10 مئی 2025 کو پاکستان نے اشتعال انگیزی کو شکست دی تھی، اور 10 اپریل 2026 کو امن اور فتح کا پرچم بلند کیا ہے۔
اگرچہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کروانا بذاتِ خود ایک بڑی کامیابی تھی—ایک ایسا لمحہ جب چند ہی لمحوں کے فاصلے پر تیسری عالمی جنگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کے قریب محسوس ہو رہی تھی۔ دنیا کی نظریں اس امر پر جمی ہوئی تھیں کہ کب امریکی صدر ایران پر بڑے حملے کا حکم دیتے ہیں، مگر اسی دوران یہ پیغام سامنے آیا کہ پاکستان کے وزیرِاعظم کی درخواست پر دو ہفتوں کے لیے سیزفائر کر دیا گیا ہے۔
یہ ایک ایسا غیر متوقع سفارتی موڑ تھا جس نے عالمی منظرنامے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ انتشار اور تصادم کی خواہاں سوچیں دم توڑتی نظر آئیں، جبکہ امن، تدبر اور مکالمے کا راستہ روشن ہونے لگا۔
آج پاکستان کی سرزمین پر باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔ امن کی میز سج چکی ہے اور مذاکرات تکنیکی سطح پر دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ پیش رفت اس بات کی غماز ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک مؤثر ثالث کے طور پر ابھرا ہے بلکہ ایک ذمہ دار اور پُراعتماد ریاست کے طور پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہا ہے۔
کہتے ہیں کسی کی کامیابی کا اندازہ لگانا ہو تو اس کے مخالفین کی بے چینی کو دیکھ لیجیے۔ اس وقت ہندوستان کے اندر حسد کی چنگاریاں جس تڑ تڑاہٹ کے ساتھ بھڑک رہی ہیں، وہ دراصل پاکستان کی سفارتی کامیابی پر ایک خاموش ماتم کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ ادھر دنیا بھر سے آنے والے مبارکبادی پیغامات پاکستان کے مؤقف کو تقویت دے رہے ہیں، تو اُدھر یہی گونج ہندوستان کی سفارتی ناکامی کو مزید نمایاں اور بے نقاب کر رہی ہے۔
پاکستان کو عالمی امن میں اپنے کردار پر بجا طور پر مسرت حاصل ہے، مگر اس خوشی میں ایک اور دلکش رنگ بھی شامل ہو گیا ہے۔ ہندوستان کی جانب سے اٹھنے والی جلن کی دھیمی مگر واضح دھواں دار کیفیت گویا نظرِ بد سے بچاؤ کا حصار بن رہی ہے، جو اس کامیابی کی تاثیر کو اور بڑھا رہی ہے۔ یوں یہ کامیابی صرف ایک سفارتی سنگِ میل نہیں رہی بلکہ ایک ایسی حقیقت بن گئی ہے جس کی چمک مخالف جذبات کے باوجود مزید نکھرتی جا رہی ہے۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ ان مذاکرات نے پاکستان کے سفارتی قد و قامت کو محض بلند ہی نہیں کیا بلکہ اسے ایک واضح اور نمایاں مقام عطا کیا ہے۔ اس پیش رفت نے دوست اور دشمن کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے، اور ان عناصر کو بھی بے نقاب کر دیا ہے جو پسِ پردہ قومی مفادات کے خلاف سرگرم ہیں۔ یوں پاکستان کی امن کی کوششیں مزید استقامت اختیار کر رہی ہیں، قومی جذبوں کو نئی جِلا مل رہی ہے اور اجتماعی مقاصد کو ایک مضبوط سمت اور تقویت حاصل ہو رہی ہے۔
پاکستان اس عمل سے دیرپا اور پائیدار امن کے حصول کے لیے پُرامید اور پُراعتماد ہے، کیونکہ حقیقی صلح ہمیشہ خلوصِ نیت، باہمی اعتماد اور غلط فہمیوں کے ازالے سے جنم لیتی ہے—اور پاکستان ان بنیادوں کو استوار کرنے میں پہلے ہی اہم کردار ادا کر چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات روشن اور حوصلہ افزا دکھائی دیتے ہیں۔
