جمعہ، 3 اپریل، 2026

اُلو کا پَٹھا

اُلو کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی نے اسے دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو، مگر "الو کا پٹھا" ہر کسی نے ضرور سنا ہوگا۔ البتہ "پٹھا" کے مفہوم سے شاید ہر کوئی واقف نہ ہو، اور اسے سمجھنے کے لیے کسی نہ کسی کی شاگردی درکار ہوتی ہے۔

اب یہ واضح نہیں کہ ہم اُلو کو بے وقوف سمجھتے ہیں یا سادہ لوح، مگر معاشرتی طور پر اسے عموماً بے وقوفی کے معنوں میں ہی لیا جاتا ہے۔ ادب کی خوبی دیکھیے کہ اس نے سخت لفظ "بے وقوف" کو بھی ایک نرم اور نسبتاً شائستہ انداز میں بدل دیا، تاکہ بات بھی ہو جائے اور دل بھی نہ دکھے۔

اگرچہ ناگواری تو پھر بھی پیدا ہوتی ہے، مگر ردِعمل میں واضح فرق آ جاتا ہے۔ اگر آپ کسی کو سیدھا "بے وقوف" کہیں یا "الو"، تو دونوں صورتوں میں ردِعمل مختلف ہوگا۔ اگر مخاطب کو ذرا سا بھی ادبی ذوق ہو، تو وہ "الو" کہنے پر اپنے ردِعمل میں شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑے گا۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ ادب نے ہمیں صرف اظہار کا سلیقہ ہی نہیں سکھایا بلکہ دوسروں کے لیے احترام کا ایک پہلو بھی پیدا کیا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہم نے ادب اور آداب کو فراموش ہی نہیں کیا بلکہ اسے کمزوری سمجھنے لگے ہیں۔ نتیجتاً، جب کوئی شائستگی سے بات کرتا ہے تو اسے خود اپنے اوپر "الو" ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے۔

بعض اوقات تو انسان اس قدر جھنجھلا جاتا ہے کہ خود ہی کہہ اٹھتا ہے: "میں بھی الو کا پٹھا ہوں۔"

دلچسپ بات یہ ہے کہ "الو" کا لفظ بعض اوقات محبت کے اظہار کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ گویا ادب نے نہ صرف سختی کو نرمی میں بدلا بلکہ پیار کے اظہار کا ایک انوکھا انداز بھی عطا کیا۔ سمجھنے والا اگر زیادہ "الو" نہ ہو تو ان جذبات کو بخوبی محسوس کر لیتا ہے۔

ممکن ہے کہ وہ اس لفظ پر ہلکی سی شرمندگی اور مسکراہٹ کے امتزاج کے ساتھ ردِعمل دے، یا زیادہ سے زیادہ تیوری چڑھائے، چہرہ سرخ ہو جائے، مگر کم از کم گالی گلوچ تک بات نہیں پہنچتی۔

آج کے دور میں، جب ہم خود کو بہت جدت پسند سمجھتے ہیں، یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری یہ باریک باتیں کسی کی سمجھ میں آتی بھی ہیں یا نہیں؟

اب بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اتنے حساس ہوتے ہیں کہ "الو کا پٹھا" کہنا ان کے لیے شدید توہین کا باعث بن جاتا ہے۔ یہ سب تربیت اور ماحول کا فرق ہے۔

ایک بار میں ایک حجام سے بال کٹوا رہا تھا۔ باتوں ہی باتوں میں میں نے کوئی ایسا جملہ کہہ دیا جس پر وہ ناراض ہو گیا۔ جب میں نے وضاحت چاہی تو اس نے کہا کہ اس میں اس کے استاد کی توہین ہے۔ یہ سن کر احساس ہوا کہ ہمارے ہاں شاید "الو کا پٹھا" کہنے پر اس لیے زیادہ غصہ نہیں کیا جاتا کیونکہ ہم استاد کے احترام کے معاملے میں پہلے ہی لاپروا ہو چکے ہیں۔

اور جس معاشرے میں استاد کا احترام اس حد تک کمزور ہو جائے، وہاں الفاظ کی حرمت اور رویوں کی شائستگی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا۔

آج ہماری معاشرتی ساخت ہمارے رویوں، ہماری گفتگو اور ہمارے ردِعمل سے بخوبی عیاں ہے۔ سمجھنے والوں کے لیے ہمارے اردگرد سب کچھ موجود ہے—اب نہ کہنے کی ضرورت ہے، نہ سننے کی گنجائش باقی رہی ہے۔   


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

دیکھے جانے کی تعداد