جبر جب عہد، اصول اور اصلاح پر ہوں تو معاشرہ بنتا ہے وگرنہ تباہ ہو جاتا ہے۔
ہمیشہ جبر کی بنیاد کسی نہ کسی عہد پر استوار ہوتی ہے۔ درحقیقت زندگی خود خالق اور مخلوق کے درمیان ایک عہد کا نام ہے۔ اسی عہد پر قائم جبر جب نظم و ترتیب اختیار کرتا ہے تو ضابطہ بن جاتا ہے، اور یہی ضابطہ زندگی کو سمت دیتا ہے۔
اگر زندگی سے ضابطہ نکال دیا جائے تو وہ بے مقصد ہو کر رہ جاتی ہے، کیونکہ کامیاب زندگی کی اصل بنیاد اس کا واضح مقصد ہوتا ہے۔ جبر، اگرچہ بظاہر سختی کا پہلو رکھتا ہے، مگر بغیر کسی مضبوطی کے وہ اپنی حیثیت کھو دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جبر کی متعین حدود و قیود ہی دراصل آزادی کو جنم دیتی ہیں۔ جب حدود ختم ہو جائیں تو آزادی، آزادی نہیں رہتی بلکہ انارکی میں بدل جاتی ہے۔ ایک صحت مند معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ آزادی کو اصلاح، حقِ اختلاف، انصاف، احساسِ تحفظ اور برابری جیسے اوصاف سے مزین کیا جائے اور اسے شعور کے ساتھ جوڑا جائے۔ تبھی مہذب معاشروں کی تشکیل ممکن ہوتی ہے۔
جبر اگر اصولوں پر قائم ہو اور اس میں قانون کی بالادستی اور برابری شامل ہو تو وہ انصاف کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ لیکن یہی جبر اگر اصلاح کی نیت سے خالی ہو جائے اور اختلاف کے حق کو دبا دیا جائے تو وہ ظلم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
ایسا جبر اگر خاموشی سے قبول کر لیا جائے تو غلامی بن جاتا ہے، اور اگر اس کے خلاف شعوری مزاحمت کی جائے تو وہی عمل جہاد کا روپ دھار لیتا ہے۔
