سوچ کی غذا

بدھ، 6 مئی، 2026

مال اور اولاد: محض رونق یا ابدی خیر؟

سورہ الکہف کی آیت نمبر 46 "اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ..." کی تفہیم میں عام طور پر ایک بڑی فکری غلطی کی جاتی ہے۔ مترجمین اور مفسرین "مال اور اولاد" کو ایک طرف رکھتے ہیں اور "نیکیوں" کو دوسری طرف، گویا مال اور اولاد کوئی کم تر چیزیں ہیں اور "باقیاتِ صالحات" ان کے مدمقابل کوئی بالکل علیحدہ نیکیوں کا نام ہے۔ 

لیکن اگر ہم  کلامِ الٰہی کی فطرت پر غور کریں، تو ایک بہت مختلف اور تعمیری حقیقت سامنے آتی ہے۔جو اس کے بالکل برعکس ہے۔ دراصل اس آیت کا دوسرا حصہ پہلے حصے (مال اور اولاد) ہی کی حقیقت کو بیان کر رہا ہے۔

مصنوعی تقابل کی نفی

عام طور پر مترجمین اس آیت میں اپنی طرف سے "تو" یا "صرف" جیسے الفاظ شامل کر کے مال اور اولاد کو ایک عارضی اور شاید بے وقعت چیز بنا کر پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کے کلام میں ایسی کوئی تقسیم موجود نہیں جو دنیاوی نعمتوں کو نیکی کے راستے میں رکاوٹ قرار دے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مال اور اولاد کو "باقیاتِ صالحات" کی ضد بنا کر دیکھنا ایک مصنوعی تقسیم ہے۔

عربی گرامر اور بلاغت کے لحاظ سے اس آیت میں مال اور اولاد کو نیکیوں کے مدمقابل نہیں لایا گیا، بلکہ ان کی اصل قدر و قیمت متعین کی گئی ہے۔ جب ہم "تو" یا "لیکن" جیسے الفاظ اپنی طرف سے شامل کرتے ہیں، تو ہم اس عظیم سچائی کو مسخ کر دیتے ہیں جو اللہ بیان فرما رہا ہے۔ مال اور اولاد ہی وہ بنیاد ہیں جن پر "باقیاتِ صالحات" کی عمارت کھڑی ہے۔

اولاد: ابدی خیر اور انسانی تسلسل

اولاد محض دنیا کی عارضی سجاوٹ ہی نہیں، بلکہ یہ اشرف المخلوقات کا وہ تسلسل ہے جس پر کائنات کے پورے نظام کا دارومدار ہے۔ یہی اولاد وہ "باقیات" ہے جو انسان کے جانے کے بعد اس کا نام، اس کا کام اور اس کی عبادت جاری رکھتی ہے۔ یہ کائنات کا اصل سرمایہ ہے اور اسی اشرف المخلوقات کے تسلسل کو اللہ نے "بہترین امید" (خیرٌ اَمَلًا) قرار دیا ہے کیونکہ انسانی نسل ہی زمین پر اللہ کی خلافت کی امین ہے۔

مال: ثواب کا وسیلہ اور عبادت کی بنیاد

مال اللہ کا فضل ہے اور یہی وہ قوت ہے جو تمام عبادات کی بنیاد بنتی ہے۔ صحت کی حفاظت ہو، اولاد کی پرورش ہو، یا زکوٰۃ و حج جیسے ارکان کی ادائیگی—ان سب کا وجود مال کے اسباب سے جڑا ہے۔ مال ہی وہ شے ہے جو "ثواب" (بدلے) میں تبدیل ہوتی ہے جب اسے زندگی کے نظام کو چلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ تقسیم کہ مال "دنیا" ہے اور تسبیح "آخرت"، سراسر غیر فطری ہے۔ مال بذاتِ خود وہ باقی رہنے والا خیر ہے جو انسان کے لیے ابدی ثواب کا ذریعہ بنتا ہے۔

مال اللہ کا فضل ہے اور اسباب کے لحاظ سے انسان کے عمل کا نتیجہ ہے۔ اسے عبادات سے علیحدہ کرنا ممکن ہی نہیں، کیونکہ:

  1. بنیادی ضروریات اور صحت: انسانی بقا اور صحت، جو کہ ہر قسم کی عبادت کے لیے پہلی شرط ہے، اس کا انحصار مال کے اسباب پر ہی ہے۔

  2. ارکانِ اسلام: زکوٰۃ ہو، حج ہو یا عام صدقہ و خیرات، ان تمام عظیم عبادات کی بنیاد مال ہی پر رکھی گئی ہے۔

جب عمل درست ہو اور مال کا حصول و استعمال جائز ہو، تو یہ پورا عمل عبادت بن جاتا ہے۔ خواہ وہ مال انسان اپنی ذات پر خرچ کرے یا اپنی اولاد پر، وہ اسے "باقیاتِ صالحات" کے درجے تک لے جاتا ہے۔

فلسفہِ وجود بمقابلہ استعمال

اصل مسئلہ مال اور اولاد کا "وجود" نہیں بلکہ ان کا "استعمال" ہے۔ فتنہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان نعمتوں کو اللہ کے احکامات سے بغاوت کے لیے استعمال کیا جائے۔ لیکن اگر مقصد درست ہو، تو دنیا کی یہ "زینت" ہی آخرت کا "بہترین ثواب" بن جاتی ہے۔

کائنات کا اصل نظام

دنیا کا اصل سرمایہ اولاد ہے کیونکہ یہ زندگی کا تسلسل ہے، اور مال اس تسلسل کو برقرار رکھنے کا لازمی ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں واضح کر دیا ہے کہ یہ دونوں چیزیں جہاں زندگی کی زینت ہیں، وہیں یہی وہ اصل "باقیاتِ صالحات" (باقی رہنے والی نیکیاں) بھی ہیں جو اللہ کے ہاں اجر و ثواب کے لحاظ سے بہترین ہیں۔

حاصلِ کلام

ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ مال اور اولاد کا وجود ہی خیر ہے اور ان کا استعمال خواہ اپنی ذات پر ہو یا اولاد پر، یہ آخرت کا باقی رہنے والا عمل بن جاتا ہے۔ یہ نظامِ کائنات کا اصل ہے اور یہی وہ "امید" ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اللہ کے کلام میں کوئی تضاد نہیں؛ مال اور اولاد ہی وہ سرمایہ ہیں جنہیں اللہ نے "باقیاتِ صالحات" کہہ کر پکارا ہے، بشرطیکہ ہم انہیں ان کے اصل تعمیری مقصد کے ساتھ دیکھیں۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دین اور دنیا دو الگ جزیرے نہیں ہیں۔ مال اور اولاد نظامِ کائنات کی اصل بنیاد ہیں اور جب یہ اللہ کی رضا کے دائرے میں رہ کر برتے جائیں، تو یہی وہ سرمایہ ہیں جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ یہ تقابل کا نہیں بلکہ تسلسل کا معاملہ ہے۔ مال اور اولاد زینت بھی ہیں اور اگر درست رخ پر ہوں تو یہی وہ "باقیاتِ صالحات" ہیں جن سے بہترین امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں۔

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین