سورہ النور کی آیت ۳۵ (آیتِ نور) قرآنی فصاحت و بلاغت کا وہ لامتناہی سمندر ہے جسے عام طور پر صرف ایک روایتی تمثیل سمجھ کر پڑھا جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم انسانی تاویلات، ذہنی مفروضوں اور بریکٹوں کے استعمال کو یکسر مائنس کر کے، خالصتاً قرآنی الفاظ کے مادوں (Roots)، ان کے طبیعیاتی (Physical) کردار اور کائناتی فزکس کے اصولوں پر غور کریں، تو یہ آیت کائنات میں توانائی کے پھیلاؤ، اس کے تحفظ اور اس سے مستفید ہونے کا ایک ایسا تکنیکی مینوئل (Technical Manual) پیش کرتی ہے جس کی کوئی دوسری مثال ممکن نہیں [11]۔
آیت کے دو بنیادی حصے ہیں: پہلا حصہ نور کا ایک وجودی (Structural) ماڈل پیش کرتا ہے، جبکہ دوسرا حصہ اس کی خالص صفاتی اور متحرک (Operational) خصوصیات کو بے نقاب کرتا ہے۔
۱۔ آیتِ مبارکہ کا اکٹھا عربی متن اور حتمی متوازن ترجمہ
اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ۖ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ ۖ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ Nَارٌ ۚ نُّورٌ عَلَىٰ نُورٍ ۗ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
جامع اور متوازن شعوری ترجمہ:
"اللہ آسمانوں اور زمین کو منور کرنے والا ہے۔ اس کے اس نور کی مثال ایک ایسے محفوظ حصار جیسی ہے جس میں ایک مِصْبَاح (صبح کی طرح ہر لمحہ بڑھنے والا روشنی کا سرچشمہ) ہو، وہ مِصْبَاح ایک منشور (روشنی کو جذب کر کے کثیر کرنے والے واسطے) میں ہو، وہ منشور گویا لامتناہی شعاعیں ابلتا ہوا کوئی نورانی کرّہ ہو، وہ (چراغ) ایک ایسے دائمی برکت والے زیتون کے درخت سے فعال (Activate) ہوتا ہے جو مشرق و مغرب کی سمت سے آزاد ہے؛ گویا اس کا تیل، بغیر آگ کے چھوئے ہی، خود اپنی ذاتی ضیاء بکھیرنے کو تیار ہے۔ یہ نور پر نور (توانائی کا لامتناہی اور کثیر ہوتا ہوا توازن) ہے۔ وہ اللہ ہدایت دیتا ہے اتنی جتنی کوئی چاہتا ہے، اور اللہ ہر چیز (کے ظرف اور سچی چاہت) کو خوب جاننے والا ہے۔"
۲۔ کائناتی اور شعوری نظام کے کلیدی راز (تفصیلی تجزیہ)
الف) واحد اور جمع کا کائناتی توازن (السَّمَاوَات بمقابلہ الْأَرْض)
قرآن مجید نے کائناتی وسعتوں، فضائی ابعاد (Dimensions) اور لامتناہی توانائی کی لہروں کے لیے جمع کا صیغہ (السَّمَاوَات) استعمال کیا، جو اس نور کے لامتناہی پھیلاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے برعکس، مادی وجود کے مرکز کے لیے واحد کا صیغہ (الْأَرْض) استعمال کیا، جو یہ بتاتا ہے کہ ان بے پناہ وسعتوں کے مقابلے میں زمین وہ مخصوص متمرکز نقطہ (Solid Base) ہے جہاں اس آفاقی نور کا مادی ظہور ہو رہا ہے۔
ب) "نور" بطورِ فعل: کائنات کا انکشاف اور ظہور
نور کا مادہ ن-و-ر ہے۔ اس کا بنیادی لغوی معنی صرف روشنی نہیں، بلکہ "اظہار اور انکشاف" (To make visible) ہے۔ جب یہ لفظ مضاف بن کر کائنات کی طرف جاتا ہے (نُورُ السَّمَاوَاتِ)، تو یہ ایک جاری و ساری فعل (Dynamic Process) بن جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات اپنے اصل میں اندھیرا اور عدم تھی، اللہ نے فاعل بن کر اسے وجود کا نور دیا اور روشن کیا۔ یہ ایک ایسا خود کفیل نظام ہے جس کی شدت کبھی کم نہیں ہوتی۔
ج) مِصْبَاح (ص-ب-ح): ہر لمحے بڑھنے والا لامتناہی سلسلہ
چراغ کے لیے "مِصْبَاح" کا انتخاب اس ماڈل کی سب سے خوبصورت کلید ہے۔ اس کا مادہ "صبح" ہے۔ صبح کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک ایسا "انفجارِ نور" (Burst of Light) ہے جو ایک بار شروع ہو جائے تو اس کی روشنی ہر لمحے بڑھتی چلی جاتی ہے اور یہ ایک لامتناہی سلسلہ رکھتی ہے۔ کائنات کی سطح پر زمین کے گول گھومنے کی وجہ سے صبح کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ روشنی کا ایک ایسا متحرک اور لامتناہی تسلسل ہے جو اندھیرے کو مٹاتا چلا جاتا ہے۔
د) مِشْكَاة (ش-ک-و): توانائی کا محفوظ حصار (Cavity Shield)
لفظ مشکوٰۃ کا لغوی معنی ہے "کسی چیز کو اکٹھا کرنا یا سمیٹنا"۔ نور کی خصوصیت ہے کہ وہ کھلی فضا میں بکھر (Scatter) کر مدہم ہو جاتا ہے۔ مشکوٰۃ کائنات کا وہ گہرا حصار یا الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ ہے جو اس ہر لمحے بڑھنے والی روشنی کو بکھرنے اور ضائع ہونے سے روک کر ایک جگہ محفوظ رکھتا ہے، لیکن اس کی حفاظت کے عوامل اس کے فیض میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں لاتے۔
ہ) زُجَاجَة (ز-ج-ج) بطورِ منشور: روشنی کی جاذبیت اور ضرب
فانوس (زجاجہ) کثافت سے پاک ایک ایسا باریک اور مصفّٰی واسطہ (Medium) ہے جو روشنی کی لہروں کو بلا رکاوٹ گزرنے دیتا ہے۔ لغوی مادے کے مطابق اس کا اصل جوہر "منشور" (Prism/Light Multiplier) بنتا ہے۔ یہ روشنی کی ایک اکیلی لہر کو اپنے اندر داخل کر کے، اسے لاکھوں نئے ابعاد اور رنگوں میں ضرب (Multiply) دے کر کائنات میں پھیلا دیتا ہے، جو صرف مادی شفافیت نہیں بلکہ جاذبیت کا عمل ہے۔
و) كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ (ک-و-ک / د-ر-ر) بطورِ لامتناہی شعاعیں ابلتا ہوا نورانی کرّہ
عام ستارے (نجم) کے برعکس، "کوکب" کائنات کے ان بڑے، وزنی اور منفرد اجرامِ فلکی کے لیے آتا ہے جو اپنے مرکز پر شدید گولائی میں اکٹھے مادی پنڈ ہوتے ہیں۔ جب اس کی صفت "دُرِّيٌّ" (د-ر-ر) بیان کی گئی، تو یہ موتی جیسا ساکت وجود نہیں رہتا؛ اس مادے کا اصل معنی "فوارے کی طرح ابلنا اور بہنا" ہے۔ سائنسی طور پر یہ ایک ایسے نورانی کرّے (Luminous Orb) کو ظاہر کرتا ہے جس میں سے روشنی کی شعاعیں ہر لمحہ کثرت سے ابل ابل کر باہر پھوٹ رہی ہوں (Streaming Emission)۔
ز) صفتِ يُوقَدُ (و-ق-د): بیرونی تحریک اور فعّالیت (Activation)
مادے کی سطح پر 'وقد' کا مطلب ہے کسی توانائی کا شدت سے بھڑک اٹھنا۔ یہاں فعلِ مجہول (Passive) کا صیغہ یہ واضح کرتا ہے کہ یہ پورا ماڈل فعال (Activate) ہونے کے لیے کائنات کے اصل مرکز سے آنے والی ایک بیرونی تحریک یا لائحہ عمل (وحی/آگ) کا مرہونِ منت ہے۔ یہ اس نور کے پوٹینشل (Potential) سے کائنیٹک (Kinetic) حالت میں تبدیل ہونے کا فیز ہے۔
ح) صفتِ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ (ض-و-أ): خودکار اندرونی صلاحیت (Potential Energy)
'یضیء' کا مادہ 'ضیاء' (ذاتی روشنی) ہے، جو سورج کی اپنی شدید اور خودکار چمک کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس آفاقی ایندھن (زیت) کی وہ خودکار (Self-Sustaining) خصوصیت ہے جو کسی بیرونی رگڑ یا مادی آگ کے ملاپ (وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ) کے بغیر ہی اپنے اندرونی دباؤ اور صفا کی وجہ سے خود بخود چمکنے اور لامتناہی طور پر روشنی کو ملٹی پلائی کرنے کے لیے ہر وقت تیار کھڑی ہے۔ "یکاد" یہ یقینی بناتا ہے کہ یہ روشنی "گویا" وقوع پذیر ہو چکی ہے۔
ط) "نُّورٌ عَلَىٰ نُورٍ" — حتمی کائناتی فارمولا
جب ایک ہر لمحے بڑھنے والی روشنی (مصباح) کو ایک لامتناہی امپلیفائر (منشور کا نورانی کرّہ) اور ایک لامتناہی ذاتی ضیاء والا ایندھن (آفاقی زیتون) مل جائے، تو کائناتی فزکس کے سپر پوزیشن (Superposition) کے اصول کے تحت روشنی کے اوپر روشنی کی تہیں چڑھتی چلی جاتی ہیں۔ یہ اس سے پہلے بیان ہونے والے پورے ریفلیکشن اور ملٹی پلیکیشن میکانزم کا حتمی نتیجہ ہے، یعنی ایک ایسی توانائی جو لامتناہی طور پر خود کو ملٹی پلائی کرتی چلی جاتی ہے۔
۳۔ انسانی اختیار کا راز اور مستفید ہونے کا لائحہ عمل
اس پورے آفاقی، وجودی اور صفاتی ماڈل کو سمجھنے کے بعد، مستفید ہونے کا وہ راز کھلتا ہے جہاں انسان کا اپنا شعور اور ارادہ شامل ہوتا ہے، اور جہاں انسان کے اپنے اندر "هَذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي" کا اعتراف اور "رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا" کی تڑپ علم کو جلا بخشتی ہے۔
عربی زبان کے گہرے قواعد اور قرآنی اصولِ عدل و اختیار کے مطابق، جملے "يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَن يَشَاءُ" میں موجود دو افعال (يَهْدِي اور يَشَاءُ) جو 'ی' سے شروع ہوتے ہیں، ایک ٹرانسمیٹر اور ریسیور کا کام کرتے ہیں۔ اللہ کا متحرک قانون کائناتی فیض کو مسلسل نشر کر رہا ہے، لیکن اللہ اپنے نور کا رخ زبردستی کسی پر نہیں موڑتا، بلکہ انسان اپنے سچے ارادے اور چاہت سے جتنا بڑا رخ اور ظرف متعین کرے گا، اللہ کا قانونِ ہدایت اسے اتنی ہی شدت کے ساتھ اپنے اس لامتناہی نظام میں شامل کر لے گا۔ جیسا کہ حتمی ترجمہ گواہی دیتا ہے: "وہ اللہ ہدایت دیتا ہے اتنی جتنی کوئی چاہتا ہے"۔
حتمی مہر: "وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ"
آیت کا اختتام اس کائناتی سچائی پر ہوتا ہے کہ وہ ذات ہر چیز کے اندرونی وجود، اس کے مخلص ارادے، اس کی چاہت کی مقدار اور اس کے ظرف کی پیاس کو خوب جانتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کس انسان نے اپنے اندر کے منشور اور میڈیم کو کتنا شفاف رکھا ہے، اور وہ اسی علمِ مطلق کے تحت اپنے فیض کے دروازے کھولتا ہے۔
حاصلِ کلام
یہ آیتِ مبارکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ کائنات کا نورِ فیض لامتناہی ہے، اس کی شدت کبھی کم نہیں ہوتی اور وہ ہر لمحہ صبح کی طرح بڑھنے اور اپنی ذاتی ضیاء سے بھڑکنے کے لیے تیار ہے۔ کمی صرف لینے والے کے ارادے اور طلب میں ہوتی ہے۔ جب انسان اپنی عقل اور فہم کو قرآنی اسلوب کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے اور سچی چاہت کے ساتھ اس لامتناہی سلسلے سے جڑتا ہے، تو وہ خود بھی اس کائناتی نور کا ایک متحرک حصہ بن جاتا ہے۔
