جمہوریت کی کوئی ایک حتمی یا جامد تعریف نہیں ہے۔ جیسے جیسے دنیا میں علم، حکمت اور تجربات وسعت اختیار کر رہے ہیں، ویسے ویسے جمہوریت بھی انسانی فلاح کی خاطر خود کو قائم رکھنے اور بہتری کی طرف لے جانے کی تگ و دو میں ہے۔ ماضی میں جس طرزِ حکمرانی پر تنقید کی جاتی تھی، آج عالمی سطح پر وہی ماڈلز اپنے شاندار نتائج کی بنا پر داد و تحسین سمیٹ رہے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں لکیر کے فقیر سیاست دان اور عوام ایک خاص روایتی نظام کے اس حد تک عادی ہو چکے ہیں کہ اسے ہی نجات اور عبادت کا واحد حل سمجھ بیٹھے ہیں۔ وہ اس نظام کی بار بار ناکامیوں کے باوجود اس کے سحر سے آزاد نہیں ہو پا رہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ جدید دور میں صرف "عددی اکثریت" کا وزن ختم ہو چکا ہے اور عوامی فلاح (Public Welfare) ہی جمہوریت کی حقیقی روح بن چکی ہے۔
اس کی بہترین مثال چین (China) کا عوامی فلاح پر مبنی سیاسی ماڈل ہے، جس کی کارکردگی اور نتائج کی تعریف اب روایتی مغربی جمہوریت کے چیمپئن بھی کرنے پر مجبور ہیں۔
پچھلے کئی سالوں کی سیاست کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ غیر شعوری سوچ اور جتھہ کلچر نے ملک کو یرغمال بنائے رکھا:
عوامی مینڈیٹ اور حقِ اظہار کا غلط استعمال: کبھی مینڈیٹ کی آڑ میں ہٹ دھرمی کو جمہوریت کہا گیا، تو کبھی آئین و قانون بنانے کو سیاسی انتقام اور ذاتی مفادات کا ذریعہ بنایا گیا۔
نام نہاد جمہوریت کا خول: انسانی حقوق اور آئینی حکمرانی کے ڈھنڈورے کی آڑ میں عوام کو مسلسل بے وقوف بنایا جا رہا ہے، جس کا نتیجہ صرف سیاسی انتقام اور قومی تنزلی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
مقبولیت کا مغالطہ: غیر شعوری اور جذباتی مقبولیت خود کو ہی سچی جمہوریت اور آزادیِ اظہار کی واحد دعویدار سمجھنے کی بھول کر رہی ہے۔
یہی رویہ ہم نے مذہب کے نام پر بھی دیکھا۔ آئین میں قرآن و سنت کو کسوٹی بنانے کی آڑ میں مسلک اور فرقہ واریت کو ہوائی دی گئی۔
ہر گروہ اپنی سوچ کو دوسروں پر مسلط کرنے کو "جہاد" اور زورِ زبردستی کو اپنا آئینی و جمہوری حق سمجھتا ہے۔
اس سوچ کا نتیجہ یہ نکلا کہ صرف ایک مکتبہ فکر میں بیسیوں فرقے وجود میں آ گئے۔
بعد میں انہی فرقہ وارانہ تجربات کو سیاست میں آزما کر مختلف نظریات کو قرآن و سنت کا واحد حل بنا کر پیش کیا گیا، جس نے قوم کو فکری بھول بھلیوں میں دھکیل دیا۔
ملک کو درپیش تضادات کا تسلسل
ہمارے ملک کا المیہ یہ رہا ہے کہ:
1. طاقت کا خوف: ملکی تاریخ میں طاقت کا خوف جمہوریت پر مسلط رہا، مارشل لا آتے رہے اور سیاست دان و عدالتیں ان کی توثیق کرتی رہیں۔
2. مفاد پرستی کا سحر: عوام مفاد پرستوں کی چمک دمک سے مرعوب ہو کر بار بار اپنی قسمت انہی کے ہاتھوں میں سونپتے رہے۔
3. مذہبی اتھارٹی کا جاگیردارانہ استعمال:طلسماتی ملاں اپنی خواہشات کے لیے عوام کی سوچ کو مفلوج کر کے اقتدار اور طاقت کے مزے لوٹتے رہے۔
ان تمام حالات کا تقاضا ہے کہ ہم غیر شعوری اکثریت کے بجائے "شعوری سوچ" کو جمہوریت کی بنیاد اور طاقت بنائیں، جس کا محور و مرکز صرف اور صرف عوامی فلاح ہو۔
اگر ہم نے اب بھی نظام کو نہ بدلا اور غیر شعوری سوچ کے ہاتھوں یرغمال اس کاپی جمہوریت پر وقت اور صلاحیتیں ضائع کرتے رہے، تو ہم جمہوریت کے دھوکے میں اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی تباہ کر دیں گے۔
حرفِ آخر: جمہوریت صرف وہی کامیاب ہوتی ہے جہاں اعلیٰ اخلاقیات، قومی سوچ اور سیاسی شعور ہو۔ ہمیں روایتی گنتی کے نظام سے نکل کر انہی اعلیٰ قدروں کو اپنی جمہوریت کا اصل اثاثہ اور بنیاد بنانا ہوگا۔
