطق میں انسانی شعور، عقل اور دانش کا کوئی عنصر موجود ہے؟

حکومت یہ عذر پیش کرتی ہے کہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے غریبوں کو سبسیڈی دی جاتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کسی غریب کے گھر مہمان آ جائیں یا شدید گرمی کی وجہ سے وہ مجبوراً زیادہ بجلی استعمال کر لے، تو اس مہنگائی کے دور میں اسے اضافی ریلیف ملنا چاہیے یا غربت کی سزا؟


غربت: ایک مسلسل عذاب اور عزتِ نفس کی نیلامی

گویا حکومت کو اپنے غریب عوام کے حقیقی اعداد و شمار کا کچھ علم ہی نہیں!

* اگر کسی غریب کو سرکاری ہسپتال سے دوا لینی ہو، تو اسے چیئرمین عشر و زکوٰۃ سے تصدیق کروانی پڑتی ہے، یا ہسپتال کے اندر سوشل سیکیورٹی کے دفتر کی لمبی قطار میں لگ کر اپنی غربت کی نمائش کر کے سہولت کی بھیک مانگنی پڑتی ہے۔

* اگر اسے بچوں کی مفت تعلیم کی سہولت چاہیے، تو سکول کے اساتذہ، محلے کے نمبردار، چوہدری، یا زکوٰۃ چیئرمین کے سامنے سر جھکا کر ان کی خوشنودی حاصل کرنی پڑتی ہے۔

غریب ہونا صرف معاشی تنگی نہیں، بلکہ ایک **عذابِ مسلسل** ہے۔ دنیا کا بہترین ’ڈیٹا بیس سسٹمز‘ رکھنے کا دعویٰ کرنے والی ریاست بھی اس قابل نہیں کہ غریبوں کا سٹیٹس ان کے قومی شناختی کارڈ سے منسلک کر کے انہیں بار بار کی اس ذلت آمیز نمائش سے مستثنیٰ قرار دے سکے۔

کیا غربت کے اعداد و شمار صرف عالمی مالیاتی اداروں اور بین الاقوامی برادری سے امداد اور قرضے مانگنے کے لیے ہیں، تاکہ حکمران طبقات کی عیاشیاں اور شاہانہ اخراجات پورے ہو سکیں؟

اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے عوامی نمائندے آخر کس کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ غریب ہونا آئین و قانون کی نظر میں ایک ایسی سزا بن چکا ہے جس پر ہر طرف سے قدغنیں ہیں۔ ہر محکمہ کوڑا لے کر غریب پر کھڑا ہے—وہ دائیں دیکھتا ہے تو ٹیکس والے دبا لیتے ہیں، بائیں دیکھتا ہے تو بجلی کے محکمے والے دہائی دینے پر مجبور کر دیتے ہیں۔


غربت کا قانونی سٹیٹس (Legal Status): وقت کی اہم ضرورت

ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی **45 فیصد آبادی** خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جبکہ انتہائی غربت کا شکار افراد کی تعداد **16 فیصد** سے تجاوز کر چکی ہے۔ حکومت ان اعداد و شمار کو بیرونی امداد، سود پر قرضوں کے حصول اور دوست ممالک سے خیرات مانگنے کے لیے تو استعمال کرتی ہے، لیکن عوام کو سہولتیں پہنچانے میں ان کا کوئی اثر نظر نہیں آتا۔

عوامی غربت کے نام پر حاصل کی جانے والی اس امداد کا بڑا حصہ حکومتی اخراجات اور شاہانہ طرزِ زندگی پر نچھاور ہو جاتا ہے۔ حکمرانوں اور عام عوام کے معیارِ زندگی میں یہ واضح تفریق آئین کے **آرٹیکل 25 تا 27** (بنیادی حقوق) کی ریاستی سطح پر کھلی خلاف ورزی ہے۔

کیا سرکاری اہلکاروں اور عوامی نمائندوں کو حاصل رہائش اور صحت کی مفت سہولیات عام عوام کو بھی میسر ہیں؟ غریب عوام کے ٹیکسوں سے پلنے والے سرکاری ملازمین کے لیے بہترین پرائیویٹ ہسپتال پینل پر ہوں اور ان کی رہائش گاہیں مفت ہوں—تو کیا یہ امتیازی سلوک آئین، قانون، اسلامی تعلیمات، یا سماجی انصاف کے اصولوں پر پورا اترتا ہے؟


حل اور آئینی تجویز

1. نادرا میں مخفی اندراج (Confidential Legal Status):

اگر حکومت غربت ختم نہیں کر سکتی، تو کم از کم اس 45 فیصد آبادی کو **"قانونی غریب سٹیٹس"** دیتے ہوئے نادرا (NADRA) کے ریکارڈ میں ان کا اندراج کر دے۔ شناختی کارڈ میں ایک مخفی (Confidential) کالم موجود ہو جو ان کی غربت کی قانونی حیثیت کو ظاہر کرے۔

2. عزتِ نفس کا تحفظ:

اس قانون سازی کے بعد نان فائلر کے اضافی ٹیکسز، صحت، تعلیم، اور بجلی کے بنیادی نرخوں میں غریبوں کو بغیر کسی نمائش، منت سماجت، یا عزتِ نفس نیلام کیے برابری کی بنیاد پر ریلیف ملنا چاہیے۔

3. آئینی تحفظ کے آرٹیکلز کا اطلاق:

* اگر آئین کے **آرٹیکل 25** کے تحت عام آدمی کو سرکاری اہلکاروں کے برابر وسائل اور سہولیات نہیں دی جا سکتیں، تو کم از کم **آرٹیکل 9** کے تحت اسے اپنی غربت کی حیثیت پر پرسنل پروٹیکشن (Personal Protection) کا حق دیا جائے۔

* غریب کی بار بار کی نمائش کو آرٹیکل 11 کے تحت 'مجبورانہ مشقت/غلامی' کے زمرے میں لایا جائے اور کم آمدنی والے شریف شہریوں کی آرٹیکل 14 کے تحت حرمت و ڈگنٹی (Dignity) کا تحفظ کیا جائے۔

* دفاتر میں غریبوں کی تذلیل پر مامور عملے کو کسی پیداواری شعبے میں منتقل کیا جائے۔

یہ تمام ناانصافیاں اس لیے ہو رہی ہیں کیونکہ قانون سازی کا اختیار انہی اربابِ اختیار کے پاس ہے جو صرف اپنی آسائشوں کے لیے قوانین بناتے ہیں۔

جو ملک قرضوں پر چل رہا ہو اور جس کی آمدن کا آدھے سے زیادہ حصہ سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہو، وہاں کے حکمرانوں کا شاہانہ طرزِ زندگی انہیں کبھی ان قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی فکر نہیں ہونے دے گا۔ کیونکہ اگر وہ عام آدمی کی سطح پر آ کر زندگی گزاریں گے تو ہی انہیں عوام کی تکالیف کا احساس ہو گا!

جب تک ریاست کے وسائل تک برابری کی بنیاد پر عام شہری کی رسائی کو یقینی نہیں بنایا جائے گا، اس ملک میں بہتری کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔

غربت کو اگر ختم نہیں کیا جا سکتا، تو کم از کم اسے قانونی تحفظ ہی دے دیا جائے!

 

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین