ان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات اس لیے بھی روشن دکھائی دیتے ہیں کہ دونوں فریق کسی حد تک اپنے اپنے اہداف حاصل کر چکے ہیں۔ امریکہ نے اپنی جدید ٹیکنالوجی اور طاقت کا مظاہرہ کر لیا ہے، جبکہ ایران نے مزاحمت، یکجہتی اور استقامت کا ایسا اظہار کیا ہے جو مستقبل میں بھی اس کے لیے ایک مضبوط سفارتی اور نظریاتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اگرچہ انسانی جانوں کا نقصان ناقابلِ تلافی ہے، لیکن اس کشیدگی کو مزید بڑھا کر انسانی المیے میں تبدیل کرنا کسی طور دانشمندی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر دونوں ممالک کو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے، جس کے مثبت آثار سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
حالیہ پیش رفت میں امریکہ کے صدر کی جانب سے توانائی کی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی کو وقتی طور پر مؤخر کرنا اور ایران کی بعض اہم شخصیات کو ہدف کی فہرست سے نکال دینا ایسے اقدامات ہیں جنہیں مذاکرات کی ابتدائی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں پاکستان نے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں جس کے نتیجہ میں مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کی جانب سے بھی امن کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، یورپ، امریکہ اور دیگر خطوں میں توانائی کے ممکنہ بحران کے خدشات نے عالمی برادری کو جنگ بندی کے مطالبات پر مزید متحد کر دیا ہے۔
سنجیدہ اور امن پسند قوتیں پاکستان کی تیسری عالمی جنگ کے خدشات کو کم کرنے کی کوششوں پر ستائش پیش کر رہی ہیں اور دنیا میں پاکستان کا ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ خطے کی ایک پراثر ریاست ہونے کا تاثر بھی ابھرا ہے جو خطے اور عالمی سطح پر امن کے لئےامید کی کرن ثابت ہوگی۔
جہاں اس کشیدگی میں پاکستان کی سفارتی کوششوں سے ایک امید افزا صورتحال جنم لے رہی ہے، وہیں یہ حالات یونائیٹد نیشنز جیسے عالمی ادارے کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان اٹھا رہے ہیں۔ اگر یہ ادارہ دنیا میں طاقت کے توازن اور ریاستی خودمختاری کو یقینی بنانے میں مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہے، تو پھر عالمی امن کی نگرانی اور اس کا قیام کیسے ممکن بنایا جا سکے گا؟

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں