سوچ کی غذا

جمعہ، 19 جون، 2026

پہناتی ہے درویش کو تاجِ سردارا!

سوشل میڈیا آج کے دور میں معاشرتی اور سیاسی رجحانات کا عکاس بن چکا ہے۔ گزشتہ روز انٹرنیٹ پر حالاتِ حاضرہ کا جائزہ لیتے ہوئے میری نظروں سے دو مختلف ویڈیوز گزریں، جنہوں نے مجھے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ہماری اخلاقی و سیاسی حالتِ زار پر غور کرنے پر مجبور کر دیا۔

پہلا کلپ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا تھا، جہاں ان کی روایتی تفخرانہ ہنسی کے پیچھے چھپی بے عزتی، مایوسی اور بے بسی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ یہ اس وقت کا منظر تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی کی تعریف میں چند کلمات کہنے کے فوراً بعد اپنے مخصوص کاٹ دار اور سنجیدہ مزاحیہ انداز میں انہیں "کلر" (قاتل) کہہ دیا۔ مودی کے چہرے کے تاثرات دیدنی تھے، انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس اچانک ہزیمت پر کیا ردعمل دیں۔ ٹرمپ کا یہ اندازِ کلام مشہور ہے کہ وہ انتہائی سنجیدہ معاملات کو بھی طنز کے پیرائے میں کہہ جاتے ہیں، اور وہاں مودی کے اختیار میں کچھ نہیں تھا سوائے اس کے کہ وہ اس تذلیل کو خاموشی سے ہضم کرتے۔

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین