سوچ کی غذا

پیر، 8 جون، 2026

قلبِ سلیم

 

انسانی وجود کا ہارڈ ویئر، سافٹ ویئر اور مانیٹرنگ سسٹم

۱۔ دل: انسانی وجود کا "چیف ایڈوائزر" (مشیرِ اعلیٰ)
انسان کے بدن میں سب سے قیمتی شے اس کا دل ہے۔ اگرچہ بظاہر فیصلے دماغ کرتا ہے، لیکن جدید سائنسی تحقیق (Neurocardiology) اور الہامی علوم یہ بتاتے ہیں کہ دل دراصل ہمارے وجود کا وہ "چیف ایڈوائزر" (مشیرِ اعلیٰ) یا تھنک ٹینک ہے جہاں نیت، جذبات اور وجدان کی بنیاد پر فیصلوں کا خاکہ تیار ہوتا ہے، اور دماغ ایک مینیجر کی طرح اس کا اطلاق جسم پر کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: "جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، اگر وہ ٹھیک ہو جائے تو پورا جسم ٹھیک ہو جاتا ہے... اور وہ دل ہے۔" اگر ہمارا یہ مشیرِ اعلیٰ صحیح مشورے اور فیصلے کرنا شروع کر دے، تو ہمارے تمام اعمال نہ صرف قبولیت کا درجہ حاصل کر لیں گے بلکہ انسانیت کی فلاح کا ذریعہ بن کر ہمارے لیے "صدقہ جاریہ" بن جائیں گے۔ یہ گویا اعمال کی ملٹی پلیکیشن (Multiplication) کا عمل ہے، جس سے نیکیاں خودبخود بڑھتی چلی جاتی ہیں۔

۲۔ دل کی صلاحیتیں: ادراک کا جامع نظام
اب سوال یہ ہے کہ اس تھنک ٹینک کو حکمت و دانش سے کیسے مزین کیا جائے؟ یہ ایک بنیادی ضرورت ہے جو مشق کے ذریعے ممکن ہے۔ مگر مشق سے بھی پہلے اس کی حالت اور طریقہ کار کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس دل کے پاس دوسروں کے احوال کو سمجھنے کا ایک کمال نظام موجود ہے۔ یہ اپنے حواسِ خمسہ (دیکھنے، سننے) کی مدد سے، جذباتی ذہانت اور وجدانی صلاحیتوں کے تال میل کے ساتھ، سامنے والے کے دل کا حال سیکنڈوں میں محسوس کر لیتا ہے۔ جب یہ دوسروں کی کیفیات کو سمجھنے کی اتنی جامع صلاحیت رکھتا ہے، تو اپنی حالت کو سمجھنا اس کے لیے بھلا کیا مشکل ہے؟

۳۔ فطرتِ سلیم اور انسانی ظلم
اللہ تعالیٰ نے اس دل کو "فطرتِ سلیم" (پاکیزہ، متوازن اور درست فیکٹری سیٹنگز) پر پیدا کیا تھا، جیسا کہ حدیثِ نبوی ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ مگر ہمارے اپنے غافلانہ اعمال نے اس کا توازن خراب کر دیا۔ قرآن پاک کا یہ جملہ اسی خرابی کی تشخیص کرتا ہے:
وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَٰكِنْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ > "اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔"


۴۔ سسٹم کی ریسٹوریشن (بحالی) اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ
جب ہمیں یہ معلوم ہو گیا کہ یہ دل اپنی فطرت میں سلیم تھا، تو اب اسے دوبارہ اس کی اصل حالت پر "ریسٹور" کرنے کے لیے دو کام کرنے ہوں گے:
بچپن جیسی معصومیت: اپنے اندر بچوں جیسی سوچ پیدا کرنی ہوگی جس میں دکھاوا نہ ہو بلکہ اخلاص اور شوق ہو، اور سب سے بڑھ کر کسی کے لیے بغض، حسد، نفرت اور کینہ نہ ہو۔
سسٹم ریپیئرنگ (توبہ و قرآن): اس دل کو اصلی حالت میں لانے کے لیے ایک تو ایسا سافٹ ویئر چاہیے جو کرپٹ حصوں کو ریپیئر کر دے، اور وہ پہلا کلمہ اور 'استغفراللہ' ہے، جو غافلانہ اعمال کی ندامت کے بعد دل کے سیاہ نشانات کو مٹا دیتا ہے۔ دوسرا، سورہ رحمان جو عروس القرآن (قرآن کی زینت) ہے، اس کا فہم اور تلاوت ہمارے دل کی زینت کو اپنی اصلی حالت میں بحال کرنے اور اسے اصل توازن پر لانے کے لیے بہترین نسخہ ہے۔

۵۔ الٰہی کنکشن اور پرفارمنس کی مشق
دل کی شعوری صلاحیتوں کو کمال تک پہنچانے اور اپنے وجود کی گورننس کو مثالی بنانے کے لیے اللہ سے رابطوں کو بحال کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے دل کے ماحول کو ایسا بنانا تھا جو اللہ کو قابلِ قبول ہو۔ یہ کوشش جتنی جلدی بہتر ہوگی، تھنکنگ کے کمال کا عمل اتنا ہی تیز ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی دل کی پرفارمنس کو بہتر کرنے کی مشق عبادت، ذکر اور بندوں کے کام آنے کا جذبہ ہے، جس کی بہترین پریکٹیکل مشق "نماز" ہے اور دوسری "رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا" کی دعا ہے، جو اللہ نے خود حکم کی صورت میں ہمیں تحفہ دی ہے۔

۶۔ نورِ ہدایت کا "اسپارک" (Spark)
اس دل کو اللہ کے نور (ہدایت) سے روشن کرنے کے لیے علم و حکمت کے سنہری اقوال کو پوری توجہ اور سمجھنے کے ارادے سے پڑھنا اور اس مشق کو بار بار دہرانا ضروری ہے۔ اسی کے ذریعے ہم ان اصولوں اور قوانین کو سمجھ سکتے ہیں جن پر نہ صرف ہمارے بدن (ہارڈ ویئر) بلکہ کائنات کے نظام کا سافٹ ویئر چل رہا ہے۔ وہ علم ہے: اللہ کی کتاب اور نبی آخر الزماں ﷺ کی سنت کو جاننا اور اس پر عمل کرنا۔ یہی وہ عمل ہے جو قلب کے اندر اللہ کے نور کا "اسپارک" پیدا کرتا ہے جو پورے وجود کو روشن کر دیتا ہے۔

۷۔ انرجی سورس سے ربط اور سگنل سسٹم (Indicators)
دل میں ہدایت کا یہ نور تب ہی قائم رہ سکتا ہے جب تک اس کا اپنے "اصل ماخذ" (Energy Source) سے رابطہ رہے۔ اللہ نے ہدایت کو "نور" کہہ کر یہی قانون واضح کیا ہے کہ جب تک بلب پاور ہاؤس سے جڑا رہے گا، روشنی رہے گی، اور جیسے ہی ربط ختم ہوگا، اندھیرا چھا جائے گا۔
دل اس ربط کے درجے کو خوب جانتا ہے اور انسان کو خبردار بھی کرتا رہتا ہے۔ ہمیں اپنے دل، دماغ اور شعور کے باہمی ربط سے یہ یقینی بنانا ہے کہ جیسے ہی روشنی مدہم ہو اور "ییلو سگنل" (زرد لائٹ) جلے، تو فوراً اپنی مشقوں اور استغفار کو تیز کر دیں تاکہ دل کو دوبارہ خطرہ لاحق نہ ہو۔ اس کے انڈیکیٹر کو کبھی "ریڈ لائٹ" (سرخ روشنی) تک نہیں جانے دینا چاہیے، اور یہی انسان کی دنیا و آخرت کی کامیاب زندگی کی ضمانت ہے۔ یہ سرخ لائٹ تب جلتی ہے جب ہم اللہ کے احکامات اور حدود کو توڑتے ہیں۔


۸۔ انٹرن شپ اور کمپاتیبلٹی (Compatibility) کا فلٹر
اللہ کے احکامات پر چلنا ہماری سوچ کے زاویے کے تحت آسان یا مشکل بنتا ہے۔ جب تک ہم ان احکامات کی حکمت کو اپنی ذات اور معاشرے کے لیے فائدہ مند سمجھتے رہیں گے، یہ آسان رہیں گے، اور جیسے ہی غفلت آئے گی، یہ مشکل لگنے لگیں گے۔
اس کی آسان سی مشق یہ یاددہانی ہے کہ اس دنیا میں اللہ نے ہمیں اپنا خلیفہ بنا کر ایک "انٹرن شپ" (Internship) پر بھیجا ہے۔ ہم نے یہاں اچھے طریقے سے تیاری کر کے، اس ابدی زندگی کے ماحول کے مطابق اپنے اندر کمپاتیبلٹی (ہم آہنگی) پیدا کرنی ہے، تاکہ ہمارا یہ وجود وہاں کی شاندار اور بے مثال سہولتوں کے موافق بن کر قبولیت پا سکے۔ اگر ہمارا ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر وہاں کے فلٹر پر پورا نہ اترا، تو ہمیشہ کا خسارہ ہے۔
یہی وہ راز ہے جس کی طرف اللہ نے اشارہ فرمایا کہ جو میرے پاس "قلبِ سلیم" لے کر آئے گا، دائمی نعمتوں کے باغات اور محلات اسی کے لیے سجے ہیں۔ مگر اس الٰہی فلٹر سے گزرنے کے لیے پاسپورٹ صرف ایک ہی ہے... اور وہ ہے "قلبِ سلیم"۔

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین