سوچ کی غذا

اتوار، 7 جون، 2026

قرآن کا قانونِ مشیئت اور انسانی اختیار


(روایتی ترجموں کے ابہام اور اسلوبِ قرآن کا لغوی و عقلی جائزہ)

قرآنِ مجید کی تعلیمات کا بنیادی محور انسان کی اس حیثیت پر زور دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات (جیسے علم، عدل، رحمت، اور حکمت) کا اپنی محدود سطح پر مظہر بنے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے، قرآن نے اس دنیا کو ایک دارِ امتحان قرار دیا ہے، جہاں انسان کو اختیار دے کر اس کی آزمائش کی جاتی ہے، اور اس کے اعمال کی بنیاد پر ایک مکمل جوابدہی (آخرت) کا نظام وضع کیا گیا ہے۔  کائنات کے مینیجر (اللہ رب العزت) نے انسان کو اس امتحان میں سرخرو ہونے کے لیے "ارادے کی آزادی" (Free Will) عطا کی ہے۔ تاہم، قرآن پاک کی چند آیات، جیسے:

فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ (سورہ ابراہیم: 4)

کے روایتی ترجموں میں بریکٹ کے اندر (اللہ چاہے) لکھ کر عام قاری کے ذہن میں "جبرِ محض" کا ایک ایسا تاثر پیدا کر دیا گیا ہے جیسے انسان ایک بے بس کٹھ پتلی ہے اور ہدایت یا گمراہی کا فیصلہ اس کے اپنے اختیار سے باہر ہے۔ یہ مضمون اسی روایتی ابہام کا لغوی، نحوی اور قرآنی اصولِ عدل کی روشنی میں جائزہ پیش کرتا ہے کہ قرآن میں کہیں بھی یہ صریحاً موجود نہیں کہ اللہ کسی ہدایت کے طالب کو زبردستی محروم کر دیتا ہے۔

2. "مَنْ یَّشَآءُ" کا اصل نحوی اسلوب اور قرآنی مثالیں

عربی علمِ نحو (Grammar) اور لغت کی رو سے جملہ "مَنْ یَّشَآءُ" میں "یَشَاءُ" (وہ چاہے) کی ضمیر (ی) کا تعلق اللہ کے بجائے خود انسان سے ہے۔

صحیح ترجمہ: "اللہ گمراہ ہونے دیتا ہے اسے جو (خود گمراہی) چاہتا ہے، اور ہدایت دیتا ہے اسے جو (خود ہدایت) چاہتا ہے۔"

قرآنِ مجید کا اپنا مستقل اسلوب اس نظریے کی صریح تائید کرتا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے "مَنْ شَاءَ" یا "لِمَنْ شَاءَ" کہہ کر چاہت کا تعلق انسان سے جوڑا ہے:

مثال اول (سورہ التکویر: 28): لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ (تم میں سے اس شخص کے لیے جو خود سیدھا چلنا چاہے)۔ یہاں ہدایت کا راستہ چننا انسان کی اپنی چاہت پر چھوڑا گیا ہے۔

مثال دوم (سورہ المدثر: 37): لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ (تم میں سے اس کے لیے جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہ جانا چاہے)۔ یہاں "پیچھے رہ جانا" یا گمراہی اختیار کرنا انسان کا اپنا فیصلہ بتایا گیا ہے۔

مثال سوم (سورہ الکہف: 29): فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ (پس جو کوئی چاہے تو ایمان لے آئے اور جو کوئی چاہے تو کفر/گمراہی اختیار کر لے)۔ یہ آیت انسان کو کفر یا ایمان چننے کی مطلق آزادی دیتی ہے۔

3. ہدایت چاہنے والے کے لیے محرومی کا کوئی قانون نہیں

اللہ تعالیٰ کا یہ صریح قانون ہے کہ جو سچے دل سے حق کا طالب ہو، وہ کبھی محروم نہیں رہ سکتا۔ قرآن پاک میں اللہ کا صریح وعدہ ہے:

وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ (سورہ العنکبوت: 69)

"اور جن لوگوں نے ہمارے لیے کوشش کی، ہم ضرور بالضرور انہیں اپنے راستے دکھائیں گے۔"

اللہ تعالیٰ کبھی نہیں چاہتا کہ کوئی انسان ہدایت سے محروم رہے، جیسا کہ سورہ الزمر (آیت 7) میں صراحت ہے: وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَۚ (اور وہ اپنے بندوں کے لیے کفر اور گمراہی کو پسند نہیں کرتا)۔ جب اللہ خود کفر سے راضی نہیں، تو یہ تصور ہی باطل ہو جاتا ہے کہ وہ کسی کے آگے زبردستی رکاوٹ کھڑی کرے۔

4. گمراہی پر قدغن: اللہ کا قانونِ حکمت و فضل

یہاں ایک بہت ہی باریک اور اہم نکتہ اللہ کے قانونِ فضل و توفیق کا ہے۔ بسا اوقات ایک انسان نادانی، کمزوری یا برے ماحول کے اثر میں گمراہی کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے، لیکن اس کے دل میں کوئی اچھائی، سچائی یا اپنے رب سے محبت کا کوئی گوشہ باقی ہوتا ہے۔

ایسے میں اللہ کی حکمت اور رحمت اس انسان کے چاہنے کے باوجود اسے گمراہی کی دلدل میں گرنے سے روک لیتی ہے (قدغن لگا دیتی ہے)۔ اللہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے (جیسے کوئی حادثہ، کوئی نیک دوست، یا اچانک کوئی آیت کان میں پڑ جانا) جو اس بندے کو برائی کے گڑھے سے کھینچ لیتے ہیں۔ یہ اللہ کا وہ خاص فضل ہے جو انسان کو زبردستی گمراہ تو نہیں ہونے دیتا، لیکن اس کے دل کی سچائی کی وجہ سے اسے سنبھال لیتا ہے۔

5. "عقب" کا قرآنی مفہوم: انسان کا خود پیدا کردہ ریکارڈ

سورہ التوبہ (آیت 77) میں منافقین کے تذکرے میں فرمایا: فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ... بِمَا اَخْلَفُوا اللّٰهَ...

عربی لغت میں مادہ (ع - ق - ب) کا بنیادی تعلق پاؤں کی ایڑی (عَقِب) سے ہے، جو ریت یا مٹی پر چلتے ہوئے اپنا ایک نشان یا ثبوت چھوڑ جاتی ہے۔

اس مادے کی روشنی میں "فَاَعْقَبَهُمْ" کا مفہوم یہ ہے کہ انسان دنیا میں جو بھی عمل (جھوٹ یا وعدہ خلافی) کرتا ہے، اس کا ایک نشان (Footprint) اس کے اپنے قلب پر ثبت ہو جاتا ہے۔

یہ نشان اللہ زبردستی نہیں لگاتا، بلکہ یہ انسان کے اپنے برے اعمال کا پیدا کردہ وہ واضح ثبوت ہے جو توبہ نہ کرنے کی صورت میں اس کے پیچھے لگا رہتا ہے۔

6. دنیا میں توبہ کا آپشن اور آخرت میں قلوب کی گواہی

اللہ تعالیٰ کا یہ نظام بند گلی کا قانون نہیں ہے۔ یہ نشانات دنیا میں کوئی ایسا مستقل تعارف یا مہر نہیں بن جاتے کہ توبہ کا راستہ بند ہو جائے، بلکہ انسان کے پاس اس ریکارڈ کو صاف کرنے کی مہلت ہمیشہ موجود رہتی ہے۔

تبدیلِ سیئات کا قانون: سورہ الفرقان (آیت 70) کے مطابق، جو انسان سچی توبہ کر لے، اللہ اس کے ان پچھلے برے نشانات کو نیکیوں کے خوبصورت نشانات سے بدل دیتا ہے (یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ)۔

آخرت کا عدالتی ریکارڈ: اگر انسان توبہ کے بغیر ان نشانات کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو جائے، تو آخرت کے دن اللہ کو باہر سے کسی گواہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ سورہ العادیات کے مطابق سینوں کے راز باہر نکال لیے جائیں گے (وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ) اور انسان کے اپنے قلوب اور اعضاء (ہاتھ، پاؤں، جلد) ان رہ جانے والے نشانوں کی صریح گواہی پیش کریں گے (ملاحظہ ہو سورہ یٰس: 65 اور سورہ فُصِّلَت: 20)۔

7. "العزیز الحکیم" کے توازن میں عدلِ الٰہی

آیت کے آخر میں اللہ کی دو صفات کا ذکر اس پورے فلسفے پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے:

الْعَزِیز (زبردست غالب): اللہ اتنا زبردست اور غنی ہے کہ اسے بندوں کو زبردستی کٹھ پتلی بنا کر ہدایت دینے کی ضرورت نہیں۔ اس نے انسان کو جو اختیار دے دیا، اپنی عزت و غلبے کے ساتھ اس اختیار کی حفاظت فرمائی۔

الْحَکِیم (بڑی حکمت والا): اللہ کی حکمت کا صریح تقاضا یہ ہے کہ وہ انسان کو اس کی نیت اور چاہت کے مطابق فیصلہ کرنے کی توفیق دے۔ وہ کبھی کسی ہدایت کے طالب کے آگے زبردستی گمراہی کی قدغن نہیں لگاتا، بلکہ اس کا پورا نظام "عدل اور فضل" پر قائم ہے۔

8. خلاصہ اور پیغام (Conclusion)

یہ فکری اور لغوی تدبر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمارے مروجہ ترجموں میں اسلوبِ بیان کو اس طرح پیش کیا جانا چاہیے جس سے بندے کی ذاتی ذمہ داری اور جوابدہی واضح ہو۔ ہدایت کا طالب کبھی محروم نہیں رہتا، اور گمراہی کا مسافر خود اپنے ہاتھوں سے اپنا انجام لکھتا ہے۔ اللہ کا نظام "جبر" پر نہیں، بلکہ محض "عدل اور فضل" پر قائم ہے۔


ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین