سوچ کی غذا

جمعہ، 22 مئی، 2026

ڈیجیٹل دور میں سچ کی تلاش: قرآنی اصول "فَتَبَيَّنُوا" اور عصرِ حاضر کے چیلنجز

آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں معلومات کی رفتار روشنی سے مقابلہ کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا کے ایک "کلک" سے خبر لمحوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے، لیکن بدقسمتی سے اس رفتار نے سچ اور جھوٹ کے درمیان کی لکیر کو دھندلا دیا ہے۔ دورِ حاضر میں جسے ہم "انفارمیشن وار فیئر" (Information Warfare) کہتے ہیں، اس میں معلومات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

 ایسے پُر فتن دور میں اسلام ہمیں ایک ایسا ضابطہ فراہم کرتا ہے جو نہ صرف اخلاقی ہے بلکہ سماجی بقا کا واحد راستہ بھی ہے۔

قرآنی اصول: "فَتَبَيَّنُوا" (تحقیق کر لیا کرو)

قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے اس فتنے سے بچنے کے لیے ایک سنہرا اصول عطا فرمایا تھا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ

"اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو، پھر تمہیں اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔" (سورۃ الحجرات: 6)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے "فَتَبَيَّنُوا" (تحقیق کرو) اور "فَتَثَبَّتُوا" (ٹھہراؤ اور تصدیق) کا حکم دے کر اسلامی معاشرے کی بنیاد 'سچائی' پر رکھی ہے۔ یہ اصول جوابدہی اور خود احتسابی کو ہماری معاشرت کا لازمی حصہ بناتا ہے۔

آیتِ مبارکہ سے اخذ شدہ کلیدی اصول

اس آیت کے عمیق مطالعے سے چند اہم اصول سامنے آتے ہیں جو آج کے ڈیجیٹل دور میں مشعلِ راہ ہیں:

خبر دینے والے کی ساکھ (فسق بمقابلہ عدل):

اگر خبر دینے والا شخص 'فاسق' ہے—یعنی جس کا کردار مشکوک ہو یا جھوٹ بولنے کا عادی ہو—تو اس کی خبر پر بغیر تحقیق عمل کرنا حرام ہے۔ اس کے برعکس ایک سچے اور معتبر (عادل) شخص کی خبر عام حالات میں قبول کی جاتی ہے، تاوقتیکہ کوئی واضح شک پیدا نہ ہو۔

خبر کی نوعیت (نَبَإٍ):

آیت میں لفظ "نَبَإٍ" استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے ایسی "بڑی اور اہم خبر" جس کے نتائج دور رس ہوں۔ اگر خبر کسی کی عزت، جان، مال یا اجتماعی مفاد (جنگ یا صلح) سے متعلق ہو، تو خبر دینے والا کتنا ہی معتبر کیوں نہ ہو، احتیاط اور تحقیق لازم ہے تاکہ کسی نادانی سے بچا جا سکے۔

جذباتیت پر عقل کی فوقیت:

قرآن کی ایک قرات میں "فتثبتوا" (ثابت قدم رہو) آیا ہے، یعنی کسی بھی اطلاع پر جذبات میں آکر فوراً اقدام نہ کیا جائے بلکہ ہوش و حواس سے کام لیا جائے۔

تحقیق نہ کرنا "جہالت" کیوں ہے؟

قرآنِ کریم نے بغیر تحقیق کے قدم اٹھانے کو "جہالت" قرار دیا ہے۔ یہاں جہالت سے مراد صرف ان پڑھ ہونا نہیں، بلکہ:

علم کے باوجود بے علمی: جب انسان حقیقت تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتا، تو اس کی پہنچ میں موجود معلومات بھی "علم" نہیں بلکہ "جہالت" بن جاتی ہیں۔

جذباتی اندھا پن:

 عقل کے بجائے غصے یا جذبات کی پیروی کرنا جہالت کی بدترین قسم ہے۔

آیت کا اگلا حصہ "فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ" (پھر تم اپنے کیے پر پچھتاؤ گے) یہ واضح کرتا ہے کہ کل قیامت کے دن یا دنیاوی عدالت میں یہ عذرِ لنگ قبول نہیں ہوگا کہ "مجھے تو فلاں نے یہ بتایا تھا"۔ تصدیق نہ کرنے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری پھیلانے والے کے اپنے کندھوں پر ہوگی۔

اس وقت ان جھوٹی خبروں کی بدولت پیدا شدہ صورتحال پر میں آپ سے ایک تحیقیقاتی رپورٹ شئیر کرنا چاہوں گا:

 ایم آئی ٹی (MIT) کی ایک بڑی تحقیق کے مطابق، ٹویٹر پر جھوٹی خبریں سچی خبروں کے مقابلے میں 6 گنا زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔

 سچی خبر شاذ و نادر ہی ایک ہزار لوگوں سے آگے بڑھتی ہے، جبکہ متنازعہ اور جھوٹی خبریں اکثر 100,000 لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں۔

اور سوشل میڈیا کے تقریباً 50% اکاؤنٹس "بوٹس" ہو سکتے ہیں جو مصنوعی طور پر کسی خبر کو وائرل کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

اسی طرح نفسیاتی ماہرین کے مطابق جب ایک بار غلط معلومات ذہن میں بیٹھ جائیں، تو وہ اصل یاداشت کو بدل دیتی ہیں اور سچ سامنے آنے کے بعد بھی ذہن غلط بات ہی کو ترجیح دیتا ہے۔

ان جھوٹی خبروں سے نفسیاتی امراض، گھبراہٹ (Panic) اور ڈپریشن میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بحث و مباحثہ اور جھوٹی معلومات انسان کی اخلاقی فیصلہ سازی (Ethical Decision Making) کی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق بغیر تحقیق کی خبروں کے نقصانات دیکھیں تو معاشرے کو  ورلڈ اکنامک فورم (World Economic Forum) نے غلط معلومات (Misinformation) کو 2024-2025 کے لیے دنیا کا سب سے بڑا قلیل مدتی خطرہ قرار دیا تھا۔ جس کے اثرات ہم نے پاکستان میں انتخابات اور سیاسی بحرانوں کے دوران فیک نیوز نے عوامی پولرائزیشن (Polarization) اور نفرت میں اضافہ کی صورت دیکھا ہے۔ ان غلط مذہبی یا سیاسی خبروں کی بنیاد پر کئی ممالک میں تشدد اور فسادات پھوٹ پڑتے ہیں

اب ہم اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے سوشل میڈیا کا کردار دیکھتے ہوئے فسق کی جدید تعریف دیکھتے ہیں۔ 

عملی زندگی میں "فاسق" وہ ہے جو اعلانیہ گناہ کرے، جھوٹ بولے اور فتنہ پھیلائے۔ لیکن میرے خیال میں رپورٹ کے تناظر میں  فسق کی تعریف کرتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ "جو شخص اللہ کے حکم 'فتبینوا' کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر تصدیق کے خبریں نشر کرتا ہے، وہ اپنے اس عمل کی وجہ سے فسق کے زمرے میں داخل ہو جاتا ہے۔"

علمِ حدیث (فنِ اسماء الرجال) میں اگر کسی راوی کے بارے میں ایک بار بھی ثابت ہو جاتا کہ وہ غیر محتاط ہے، تو اسے غیر معتبر قرار دے کر اس کی روایتیں لینا بند کر دی جاتی تھیں۔ آج ہمارے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہی ہمارا "نامہ اعمال" اور ہماری "کریڈیبلٹی" ہیں۔ اگر ہم بغیر تحقیق "شیئر" کا بٹن دباتے ہیں، تو ہم اپنی گواہی کی اہلیت کھو دیتے ہیں۔

شرعی نقطہ نظر: اسلام میں "جہالت" میں کی گئی غلطی بھی قابلِ سزا ہے (جیسے قتلِ خطا پر دیت)۔ بغیر تحقیق خبر پھیلانا اگر کسی کی عزت پر حرف لائے تو "حدِ قذف" یا "تعزیر" لاگو ہوتی ہے۔

پاکستانی قانون:

 پاکستان کا سائبر کرائم ایکٹ (PECA - 2025) اور نئی ایجنسیاں جیسے NCCIA اور DRPA اسی قرآنی اصول کی قانونی شکل ہیں۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے والے کو 3 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے اور قانون اسے "نادانی" کا عذر پیش کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

ہماری ذمہ داری:

 مصنوعی ذہانت کا درست استعمال جہاں AI جھوٹ پھیلانے کا آلہ ہے، وہیں یہ "فَتَبَيَّنُوا" کے عمل میں مددگار بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ:گوگل ریورس امیج سرچ جیسے ٹولز سے تصویر کی اصلیت جانیں

ویڈیو میں آنکھوں کے جھپکنے اور ہونٹوں کے تال میل (Syncing) کا بغور مشاہدہ کریں۔

خبر دینے والے کے اکاؤنٹ کا جائزہ لیں کہ اس کا قول و فعل تضاد سے پاک ہے یا نہیں۔

حاصلِ کلام

سوشل میڈیا پر آنے والی ہر خبر "سچ" نہیں ہوتی۔ ایک ذمہ دار مسلمان اور شہری ہونے کے ناطے ہماری یہ شرعی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ ہم کسی بھی پیغام کو آگے بھیجنے سے پہلے دو منٹ رکیں اور اس کی تصدیق کریں۔ یاد رکھیں، آپ کا ایک "شیئر" کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتا ہے اور کسی فتنے کو روک بھی سکتا ہے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم ڈیجیٹل دنیا میں "فَتَبَيَّنُوا" کے سفیر بنیں گے تاکہ دنیا کی رسوائی اور آخرت کے پچھتاوے سے بچ سکیں۔

 

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین