اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو نہ صرف اللہ سے جوڑتا ہے بلکہ امتِ مسلمہ کو ایک وحدت میں پروتا ہے۔ اس کی بنیادی روح اتحاد، اعتدال اور باہمی احترام پر قائم ہے۔ اسی لیے قرآن مجید میں واضح حکم دیا گیا:
مسلک اور فرقہ: ایک ضروری امتیاز
اسلامی روایت میں "مسلک" اور "فرقہ" دو مختلف چیزیں ہیں، جنہیں خلط ملط کرنا بنیادی غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے۔
لہٰذا یہ اختلاف جائز اور قابلِ قبول ہے۔
تو وہ "فرقہ" بن جاتا ہے، جو شریعت میں مذموم اور ممنوع ہے۔
حدیثِ افتراق اور اس کا مفہوم
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ امت مختلف گروہوں میں بٹے گی، مگر نجات ایک ہی جماعت کو ہوگی:
“وہ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں”
یہی وہ مقام ہے جہاں سنجیدہ فکر کی ضرورت ہے، نہ کہ جذباتی فیصلوں کی۔
اختلاف کہاں تک جائز ہے؟
قرآن ہمیں اختلاف کی صورت میں واضح رہنمائی دیتا ہے:
“اگر کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو”
اس کا مطلب یہ ہے کہ:
فقہی اختلاف حد تک جائز ہے، مگر:
یہ کسی بھی صورت میں درست نہیں۔
تکفیر کا آغاز: ایک تاریخی تناظر
کو بھی کافر کہا، حالانکہ وہ سب ایمان والے تھے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:
تکفیر (کسی کو کافر کہنا) ایک خطرناک رجحان ہے، جس نے امت میں سب سے پہلے فتنہ پیدا کیا۔
آج کی صورتِ حال: مسلک سے فرقہ تک
اگر آج کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ:
یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ:
اختلاف اب علم نہیں رہا، بلکہ فرقہ واریت میں تبدیل ہو چکا ہے۔
اصل مسئلہ: اختیار کی حد
اسلام نے ہمیں یہ حق ضرور دیا ہے کہ:
لیکن یہ اختیار نہیں دیا کہ:
اسی حقیقت کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
اسلامی تعلیمات عقائد اور ایمان کو پرکھنے کی کسوٹی ہیں، نہ کہ افراد پر کفر و شرک کے فتوے جاری کرنے کا اختیار۔
قرآن بھی ہمیں بدگمانی، تجسس اور عیب جوئی سے روکتا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ:
دوسروں کے باطن کا فیصلہ کرنا ہمارا کام نہیں۔
حل کیا ہے؟
اب اصل سوال یہ ہے کہ اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟
حل چند بنیادی اصولوں میں ہے:
نتیجہ
لہٰذا آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ:
ہم اپنی شناخت کو سادہ رکھیں، اختلاف کو مہذب رکھیں، اور دین کو تقسیم کا نہیں بلکہ اتحاد کا ذریعہ بنائیں۔
