آج پاکستان دنیا میں سفارتکاری کا مرکز بنا ہوا ہے، امن کی تلاش میں مڈل ایسٹ سے لے کر نارتھ امریکہ تک ہر کسی کی نظریں پاکستان پر لگی ہوئی ہیں۔ ایران میں بارود کے دھوئیں کے اندر سے بھی سبز ہلالی پرچم لہراتی انسانی آوازوں میں پاکستان زندہ باد کے نعرے سنائی دے رہے ہیں۔ دنیا کی سپر پاور امریکہ بھی اس جنگ کے خاتمے کا حل پاکستان کے پاس سمجھ رہا ہے۔
اصل راز مئی میں ہندوستان کی اشتعال انگیزی کے جواب میں اس کی ٹھکائی ہے جو جنگی تاریخ میں ایک کامیاب کیس سٹڈی کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ فیلڈ مارشل کی جرات اور بہادری سے بھرپور جنگی حکمت عملی نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
یہ ایک مصمم حقیقت ہے کہ پاکستان خطے میں دفاعی صلاحیتوں کے اعتبار سے یکتا ہوتے ہوئے دنیا کی دفاعی ٹیکنالوجی میں مہارتوں کا استعارہ بن چکا ہے۔
دنیا کی تاجر برادری پاکستان کو ایک محفوظ ترین ٹرانزٹ سپاٹ سمجھ رہی ہے اور اس وقت سبز ہلالی پرچم کے حامل بحری جہاز سمندروں کے سکوت میں دنیا کی معیشت کی روانی کا واحد سہارا بن کر خطرات سے کھیلتے ہوئے اپنی سفارتی حکمت عملیوں کی بدولت بقا کی امید بنے ہوئے ہیں۔
اس تمام تر پزیرائی کے پیچھے مسلسل سفارتی کوششوں کا کردار بھی ہے مگر
اصل راز مئی میں ہندوستان کی اشتعال انگیزی کے جواب میں اس کی ٹھکائی ہے جو جنگی تاریخ میں ایک کامیاب کیس سٹڈی کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ فیلڈ مارشل کی جرات اور بہادری سے بھرپور جنگی حکمت عملی نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
خوش کر دِتا ای ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں۔
