سوچ کی غذا

اتوار، 26 اپریل، 2026

اللہ کا ولی بننے میں ایک لمحہ درکار ہے

اللہ کے ولیوں کا مقام بہت بلند ہے—اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اس مقام تک پہنچنا کوئی پیچیدہ یا ناممکن کام نہیں۔ یہ کوئی میرا دعویٰ نہیں، بلکہ قرآن کی واضح تعلیم ہے۔ اس کے لیے نہ کسی سفارش کی ضرورت ہے، نہ کسی بڑے اہتمام کی، نہ کسی معاہدے یا گواہ کی۔ یہ تو بس ایک لمحے کا فیصلہ ہے: دل کا جھک جانا، اور کیفیتِ دل کا بدل جانا۔

يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ۔ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
(وہ دن جب نہ مال کام آئے گا نہ اولاد، مگر وہ شخص کامیاب ہوگا جو اللہ کے حضور قلبِ سلیم لے کر آئے)

سوال یہ ہے کہ قلبِ سلیم کیسے حاصل ہو؟

اس کا آغاز بہت سادہ ہے: ایک سچے دل سے کہا گیا "استغفراللہ"۔
توبہ دراصل ہر اس چیز سے رجوع ہے جو اللہ کو ناپسند ہو، اور ہر اس راستے کی طرف واپسی ہے جو اسے محبوب ہو۔

ولایت کسی عہدے یا منصب کا نام نہیں، بلکہ ایک کیفیت کا نام ہے—اعمال کی وہ حالت جو محبت کے زیرِ اثر پیدا ہوتی ہے۔ جب دل میں محبت غالب آتی ہے تو وہ اطاعت کی طرف لے جاتی ہے، اور پھر یہی دل مختلف روحانی درجوں سے گزرتا ہے:

  • قلبِ منیب — جو ہر وقت اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے
  • قلبِ مطمئن — جو اللہ کے ذکر سے سکون پاتا ہے
  • قلبِ خاشع — جو اللہ کے خوف سے نرم اور جھکا ہوا ہوتا ہے

اصل مشکل ولی بن جانا نہیں، بلکہ اس کیفیت کو برقرار رکھنا ہے۔ کیونکہ یہ دراصل انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ انسان کو جب دنیا میں بھیجا گیا تو اسے "خلیفہ" بنایا گیا—ایک ایسا مقام جس میں محبت کے ساتھ اختیار بھی شامل ہے۔ اس لحاظ سے ولایت، اپنے اصل مقام کی بحالی کا نام ہے۔

یہ مقام کسی خاص طبقے کے لیے مخصوص نہیں۔ ہر وہ شخص جو طلب رکھتا ہے، اس تک پہنچ سکتا ہے۔ کیونکہ یہ انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے—بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہے کہ یہی اس کی تخلیق کا اصل مقصد ہے۔

جب انسان اپنے خالق کی طرف بڑھتا ہے تو اللہ خود اس سے بڑھ کر اس کی طرف آتا ہے۔ جیسا کہ حدیثِ قدسی میں ہے:
"اگر بندہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔"

اور قرآن میں فرمایا:
"وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ"
(ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں)

ابتدا میں دل کا دھیان بٹ سکتا ہے، رابطہ کمزور ہو سکتا ہے، مگر مسلسل مشق اسے مضبوط بنا دیتی ہے۔ یہ مشق دراصل مشقت نہیں، بلکہ محبت ہے—اور محبت میں بوجھ نہیں ہوتا۔

جب انسان اللہ کے کلام کو محبت کے ساتھ پڑھتا ہے تو اس کی اصل روح سمجھ میں آتی ہے۔ اللہ نے اپنی صفات میں خود کو "ودود" کہا—یعنی بے انتہا محبت کرنے والا۔ قرآن کا ہر پیغام دراصل انسان کے لیے ایک محبت نامہ ہے، جو اسے اپنے رب کے قریب آنے کا راستہ دکھاتا ہے۔

اللہ نے نہ صرف راستہ بتایا، بلکہ اس کا عملی نمونہ بھی پیش کیا—رسول ﷺ کی زندگی کی صورت میں۔ اسی لیے اطاعتِ رسول کو محبتِ الٰہی کا معیار قرار دیا گیا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ...

اور پھر اللہ اپنے ولیوں کے بارے میں اعلان کرتا ہے:
أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
(سن لو! بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے)

یہ راستہ مشکل نہیں، مگر اس میں عزم درکار ہے—ایسا عزم جو محبت سے پیدا ہو۔ کیونکہ جب محبت شامل ہو جائے تو مشکل بھی آسان لگنے لگتی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے اللہ کی رحمت کو ایک مثال سے واضح کیا: ایک ماں اپنے بچے کو سینے سے لگائے ہوئے ہے—کیا وہ اسے آگ میں ڈال سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے۔

یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے:
اللہ بندے کے رجوع کا منتظر ہے۔ اس کی رحمت ہر چیز پر وسیع ہے:

وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ

لہٰذا، ولی بننے کے لیے کسی طویل سفر کی ضرورت نہیں—بس ایک سچا لمحہ کافی ہے۔

اصل کام یہ ہے کہ اس لمحے کو زندگی بنا لیا جائے۔

منقول (عبداللہ)  

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین