آج ریاستوں کی خودمختاری کا تصور بارود کی آگ میں جلتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ جارحیت امن پسند سوچ کی تضحیک کر رہی ہے، وحشت انسانیت کی تذلیل کر رہی ہے، اور ہٹ دھرمی اخلاقیات کا جنازہ نکال رہی ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ انسان کی لالچ، ہوس اور خود غرضی کا نتیجہ ہے، جو دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد انسانی ترقی کے لیے کی جانے والی تمام تر کوششیں آج انسانی وحشت کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہیں۔ انسانی صلاحیتیں، وسائل اور توانائیاں جیسے ضائع ہو کر خود اپنا ماتم کر رہی ہوں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کہاں گئے وہ انسانی حقوق کے چارٹر، امن کے معاہدے اور ماحولیات کے تحفظ کے دعوے؟
آج امن، انصاف اور ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔ ویٹو پاور جیسی ناانصافی پر مبنی عالمی ترجیحات خود کو بے نقاب کر چکی ہیں۔ دنیا اب یہ سمجھنے لگی ہے کہ انسان صرف مال و دولت اور وسائل سے نہیں، بلکہ شعور، اعلیٰ اخلاق اور مضبوط کردار سے بنتا ہے۔
عالمی قیادت اپنے طرزِ عمل سے اپنی ساکھ کو خود ہی نقصان پہنچا رہی ہے۔ دنیا اب تک ان کی طاقت اور ویٹو پاور سے متاثر ہو کر انہیں اہمیت دیتی رہی، مگر اب یہ نظام زیادہ دیر چلتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔
اب بھی وقت ہے کہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے طاقت کے ایوان اپنے رویوں پر نظرِ ثانی کریں، ورنہ وقت ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ طاقت کا توازن قائم کیے بغیر حالات کا سنبھلنا ممکن نہیں، اور لگتا ہے کہ طاقت کا غرور انسانیت کو مزید آزمائشوں میں مبتلا کرتا رہے گا۔
دوسرا راستہ یہ ہے کہ عالمی برادری موجودہ طاقت کے نظام کو مسترد کرتے ہوئے امن پسند ریاستوں پر اعتماد کرے، ان کے ساتھ کھڑی ہو، اور اتحاد و نظم و ضبط کے ذریعے شرپسند قوتوں کا مقابلہ کرے، ورنہ تباہی زیادہ دور نہیں۔
امن پر یقین رکھنے والی طاقتوں کو اس موقع پر آگے بڑھنا ہوگا، اور دنیا کو بھی ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں مکمل حمایت فراہم کرنی چاہیے تاکہ ایک متوازن اور منصفانہ عالمی قیادت کا قیام ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ کوئی مؤثر متبادل حل نظر نہیں آتا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں