افغانی نئی نسل کو ادھوری کہانی سناتے رہے
یہ تو بتایا کہ یہاں ان کے ہاتھوں یو ایس ایس آر ٹوٹا، امریکہ ناکام واپس لوٹا مگر یہ بتایا ہی نہیں کہ ان پچاس سالوں کے دوران ہماری تمام تر ضروریات کا خیال رکھنے والا محسن کون تھا جن کی گود میں ان کی اس نئی نسل نے آنکھ کھولی، جن کا نمک کھایا، جنہوں نے پالا پوسا، شیلٹر دیا، تعلیم دی، روزگار دیا، اور پھر ساری جمع پونچی سمیت انہیں واپس اپنے ملک میں آباد کیا۔
بس ہماری اتنی چھوٹی سی گزارش ہے کہ کہانی کو مکمل کر دیں تاکہ تمھاری نئی نسل کو اپنی پوری تاریخ کا تو معلوم ہو ۔
ہمیں اپنی نیکیوں پر پچھتاوا نہیں مگر اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ضرور ہے جن کی بدولت تمھاری کہانی نے وجود پایا۔
ہمیں نیکیوں کا بدلہ نہیں چاہیے مگر اپنے گھر کو تباہ کرنے کی کسی کو اجازت نہ دینے کا موقف ہماری مجبوری بھی ہے۔
ہمارے احسانات کو بھلے یاد نہ رکھو مگر ہماری مجبوریوں پر واویلہ بھی نہ کرو، اپنے گھر(پاکستان) میں امن سے رہنے کی جائز خواہش پر الزام تو نہ دو، ہماری برداشت کو بزدلی تو نہ سمجھو۔
دشمن سے مل کر ہمارے خلاف سازشوں پر ہمیں شکوہ نہیں مگر اپنوں(غداروں) کو سبق سکھانے پر تم بھی گلہ تو نہ کرو
ادھوری کہانی سے تم اپنی نسلوں کو گمراہ کر سکتے ہو مگر اصل کرداروں اور ہدائت کاری پر ہم سے جھوٹ نہیں بولا جاتا خواہ الزام اپنے سر ہی آئے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں