وہ ریاستیں جن کے وسائل اور ٹیکنالوجی تک رسائی محدود ہے انہیں مل کر عالمی امن کو یقینی بنانے کے لئے اپنی خود مختاری کو قائم رکھتے ہوئے دفاعی، سفارتی اور تجارتی سطح پر ریجنل فیڈریشنز کا قیام عمل میں لانا چاہیے جس میں ایک سوچ اور باہمی مفادات کی حامل ریاستیں مثلاً چین، پاکستان، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان، آزربائیجان اور ترقی مل کر باہمی فیڈریشن بنا سکتے ہیں اور آپس میں ہر طرح کے جغرافیائی رابطوں کو آسان شرائط کے ساتھ بحال کر سکتے ہیں تاکہ مسقبل کی تجارتی ضروریات سے لے کر دفاع تک کے مشترکہ مفادات میں ایک یکجہتی کی بنیاد پر طاقت بن سکیں۔
بظاہر یہ مشکل ہے مگر اس کے اندر بہت زیادہ فائدہ ہے۔ اگر ان تمام ریاستوں کا فی الفور ملنا ممکن نہ ہو تو پاکستان اور چین ملکر کوئی ایسا باہمی ماڈل متعارف کروا سکتے ہیں جس سے دونوں ملکوں کے مستقبل کے تجارتی، سفارتی اور دفاعی اہداف کو محفوظ اور پائیدار بنایا جا سکے۔ مشاہدے اور تجربات کی بنیاد پر دوسرے ریاستیں بھی بعد میں شمولیت کو اختیار کر سکتی ہیں۔
اس پر دونوں ملکوں کی اعلیٰ سطح کی قیادت کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور ملکر درپیش چیلنجز اور دنیا میں ان کے بارے موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے کوئی حکمت عملی ترتیب دے کر عملی قدم اٹھانا چاہیے۔
آپس میں طویل المدتی معاہدے ترتیب دے کر اپنے زرائع کی اشتراکیت سے عالمی تجارتی ضرورتوں اور باہمی مشکلات کا احسن طریقے سے حل ڈھونڈا جا سکتا ہے
اس سے نہ صرف حالات کی بہتری ممکن ہوگی بلکہ مواقعوں کے نئے دروازے کھلیں گے جس سے ریجن میں طاقت کے توازن کا ایک نیا باب شروع ہوگا بلکہ خود کفیلی کر طرف بڑھنے میں ایک دوسرے کی مدد میں ممدومعاون ماحول پیدا ہوگا جس سے دفاعی تحفظ کے ساتھ ساتھ سرمایے کے استعمال اور حصول کی محفوظ حکمت عملیاں وجود پائیں گی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں