سوچ کی غذا

جمعرات، 2 اپریل، 2026

خوش کر دِتا ای ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں

آج پاکستان دنیا میں سفارتکاری کا مرکز بنا ہوا ہے، امن کی تلاش میں مڈل ایسٹ سے لے کر نارتھ امریکہ تک ہر کسی کی نظریں پاکستان پر لگی ہوئی ہیں۔ ایران میں بارود کے دھوئیں کے اندر سے بھی سبز ہلالی پرچم لہراتی انسانی آوازوں میں پاکستان زندہ باد کے نعرے سنائی دے رہے ہیں۔ دنیا کی سپر پاور امریکہ بھی اس جنگ کے خاتمے کا حل پاکستان کے پاس سمجھ رہا ہے۔ 

یہ ایک مصمم حقیقت ہے کہ پاکستان خطے میں دفاعی صلاحیتوں کے اعتبار سے یکتا ہوتے ہوئے دنیا کی دفاعی ٹیکنالوجی میں مہارتوں کا استعارہ بن چکا ہے۔

دنیا کی تاجر برادری پاکستان کو ایک محفوظ ترین ٹرانزٹ سپاٹ سمجھ رہی ہے اور اس وقت سبز ہلالی پرچم کے حامل بحری جہاز سمندروں کے سکوت میں دنیا کی معیشت کی روانی کا واحد سہارا بن کر خطرات سے کھیلتے ہوئے اپنی سفارتی حکمت عملیوں کی بدولت بقا کی امید بنے ہوئے ہیں۔

اس تمام تر پزیرائی کے پیچھے مسلسل سفارتی کوششوں کا کردار بھی ہے مگر
اصل راز مئی میں ہندوستان کی اشتعال انگیزی کے جواب میں اس کی ٹھکائی ہے جو جنگی تاریخ میں ایک کامیاب کیس سٹڈی کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ فیلڈ مارشل کی جرات اور بہادری سے بھرپور جنگی حکمت عملی نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

خوش کر دِتا ای ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں۔


ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین