سوچ کی غذا

ہفتہ، 20 جون، 2026

ایک اللہ، ایک رسول، ایک کتاب... پھر اتنی تقسیم کیوں؟


  "صرف مسلمان" ہونے کی طرف ایک دعوت

اللہ ایک ہے، رسول ایک ہیں، قرآن ایک ہے، قبلہ ایک ہے، کلمہ ایک ہے اور امت بھی ایک ہے، پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سی چیز ہے جس نے اس ایک امت کو اتنے حصوں میں تقسیم کر دیا کہ آج مسلمان اپنے سے زیادہ اپنے مسلکی نام سے پہچانا جاتا ہے؟

یہ سوال صرف ایک علمی سوال نہیں بلکہ امت کے مستقبل کا سوال ہے۔

 اختلاف: ایک فطری حقیقت

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اختلاف کوئی حادثہ نہیں بلکہ انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ قرآن بھی انسانوں کے درمیان فکری تنوع کی حقیقت کو بیان کرتا ہے اور اسلامی تاریخ بھی اس کی گواہ ہے۔

صحابہ کرامؓ کے درمیان بھی فقہی مسائل میں اختلافات موجود تھے۔ بعد میں امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے درمیان بھی بہت سے مسائل میں مختلف آراء تھیں، مگر ان اختلافات نے ان کی محبت، احترام اور امت کی وحدت کو نقصان نہیں پہنچایا۔

کیوں؟

اس لیے کہ ان کے نزدیک اختلاف رائے تھا، اختلافِ دین نہیں۔


 اختلاف کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟

قرآن اور سنت کی تعبیر میں فرق، عربی زبان کی وسعت، مختلف احادیث تک رسائی، اجتہاد کے مختلف اصول اور مختلف معاشرتی حالات ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے فقہی آراء میں فرق پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔

یہ اختلافات دراصل امت کے لیے آسانی اور وسعت کا ذریعہ تھے تاکہ مختلف حالات میں رہنے والے مسلمان دین پر بہتر انداز میں عمل کر سکیں۔

اگر نیت اللہ کی رضا ہو تو فروعی اختلاف نہ ایمان کو نقصان پہنچاتا ہے اور نہ ہی اجر و ثواب کو۔

 پھر مسئلہ کہاں پیدا ہوا؟

اصل مسئلہ اختلاف نہیں بلکہ اختلاف پر رویہ ہے۔

جب کوئی شخص یا گروہ اپنی رائے کو صرف ایک اجتہادی رائے سمجھنے کے بجائے "عین اسلام" قرار دے دیتا ہے تو وہاں سے فرقہ واریت کا آغاز ہوتا ہے۔

"حق صرف میرے پاس ہے" کی نفسیات مکالمے کو ختم کر دیتی ہے اور اس کی جگہ تکفیر، بدعت اور گمراہی کے فتوے لے لیتے ہیں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس اختلاف کو علمی مجلسوں تک محدود رہنا چاہیے تھا، وہ معاشرے میں نفرت اور تقسیم کا سبب بن جاتا ہے۔


 "صرف مسلمان" بننا اتنا مشکل کیوں ہو گیا؟

آج اگر کوئی شخص صرف یہ کہے کہ "میں مسلمان ہوں"، تو فوراً اس سے پوچھا جاتا ہے:

"لیکن کس مسلک سے تعلق رکھتے ہو؟"

گویا مسلمان ہونا کافی نہیں رہا بلکہ کسی نہ کسی گروہ کی شناخت ضروری سمجھی جانے لگی ہے۔

مساجد، مدارس، سماجی تعلقات اور مذہبی اجتماعات اس حد تک مسلکی شناختوں میں تقسیم ہو چکے ہیں کہ ایک عام مسلمان خود کو کسی نہ کسی خانے میں رکھنے پر مجبور محسوس کرتا ہے۔

یہ ایک مذہبی مسئلہ کم اور شناخت (Identity) کا مسئلہ زیادہ بن چکا ہے۔

 تقسیم کیوں بڑھتی جا رہی ہے؟

اس کی کئی وجوہات ہیں۔

کچھ جگہ علمی غرور، کچھ جگہ شخصی انا، کچھ جگہ ادارہ جاتی مفادات، کچھ جگہ سیاسی ضرورتیں اور بعض اوقات بیرونی قوتوں کے مفادات بھی اس تقسیم کو مزید گہرا کرتے ہیں۔

عوام کی اکثریت دین سے محبت رکھتی ہے لیکن گہرے علمی مطالعے سے دور ہوتی ہے، اس لیے جذبات کو آسانی سے مسلکی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

خوف پیدا کیا جاتا ہے کہ اگر تم نے دوسرے گروہ کی بات سنی تو ایمان خطرے میں پڑ جائے گا۔

اس خوف کی سیاست نے مکالمے کی جگہ دفاعی ذہنیت کو جنم دیا ہے۔

 کیا اختلاف ختم کیا جا سکتا ہے؟

شاید نہیں۔

اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔

اختلاف علم کی زندگی کی علامت ہے۔

اصل ضرورت فرقہ واریت کے خاتمے کی ہے۔

ہمیں اختلاف کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے امت کی وحدت کو مقدم رکھنا ہوگا۔

ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ایک مسلمان مجھ سے مختلف رائے رکھنے کے باوجود میرا بھائی ہو سکتا ہے۔

ایک نئی سوچ: "صرف مسلمان"

آج شاید امت کو ایک خاموش مگر مخلصانہ سماجی تحریک کی ضرورت ہے جس کا تعارف صرف اتنا ہو:

"الحمد للہ، میں مسلمان ہوں۔"

ایسی تحریک جو کسی نئے فرقے کی بنیاد نہ رکھے بلکہ فرقوں سے اوپر اٹھ کر مشترک بنیادوں کو زندہ کرے۔

اس خواب کو عملی شکل کیسے دی جا سکتی ہے؟

سب سے پہلے ہمیں اپنی زبان بدلنی ہوگی۔

جب کوئی مسلک پوچھے تو ہم احترام کے ساتھ کہیں:

"میری شناخت اسلام ہے، میں تمام اہلِ ایمان کا احترام کرتا ہوں۔"

دوسرا، ہمیں ہر اس مسجد میں نماز پڑھنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا جہاں اللہ کی عبادت ہوتی ہے، چاہے وہاں آمین بلند کہی جائے یا آہستہ، ہاتھ باندھے جائیں یا چھوڑے جائیں۔

تیسرا، ہمیں تکفیر کے کلچر کے مقابلے میں "حقِ اختلاف" کو فروغ دینا ہوگا۔

اگر کوئی کسی مسلمان پر کفر یا گمراہی کا فتویٰ لگائے تو ہم ادب سے یہ کہہ سکیں:

"میں آپ کی علمی رائے کا احترام کرتا ہوں، لیکن کسی مسلمان کی مسلمانیت کا فیصلہ صرف اختلافِ رائے کی بنیاد پر قبول نہیں کرتا۔"

چوتھا، ہمیں پوری فقہی اور علمی روایت کو امت کا مشترکہ سرمایہ سمجھنا ہوگا۔

امام ابو حنیفہؒ بھی ہمارے ہیں، امام جعفر صادقؒ بھی ہمارے ہیں، امام مالکؒ بھی ہمارے ہیں، امام شافعیؒ بھی ہمارے ہیں اور امام احمد بن حنبلؒ بھی ہمارے ہیں۔

یہ سب امت کی مشترکہ علمی میراث ہیں، کسی ایک گروہ کی جاگیر نہیں۔

نئی نسل کے لئے ایک محفوظ راستہ

آج ہزاروں نوجوان فرقہ واریت سے بیزار ہیں۔

اگر انہیں "صرف مسلمان" رہنے کا باعزت اور علمی آپشن نہ ملا تو وہ یا تو دین سے دور ہو جائیں گے یا کسی نئے گروہ کا حصہ بن جائیں گے۔

اس لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا، علمی نشستوں، تعلیمی اداروں اور سماجی پلیٹ فارموں پر ایسے حلقے قائم کیے جائیں جہاں پہچان صرف ایک ہو:

"ہم سب محمد ﷺ کے امتی ہیں۔"

اختتامیہ

شاید امت کو آج کسی نئے فرقے کی نہیں بلکہ ایک پرانی شناخت کی ضرورت ہے۔

وہ شناخت جسے قرآن نے عطا کیا:

**"هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِينَ"**

اختلاف باقی رہے، تحقیق باقی رہے، اجتہاد باقی رہے، مکالمہ باقی رہے، مگر نفرت ختم ہو، تکفیر ختم ہو اور مسلمان ایک دوسرے کے لیے رحمت بن جائیں۔

اگر ہم اپنے مسلکی ناموں سے پہلے "مسلمان" ہونے پر فخر کرنا سیکھ جائیں تو شاید امت کی بہت سی دیواریں خود بخود گر جائیں۔

یہ کسی نئے نظریے کی دعوت نہیں بلکہ پہلے والے مسلمان کی طرف واپسی کی دعوت ہے؛ ایسے مسلمان کی، جس کی پہچان فرقہ نہیں بلکہ ایمان، اخلاق، علم، مکالمہ اور انسانیت سے محبت ہو۔

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین