سوچ کی غذا

اتوار، 10 مئی، 2026

سفرِ خودی: بندگی سے مقامِ احسان تک

معراجِ خودی: بندگیِ احسان سے خُلّتِ الٰہی تک
اللہ تعالیٰ خودی کی تعریف اپنے محبوب پیغمبر ابراہیمؑ کا ذکر کرتے ہوئے سکھاتے ہیں کہ وہ احسان کے درجے پر پہنچ گئے۔احسان کا درجہ وہ ہے جب انسان اپنی عبادت کا مرکز غرض کی بجائے شکر کو بنا لے اور عاجزی اسے فلسفہِ حقِ عبادت تک پہنچا دے۔ اس کے دل کی اس خالص کیفیت کو اللہ پہچان لیتا ہے اور اسے اپنا قرب عطا فرماتا ہے
وَمَنۡ اَحۡسَنُ دِيۡنًا مِّمَّنۡ اَسۡلَمَ وَجۡهَهٗ لِلّٰهِ وَهُوَ مُحۡسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّةَ اِبۡرٰهِيۡمَ حَنِيۡفًا​ ؕ وَاتَّخَذَ اللّٰهُ اِبۡرٰهِيۡمَ خَلِيۡلًا‏
"اور اس سے بہتر دین کس کا ہوگا جس نے اپنا چہرہ اللہ کے سامنے جھکا دیا اور احسان کے درجے تک پہنچ گیا اور اللہ نے تو ابراہیم کو اپنا دوست بنا لیا تھا"۔ (النساء: 125)
خودی کا سفر اسی وقت شروع ہوتا ہے جب انسان کی بندگی "رسم" کے بوجھ سے آزاد ہو کر "احسان" کے جمال میں ڈھل جاتی ہے۔ احسان وہ مقام ہے جہاں عبادت مشقت نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی دلربا مشق بن جاتی ہے گویا بندہ اپنے رب کے روبرو کھڑا ہے۔ یہ احساس کہ "میں اپنے محبوب کے احاطہِ نظر میں ہوں"، انسان کی خودی کو وہ جلا بخشتا ہے کہ وہ دنیا کے تمام عارضی سہاروں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔
جب بندگی میں احسان کا یہ رنگ شامل ہوتا ہے، تو مومن اپنی حوالگی کے عوض کسی صلے کا مطالبہ نہیں کرتا۔ وہ خود کو اللہ کے حوالے کر کے اس کے رنگ میں رنگا جاتا ہے، جیسا کہ قرآن نے فرمایا:
صِبْغَةَ اللَّهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً
"اللہ کا رنگ اختیار کرو، اور اللہ کے رنگ سے بہتر اور کس کا رنگ ہو سکتا ہے؟" (البقرہ: 138)
یہ رنگ اسے دنیا کے ہر عارضی خوف اور غرض سے آزاد کر دیتا ہے۔ اس کی سپردگی اتنی بے غرض ہوتی ہے کہ وہ صرف اپنے رب کی خوشنودی میں سکون پاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ اور بندے کے درمیان سے تمام تکلفات اٹھ جاتے ہیں۔ بندہ جب اپنی مرضی کو اللہ کی رضا میں فنا کر دیتا ہے، تو اللہ اسے اپنا "خلیل" (دوست) بنا لیتا ہے۔ بقولِ اقبال:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اللہ کی طرف سے یہ بے تکلف محبت کہ وہ اپنے بندے کو عذاب سے بچانے کے بہانے ڈھونڈتا ہے، دراصل مومن کے لیے اس انعام کی نوید ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ اللہ تو خود بندے سے اس محبت کی انتہا کا اظہار کرتے ہوئے فرماتا ہے:
مَّا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ
"اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بنو اور ایمان لے آؤ؟" (النساء: 147)
یہی وہ عباد الرحمن کی منزل ہے جہاں انسان مٹی کا ڈھیر نہیں رہتا، بلکہ اللہ کا ایسا شاہکار بن جاتا ہے جس پر فرشتے بھی رشک کرتے ہیں۔ اس کی زندگی پھر ایک ایسا صدقہ جاریہ بن جاتی ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے رحمت اور ہدایت کا استعارہ بنی رہتی ہے۔
تاہم، جو شخص اس شاہراہِ حق سے خود کو علیحدہ کر لیتا ہے، اللہ کا قانونِ مکافات اسے اسی کی پسندیدہ گمراہی میں بھٹکنے دیتا ہے۔ امام راغب اصفہانی کے مطابق 'ضلال' کا ایک مفہوم کسی چیز کا ضائع ہو جانا یا اس کا نشان مٹ جانا بھی ہے۔ چنانچہ قرآن فرماتا ہے:
وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ سَبِيۡلًا‏"اور جسے اللہ (اس کے اپنے انتخاب کے نتیجے میں ہدایت سے) علیحدہ کر دے (یا بھلا دے)، تو تم اس کے لیے ہدایت کی کوئی راہ ہرگز نہ پاؤ گے"۔ (النساء: 143)

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین