سوچ کی غذا

منگل، 21 جولائی، 2026

مولانا فضل الرحمٰن کس کی نمائندگی کر رہے ہیں؟


 معذرت کے ساتھ، مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست کچھ عرصے سے شدید تضادات کا شکار نظر آ رہی ہے۔ ان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال اور حالیہ اندازِ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عوامی پذیرائی کو برقرار رکھنے کے لیے نئے سہاروں کی تلاش میں ہیں۔

اگرچہ اس جمود کا آغاز پی ٹی آئی کے ساتھ ان کے غیر مستحکم اتحاد اور نظریاتی لچک سے ہی ہو گیا تھا، تاہم انہوں نے ایک عرصے تک اپنے روایتی فنِ خطابت کے بل بوتے پر معاملہ سنبھالے رکھا۔ لیکن اب ان کے حالیہ عوامی اجتماعات کے خطابات، الفاظ کا انتخاب اور جذبات کا اظہار نہ صرف قومی سطح پر شدید تنقید کی زد میں آ رہا ہے، بلکہ ان کی اپنی اندرونی سیاسی بے چینی اور اضطراب کو بھی واضح کر رہا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا اپنے مخصوص مکتبہ فکر کے واحد اور مضبوط ترین سیاسی سہارا ہیں، لیکن ماضی میں دیگر مکتبہ فکر اور آزاد حلقوں سے انہیں جو وسیع حمائت حاصل ہوتی تھی، وہ اب ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

مولانا کی ایک پہچان یہ بھی تھی کہ وہ ایک جمہوریت پسند عالمِ دین ہیں، مگر پی ٹی آئی کے ساتھ ان کی مسلسل قربت، دوری، شدید تنقید اور پھر تذبذب نے ان کی سیاست کو جمہوری ہچکولوں کا شکار کر دیا ہے۔ اس غیر مستحکم رویے سے ان کا وہ ووٹ بینک ہل کر رہ گیا ہے جو خالصتاً نظریاتی بنیادوں پر قائم تھا۔ پی ٹی آئی سے کچھ حاصل ہونے کے بجائے، اب صورتِ حال یہ نظر آتی ہے کہ وہ محض اپنی ڈوبتی سیاست بچانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

پنجاب میں ان کی خالص مذہبی و نظریاتی ساکھ کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب انہوں نے حکومت کی جانب سے ائمہ مساجد کے لیے مختص کیے گئے وظائف کی مخالفت کی۔ اس سے ان پر یہ حقیقت واضح ہو جانی چاہیے تھی کہ مذہبی حلقوں کے لیے مادی وسائل محض ان کی اجارہ داری نہیں بلکہ سب کی ضرورت ہیں، اور اس معاملے پر ردِعمل کھل کر سامنے آ چکا ہے۔

مولانا کا حالیہ کارگل سے متعلق بیان ان کے سیاسی بیانیے کو مزید کمزور کرتا ہے۔ اس حوالے سے صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ ان کا دعویٰ تو پاکستان کے حساس ترین اداروں کی معلومات سے بھی آگے نظر آتا ہے، جو خود بخود ان کے ذرائع کے قابلِ اعتماد ہونے اور ان کے سیاسی مقاصد پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

اسی طرح "میرے شہید اور تیرے شہید" کا تنازع کھڑا کرنا انتہائی پست سیاست کا مظہر ہے۔ یہ طرزِ عمل مولانا کے دیرینہ سیاسی قد کاٹھ سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔ خود کو قرآن و سنت کا طالب علم کہنے والے رہنما کی جانب سے پاک فوج کی شہادتوں پر طعنہ زنی کرنا اور اسے اپنی سیاست کے لیے استعمال کرنا شدید بے بسی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ وہ نقطہ ہے جس نے ان کی سیاسی تاریخ اور ساکھ کو گہرا نقصان پہنچایا ہے۔

کارگل پر بات کرتے ہوئے مولانا کو یہ بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے تھا کہ اس دور کی اسٹیبلشمنٹ اور آج کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ موجودہ دور کے سیاسی و انتظامی حقائق ماضی سے بالکل مختلف ہیں—خواہ وہ جیلوں کی صورتِ حال ہو یا مریدکے کا آپریشن—یہ تمام واقعات گہرے اسباق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ مولانا کا یہ گلہ کہ انہیں اب وہ "سہولت" میسر نہیں جو ماضی میں تھی، بذاتِ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ ڈھانچہ اپنے فیصلے بدل چکا ہے۔

اگر مولانا اپنی کھوئی ہوئی پذیرائی واپس حاصل کرنے کے لیے جارحانہ بیانیہ اپنا رہے ہیں، تو شاید انہیں عارضی فائدہ پہنچے—جیسا کہ عمران خان کو ہوا—لیکن اس کی سیاسی قیمت انتہائی بااثر اور مہنگی ہو سکتی ہے، جس کا نظارہ عمران خان کے موجودہ حالات سے کیا جا سکتا ہے۔

تاہم، اگر مولانا کا خیال ہے کہ وہ اس بیانیے سے عمران خان کے مقبول ووٹ بینک میں نقب لگا لیں گے، تو یہ ممکن نہیں۔ اس کی ایک کوشش پچھلے عام انتخابات میں بلاول بھٹو بھی کر چکے ہیں لیکن بری طرح ناکام رہے۔ اس وقت پنجاب میں عوامی پذیرائی کو کارکردگی سے جوڑنے کا کام مریم نواز کر رہی ہیں، جہاں جذبات کے بجائے صنفِ نازک اور نوجوانوں کے لیے عملی اقدامات کو بنیاد بنایا جا رہا ہے۔ اس عملی سیاست نے مذہبی و جذباتی بیانیوں کی گونج کو کافی حد تک سرد خانے میں دھکیل دیا ہے۔

دوسری جانب، وزیر اعظم نے مولانا کے حوالے سے باتوں کو "سینے میں راز رکھ کر قبر میں لے جانے" کا ذکر کر کے گو کہ تمام پردے نہیں اٹھائے، لیکن ان باتوں کو اب راز بھی نہیں رہنے دیا۔ انہوں نے سیاسی برتری قائم کرتے ہوئے مولانا کی ساکھ پر بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اب یہ مولانا کی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری ہے کہ اگر وہ واقعی خود کو عوامی نمائندہ سمجھتے ہیں تو ان رازوں سے قوم کو آگاہ کریں۔

مزید برآں، مولانا طاہر اشرفی کی جانب سے ان رازوں کو عام کرنے کے لیے مناظرے کے چیلنج نے معاملے کو اور زیادہ حساس بنا دیا ہے۔ اب ان تماماشاروں کو سمجھنا اور ان کا جواب دینا مولانا کی سیاسی بصیرت پر منحصر ہے۔

مجموعی صورتِ حال کو دیکھا جائے تو مولانا کی موجودہ حکمتِ عملی ان کے طویل سیاسی سفر کے اختتام کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ اگر انہوں نے اپنے بیانیے اور رویے پر ازسرِ نو غور نہ کیا اور باوقار ریٹائرمنٹ کا راستہ نہ چنا، تو عوامی ردِعمل اور بدلتے سیاسی حالات انہیں زبردستی سیاست کے دھارے سے باہر کرنے پر مجبور کر دیں گے۔


ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین