جب یہ سطور آپ کی نظر سے گزر رہی ہوں گی تو کہیں عید کی خوشیاں دم توڑ چکی ہوں گی اور کہیں ان کے استقبال کی تیاریاں عروج پر ہوں گی۔ عید، جو مسلمانوں کے لیے مسرت، شکر اور اجتماعیت کا پیغام لے کر آتی ہے، ہم ہر سال روایتی جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں، مگر شاذ و نادر ہی اس خوشی کے اصل مقصد اور اس کے پس منظر پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی خوشی اس وقت تک اپنی معنویت کھو دیتی ہے جب تک اس کے سبب اور مقصد کو نہ سمجھا جائے۔ جیسے ہم کسی دعوت میں شریک ہونے سے قبل اس کی وجہ جاننا ضروری سمجھتے ہیں، ویسے ہی عید کی خوشی کو سمجھنے کے لیے رمضان المبارک کی روح کو جاننا ناگزیر ہے۔
