سوچ کی غذا

پیر، 30 مارچ، 2026

جھوٹ ہم سے بولا نہیں جاتا الزام خواہ اپنے سر ہی آئے

افغانی نئی نسل کو ادھوری کہانی سناتے رہے 

یہ تو بتایا کہ یہاں ان کے ہاتھوں یو ایس ایس آر ٹوٹا، امریکہ ناکام واپس لوٹا مگر یہ بتایا ہی نہیں کہ ان پچاس سالوں کے دوران ہماری تمام تر ضروریات کا خیال رکھنے والا محسن کون تھا جن کی گود میں ان کی اس نئی نسل نے آنکھ کھولی، جن کا نمک کھایا، جنہوں نے پالا پوسا، شیلٹر دیا، تعلیم دی، روزگار دیا، اور پھر ساری جمع پونچی سمیت انہیں واپس اپنے ملک میں آباد کیا۔

بس ہماری اتنی چھوٹی سی گزارش ہے کہ کہانی کو مکمل کر دیں تاکہ تمھاری نئی نسل کو اپنی پوری تاریخ کا تو معلوم ہو ۔

ہمیں اپنی نیکیوں پر پچھتاوا نہیں مگر اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ضرور ہے جن کی بدولت تمھاری کہانی نے وجود پایا۔ 

ہمیں نیکیوں کا بدلہ نہیں چاہیے مگر اپنے گھر کو تباہ کرنے کی کسی کو اجازت نہ دینے کا موقف ہماری مجبوری بھی ہے۔

ہمارے احسانات کو بھلے یاد نہ رکھو مگر ہماری مجبوریوں پر واویلہ بھی نہ کرو، اپنے گھر(پاکستان) میں امن سے رہنے کی جائز خواہش پر الزام تو نہ دو، ہماری برداشت کو بزدلی تو نہ سمجھو۔

دشمن سے مل کر ہمارے خلاف سازشوں پر ہمیں شکوہ نہیں مگر اپنوں(غداروں) کو سبق سکھانے پر تم بھی گلہ تو نہ کرو

ادھوری کہانی سے تم اپنی نسلوں کو گمراہ کر سکتے ہو مگر اصل کرداروں اور ہدائت کاری پر ہم سے جھوٹ نہیں بولا جاتا خواہ الزام اپنے سر ہی آئے

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین