سوچ کی غذا

منگل، 28 اپریل، 2026

اسلامی تعلیمات عقائد اور ایمان کو پرکھنے کی کسوٹی ہیں، نہ کہ افراد پر کفر و شرک کے فتوے جاری کرنے کا اختیار۔

اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو نہ صرف اللہ سے جوڑتا ہے بلکہ امتِ مسلمہ کو ایک وحدت میں پروتا ہے۔ اس کی بنیادی روح اتحاد، اعتدال اور باہمی احترام پر قائم ہے۔ اسی لیے قرآن مجید میں واضح حکم دیا گیا:

“اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو” (آل عمران: 103)

اور ایک اور مقام پر سخت تنبیہ کی گئی:
“جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور فرقے بن گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں”
(الانعام: 159) یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اسلام میں اصل چیز وحدتِ امت ہے، نہ کہ گروہ بندی۔



مسلک اور فرقہ: ایک ضروری امتیاز

اسلامی روایت میں "مسلک" اور "فرقہ" دو مختلف چیزیں ہیں، جنہیں خلط ملط کرنا بنیادی غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے۔

مسلک (School of Thought)
فقہی مسائل میں ائمہ کرام (جیسے حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کی آراء کی پیروی کو مسلک کہا جاتا ہے۔ یہ اختلاف:

علمی ہے
فروعی ہے
اور دین کو سمجھنے میں وسعت پیدا کرتا ہے

لہٰذا یہ اختلاف جائز اور قابلِ قبول ہے۔

فرقہ (Sect)
جب یہی اختلاف:

علیحدگی میں بدل جائے
دوسروں کو گمراہ یا کافر قرار دینے لگے
اور اپنے گروہ کو ہی نجات یافتہ سمجھے

تو وہ "فرقہ" بن جاتا ہے، جو شریعت میں مذموم اور ممنوع ہے۔


حدیثِ افتراق اور اس کا مفہوم

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ امت مختلف گروہوں میں بٹے گی، مگر نجات ایک ہی جماعت کو ہوگی:

“وہ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں”

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے:
جب ہر گروہ خود کو حق پر سمجھتا ہے، تو پھر اس حدیث کا عملی اطلاق کیسے ہوگا؟

یہی وہ مقام ہے جہاں سنجیدہ فکر کی ضرورت ہے، نہ کہ جذباتی فیصلوں کی۔


اختلاف کہاں تک جائز ہے؟

قرآن ہمیں اختلاف کی صورت میں واضح رہنمائی دیتا ہے:

“اگر کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو”

اس کا مطلب یہ ہے کہ:

اختلاف ختم کرنا مقصد ہے
نہ کہ اسے مستقل شناخت بنا لینا

فقہی اختلاف حد تک جائز ہے، مگر:

اس پر مستقل جماعت بنانا
یا امت کو تقسیم کرنا

یہ کسی بھی صورت میں درست نہیں۔


تکفیر کا آغاز: ایک تاریخی تناظر

اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے کلمہ گو مسلمانوں کو کافر قرار دینے کا رجحان خوارج سے شروع ہوا۔
انہوں نے:

حضرت علیؓ
اور دیگر صحابہؓ

کو بھی کافر کہا، حالانکہ وہ سب ایمان والے تھے۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:

تکفیر (کسی کو کافر کہنا) ایک خطرناک رجحان ہے، جس نے امت میں سب سے پہلے فتنہ پیدا کیا۔


آج کی صورتِ حال: مسلک سے فرقہ تک

اگر آج کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ:

فقہی اختلافات اب نظریاتی جنگ بن چکے ہیں
مساجد بھی مسلکی شناخت کا حصہ بن گئی ہیں
اور ایک دوسرے پر کفر، شرک اور بدعت کے فتوے عام ہو چکے ہیں

یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ:

اختلاف اب علم نہیں رہا، بلکہ فرقہ واریت میں تبدیل ہو چکا ہے۔


اصل مسئلہ: اختیار کی حد

اسلام نے ہمیں یہ حق ضرور دیا ہے کہ:

ہم اپنے عقائد کو پرکھیں
اور حق و باطل میں فرق کریں

لیکن یہ اختیار نہیں دیا کہ:

ہم دوسروں کے ایمان کا فیصلہ کریں

اسی حقیقت کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

اسلامی تعلیمات عقائد اور ایمان کو پرکھنے کی کسوٹی ہیں، نہ کہ افراد پر کفر و شرک کے فتوے جاری کرنے کا اختیار۔

قرآن بھی ہمیں بدگمانی، تجسس اور عیب جوئی سے روکتا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ:

دوسروں کے باطن کا فیصلہ کرنا ہمارا کام نہیں۔


حل کیا ہے؟

اب اصل سوال یہ ہے کہ اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟

حل چند بنیادی اصولوں میں ہے:

اپنی پہچان کو "مسلمان" تک محدود رکھا جائے
فقہی اختلاف کو علمی دائرے میں رکھا جائے
تکفیر سے مکمل اجتناب کیا جائے
قرآن و سنت کو مشترکہ بنیاد بنایا جائے
“ما انا علیہ واصحابی” کو گروہی نہیں، اصولی معیار سمجھا جائے

نتیجہ

اسلام کی اصل روح اتحاد ہے، نہ کہ تقسیم۔
مسلک علمی ضرورت ہو سکتا ہے، مگر فرقہ واریت ایک فتنہ ہے۔

اگر ابتدائی دور کو دیکھا جائے تو مسلمانوں کی پہچان صرف ایک تھی:
مسلمان

لہٰذا آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ:

ہم اپنی شناخت کو سادہ رکھیں، اختلاف کو مہذب رکھیں، اور دین کو تقسیم کا نہیں بلکہ اتحاد کا ذریعہ بنائیں۔ 

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین