سوچ کی غذا

منگل، 19 مئی، 2026

نماز، حقیقتِ دعا اور ہدایت کا یقینی ربط: ایک منطقی مطالعہ

اسلامی نظامِ عبادت میں نماز کو محض ایک ظاہری عمل نہیں بلکہ لغوی اور قرآنی اصولوں کی رو سے "حقیقتِ دعا" (الصَّلَاة لُغَۃً: الدُّعَاء) قرار دیا گیا ہے۔ نبوی ارشادات کے مطابق نماز مومن کی معراج، آنکھوں کی ٹھنڈک اور کفر و ایمان کے مابین ایک واضح حدِ فاصل ہے۔ اس عبادت کا گہرا منطقی مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ پوری نماز کا مرکز و محور ایک ایسی جامع دعا ہے جس کا تعلق انسانی وجود کے سب سے اہم تقاضے یعنی "ہدایت" سے ہے، اور اس کا اسلوب انسانی نفسیات اور عجزِ بندگی کے عین مطابق ہے۔


1۔ سورہ فاتحہ اور آدابِ دعا کا سائنسی و نفسیاتی ڈھانچہ

نماز کے اندر جس سورت (سورہ فاتحہ) کا پڑھنا ہر رکعت میں فرض ٹھهرایا گیا ہے، اس کی ساخت دعا مانگنے کے آفاقی آداب کی تعلیم دیتی ہے۔ یہ سورت سائل کو براہِ راست سوال کرنے کے بجائے ایک منظم فکری و جسمانی مرحلے سے گزارتی ہے:

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین