سوچ کی غذا

ہفتہ، 8 اگست، 2026

نئی عالمی صف بندی میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

حالیہ دنوں میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ اگرچہ بدلتے عالمی حالات کا براہِ راست نتیجہ نہیں، تاہم ان حالات نے اس کی ضرورت اور امکانات کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس پیش رفت کی بنیادی وجہ پاکستان کے متعلق عالمی نقطہ نظر میں آنے والی وہ تیزی سے تبدیلی ہے، جس کا آغاز مئی 2025 سے ہوا۔

اس سے قبل صورتِ حال یہ تھی کہ دنیا عالمی اور بالخصوص علاقائی سطح پر امریکہ، اسرائیل اور بھارت کو ہی اہم اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتی تھی، اور دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کا کوئی متبادل نظر نہیں آتا تھا۔ مشترکہ نظریات، ضروریات اور تحفظات کے باوجود، پاکستان کی معاشی مشکلات کے باعث کئی اسلامی ممالک بھی اسے نظر انداز کر کے بھارت سے تعلقات استوار کرنا اپنی مجبوری سمجھتے تھے۔ ان میں سعودی عرب، ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی دیگر ریاستیں بھی شامل تھیں۔

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین