اسلامی نظامِ عبادت میں نماز کو محض ایک ظاہری عمل نہیں بلکہ لغوی اور قرآنی اصولوں کی رو سے "حقیقتِ دعا" (الصَّلَاة لُغَۃً: الدُّعَاء) قرار دیا گیا ہے۔ نبوی ارشادات کے مطابق نماز مومن کی معراج، آنکھوں کی ٹھنڈک اور کفر و ایمان کے مابین ایک واضح حدِ فاصل ہے۔ اس عبادت کا گہرا منطقی مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ پوری نماز کا مرکز و محور ایک ایسی جامع دعا ہے جس کا تعلق انسانی وجود کے سب سے اہم تقاضے یعنی "ہدایت" سے ہے، اور اس کا اسلوب انسانی نفسیات اور عجزِ بندگی کے عین مطابق ہے۔
1۔ سورہ فاتحہ اور آدابِ دعا کا سائنسی و نفسیاتی ڈھانچہ
نماز کے اندر جس سورت (سورہ فاتحہ) کا پڑھنا ہر رکعت میں فرض ٹھهرایا گیا ہے، اس کی ساخت دعا مانگنے کے آفاقی آداب کی تعلیم دیتی ہے۔ یہ سورت سائل کو براہِ راست سوال کرنے کے بجائے ایک منظم فکری و جسمانی مرحلے سے گزارتی ہے:
