سوچ کی غذا

بدھ، 13 مئی، 2026

محرکہ حق: عالمی اہمیت اور ہندوستان کے لئے خوشی کا مقام۔

اپنی دفاعی صالاحیتوں پر اعتماد، بلا خوف قیادت، مضبوط ایمان، یکجہتی اور اللہ پر توکل ہی قوموں کے لئے نا قابل تسخیر مقام کی ضمانت ہوتا ہے۔ 

محرکہ حق صرف پاکستان کے لئے ہی خوشی کی بات نہیں بلکہ ہندوستان کے لئے اس سے بھی بڑھ کر خوشی کا معاملہ ہے جس پر اسے خوشیاں منانا چاہیں کہ اس کو معافی مل گئی۔ اس نے امریکہ کی سفارش پر پاکستان کے غضب سے نجات پائی۔

یہ غضب ہندوستان کا اپنے دفاعی گھمنڈ میں اپنے لئے پیدا کردہ تھا وہ شائد کسی غلط فہمی میں تھا اور پاکستان پر رعب جما کر ایشیاء میں اپنی دھاک بٹھانا چاہتا تھا مگر وہ اپنی تاریخ بھول چکا تھا یا پاکستان کی تاریخ بھول چکا تھا جو حیران کن بات ہی نہیں بلکہ سبق آموز بھی ہے۔

مگر اس سے بھی بڑھ کر حیران کن بات تو یہ ہے کہ وہ اب بھی اپنی خفت مٹانے کے لئے پاکستان کو پراکسی وار میں دھکیلنا چاہتا ہے جو اس کے ماضی کی احسان فراموشیوں کی داستان کی عکاس ہے جس کو اب دنیا بشمول امریکہ، ایران ، بنگلہ دیش، روس، چائنہ اور سعودی عرب سب سمجھ چکے ہیں مگر اس کو ابھی بھی شائد یہ غلط فہمی ہے کہ اپنی چالاکیوں سے وہ عالمی سفارت کاری میں جگہ بنائے رکھے گا جو اب نا ممکن بن چکا ہے۔

کیونکہ اب منافقت کا دور رہا نہیں بلکہ دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اس کی گنجائش چھوڑی نہیں اور اب اگر کسی نے سفارت کاری میں مکام پیدا کرنا ہے تو صرف امن، راست بازی کی تجارت اور باہمی تعلقات کی ضرورتوں پر۔ اور ہمسائیہ ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھے بغیر یہ سب کچھ ممکن نہیں۔

یہی پاکستان پچھلی آٹھ دہائیوں سے ہندوستان کو احساس دلاتا آ رہا ہے مگر وہ ہمیشہ پاکستان کو ہمسائیگی میں تنہا کرنے کی پالیسی پر چلتا رہا اور وہ سمجھتا تھا کہ اب پاکستان عالمی سطح پر تعلقات کھو چکا ہے اور اس نے ہر طرف اپنا اثر رسوخ قائم کر لیا ہے مگر اس کو معلوم نہیں تھا کہ اخلاص اور جرآت کا کوئی نعمل بدل نہیں ہوتا۔

پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی نے اسے پوری دنیا میں طاقت کی متھ سے لے کر تجارت کی دوغلی پالیسیوں تک بے نکاب کر دیا اور  پاکستان ہر آئے روز سفارتی، دفاعی اور تجارتی میدان میں مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔

اس کو نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا پاکستان کی بہادری کے کیوں گیت گا رہی ہے۔ اس کے آٹھ جہاز گرانا بھی کوئی معمولی معرکہ نہیں اور اس پر بہارت کی خاموشی اس سے بھی بڑی حقیقت ہے جو دنیا کو یہ باور کر ورا رہی ہے کہ پاکستان اور بہارت کا دفاعی سطح پر وسائل کا بہت بڑا فرق ہونے کے با وجود کو ئی مقابلہ نہیں اور اس کی گواہیاں بہارت کے اندر سے چیخ چیخ کر دنیا کو یقین دلانے پر مجبور کر رہی ہیں۔

مگر غیر معمولی بات جس پر دنیا پاکستان کی بہادری پر محو حیرت ہے وہ پاکستان کا امریکہ کی ایک کال پر بہارت کو معاف کر دینا ہے جو ایک خاموش پیغام ہے دنیا کو پاکستان کی اپنی دفاعی صلاحیتوں پر اعتماد کی اور بہارت کو اپنے مقابل کوئی خاص اہمیت نہ دینے کا۔ دنیا جو بہارت کے ساتھ تجارتی تعلقات سے لے کر دفاؑی معاہدوں تک رکھتی تھی حتیٰ کہ اسلامی دنیا بھی پاکستان سے زیادہ بہارت کی طرف جھکاؤ رکھتی تھی کو اب  اپنی سوچوں کے زاویے بدلنے پڑ رہے ہیں۔

اس کی بنیاد پاکستان کا وہ اعتماد ہی ہے جو دنیا پر نفسیاتی دباؤ بن کر ابھرا ہے کہ اس طرح سے کسی چھوٹے سے ملک جو وسائل کے اعتبار سے بہت کم ہو اپنے سے کئی درجہ بڑے وسائل اور ٹیکنالوجی کے حامل ملک کو نہ صرف ناکوں چنے چبوا دیئے بلکہ جب وہ سب کچھ اس کا تباہ کر کے اسے صدیوں پیچھے دھکیلنے کا جواز اور صلاحیت بھی رکھتا تھا تو امریکہ کی مداخلت پر فوراً بغیر کسی ضمانت کے مانگے یوں چھوڑ دیتا ہے جیسے اس کے نزدیک طاقت اور جنگ کا کھیل کوئی بچوں کا کھیل ہو

یہی وہ بنیادی نقطہ ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان کی موجودہ قیادت فیلڈ مارشل اور شہبا شریف  کو اپنی پسندیدہ شخصیت اور بہادری کا خطاب دینے پر مجبور کرتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت کا پاکستان پر اس وقت اعتماد کوئی معمولی بات نہیں لیکن پاکستان کی امن کے لئے کوششیں بھی کوئی معمولی بات نہیں۔

دنیا کو اب پاکستان کی امن کی کوششوں کی سمجھ آنا شروع ہوئی ہے کہ پاکستان یہ سب کچھ جنگ کے خوف سے نہیں بلکہ امن کی اہمیت کے پیش نظر اپنی دور اندیشی اور حکمت و دانائی پر مبنی سوچوں کی حامل پالیسیوں کے تحت کرتا تھا اور اب بھی کوشاں ہے۔

یہ نہیں پاکستان کو اب مسائل کا سامنا نہیں مگر پاکستان کی خندہ پیشانی، تحمل اور اعتماد کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتے ہوئے امن کے پیغام کے لئے کوشاں رہنا دنیا کے لئے حیران کن ہے۔ اور دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ اب اگر جنگ بندی ناکام ہوتی ہے تو یہ پاکستان کی اکیلے کی نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کی ناکامی ہوگی۔

اور پاکستان کے اس امن کے مشن میں کامیابی اس لئے یقینی ہے کہ اس میں پاکستان کے ذاتی مفادات سے بھی بڑھ کر دنیا کی تجارت اور بقاء کے مفادات وابسطہ ہیں۔ اور پاکستان عالمی مسائل سے دوچار انسانیت کی فلاح کے لئے کوشاں ہے۔ اور سب سے بڑھ کہ یہ کہ پاکستان کو اس پر فخر ہے تو وہ اس بنیاد پر کہ ہذا من فضل ربی۔

یہی وہ راز ہے جو پاکستان کو ہر محرکے میں سرخرو کروا رہا ہے اور اس وقت پاکستان کو دنیا کی عالمی طاقتوں کا وہ اعتماد اور خوشگوار تعلقات کا مقام حاصل ہے کہ اب دنیا کے فیصلوں میں پاکستان ایک صف اول کا کردار اور صاحب رائے بن کر ابھرا ہے۔   

پاکستان کو دنیا میں دفاعی طور پر ناقابل تسخیر صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ دنیا کی تجارت کے لئے ایک پر اعتماد اور جغرافیائی طور پر فائدہ مند پارٹنر کے طور پر دیکھاجا رہا ہے۔ 

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین