سوچ کی غذا

جمعرات، 16 اپریل، 2026

پاکستان امن مذاکرات میں ثالثی نہیں بلکہ امن کی تاریخ رقم کر رہا ہے

 پاکستان نے حالیہ امن مذاکرات کو محض ثالثی کے طور پر نہیں بلکہ ایک نئے عالمی امن بیانیے کے آغاز کے طور پر آگے بڑھایا ہے۔ ان مذاکرات کا انعقاد غیر مشروط تھا، جس کا بنیادی مقصد دنیا میں امن کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے—ایک ایسا مقصد جسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ خاص طور پر امریکی وفد کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے پاکستان کے کردار کا اعتراف اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

پاکستان اس عالمی پذیرائی کو نہ صرف دنیا میں امن اور تحفظ کے احساس کے فروغ کے لیے استعمال کر رہا ہے بلکہ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہے کہ بروقت اور درست فیصلوں کے ذریعے عالمی معاملات کا رخ کس طرح مثبت سمت میں موڑا جا سکتا ہے۔ عالمی دانشور بھی اس امر کا اعتراف کر رہے ہیں کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے کردار میں سامنے آ رہا ہے جو کسی حد تک اقوام متحدہ کی نمائندگی کرتا دکھائی دیتا ہے—جو بلاشبہ ایک غیر معمولی سفارتی کامیابی ہے۔

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین