حالیہ دنوں میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ اگرچہ بدلتے عالمی حالات کا براہِ راست نتیجہ نہیں، تاہم ان حالات نے اس کی ضرورت اور امکانات کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس پیش رفت کی بنیادی وجہ پاکستان کے متعلق عالمی نقطہ نظر میں آنے والی وہ تیزی سے تبدیلی ہے، جس کا آغاز مئی 2025 سے ہوا۔
اس سے قبل صورتِ حال یہ تھی کہ دنیا عالمی اور بالخصوص علاقائی سطح پر امریکہ، اسرائیل اور بھارت کو ہی اہم اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتی تھی، اور دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کا کوئی متبادل نظر نہیں آتا تھا۔ مشترکہ نظریات، ضروریات اور تحفظات کے باوجود، پاکستان کی معاشی مشکلات کے باعث کئی اسلامی ممالک بھی اسے نظر انداز کر کے بھارت سے تعلقات استوار کرنا اپنی مجبوری سمجھتے تھے۔ ان میں سعودی عرب، ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی دیگر ریاستیں بھی شامل تھیں۔
