جمعہ، 20 مارچ، 2026

رمضان کی تربیت اور عید کی حقیقی خوشی

جب یہ سطور آپ کی نظر سے گزر رہی ہوں گی تو کہیں عید کی خوشیاں دم توڑ چکی ہوں گی اور کہیں ان کے استقبال کی تیاریاں عروج پر ہوں گی۔ عید، جو مسلمانوں کے لیے مسرت، شکر اور اجتماعیت کا پیغام لے کر آتی ہے، ہم ہر سال روایتی جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں، مگر شاذ و نادر ہی اس خوشی کے اصل مقصد اور اس کے پس منظر پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی خوشی اس وقت تک اپنی معنویت کھو دیتی ہے جب تک اس کے سبب اور مقصد کو نہ سمجھا جائے۔ جیسے ہم کسی دعوت میں شریک ہونے سے قبل اس کی وجہ جاننا ضروری سمجھتے ہیں، ویسے ہی عید کی خوشی کو سمجھنے کے لیے رمضان المبارک کی روح کو جاننا ناگزیر ہے۔

رمضان محض بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل تربیتی نظام ہے، جو انسان کو تقویٰ، صبر، شکر، استغفار اور ایثار جیسے اوصاف سے آراستہ کرتا ہے۔ یہ مہینہ دراصل ایک سالانہ تربیتی کورس ہے، جس کے ذریعے ایک مسلمان اپنی اصلاح کرتا اور اپنی زندگی کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی مشق کرتا ہے۔

اس تربیت کا سب سے نمایاں پہلو سخاوت اور خدمتِ خلق ہے۔ روزہ انسان کو بھوک اور پیاس کے ذریعے ان افراد کی تکالیف کا احساس دلاتا ہے، جو سارا سال محرومی کا شکار رہتے ہیں۔ یہی احساس انسان کو دوسروں کی مدد پر آمادہ کرتا ہے۔ اسی لیے اسلام میں زکوٰۃ، صدقہ اور فطرانہ جیسے احکامات کو رمضان سے جوڑ دیا گیا ہے تاکہ معاشرے میں دولت کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکے۔

یہ نظام نہ صرف ضرورت مندوں کی فوری مدد کرتا ہے بلکہ ایک متوازن معاشی ڈھانچے کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ اگر اس پر صحیح روح کے ساتھ عمل کیا جائے تو معاشرے سے غربت، حسد، نفرت اور جرائم جیسے مسائل بڑی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہم اکثر ان احکامات کو محض رسمی ادائیگی تک محدود کر دیتے ہیں اور ان کے حقیقی مقصد کو فراموش کر بیٹھتے ہیں۔

رمضان ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ عبادت صرف ظاہری اعمال تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق ہمارے کردار، معاملات اور معاشرتی رویوں سے بھی ہے۔ ایک طرف ہم اللہ کے حضور عبادت کرتے ہیں، تو دوسری طرف ہمیں اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ یہی وہ توازن ہے جو اسلام کو ایک مکمل ضابطۂ حیات بناتا ہے۔

مزید برآں، روزہ انسان میں خود احتسابی کا شعور بیدار کرتا ہے۔ چونکہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا علم صرف اللہ اور بندے کو ہوتا ہے، اس لیے یہ اخلاص، دیانت اور باطنی پاکیزگی کو فروغ دیتا ہے۔ اسی طرح نماز، جسے برائی سے روکنے والا عمل قرار دیا گیا ہے، انسان کو ہر لمحہ اپنی اصلاح کا موقع فراہم کرتی ہے۔

عید درحقیقت اسی تربیت کے اختتام کا جشن ہے۔ یہ خوشی صرف نئے کپڑے پہننے یا لذیذ کھانے کھانے تک محدود نہیں، بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے رمضان کی تربیت سے کچھ سیکھا اور اپنے اندر مثبت تبدیلی پیدا کی۔

اگر ہم رمضان کے بعد بھی صبر، شکر، تقویٰ اور خدمتِ خلق کے ان اوصاف کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو یہی ہماری اصل کامیابی ہے۔ بصورتِ دیگر، اگر ہم ان تعلیمات کو پسِ پشت ڈال دیں تو عید کی خوشی محض ایک وقتی رسم بن کر رہ جاتی ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں بے چینی، محرومی اور ناانصافی کی جو فضا نظر آتی ہے، اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم نے رمضان کی روح کو اپنی عملی زندگی سے جدا کر دیا ہے۔ اگر صاحبِ استطاعت افراد اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے ضرورت مندوں کا خیال رکھیں اور ہر فرد صبر و شکر کو اپنا شعار بنا لے تو نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی ایک مثبت تبدیلی ممکن ہے۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عید کی خوشیوں کو محض رسم نہ بنائیں بلکہ اسے رمضان کی تربیت کا عملی مظہر بنائیں۔ اپنے اندر پیدا ہونے والی نیکیوں کو برقرار رکھیں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں اور اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کریں۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو ہماری عید کو حقیقی معنوں میں بامقصد اور دائمی خوشی میں بدل سکتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

دیکھے جانے کی تعداد