مذہبی حلقوں کے اختلافات کو علمی تقاضوں کا پابند بنانا ہوگا۔ علمی اختلافات کو فرقہ واریت کی حد تک لے جانا ہماری معاشرت میں بگاڑ کا باعث بن رہا ہے۔ اس کا سدباب صرف حکومت کی ذمہ داری ہی نہیں، بلکہ جس طرح آئین و قانون کی پاسداری اور لوگوں کے جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے، اسی طرح شہریوں کے نظریات کی حفاظت بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انسانی حقوق کے تحت مذہب کی آزادی ہر شہری کا حق ہے، مگر کسی کو اپنے نظریات کی بنیاد پر دوسرے کے نظریات پر قدغن لگانے کا حق نہیں ہے۔ لہٰذا کسی کو دوسرے کے مذہب کی توہین نہیں کرنی چاہیے، اور یہ اصول ہر شخص پر لاگو ہوتا ہے، خواہ اس کا تعلق اکثریت سے ہو یا اقلیت سے۔
آج کل علمی اختلافات کی بنیاد پر مسلک وجود پا رہے ہیں اور ان کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ اختلافات خالص علمی نوعیت کے نہیں رہے، بلکہ شوقِ انفرادیت اور خواہشات کی تسکین کے لیے تنظیم سازیوں کا عمل جاری ہے۔ اس سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ گویا اسلام کی تعلیمات میں احکامات واضح نہیں اور ان میں شکوک و شبہات کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔
ایک وقت تھا جب "شیعہ سنی بھائی بھائی اور تیجی قوم کس نے بنائی" کے نعرے ہمارے معاشرے میں گونجا کرتے تھے۔ شيعه اور سنیوں میں زیادہ اختلافات نہیں تھے، مگر اب تو مسلکوں کے اندر ظاہری علمی اختلافات کی بنیاد پر اتنے فرقے وجود پا چکے ہیں کہ ان کا شمار بھی ممکن نہیں۔
میری عمر ترپن (53) سال ہے اور میں نے آج تک اپنے کانوں سے کسی بھی فرقے سے تعلق رکھنے والے شخص کو وہ سب کچھ کہتے ہوئے نہیں سنا، جس کا حوالہ دے کر کفر کے فتوے جاری کیے جاتے ہیں۔ بلکہ میرا خیال ہے کہ ان مولویوں سے بھی حلفاً پوچھ لیا جائے تو وہ محض تقریر اور سنے سنائے قصوں کے سوا کوئی حقیقت پیش نہیں کر سکتے۔ شاید ہی انھیں زندگی میں کوئی ایسا شخص ملا ہو جس نے اپنی زبان سے یہ باتیں کہی ہوں۔ اتنا کہنے یا لکھنے والوں نے خود نہیں لکھا، جتنا اس کے خلاف پروپیگنڈا میں سب کچھ کر دیا گیا ہے اور عوام کی سوچوں اور یقینوں میں نفرت کی آگ بھڑکا دی گئی ہے۔
کبھی کبھی تو شرمندگی سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ جس طرح سے ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہوئے امہات المومنین اور اہل بیت کو برا بھلا کہنے یا لغویات کی داستانیں سنائی جاتی ہیں، یہ کتنا ناپختہ اور غیر سنجیدہ عمل ہے۔ یوں سمجھیے کہ اگر کوئی آپ کو یا آپ کی ماہ بہن کو گالی دے، یا اس نے کہیں لکھ دیا ہو، اور آپ خاموش بیٹھے رہیں بلکہ خود ہی چوک چوراہوں اور محفلوں میں یہ مشہور کریں کہ اس نے مجھے گالیاں دی ہیں، تو آپ خود اپنی بدنامی اور رسوائی کا شور برپا کر رہے ہوں
برائی نے بری سوچوں کی بنیاد بھی رکھی ہوگی مگر اس کا حل نفرت اور فساد نہیں بلکہ اس کا مقابلہ اب برداشت اور دلیل کی طاقت سے کرنے کا ماحول بنانا ہوگا۔ انسانوں کے اندر دین سے محبت کی نفسیات کو بُری سوچوں پر غالب لا کر اصلاح کے عمل کو شروع کرنا ہوگا۔
علمی اختلافات کو علمی تقاضوں کا پابند بنا کر ان کی حدود متعین کرنا ہوگی، تاکہ یہ اختلافات اپنی خوبصورتی اور حسن نہ کھونے پائیں۔ اگر ہم نے اسی طرح بے لگام آزادی دے دی تو حالات کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ اس معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے علماء کرام کو خود نوٹس لینا چاہیے۔ وفاق المدارس کی سطح پر اس پر تحقیق کا عمل شروع کراتے ہوئے علمی اختلافات کے لیے کوئی نظام اور ضابطہ بنایا جانا چاہیے۔ حکومت نے اس بارے علماء کا کنونشن بھی بلایا ہے اور امن کمیٹی بھی بنائی ہے، مگر اتنا کافی نہیں۔ بلکہ اس بارے ان کی رہنمائی اور تکنیکی سہولیات کا کوئی میکانزم بناتے ہوئے کسی مذہبی حکومتی اتھارٹی کے کردار کو بھی شامل کیا جانا چاہیے، جو ان حلقوں کو اخلاقی طور پر احساس دلانے کے ساتھ ساتھ کوئی عملی روڈ میپ بھی دے تاکہ وہ وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس معاملے کو بروقت اصلاح کی طرف لے جائیں۔
