بدھ، 11 مارچ، 2026

میں پاکستان کو کہاں دیکھ رہا ہوں

 

پاکستان کے روشن مستقبل کی گواہیاں ہر طرف موجود اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں ان کو سمجھنے کے لئے حقائق کو پرکھنے والی سوچ کی ضرورت ہے۔

پاک فوج کو خصوصی سلام

پاکستانی قوم تو ہمیشہ سے اس دلی خواہش کا اظہار اور اعادہ کرتی ہی رہتی ہے مگر اب مشرق وسطیٰ سے بھی یہ آواز بلند ہونا شروع ہو گئی ہے جس کا میں نے اپنے چند دن پہلے ایک کالم میں تذکرہ بھی کیا تھا کہ پاکستان اب محفوظ ترین ملک سمجھا جا رہا ہے جس کے دلائل میں اسلامی دنیا کے پاکستان کو بگ برادر ماننے کا  بھی حوالہ تھا۔

اب آپ میڈیا میں یہ خبریں پڑھ رہے ہونگے کہ فیلڈ مارشل سعودیہ جن کے ساتھ پہلے سے ہمارا دفاعی معاہدہ کے دورےپر تھے جس کے بعد اس کے جنگ پر اثرات کا بھی مظاہرہ کیا ہوگا اور بحرین نے فیلڈ مارشل کو دورے کی دعوت دی ہے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ وزارت خارجہ سے رابطہ کریں اور اسی طرح کویت بھی خواہش کر رہا ہے جو پاکستان کی واضح دفاعی صلاحیت کی تصدیق ہے۔

بے خوف قیادت 

قوموں کی قیادت جب بے خوف افراد کے ہاتھوں میں ہوتی ہے تو پھر ایسے مواقعوں کے دروازے کھلتے ہیں اور ہمارے سامنے دنیا میں کئی ایسی مثالیں ہیں جن میں چائنا سر فہرست ہے مگر شرط یہ ہے کہ عوام ایسی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے  سخت فیصلے کرنے میں ساتھ دے

قومی ناسور 

تاکہ ملک سے بدعنوانی اور غدارانہ سوچوں کا قلع قمح کیا جا سکے۔ کیونکہ یہی وہ عناصر ہوتے ہیں جو ملک کی ترقی میں حائل رکاوٹ ہی نہیں ہوتے بلکہ ایک ناسور کی طرح قوموں کی سوچوں سے لے کر معیشت تک کو کھوکھلا کر رہے ہوتے ہیں۔

ناسور کی طرح بڑی تیزی سے زندگی کے ہر شعبہ میں پھیل رہے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو جب وسائل اور مال تک رسائی ملتی ہے تو یہ معاشرے کے لئے کشش بن کر ابھرتے ہیں اور معاشرہ دیکھا دیکھی ان کی تقلید میں تباہی کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔

معاشرت پر منفی اثرات

ان بدعنوان اور غداروں کا انداز رہن سہن اور دولت کے بلبوتے پر ریاست کے اداروں میں اثر رسوخ ایک ماڈل کا روپ دھار لیتا ہے اور یہ لوگ آہستہ آہستہ سیاست، تجارت اور سخاوت کے زریعہ سے اپنے آپ کو اس قدر مضبوط  کر لیتے ہیں کہ قوم ان کو مسیحا اور نجات دہندہ سمجھنے لگتی ہے۔

قومی شعور

اس غلط سوچ و عمل کے خاتمے کے لئے قومی شعور پہلی شرط ہے لیکن ہم یہاں دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ جو بھی اس کا دعوی کرے اسی کو سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ 

درحقیقت شعور اچھے کو اچھا اور برے کو برا سمجھنے کو کہتے ہیں وہ خواہ اپنا ہو یا پرایا۔

سبق آموز عبرت

پاکستان نے اس وقت دہشت گردی سے تقریباً جان چھڑوا لی ہے اور اس کے بعد بدعنوانی اور غدارانہ سوچوں کو سبق آموز عبرت بنانا ہوگا۔

جوابدہی کا عمل

جب حقیقی قیادت اور عوامی شعور کا باہمی ملاپ ہوتا ہے تو پھر ہمیں خواہ وہ حکومتی سطح پر ہو یا عوامی سطح پر جوابدہی کا عملی مطاہرہ نظر آتا ہے اور معاملات شفافیت، غیرجانبداری اور ترقی و خوشحالی کا منظر نامہ پیش کر رہے ہوتے ہیں جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم مثبت سمت میں  جارہے ہیں۔

پاکستان کی پزیرائی 

اس وقت پاکستان کی پزیرائی کسی طاقت کی بنیاد پر دھونس یا کمزور پر مسلط ہونے کے صورت میں نہیں بلکہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو منوا کر امن قائم کرنے کے سوچ و عمل کی بنیاد پر مل رہی ہے جو ایک پائیدار ترقی کی طرف سفر کی دلیل ہے۔

عالمی سطح پر ایک متبادل ماڈل

پاکستان سے دفاعی معاہدے کرنے والے اور پاکستانی دفاعی صلاحیتوں کے کامیاب ماڈل کی حامل ٹیکنالوجی میں دلچسپی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ پاکستان پر اعتماد کرنے لگے ہیں اور اس کے چائنا کے ساتھ اشتراکی ہتھیاروں کو وہ ایک متبادل کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔

دنیا ماڈلز کو مانتی ہے

دنیا محض دعوؤں پر یقین نہیں رکھتی بلکہ وہ عملی طور پر نمونوں پر یقین رکتھی ہے جس کا مظاہرہ پاکستان مئی 2025 سے مسلسل خواہ وہ جنگی میدان ہو، دہشت گردی کے خطرات یا عالمی سطح پر دفاعی نمائش اور امن کی کوششوں میں کوئی انشیٹو اپنی صلاحیتوں کے جوہر نمونے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ جو اس وقت روش، فرانس، امریکہ اور اسرائیل کی ٹیکنالوجی کے مجموعے پر برتری کا تاثر ایک بہت بڑی حیرت بن کر خاموش کشش  بنا ہوا ہے۔

خوف کی دھاک کے پہرے

ہو بھی کیوں نہ عظیم پاکستان کی فضاوں سمندروں یا ڈیجیٹل دنیا کی بادشاہی ہو یا  سرحدوں کے آرپار فسادی حرکاتیں پاکستان کی امن پسند کوششوں کے خوف کی دھاک پہرے دیتی ہوئی پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کئے ہوئے ہے۔

گواہیاں ہر طرف چھائی ہوئی ہیں

جس کی گواہیوں کے طور پر دنیا کی عالمی طاقتوں کی پریس ریلیز ہوں یا میڈیا کے تبصرے ہر جگہ پاکستان کی جرات، صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی کی دھوم مچی ہوئی ہے

پاکستان کا مستقبل

اس موجودہ منظرنامے میں پاکستان ایشیاء جو دنیا کا مستقبل ہے کے اندر اہم شریکدار کے طور پرایک مرکز بن کر  ابھر رہا ہے اور نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ دنیا سے سرمایہ دار پاکستان کو محفوظ ترین ملک سمجھتے ہوئے سرمایہ کاری کے لئے ایڑیاں اٹھا کر دیکھ رہے ہیں اور جیسے ہی ایران، امریکہ اور اسرائیل کی جنگ جو تقریباً اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکی ہے سے امن پائیں گے تو عمل کرنا شروع کر دیں گے۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

دیکھے جانے کی تعداد