یہ دو کلمے ایسے ہیں جن کے ساتھ کائنات کے مالک کے حتمی مابعد الطبیعاتی وعدے وابستہ ہیں۔ پہلا کلمہ 'استغفراللہ' ہے اور دوسرا کلمہ 'الحمدللہ'۔
'الحمدللہ' اللہ رب العزت کی وہ جامع تعریف ہے جس سے سورہ الفاتحہ کی ابتدا ہوتی ہے۔ کائنات کے خالق نے اپنے بندے کو دعا مانگنے اور خود سے ہم کلام ہونے کے جو آداب سکھائے ہیں، اس کا نقطہ آغاز یہی کلمہ ہے۔ جب انسان دل کی گہرائیوں سے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کی صفتِ وہابیت (بے حساب عطا کرنا) حرکت میں آتی ہے۔ الہامی قانون یہ ہے کہ جب بندہ شکر کی فریکوئنسی پر آتا ہے، تو عرشِ الٰہی سے یہ مابعد الطبیعاتی اعلان ہوتا ہے کہ "میرا بندہ جو مانگتا ہے، اسے عطا کر دیا جائے"۔ جب کائناتی نظام کا سافٹ ویئر اس طرح ردِعمل دے، تو تقدیر کے بدل جانے میں بھلا کیا تعجب باقی رہ جاتا ہے؟
اللہ کا قطعی اور غیر متبدل وعدہ ہے:
لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ > "اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں یقیناً اور زیادہ دوں گا۔" (سورہ ابراہیم: 7)
شکر گزاری کے مابعد الطبیعاتی عمل کو متحرک کرنے کے لیے 'الحمدللہ' سے بہتر اور کوئی کلمہ نہیں ہے۔ جب بندہ اس الٰہی وعدے کو حرکت میں لا کر اس سے مستفید ہونے لگتا ہے، تو کائنات کی کوئی رکاوٹ اللہ کے فضل اور اس کے قانونِ عطا کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی۔
انسان کو زندگی میں جو کچھ بھی مطلوب ہو، اسے اپنے لوحِ بصر (Visualization) میں لا کر، پورے دھیان اور کامل یقین کے ساتھ جب وہ یہ کلمہ پڑھتا ہے، تو اس کی منشا اور خواہش کا پورا ہونا یقینی ٹھہر جاتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تصور، دھیان اور یقین—ان تینوں ذہنی اور روحانی کیفیات کا حل بھی اسی کلمے کی تکرار کے اندر موجود ہے۔ جب انسان کثرت کے ساتھ اس کلمے کا ورد کرتا ہے، تو اس کا فوکس (Focus) گہرا ہونے لگتا ہے، دماغ کی صوتی لہریں یکسو ہوتی ہیں اور یہ تینوں کیفیات اپنے کمال کو پہنچنا شروع ہو جاتی ہیں۔ تاہم، شرط یہ ہے کہ انسان اپنی شعوری توجہ کے ساتھ اس کے لیے ارادی کوشش (Conscious Effort) ضرور کرے۔
ان تینوں کے کمال کا ثبوت خود قرآنِ پاک کا یہ آفاقی اصول ہے کہ اللہ کسی کی کوشش کو ضائع نہیں کرتا:
وَأَن لَّیْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى "اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں مگر وہی جس کی اس نے کوشش کی۔" (سورہ النجم: 39)
کائناتی قانون یہ ہے کہ اللہ اپنے بارے میں بندے کے گمان کو پورا کرتا ہے، جیسا کہ حدیثِ قدسی ہے: "انا عند ظن عبدی بی" (میں اپنے بندے کے گمان کے قریب ہوں)۔ اور یقین کا مرتبۂ کمال اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ اللہ نے جب انسان کی تخلیق ہی 'اشرف المخلوقات' کے طور پر کی ہے، تو جب وہ اپنے خالق کا شکر ادا کرنا شروع کرتا ہے، تو اس کا اپنی ذات اور کائناتی نظام پر یقین پختہ سے پختہ تر ہونے لگتا ہے۔
دنیا میں انسان کی مادی، نفسیاتی اور روحانی ضرورتوں کا ایک دائرہ ہے؛ صحت، رزق، عبادت کی توفیق، فرمانبردار اولاد، عزت، شہرت اور اعلیٰ مرتبے کی خواہش۔ جو بھی انسان ان مقاصد کو اپنے تصور میں لا کر پورے دھیان اور یقین کے ساتھ مانگے گا، تو اس کلمے کے ردِعمل میں قبولیت کو پہلے سے 'لازم و ملازم' کر دیا گیا ہے۔ یہ طبیعیات (Physics) کے قانونِ حرکت (Newton's Third Law) اور کوانٹم اینٹینگلمنٹ (Quantum Entanglement) کا ایک مابعد الطبیعاتی رخ ہے، جہاں دل سے نکلنے والی نیت کی لہریں (Intentional Waves) مادے کو متاثر کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی صفات کے وہ تمام قوانین حرکت میں آتے ہیں اور تقدیر کی تبدیلی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
انسان کی سب سے پہلی اور بنیادی ضرورت اس کی مادی و نفسیاتی صحت ہے۔ اس صحت کا دارومدار بھی دراصل کائنات کے اسی عظیم 'قانونِ توازن' پر ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورہِ رحمٰن میں فرمایا ہے۔ جب کائناتی ہارمونی (Cosmic Harmony) کے تناظر میں الٰہی احکامات گونجتے ہیں:
أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ "کہ تم میزان (توازن) میں سرکشی نہ کرو۔ اور انصاف کے ساتھ ٹھیک وزن قائم کرو اور میزان کو کم نہ کرو۔" (سورہ الرحمٰن: 8-9)
تو یہ قانون صرف مادی ترازو کے لیے نہیں، بلکہ انسانی وجود کے اندرونی نظام (Internal Homeostasis) کے لیے بھی ایک حتمی مابعد الطبیعاتی فارمولا بن جاتا ہے۔ انسان کا جسم، اس کی سوچ، اس کے جذبات اور اس کا پورا ہالہ (Aura) ایک مخصوص اعتدال اور وزن پر تخلیق کیا گیا ہے۔ جب انسان دھیان اور یقین سے خالی ہو کر کائناتی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو یہ توازن بگڑ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں جسمانی بیماریاں، نفسیاتی خلفشار (Psychological Disorders) اور جادو یا حسد جیسی مابعد الطبیعاتی ابنارملٹیز (Metaphysical Abnormalities) انسان کے وجود پر اثر انداز ہونے لگتی ہیں۔
جادو یا نفسیاتی بیماری دراصل انسانی توانائی کے اسی الٰہی وزن اور توازن کا بگڑ جانا (State of Entropy) ہے۔ ایسے میں جب بندہ 'الحمدللہ' اور 'استغفراللہ' کے کلماتِ مبارکہ کے ذریعے کائنات کے اصل فریکوئنسی کوڈز (Frequency Codes) کو متحرک کرتا ہے، تو بگڑی ہوئی لہریں اور بیمار خلیات دوبارہ اپنے اصل مرکز اور فطری صحت کے وزن پر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ الٰہی قانونِ میزان کے متحرک ہوتے ہی، وجود کی تمام ابنارملٹیز کا اپنی اصل صحت اور درستگی پر آنا الہیاتی اور سائنسی طور پر لازم ٹھہر جاتا ہے، کیونکہ کائنات کی کوئی بھی فریکوئنسی اللہ کے قائم کردہ میزانِ عدل کو شکست نہیں دے سکتی۔
تقدیر دراصل انسان کے متعلق اس دنیا میں ہونے والے معاملات کا وقوع پذیر ہونا ہے، جس کے متعلق اللہ نے واضح طور پر فرما دیا ہے کہ کائناتی نظام میں کوئی خرابی یا ناانصافی نہیں، بلکہ انسان خود ہی اپنے غلط فیصلوں، منفی افکار اور کج روی سے اپنی جان پر ظلم ڈھاتا اور کائناتی فریکوئنسی سے دور ہوتا ہے۔ قرآنِ پاک اس حقیقت کو یوں آشکار کرتا ہے:
وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ "اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔" (سورہ النحل: 118)
لیکن جب بندہ ہوش میں آتا ہے اور اللہ سے اپنے ان ظلموں، کوتاہیوں اور انرجی کے منفی بہاؤ پر 'استغفار' کرتا ہے، تو کائنات کا غفور و رحیم ہونا حرکت میں آتا ہے۔ قرآنِ پاک میں استغفار کی مادی اور معاشی طاقت کا تذکرہ کرتے ہوئے سورہ نوح میں واضح قانون بیان کیا گیا ہے:
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا "میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے، وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا، اور تمہارے مال اور اولاد میں اضافہ فرمائے گا اور تمہارے لیے باغات اگائے گا اور تمہارے لیے نہریں بہا دے گا۔" (سورہ نوح: 10-12)
یہ الٰہی قانون کا وہ حصہ ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ استغفار صرف گناہوں کی معافی نہیں، بلکہ رزق، مال اور فرمانبردار اولاد کی کثرت کا سائنسی ذریعہ بھی ہے۔ جب بندہ ندامت کے ساتھ استغفار کرتا ہے، تو اس کی دعاؤں میں کائناتی اثرات (Resonance) پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور وہ 'مستجاب الدعا' کے کمال کو چھونے لگتا ہے۔ اس کے بعد، جب 'الحمدللہ' کا کلمہ اس کے ساتھ ملتا ہے، تو یہ سونے پر سہاگہ کے طور پر اس کی تقدیر کے دھاگے اس کے اپنے دھیان اور نیت سے جوڑ دیتا ہے، اور وہ جس نیت سے بھی یہ کلمات ادا کرے، اس کی ضرورت و خواہش کی تکمیل اس کا مقدر ٹھہرتی ہے۔
آج کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور ٹیکنالوجی کے دور میں، تصور، نیت یا الفاظ کے اس اثر کو تعجب کی بات سمجھنا نادانی ہے۔ آج ہر انسان کے ہاتھ میں موجود موبائل فون اور روبوٹک سائنس اس بات کی مادی دلیل ہیں کہ زبان سے نکلنے والے کلمات اور لہریں قبولیت اور اثر کا مقام رکھتے ہیں۔ اگر انسان کی آواز پر موبائل میں موجود الگورتھم اور پروگرام متحرک ہو کر اس کے حکم کی تعمیل کر سکتے ہیں، تو پھر اللہ تعالیٰ—جو اس کائنات کا مطلق خالق اور لامتناہی انٹیلیجنس (Infinite Intelligence) کا منبع ہے—اس کے بنائے ہوئے صوتی اور روحانی قوانین پر دنیا کا ذرہ ذرہ کیسے ردِعمل نہیں دے گا؟
فلسفہِ سائنس کا جدید نظریہ 'پین سائیکزم' (Panpsychism) بھی یہی کہتا ہے کہ مادہ بے جان نہیں، بلکہ اس میں ایک بنیادی شعور پایا جاتا ہے۔ جب کائنات کا ذرہ ذرہ شعور رکھتا ہے، تو وہ اپنے خالق کے قوانین اور انسان کی یکسوئی سے پیدا ہونے والی صوتی توانائی (Sound Energy) کے حکم کو بجا لانے میں کیسے کوتاہی یا غفلت کر سکتا ہے؟ اللہ نے خود کائنات کا یہ عظیم راز اپنے کلام میں فاش کر دیا ہے:
...وَإِن مِّن شَیْءٍ إِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِیحَهُمْ... "اور کائنات میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں پاتے۔" (سورہ الاسراء: 44)
ثابت ہوا کہ 'استغفراللہ' اور 'الحمدللہ' محض روایتی الفاظ نہیں، بلکہ کائنات کے الٰہیاتی سافٹ ویئر کو کمانڈ دینے کے وہ دو عظیم ترین کلمات ہیں، جو اگر پورے دھیان، یقین اور صحیح فریکوئنسی کے ساتھ ادا کیے جائیں، تو مادی دنیا کا ذرہ ذرہ ان کے آگے سرِتسلیم خم کر دیتا ہے اور تقدیر بدل جاتی ہے۔
