منگل، 3 مارچ، 2026

کیا امریکہ اور اسرائیل کے سامنے کوئی سرخ لکیر کھینچ پائے گا؟

اس موجودہ جنگ کو ایک اسلامی ملک پر اسرائیل اور امریکہ کی یلغار کہا جا رہا ہے جو کافی حد تک ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے جس کا کئی دہائیوں سے ایک تسلسل جاری ہے مگر اس سے اسلامی دنیا اور بالخصوص مشرق وسطیٰ نے کوئی سبق نہیں سیکھا یا پھر وہ اپنی علمی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں محرومیوں کے سامنے بے بس ہیں سب اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت ہے مگر افسوس اس بات پر ہے کہ ان کے دلوں کی حالت کو بھی اس ایمان کا درجہ نہیں کہا جا سکتا جس پر اللہ کی مدد اترنے کے وعدے ہیں۔

اور اِس کی سب سے بڑی وجہ نظریات کے اندر تفرقہ اور قول و فعل میں تضاد ہے جو ان کو مزید کمزور کرتا چلا جا رہا ہے۔ اور جب تک ان کے معاملات اسلامی تعلیمات کی کَسوٹی پر پورے نہیں اترتے اس وقت تک اس آزمائش سے سرخرو ہونے کی کوئی امید لگانا بھی بیکار ہے۔

مگر اس یلغار کے سامنے ایران کی للکار میں شک کی گنجائش نہیں اور یہ للکار اِس وقت امت مسلمہ میں ایک ولولہ بن کر ابھر رہی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان جذبوں اور ولولوں سے کیا اس یلغار کے سامنے کو سرخ لکیر کِھچ پائے گا یا نہیں؟

اس نقطے کو سمجھنے کے لئے صورتحال کے کچھ دوسرے پہلوؤں پر بھی غور کرنا پڑے گا جو انتہائی توجہ طلب اور اہمیت کے حامل ہیں جن میں سب سے پہلا ہے امریکہ اور اسرائیل کی بالا دستی کی جنگ جو پوری دنیا بشمول یورپ، روس اور چین کے لئے ایک چیلنج ہے کہ ابھی بھی معیشت اور ٹیکنالوجی میں ان کا کوئی ہمسر نہیں

روس تو ابھی اپنی اُس کھوئی ہوئی طاقت کو بھی یکجا نہیں کر پایا جو اس نے گرم پانیوں پر پہنچنے کے خواب میں گنوائی تھی جس سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ یہ جنگ محض نظریات کی نہیں یا اسلام کو اسرائیل اور امریکہ اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہوں یا اس سے اسلامی ممالک کے اندر یہ احساس پیدا ہو گیا ہو کہ ان کو ملکر اس خطرے کا مقابلہ کرنا ہے۔

انہیں ہر اس قوت سے خطرہ ہے جو ان کی بالا دستی کو چیلنج کرے اور اس وقت چین وہ خاموش تحریک ہے جس سے وہ خطرہ محسوس کر رہے ہیں اور یہ طاقت کا استعمال اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک اس کو توازن کرنے کے لئے کوئی واضح لکیر نہیں کھینچ دی جاتی۔

یہ کوشش اس دنیا کے وجود میں آنے سے جاری ہے اور رہے گی لیکن شائد اس محرکے میں کسی حد تک کوئی حد مقرر ہو جائے۔ چین کے آڑے ابھی معاشی مصلحتیں بھی ہیں مگر اس کے با وجود وہ اپنی جنگی دفاعی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کا جہاں بھی موقع ملے اس کی نمائی کا فائدہ اٹھاتا رہتا ہے۔ ابھی بھی اس کا ایران کی حمائت میں واضح بیان سامنے آیا ہے جس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ صورتحال کے تھمنے میں یقیناً کوئی پیش رفت دیکھنے کو ملے گی

جہاں تک جس کے مفادات کو ضرب لگے وہ صلاحیت رکھتا ہو تو ضرور اس پر اپنا اظہار بھی کرتا ہے اور اس کو دنیا اکنالج بھی کرتی ہے جس طرح سے پاکستان کو پزیرائی ملی ہے لیکن اپنی بقاء کی جنگ ہر کسی نے خود ہی لڑنی ہوتی ہے اور پرائی آگ میں کوئی نہیں کودتا۔ اور یہ بالا دستی اور طاقت کی جنگ بھی ایک کوشش مسلسل ہے اور یہ امریکہ کی کمائی کا زریعہ بھی ہے لہذا اس کے بالکل رک جانے کا تصور تو ممکن ہیں نہیں۔

ویسے بھی یہ بالا دستی اور طاقت بھی دوسرے عوامل کی طرح ارتقائی عمل ہے جس میں نئی نئی ایجادات کا مظاہرہ کر کے اس کی مارکیٹنگ بھی ضروری ہے اور جنگی سازو سامان کی فروخت بھی تو جنگوں کے سلسلوں سے ہی جڑی ہوئی ہے وہ خواہ  طاقت کی دہاک بٹھانے کے لئے ہو یا اس کے سامنے سینہ تان کر امن کی کوششوں کا نوبل ایکشن۔

ایٹم کی صلاحیت ہو یا اس کو روک کر دنیا کو امن بخشنے کا بھاشن سبھی اسی سلسلے کو آگے بڑھانے کے بہانے ہیں اور یہ ایٹمی صلاحیت بھی پچھلی صدی کا ایک ہتھیار تھا اب تو شائد دفاعی ٹیکنالوجی کی ارتقاء کا عمل اس سے بھی آگے بڑھ چکا ہو اور اپنے وجود کے اظہار کے  لئے شیطانی خواہشوں کے ہاتھوں مجبور انسانی تباہی کے کسی موقعے کی تلاش میں ہو۔

ایران اپنی جنگ جیت چکا ہے خواہ اس کے مدمقابل ہارے یا جیتے کیونکہ اس نے اپنی صلاحیت سے بڑھ کر جرات دکھائی ہے اور جیت جرات کا نام ہے بقاء اور فنا کا نہیں بالکل اسطرح جیسے مئی 2025 میں پاکستان نے اپنی جرات اور صلاحتیوں کو دنیا پر آشکار کرکے توپوں میں پٹاخوں والی سکت بھی نہیں چھوڑی اور اس وقت پاکستان جب افغانستان کی سرحد پر امن کی کوششوں میں مصروف ہے تو ہندوستان کی سرحدوں پر پاکستان کے خوف کی دھاک پہرے دے رہی ہے اور مجا ل ہے کسی کی کوئی اونچا کھانسے بھی۔

اور جو ایران کے بعد پاکستان کی باری کی نا پختہ سوچ رکھتے ہیں ان کے لئے ہندوستان کی حالت زار ایک خاموش پیغام ہے اور اس کا جواب ڈی جی آئی ایس پی آر نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ہم اپنی سوچ اور صلاحتیوں کے سامنے ایسی باتوں کو کوئی وزن نہیں دیتے اور پاکستان اللہ کے فضل اور قومی یکجہتی کی قوت کے ساتھ ایسے کئی خطرات کا عملی طور پر سد باب بھی کر چکا ہے اور یہ عمل جاری ہے۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

دیکھے جانے کی تعداد