ان اختلافات کی بنیاد پر وجود میں آنے والی تمام گروہ بندیوں کے اعداد و شمار اکٹھے کر کے ان کی بنیادی وجوہات پر تحقیق کی جائے۔ عام لوگوں کے درمیان ان اختلافات پر بحث کے ماحول کو ختم کرنے اور اختلافات کو کسی منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے علماء کا ایک بورڈ تشکیل دیا جانا چاہیے جو ان کے اختلافات سن کر مفاہمت کا ماحول پیدا کرنے میں معاونت کرے۔ پہلے یہ سلسلہ تمام مسالک کے موجودہ علیحدہ علیحدہ وفاق کے اندر ہونا چاہیے، پھر اسی تجربے کی بنیاد پر مسالک کے درمیان بھی اختلافات کم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
اس اہم ذمہ داری کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل یا وزارت مذہبی امور کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے، جو ہمارے ملک میں موجود تمام مسالک کا حسین امتزاج ہیں۔ ان کا باہمی ماحول اس عظیم مقصد کے آغاز کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔
مدارس کے نصاب میں بھی علمی اختلافات کی علمی حدود، تقاضوں اور ان کے حساس پہلوؤں کو اجاگر کرنے والے ابواب شامل کیے جانے چاہئیں۔ فرقہ واریت کے بارے میں پاکستان میں موجود قوانین سے بھی انہیں آگاہ کیا جائے تاکہ وہ قانونی پہلوؤں سے بھی واقف ہوں اور مستقبل کو ان خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے ماحول پیدا کرنے کے لیے حکومت کو علماء کے وفود کو بین الاقوامی سطح پر بین المذاہب کانفرنسوں، سیمینارز اور تحقیقی پروگراموں میں شرکت کے لیے بھیجنا چاہیے۔ یا پھر اسلامی نظریاتی کونسل کے علماء کو بھیجا جائے، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آن لائن ایسے ذرائع تک رسائی دے کر اس دائرے کو پورے ملک کے علماء تک وسیع کیا جائے۔ اس سے ان کی سوچ کی حدود کو عالمی سطح تک لے جانے میں مدد ملے گی اور انہیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ غیر مسلموں کے ان کے بارے میں کیا تاثرات ہیں، انہیں اسلام کے بارے میں کیا غلط فہمیاں ہیں، اور ان کی انتہاپسندی کے خیالات کی وجوہات کیا ہیں؟ کہیں یہ وجوہات ہم مسلمانوں کے آپس کے علمی اختلافات، رویوں اور معاملات تو نہیں بن رہے؟
جب انہیں تقابلی ادیان کو پڑھنے اور جاننے کا موقع ملے گا تو ان کی سوچ کا زاویہ بدلے گا اور وہ آپس کے اختلافات پر اپنی توانائیاں ضائع کرنے کی بجائے دوسرے مذاہب کے ساتھ اختلافات، ان سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں اور انسانیت میں دوریوں کی عالمگیریت کو سمجھنے میں آسانی محسوس کریں گے۔ ان کی دینی کوششوں میں کفر، شرک اور بدعت پر زور دینے کے بجائے اسلام کے اس پہلو کی طرف رجحان بڑھے گا جو انسانیت کو مخاطب کرتا ہے۔ جب وہ غیر مسلموں کے سامنے مسلمانوں اور اسلامی تعلیمات سے متعلق سوالوں کا مقابلہ کریں گے تو انہیں اپنی علمی استعداد کی حقیقت کا اندازہ ہوگا، اور عصرِ حاضر میں اسلام کی اشاعت کی ضروریات اور اس کی ترویج کے تقاضے بھی سمجھ میں آئیں گے۔
بلکہ اب تو معاملہ اس سے بھی آگے نکل چکا ہے اور ملحدین کی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بھی مذہبی لوگ ہی ہیں، جنہوں نے غلط تشریحات، اختلافات، تفرقہ بازی، اور دین و سیاست (یا دین و دنیا) میں فرق کی بنیاد پر معاشرے میں ایسی ثقافت کو جنم دیا جس نے سیاست کو مذہب سے الگ کر دیا۔ نتیجتاً ریاستوں کے انتظامات، مذہبی نظریات سے دور ہونے کی وجہ سے قوانین و ضوابط میں آسمانی کتب کی تعلیمات، اعلیٰ اخلاقیات، اور مذہبی نظریات پر مبنی معاشرتی تربیت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں ہم جنس پرستی جیسی بداخلاقیاں، جنہیں طبی سائنس سے لے کر دنیا کے تمام مذاہب میں سختی سے ممانعت ہے اور جو غیر فطری ہیں، قوانین کے سہارے عام ہونے لگی ہیں۔
جب مذہبی لوگ اکٹھے ہوں گے تو ان کی توجہ فروعی اختلافات سے ہٹ کر ایسے معاشرتی مسائل کی طرف مبذول ہوگی۔ ان میں خدا کے وجود سے انکار کرنے والوں اور غیر فطری عادات سے نجات دلانے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا رجحان بڑھے گا۔ مذاہب کی اصل بنیاد ہی خدا کا وجود ہے۔ جب انسان خدا کے وجود سے ہی انکاری ہوگا تو مذاہب کا تصور کیسے کر سکتا ہے؟ جب تمام مذاہب کے اسکالرز مل کر عقلی، سائنسی اور فطری دلائل سے خدا کے وجود سے انکار کرنے والوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، تو پھر ان میں مذاہب کو جاننے کا شوق پیدا ہوگا۔ وہ خود اپنی مذہبی آزادی کے حق کا استعمال کرتے ہوئے اپنے لیے صحیح مذہب کا چناؤ کر لیں گے، بلکہ مختلف مذاہب کے علماء کی علمی تحقیقات کو سہارا بنا کر اس کائنات کی حقیقت اور خدائی علم کے خزانوں تک رسائی حاصل کر لیں گے۔
