سوشل میڈیا آج کے دور میں معاشرتی اور سیاسی رجحانات کا عکاس بن چکا ہے۔ گزشتہ روز انٹرنیٹ پر حالاتِ حاضرہ کا جائزہ لیتے ہوئے میری نظروں سے دو مختلف ویڈیوز گزریں، جنہوں نے مجھے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ہماری اخلاقی و سیاسی حالتِ زار پر غور کرنے پر مجبور کر دیا۔
پہلا کلپ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا تھا، جہاں ان کی روایتی تفخرانہ ہنسی کے پیچھے چھپی بے عزتی، مایوسی اور بے بسی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ یہ اس وقت کا منظر تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی کی تعریف میں چند کلمات کہنے کے فوراً بعد اپنے مخصوص کاٹ دار اور سنجیدہ مزاحیہ انداز میں انہیں "کلر" (قاتل) کہہ دیا۔ مودی کے چہرے کے تاثرات دیدنی تھے، انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس اچانک ہزیمت پر کیا ردعمل دیں۔ ٹرمپ کا یہ اندازِ کلام مشہور ہے کہ وہ انتہائی سنجیدہ معاملات کو بھی طنز کے پیرائے میں کہہ جاتے ہیں، اور وہاں مودی کے اختیار میں کچھ نہیں تھا سوائے اس کے کہ وہ اس تذلیل کو خاموشی سے ہضم کرتے۔
دوسرا کلپ ہمارے اپنے ملک کی سینیٹ کا تھا، جو دل کو دہلا دینے والا اور ہمیں آئینہ دکھانے والا تھا۔ اس کلپ میں ایک غیر مسلم (ہندو) سینیٹر، دنیش کمار، مسلمانوں کی اکثریتی سینیٹ کو اخلاقیات اور اسلام کا درس دے رہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے چند سال پرانا ایک واقعہ یاد آ گیا جب ایک ہندو دکاندار نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں—جہاں مسلمان تاجر اس بابرکت مہینے کو سال بھر کی کمائی (اور ناجائز منافع خوری) کا ذریعہ سمجھ کر عوام پر کمر توڑ مہنگائی مسلط کرتے ہیں—اشیائے خوردونوش کے نرخ کم کر کے مسلمانوں کو خودداری اور انسانیت کا عملی درس دیا تھا۔
آج کلمہ طیبہ کے نام پر معرضِ وجود میں آنے والے پاکستان کے تقریباً **79 سال** بعد، ایک غیر مسلم سینیٹر نے انتہائی مودبانہ انداز میں قرآنِ پاک کی **سورہ البقرہ** کی وہ آیات تلاوت کیں جن میں سود کے معاملے پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کی وعید سنائی گئی ہے:
> **فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ**
> *"تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو۔"* (سورہ البقرہ: 279)
وہ سینیٹر مسلمانوں کو بتا رہا تھا کہ حقیقی عزت کیا ہوتی ہے اور یہ کتابِ الٰہی پر عمل کرنے سے کیسے حاصل کی جاتی ہے۔
حیرت اور افسوس کا مقام تو یہ تھا کہ ایوان میں موجود ایک صاحب نے اس گہرے فکری سوال پر غور کرنے کے بجائے، سینیٹر دنیش کمار کو وہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا شروع کر دی۔ سینیٹر کے قرآن پڑھنے پر انہیں داد دینے یا ان کے سوال کا جواب دینے کے بجائے، اسلام کی قبولیت کا لقمہ دینا غیر سنجیدگی کی انتہا ہے۔ ایسے سطحی سوچ کے مالک افراد کا ایوانِ بالا (سینیٹ) میں پہنچ جانا ہی ہماری مجموعی قومی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ جب سیاسی فیصلے ضد، نوازشات، برادری ازم اور ذاتی تعلقات کی بنیاد پر ہوں گے، تو ایوانوں سے ایسی ہی غیر سنجیدگی برآمد ہوگی۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل کرنا صرف دوسروں کی ذمہ داری ہے اور دوسروں سے زبردستی عمل کروانا ہمارا حق ہے۔ سینیٹر دنیش کمار نے اس ذہنیت کا انتہائی خوبصورت اور منطقی جواب دیا کہ: **"پہلے آپ مسلمان خود تو اس کتاب پر عمل کر لیں، پھر میں بھی مسلمان ہو جاؤں گا۔"**
آج سود کے اس بھیانک نظام میں ہماری کون سی سیاسی جماعت، کون سا ادارہ یا کون سا مقتدر شہری خود کو بری الذمہ قرار دے سکتا ہے؟ خاص طور پر وہ سیاسی جماعتیں جو دہائیوں سے اقتدار میں رہی ہیں اور وہ خاندان جو حکومت کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔
ہماری اپوزیشن کا شیوہ تو ہمیشہ سے ڈھٹائی کے ساتھ 'تنقید برائے تنقید' کرنا رہا ہے، لیکن حیرت حکومت کے رویے پر ہے جس نے اس سنگین سوال کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ملک کی 97 فیصد مسلم آبادی کی نمائندہ پارلیمان میں ایک غیر مسلم رکنِ اسمبلی سوال اٹھا رہا تھا، تو حکومت کو تحمل، جامعیت اور معلومات پر مبنی منطقی انداز میں جواب دینا چاہیے تھا۔ انہیں بتانا چاہیے تھا کہ ریاست کی وہ کیا مجبوریاں اور عالمی جکڑ بندیاں ہیں جن کی وجہ سے وہ اب تک اس سودی نظام سے چھٹکارا نہیں پا سکے۔ انہیں بتانا چاہیے تھا کہ وفاقِ شرعی عدالت کا فیصلہ آ چکا ہے، قانون سازی ہو رہی ہے اور مرحلہ وار اس پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے، اور ماضی کے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری ریاست کی قانونی مجبوری ہے۔
پوری دنیا اس ایوان کی کارروائی دیکھ رہی تھی، لیکن ہم نے اس سنجیدہ بحث کو بھی سوشل میڈیا پر 'لائیکس' اور 'ویوز' بٹورنے کا ذریعہ بنا لیا۔ اس کلپ پر لاکھوں ویوز اور عوامی کمنٹس پڑھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ ہم صرف جذباتی نعروں کے اسیر ہیں، یہی وجہ ہے کہ ملک میں کوئی مثبت تبدیلی رونما نہیں ہو پا رہی۔
جب ہم مجموعی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں تو تاریخ ہی نہیں، بلکہ ہمارا موجودہ کردار ہماری شعوری ناانصافیوں پر مہر ثبت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف ملک کا عام شہری اور عام سرکاری ملازم مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے، تو دوسری طرف مبینہ طور پر فروری 2025 میں پارلیمنٹ نے اراکینِ اسمبلی (MNAs اور Senators) کی بنیادی ماہانہ تنخواہوں میں تقریباً 300 فیصد تک کا ہوشربا اضافہ کر کے اسے 1 لاکھ 80 ہزار سے براہِ راست 5 لاکھ 19 ہزار روپے کر دیا۔ صرف یہی نہیں، بلکہ جون 2025 میں اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی بنیادی تنخواہ کو بھی بڑھا کر 13 لاکھ روپے ماہانہ کر دیا گیا۔ قانون سازوں کی ان مراعات کے ساتھ ساتھ پارلیمان اور پی ایم سیکریٹریٹ کے ملازمین کے لیے بجٹ سے ہٹ کر 100 فیصد تک سیشن الاؤنس، پروٹوکول الاؤنس اور بھاری یوٹیلیٹی الاؤنسز کی منظوری دی گئی، جس نے عام وفاقی ملازمین اور ان مخصوص اداروں کے ملازمین کے درمیان تفاوت (Disparity) کی ایک گہری خلیج پیدا کر دی اور مظلوم ملازمین سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہو گئے۔
اسی کے برابر میں دوسری خبر یہ تھی کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے ملازمین کے یوٹیلٹی الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ اب انصاف کی مسند پر بیٹھی ان عالی جاہ شخصیات سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں:
سرکاری ذرائع کے مطابق، 50؍ سے زائد وفاقی اداروں کے ملازمین کو بنیادی تنخواہ کے 100؍ فیصد سے بھی زائد اضافی مراعات کے ساتھ زیادہ تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔ تنخواہوں کے ڈھانچے سے وا،قف حکام کے مطابق، بعض صورتوں میں مجموعی تنخواہیں عام سرکاری محکموں میں اِسی گریڈ کے افسران کے مقابلے میں دو سے تین گنا تک زیادہ ہیں۔ تاہم اس فہرست کو نمایاں بنانے والی بات صرف اداروں کی تعداد نہیں بلکہ ان کی نوعیت بھی ہے۔ ان میں صدر سیکریٹریٹ، وزیر اعظم آفس، قومی اسمبلی سیکریٹریٹ، سینیٹ سیکریٹریٹ، تمام اعلیٰ عدالتیں، قومی احتساب بیورو، انٹیلی جنس ادارے، ٹیکس حکام اور مختلف خصوصی ٹربیونلز اور عدالتوں کے ملازمین شامل ہیں۔ یہ ادارے جو اکثر مساوی حقوق کی بات کرتے ہیں، پالیسیاں اور قوانین بناتے ہیں اور انصاف، احتساب اور مساوی سلوک سے متعلق تنازعات کا فیصلہ کرتے ہیں، مگر خود ان میں تنخواہوں کا ایک ایسا نظام ہے جسے کئی سرکاری ملازمین غیر مساوی کہتے ہیں۔
ایک اسلامی جمہوری ریاست کے اندر وہ سوال کرنے میں بجا ہیں کہ ادارے کیا وہ ملکی حالات اور سرکاری ملازمتوں میں برابری کے قانون کا بھرم رکھ رہے ہیں؟
تنخواہوں میں اس یوٹیلٹی الاؤنس کی بنیاد کیا ہے؟ یہ مخصوص محکموں کو ہی کیوں ملتا ہے؟
جب ملک سود پر لیے گئے قرضوں پر چل رہا ہو، تو اپنے پسندیدہ ملازمین اور مقتدر طبقات کو اس طرح نوازنے کے بارے میں اسلامی تعلیمات کیا کہتی ہیں؟
جس ملک کے آئین کے دیباچے (قراردادِ مقاصد) میں واضح لکھا ہو کہ یہاں کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بن سکتا، وہاں کے ججز اپنے ہی قلم سے اپنی اور اپنے ملازمین کی تنخواہیں جتنی چاہیں بڑھا لیتے ہیں، جبکہ ان کی مراعات پورے ملک میں سب سے زیادہ ہیں۔
جس ملک کی قانون ساز اسمبلیوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انصاف مہیا کرنے والے ایوانوں کا یہ حال ہو کہ وہ اپنے لاڈلوں کو نوازنے میں ناانصافی کی کوئی کسر نہ چھوڑیں، تو پھر ایسے ملکوں میں حکمرانوں کو "تاجِ سردارا" پہنائے نہیں جاتے، بلکہ تاج اچھالے جاتے ہیں۔ حکمرانی اور سرداری کا تاج تو صرف اس وقت سجتا ہے جب درویشی، عدل اور بے غرضی کا نظام قائم ہو۔ بقول علامہ اقبال:
ہوئے مٹی کے زادے خرم فرنگی کے داس
علم و دین باختہ، تدبیر و سیاست سب مات
اگر ہم نے اب بھی اپنے نظامِ عدل، معیشت اور اخلاقیات کی اصلاح نہ کی، تو تاریخ کا جبر ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔
