سوچ کی غذا

بدھ، 10 جون، 2026

داستانِ آدم: احسان، لغزش اور سجدۂ شکر

کائنات کے مینوفیکچرنگ ڈیزائن پر غور کرنے والے جب الہامی کتب اور سائنسی علوم کا گہرا مطالعہ کرتے ہیں، تو وہ اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتے کہ خالقِ کائنات نے انسان کو جابجا اپنی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت دی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اصرار کے پیچھے کون سا راز پوشیدہ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی انسان اپنے مادی یا علمی کمال کو پہنچ کر تکبر کی حدوں کو چھونے لگتا ہے، تو الہامی حکمت اسے اس کی اصل کمزوریوں اور حقیر آغاز کی طرف لوٹا دیتی ہے تاکہ وہ جان لے کہ کمال اس کا نہیں، بلکہ اس کے رب کا فضل ہے۔

۱۔ انسان کا خمیر: نسیان اور اُنس کی آویزش

لغوی اور مابعد الطبیعاتی اعتبار سے لفظ "انسان" کے خمیر میں دو متضاد مادی صفات یکجا ہیں۔ اول "نسیان" یعنی بھول جانا، اور دوم "اُنس" یعنی محبت و لگاؤ۔

انسان بنیادی طور پر نسیان کا پتلا ہے؛ وہ اپنی اوقات، اپنی حیثیت اور یہاں تک کہ عہدِ الست کو بھی بھول بیٹھتا ہے۔ اسی لیے اسے بار بار یاد دہانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن اس نسیان کا علاج خالق نے خوف یا وحشت میں نہیں، بلکہ "اُنس" میں رکھا ہے۔ انسان جب اپنے رب اور اس کی مخلوق سے محبت اور انس کا تعلق قائم کرتا ہے، تو اس کا نسیان خود بخود الٰہی احسانات کی یاد دہانی میں بدل جاتا ہے۔ یہی وہ صوفیانہ اور نفسیاتی اساس ہے جو انسان کو تکبر کے زہر سے بچا کر عاجزی کے مصلے پر کھڑا کرتی ہے۔

۲۔ ممنوعہ شجر: جبلت اور شعور کی کشمکش

انسانی تاریخ کی پہلی لغزش، یعنی سیدنا آدم علیہ السلام کا شجرِ ممنوعہ کے قریب جانا، دراصل انسانی جبلت (Instinct) کا اس کے شعور اور علم (Consciousness) پر حاوی ہو جانے کا پہلا تجربہ تھا۔ اللہ نے انسان کو خلافت، علم اور فضل سے نواز کر ایک خاص مقام دیا تھا، لیکن جبلت کی اس ایک لغزش نے انسان کو اس کی مٹی کی حقیقت اور حیاتیاتی کمزوری کا آئینہ دکھا دیا۔

اگر انسان کی تخلیق کے ظاہری پہلوؤں پر غور کریں تو یہ سارا عمل انسان کے اپنے ہی ایسے عمل کا نتیجہ ہے جسے چھپا کر یا پردے میں کیا جاتا ہے، اور جن اعضاء کا استعمال ہوتا ہے، انسانی فطرت اور حیاء کے نزدیک انہیں بھی پردے میں رکھنا ہی مقصود ہے۔ انسان کی تخلیق کا یہ پورا عمل، جس کا محرک اس کی بیالوجیکل ضروریات کے ہاتھوں ایک مجبوری کا عمل تھا، انسان کی آنکھوں کے سامنے مکمل ہوا اور جو پردے کے پیچھے تھا، اسے بھی واضح کر دیا گیا۔ اس پوری داستان میں کہیں بھی انسان کا اپنا کمال دکھائی نہیں دیتا، بلکہ یہ اس کی جبلت کی ایک ایسی لغزش سے تعبیر ہوتا ہے جس نے اسے آزمائش میں ڈال دیا۔

۳۔ فضلِ بلا استحقاق اور تکبر کا رد

سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ انسان کو کبھی تخلیق کے حوالے دے کر، کبھی کمزوریوں کے حوالے دے کر تو کبھی لغزشوں کے حوالے دے کر کیا سمجھانا چاہ رہا ہے؟ یقیناً وہ انسان کو یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ جب تمہیں فضیلت، وجود اور نعمتیں دی گئیں، تب تو تمہیں ان کا ادراک اور مانگنے کی تمیز تک نہ تھی۔ ماں کے پیٹ میں پرورش، دل کی دھڑکن، آکسیجن اور کائنات کا تمہاری خدمت میں لگ جانا—یہ سب اللہ کا وہ فضل ہے جو تمہاری کسی خواہش یا عمل کے بغیر تم پر سایہ کیے ہوئے ہے۔

جب فضیلت ملی ہی بلا استحقاق ہے، تو پھر تکبر کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے۔ اگر انسان اپنی کامیابیوں کو اپنا کمال سمجھے تو یہ قارونی طرزِ فکر ہے جس نے کہا تھا: “انما اوتیتہ علی علم عندی” (یہ تو مجھے میرے علم کی وجہ سے ملا ہے)۔ اس کے برعکس، جب حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں ایک صاحبِ علم نے پلک جھپکنے میں ملکہ سبا کا تخت حاضر کر دیا، تو اس کمالِ فن کے پیچھے بھی کتاب کا علم (الہامی توفیق) ہی کارفرما تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فوراً پکار اٹھا:

"هَٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ"

"یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔" (النمل: 40)

اللہ کو انسان کی عاجزی اس قدر پسند ہے کہ جب بھی انسان کوئی کمال دکھا کر اسے اللہ کا فضل قرار دیتا ہے، تو اللہ اس ادا کو پسند فرماتا ہے اور اسے مزید نوازنے کے بہانے تلاش کرتا ہے، جیسے قرآنی قانون ہے: "لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ" (اگر تم شکر 

کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا)۔

فکری خلاصہ

حقیقت یہ ہے کہ انسان کی پوری داستان احسان سے لغزش اور پھر اس پر ندامت اور سجدۂ شکر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اللہ نے انسان پر اپنی فضیلت کا احسان اس وقت کیا جب اس کو اس کا ادراک تک نہ تھا، اور پھر اس نے اپنے اختیار اور جبلت سے لغزش کھائی اور آزمائش میں پڑ گیا۔ اس کو اپنی غلطیوں کے احساس سے لے کر سجدۂ شکر تک پہنچانے کے لیے تاریخ کا ایک طویل سفر ہے، جس کے لیے اللہ نے اسے یاد دہانیوں اور نصیحتوں میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ چنانچہ، جس نے علم اور شعور کو اپنی جبلت پر مقدم سمجھتے ہوئے اپنی لغزشوں پر ندامت اور اللہ کے احسانوں پر سجدۂ شکر کو پا لیا، وہ کامیاب ہو گیا؛ اور جس کے علمی تکبر نے اسے لغزش پر بضد رکھ کر اس کی جبلت کو اس کے شعور پر حاوی کر دیا، وہ ناشکری کی وادی میں گر کر ناکام و نامراد ٹھہرا۔

۴۔ شکر اور معافی: حیاتیاتی اور روحانی توانائی کا سرچشمہ

جب یہ ثابت ہو گیا کہ سب کچھ الٰہی احسان ہی ہے، تو اب انسان کے پاس کرنے کے لیے صرف ایک ہی عمل باقی رہتا ہے: شکر، عاجزی اور انس۔ یہ شکر زبان کے ذکر میں ہو، سجدہء شکر میں ہو، یا اللہ کی دی ہوئی صفات کی مشق کرتے ہوئے اس کی مخلوقات کی مدد کی صورت میں ہو۔

انسانی فطرت کا معیار بھی اسی شکر پر پورا اترتا ہے، کیونکہ انسان اگر اپنی خواہشوں، خوشیوں اور لذتوں پر غور کرے تو ان کا پورے کا پورا دارومدار اسی شکر کے کلمے پر ہے—خواہ وہ اپنے خالق کے حضور ہو یا معاشرت میں ایک دوسرے کے سامنے۔ اسی میں امن, سکون اور فلاح کے راز پوشیدہ ہیں۔

شکر کے بعد اگر کوئی عمل انسان کو سب سے زیادہ خوشی اور سکون دے سکتا ہے، تو وہ معاف کر دینے کا عمل (Forgiveness) ہے۔ جدید سائنس، بالخصوص سائیکو نیورو امیونولوجی (Psychoneuroimmunology) اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ شکر گزاری اور معافی کے جذبات انسانی جسم کے اندرونی بیالوجیکل فیکٹرز (Internal Biological Factors) پر گہرے مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔

جب انسان معاف کرتا ہے اور شکر گزار ہوتا ہے، تو دماغ میں ڈوپامائن (Dopamine) اور آکسی ٹوسن (Oxytocin) جیسے مثبت ہارمونز خارج ہوتے ہیں، جو کورٹیسول (سٹریس ہارمون) کی سطح کو گرا دیتے ہیں۔ یہ وہی دو عمل ہیں جن کے مثبت اثرات سے انسان کے بدن کی انرجی بوسٹ ہوتی ہے، اعصابی نظام پرسکون ہوتا ہے اور اس کی حیات کے مادے کو حقیقی تقویت ملتی ہے۔


ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین