جو پاکستان کو اگلا نشانہ کہنے کی غدارانہ باتیں کر رہے ہیں انہیں میں بڑے ہی محتاط جملوں میں مختصراً کہنا چاہوں گا کہ سن لیں کہ پاکستان اللہ کے ٖفضل سے محفوظ ترین ملک بن چکا ہے اور جن کو ابھی بھی یقین نہیں آیا وہ فیلڈ مارشل کا تازہ بیان پڑھ لیں جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اپنی سرزمین کے ہر خطرے کو ختم کرنے کے لئے ضروری اقدامات کریں گے جو ان کے پچھلے جملے کا عملی تسلسل ہے جس میں کہا تھا کہ "پاکستان کے وجود کے بغیر دنیا کا نقشہ قابل قبول نہیں"
اور اس وقت دنیا کا ہر ذی شعور یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان محض دعوے نہیں کرتا بلکہ وہ یہ سب کچھ عملی طور پر ثابت کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے جس کا ثبوت پاکستان کے ازلی دشمن ہندوستان کی منہ بولتی شکست سے لگایا جا سکتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان نے انڈیا کے دفاعی نظام کو مکمل طور پر ناکارہ بناتے ہوئے بلا اختلاف آٹھ طیارے گراے ہیں اور اس کے بعد سے اس نے اپنے باقی طیارے خود ہی لینڈ کر دیئے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟
ہندوستان کو اپنے جس دفاعی نظام پر گھمنڈ تھا کہ اس کے پاس روس، اسرائیل اور امریکہ کی تمام تر دفاعی حفاظتی تنصیبات کا مجموعہ ہے اور وہ سمجھتا تھا کہ وہ جب چاہیے گا پاکستان کو مشکل میں ڈال دے گا مگر پاکستان نے اس کو وہ سبق سکھایا ہے جس کے ڈنکے پوری دنیا میں بج رہے ہیں۔
ہندوستان کی فوج پاکستان کی فوج سے سات گنا زیادہ ہے جبکہ پاکستان 49 ویں اور ہندوستان دنیا کی چوتھی بڑی معیشیت ہے اور جنگی سازو سامان بھی اس کے پاس پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہے تو کیا اس کو پاکستان پر ترس آ رہا ہے کہ وہ دنیا میں ہر طرف اپنی رسوائی کے بجتے نکاروں پر خاموش ہے۔ یقیناً نہیں بلکہ اس کی خاموشی اس وقت دنیا میں پاکستان کی پزیرائی کی تصدیق کر رہی ہے۔
جس کی توثیق آپ کو اس وقت پاکستان کی سرحدوں پر خوف کی دھاک کے پہروں سے بھی مل سکتی ہے کہ ہندوستان کی سرحد پر کسی نے آزادی کے بعد کی تاریخ میں اتنی خاموشی نہیں دیکھی ہوگی؟ یقیناً آپ اثبات میں ہاں کہیں گے اور خاص طور پر جب پاکستان دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے افغانستان کی سرحد پر امن کی کوششوں میں مصروف ہے جو ہندوستان کے لئے بہتریں موقعہ تھا کہ سرحد پر اپنی شیطانی سوچ کا اظہار کرتے ہوئے تماشے لگاتا۔ دوسری طرف اس کی دہشت گردانہ سرمایہ کاری اور ہلہ شیری کے باوجود افغانستان سے اس وقت صلح کے پیغامات آرہے ہیں مگر اب یقینی اقدامات کے بغیر پاکستان ایسی کسی بھی پیشکش کو وقت ضائع کرنے کے مترادف سمجھتا ہے
اسی طرح ایران کی موجودہ رجیم بھی پاکستان کو پہلے ہی آزما چکی ہے اور کسی دوسری رجیم کی ممکنات دم توڑ چکی ہیں کیونکہ ایران کی عوام نے رجیم چینج کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ جب تک کسی ریاست کے عوام ساتھ نہ دیں وہاں رجیم چینج کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پہلے لیبیا میں فوج کے اندر سے غداری ہوئی تھی اور عراق میں بھی عوام کے ساتھ کے علاوہ نیٹو کی افواج کو بھی اتارا گیا تھا اور شام میں بھی شاہ کے ماسکو بھاگ جانے کے بعد اندرونی حمائت ملنی شروع ہو گئی تھی مگر ایران میں ایسی کوئی بھی صورتحال بنتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی
اور پاکستان میں دہشت گری کے نا پاک ارادے رکھنے والے اب خفت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے ہیں جبکہ پاکستان اس وقت سفارتی سطح پر بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ اپنی کامیاب سفارتی حکمت عملی کی بدولت اس وقت امریکہ سے لے کر چین تک اور یورپ سے لے کر روس تک ہر ملک کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔ ابھی وزیر اعظم کا روس کا دورہ تھا جو ریجن میں کشیدہ حالات کی وجہ سے معطل کیا گیا ہے۔
دنیا پاکستان کے ساتھ تجارت کے لئے خواہشات کا اظہار کر رہی ہے۔ ہمارے ریجن میں اس وقت ہمسائیہ ریاستوں جن میں چین، ترکمانستان، تاجکستان، ازبکستان، آزر بائیجان، ترکی اور پورے مڈل ایسٹ کے ساتھ مثالی تعلقات ہیں اور اسلامی دنیا پاکستان کو اس وقت اپنا بڑے بھائی کا درجہ دیتے ہوئے تجارتی و دفاعی معاہدے کر رہے ہیں۔ پاکستانی قیادت اس وقت کشیدگی کے ماحول میں بھی ان کے ساتھ مسلسل ساتھ رابطے میں ہے۔
پورا مڈل ایسٹ اس وقت پاکستان کو محفوظ ترین ملک سمجھ رہا ہے۔ قطر، یو اے ای، کویت، سعودیہ اور ابوذہبی اپنے جہاز پاکستان میں کھڑے کرنے کی خواہش کر رہا ہے کیونکہ اس موجودہ کشیدگی میں ان کو ایران کے میزائلوں سے دفاعی نظام کے باوجود نقصان پہنچ رہا ہے جس پر ان کے اندر انتہائی تشویش پائی جا رہی ہے۔ لوگ مڈل ایسٹ کو چھوڑ رہے ہیں۔
وہ پاکستان کو اس کشیدگی میں ثالثی کے کردار کی درخواست کر رہے ہیں تاکہ یہ جنگ زیادہ طول نہ پکڑ سکے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور پاکستان چین اور روس کو بھی ثالثی اس جنگ میں سویلین کے جانی نقصان سے عالمی سطح پر ایران کے ساتھ عوامی ہمدردیاں بڑھ رہی ہیں میں ساتھ شامل کر سکتا ہے۔
جبکہ دوسری طرف ہندوستان اس وقت اپنی منافقانہ سفارتی چالوں میں بری طرح ناکام اور اس کی سازشیں بے نقاب ہوتی جا رہی ہیں۔ جو اس نے حالیہ اسرائیل کو خفیہ حمائت کی تسلیاں دی ہیں اور اپنے پرانے تجارتی حلیف ملک ایران کو دھوکہ دیا ہے پر اپنی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔
جبکہ دوسرے طرف یورپ بھی اس جنگ میں دل چسپی نہیں لے رہا اور امریکن کانگرس سے بھی اس جنگ کی توثیق نہیں مل پا رہی پینٹآگون جنگ کے طویل ہونے کی صورت میں مسائل کی طرف اشارہ کر رہا ہے جس سے یقیناً پاکستان کی جنگ بندی کی نیک تمناؤں کی تکمیل کا ماحول بن رہا ہے جس سے پوری دنیا میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا جائے گا اور پاکستان کی بشمول چین امن پسند سوچ کو پزیرائی ملے گی۔
جبکہ پاکستانی قوم بھی اس وقت متحد اپنی افواج پاکستان کو سلام پیش کرتے ہوئے ان کے ساتھ شانہ بشانہ ہر مشکل وقت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ پاکستان کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج معاشی ہے جس میں اب محفوظ ترین ہونے کے تاثر کے بعد نہ صرف بیرونی سرمایہ کاری کا بہترین ماحول پیدا ہوگا بلکہ پاکستان کی دفاعی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں میں بھی بہت سارے ممالک دلچسپی لے رہے ہیں جس سے پاکستان کے قرضوں کی ادائیگی میں انتہائی آسانی کے اسباب پیدا ہوں گے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں