پاکستان میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت ہونے والی کارروائیوں اور حالیہ مہینوں میں میڈیا پرسنز کے خلاف درج ہونے والے مقدمات اور گرفتاریوں نے صحافتی حلقوں اور عوامی سطح پر ایک بار پھر گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ تاہم، یہ تشویش محض مفروضوں پر مبنی نہیں بلکہ اعداد و شمار بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔ میڈیا حقوق کی معتبر تنظیم ’فریڈم نیٹ ورک‘ (Freedom Network) اور ڈی ڈبلیو (DW) کی رپورٹس کے مطابق، حالیہ ایک سال کے دوران صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے خلاف تشدد، دھمکیوں اور مقدمات کے کم از کم 142 واقعات دستاویزی طور پر ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں پچھلے سال کے مقابلے میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ صرف ایک ماہ (اگست) میں صحافیوں کے خلاف 8 بڑے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان اقدامات سے معاشرے میں یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ ایسے قوانین کا مقصد ڈیجیٹل جرائم کی روک تھام سے زیادہ، آزادیِ اظہارِ رائے کو دبانا اور مخالف آوازوں کو زیر کرنے کے لیے انتقامی حربے استعمال کرنا ہے۔ چونکہ پاکستان کی تاریخ میں مختلف ادوار کے اندر ریاستی طاقت کا ایسا استعمال ایک عام مشق رہا ہے، اس لیے عوامی سطح پر ان خدشات کو تقویت ملنا کوئی بعید از قیاس نہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ یہ تاثر کلی طور پر درست نہ ہو، اس لیے ایک ایسے حل کی تلاش ضروری ہے جس سے یہ غیر منصفانہ تاثر ہمیشہ کے لیے زائل کیا جا سکے۔
میڈیا لنکس
- یہ دھرتی ہم سے پوچھتی ہے
- حقیقی تبدیلی کیسے ممکن ہے
- قومی خدمت اور آئینی ذمہ داریاں
- ہمارا قومی تشخص عالمی تناظر میں
- ترقی ، کامیابی اور اس کا راز
- ناانصافیوں کا ذمہ دار کون؟
- عوام کو ملک کے ساتھ مخلص سیاسی قیادت کا ساتھ دینا ہو گا
- عوامی شعور کو درست سمت دے کر جتھوں کی دھونس سے چھٹکارہ مل سکتا ہے
- معاشی بحران سے نکلنے کے لیے کشکول توڑنے کی راہ نکالنی ہو گی
- سوشل میڈیا پر پابندی کس حد تک جائز ہے؟
- قومی سطح پر اسلامی تشخص کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
- معاشرے سے سیاسی اور مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟
