سوچ کی غذا

جمعرات، 11 جون، 2026

اسلام میں جنڈر کا تصور: صنفِ نازک کی صلاحیت، تمدنی دائرہ کار اور رعایتی استثنیٰ

تعارف: برتری بمقابلہ تکمیلیت (Complementarity)

شریعتِ اسلامیہ میں مرد اور عورت کے مابین تعلق کی بنیاد کسی صنف (Gender) کی ذاتی برتری یا کم تری پر نہیں، بلکہ تکمیلیت (Complementarity) اور تقسیمِ کار (Division of Labor) پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں فضیلت کا حقیقی معیار صنف، رنگ یا نسل نہیں، بلکہ صرف اور صرف تقویٰ اور شعور ہے:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ

"اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔" (سورہ الحجرات: 13)

جہاں بھی شریعت نے مرد کو 'قوّام' (سربراہ/نگہبان) کا درجہ دیا، وہ کسی خلقی، عقلی یا فطرتی برتری کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس مادی و اقتصادی بوجھ اور نفقہ (نان و نفقہ اٹھانے) کی بھاری ذمہ داری کی وجہ سے ہے جو فطرتی طور پر مرد کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ گرامی اس مساوات اور تکمیلیت کی حتمی مہر ہے:

{إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ}

"عورتیں تو مردوں کے شانہ بشانہ (انہی کا حصہ) ہیں۔" (جامع ترمذی)

1۔ سورہ بقرہ (آیت 282) اور آیتِ شہادت کا حقیقی مفہوم

تجارتی اور مالیاتی امور میں دو عورتوں کی گواہی کو ایک مرد کے برابر رکھنے کی بنیاد عورت کی ذہنی یا شعوری کم تری (Deficiency) نہیں، بلکہ ایک شفیقانہ اور تمدنی رعایتی استثنیٰ (Exemption) ہے۔

الف) لفظی، لغوی اور نحوی تجزیہ

قرآنی متن:

أَن تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَىٰ

تَضِلَّ (مادہ: ض ل ل): اس کا بنیادی لغوی معنی راستے سے اوجھل ہو جانا، گم ہو جانا یا غیر ارادی غفلت ہے۔ مالیاتی اور تجارتی تناظر میں اس سے مراد کوئی مستقل ذہنی یا فکری معذوری نہیں، بلکہ عارضی ذہنی دباؤ، تجارتی باریکیوں سے عدمِ ممارست (عدمِ واقفیت) یا گھبراہٹ ہے۔

تُذَكِّرَ (مادہ: ذ ك ر): اس کا مطلب یاد دلانا، متنبہ کرنا، یا فکری و نفسیاتی سہارا دینا ہے۔

ب) تمدنی، سماجی اور خاندانی دباؤ کا مخصوص نقطہ نظر

روایتی طور پر "تَضِلَّ" کا ترجمہ صرف "بھول جانا" کیا جاتا ہے، لیکن اس کا گہرا تمدنی اور نفسیاتی مفہوم درج ذیل سماجی حقائق پر مبنی ہے:

خاندانی وقار کا دباؤ: روایتی اور حیا پرور تمدن میں عورت کا عدالتوں، کچہریوں یا پنچائتوں کے چکر کاٹنا، نامحرموں کے سامنے کھڑے ہونا اور جرح کا سامنا کرنا ایک نفسیاتی بوجھ ہوتا ہے۔ یہ خاندانی اور معاشرتی دباؤ عورت کو آزادانہ گواہی دینے میں مصلحت پسندی یا خوف کا شکار کر سکتا ہے۔

مردانہ ماحول کی ہچکچاہٹ (Courts' Aggressive Environment): عدالتی اور مالیاتی تنازعات کا ماحول فطرتی طور پر سخت اور جارحانہ ہوتا ہے۔ اس بھاری اور اجنبی ماحول میں کسی بھی خاتون کے لیے بات کرتے ہوئے جھجک (Hesitation) اور کنفیوز ہونے کے خدشات مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں۔

حاصلِ نکتہ: قرآن نے لفظ "تَضِلَّ" کو عورت کی کسی فکری خامی کے لیے نہیں، بلکہ اس کی اس تمدنی مجبوری اور تحفظ کے لیے استعمال کیا ہے۔ جب اس کے ساتھ دوسری عورت (بطورِ معاون) موجود ہوگی، تو اس کا نفسیاتی دباؤ اور اجنبیت کا احساس ختم ہو جائے گا اور وہ پرسکون ہو کر سچی شہادت دے سکے گی۔

ج) مستند فقہی و سائنسی حوالے (استثنیٰ کی دلیل)

امام ابن قیم الجوزیہ (إعلام الموقعين، 1/75): آپ فرماتے ہیں کہ شریعت نے عورت کو معاشی دوڑ دھوپ اور عدالتوں کے چکر کاٹنے کا بوجھ سرے سے ڈالا ہی نہیں۔ گواہی ایک ذمہ داری اور بوجھ ہے، حق نہیں؛ لہذا عورت کو اس مادی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ رعایت دی گئی۔

الشفاء بالنتائج (خالص نسوانی امور): اگر یہ معاملہ عقل کی کمی کا ہوتا تو ہر جگہ学 مرد کی گواہی برتر ہوتی۔ لیکن ولادت (پیدائش)، رضاعت (دودھ پلانے) اور نسوانی امراض جیسے خالص امور میں شریعت صرف ایک اکیلی عورت کی گواہی پر عدالتی فیصلہ نافذ کر دیتی ہے اور وہاں مردوں کو استثنیٰ حاصل ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ تقسیم صنف کی بنیاد پر نہیں، بلکہ دائرہ کار (Domain) کی بنیاد پر ہے۔

2۔ سورہ نمل اور ملکہ بلقیس کا واقعہ: شعوری صلاحیت کی محکم دلیل

قرآنِ کریم نے سورہ نمل میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ بلقیس کے واقعے کو جس انداز میں پیش کیا ہے، وہ عورت کی سیاسی، انتظامی اور شعوری صلاحیت کا سب سے بڑا الہامی اعتراف ہے۔

الف) صنف کے بجائے توحید کی بنیاد پر مخالفت

حکمرانی پر کوئی اعتراض نہیں: حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ بلقیس کی سلطنت کی مخالفت اس لیے ہرگز نہیں کی تھی کہ وہ ایک عورت ہو کر حکمران کیوں ہے۔ ان کا اعتراض صرف اور صرف بلقیس اور اس کی قوم کے شرک اور شمس پرستی (سورہ النمل: 24) پر تھا۔

سربراہی کی تبدیلی کا مطالبہ نہیں: انہوں نے اپنے مکتوبِ گرامی میں یہ نہیں لکھا کہ "تم اپنے دربار سے کسی مرد کو سربراہ بنا کر بھیجو"۔ انہوں نے ملکہ بلقیس کو بحیثیتِ حاکمِ وقت ہی توحید اور اطاعت کی دعوت دی، جو ثابت کرتا ہے کہ عورت کی سیاسی سربراہی بذاتِ خود کوئی ممنوعہ شے نہیں تھی۔

ب) شعوری و سیاسی برتری

مردوں کا مادی جذباتی پن بمقابلہ عورت کی دانشمندی: خط ملنے پر دربار کے مرد وزراء اور جرنیلوں نے فوراً جنگ اور مادی طاقت کے استعمال کا مشورہ دیا اور کہا: "نَحْنُ أُولُو قُوَّةٍ وَأُولُو بَأْسٍ شَدِيدٍ" (ہم بڑی طاقت اور سخت لڑنے والے ہیں)۔ اس کے برعکس ملکہ نے تدبر اور گہرے سیاسی شعور سے کام لیا کہ:

إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً

"بیشک بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے برباد کر دیتے ہیں اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔" (سورہ النمل: 34)

اس نے جنگ کے بجائے سفارت کاری (Diplomacy) کو ترجیح دے کر اپنی قوم کو مادی تباہی سے بچا لیا۔

جمہوری اور مشاورتی مزاج: ملکہ بلقیس مطلق العنان آمر نہیں تھی، بلکہ وہ اپنے درباریوں سے کہتی ہے: "مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ" (میں کسی معاملے کا حتمی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو)۔

ج) مادی طاقت پر شعوری طاقت کی برتری

حضرت سلیمانؑ کی آفاقی حاکمیت کے سامنے جب ملکہ حاضر ہوئی، تو حضرت سلیمانؑ نے اسے تلواروں سے مغلوب نہیں کیا، بلکہ ایک شعوری صدمہ (Cognitive Shock) دیا۔ آنکھ جھپکنے میں تخت کا حاضر ہونا (علمی و ماورائی معجزہ) اور شیشے کا فرش دیکھ کر ملکہ بلقیس پر مادی وسائل کی بے قدری واضح ہو گئی اور اس نے اپنی انا کو چھوڑ کر فوراً حق کو قبول کر لیا اور پکار اٹھی: "رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" (اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کے حضور سرِ تسلیم خم کرتی ہوں)۔

3۔ حدیثِ ولایت کا لفظی تجزیہ، تاریخی پس منظر اور تمدنی تفہیم

صحیح بخاری کی اس مشہور حدیثِ مبارکہ کو عام طور پر عورت کی مطلق ممانعت کے لیے پڑھا جاتا ہے، لیکن اس کی لغوی ساخت اور تاریخی پس منظر (شانِ ورود) کا تقابلی خاکہ ایک بالکل الگ اور متوازن پہلو کو سامنے لاتا ہے۔

الف) حدیث کی عربی عبارت اور تفصیلی لغوی تجزیہ

متنِ حدیث:

لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمْ امْرَأَةً

(صحیح بخاری: 4425)

لَنْ (حرفِ نفی استقبال): تاکید کے ساتھ نفی، یعنی آنے والے وقت میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔

يُفْلِحَ (مادہ: ف ل ح): وہ فلاح پائے گا یا کامیاب ہوگا (اصل لغوی معنی: زمین کو پھاڑ کر بیج کا باہر نکلنا، یعنی سخت محنت کے بعد ثمر پانا)۔

وَلَّوْا (مادہ: و ل ي): انہوں نے سپرد کر دیا، والی (حاکم) بنا دیا (اصل مفہوم: اپنی ذمہ داری اور چارج کسی کے حوالے کر دینا)۔

أَمْرَهُمْ (مادہ: ا م ر): اپنا معاملہ / اپنے امور (انتظامی، عسکری اور تمدنی فیصلے)۔ یہ جنسِ مضاف ہے جو عموم کا فائدہ دیتا ہے، یعنی 'تمام کے تمام امور'۔

ب) تاریخی پس منظر: سلطنتِ فارس (ایران) کا بحران اور مردوں کی نااہلی

رسول اللہ ﷺ نے یہ جملہ کسی عام شرعی یا ابدی قانون کے طور پر اچانک صادر نہیں فرمایا تھا، بلکہ یہ سلطنتِ فارس (ایران) کے مخصوص سیاسی بحران پر ایک گہرے سیاسی تبصرے اور پیشین گوئی (Prophecy) پر مبنی تھا۔

شاہی خاندان کی اندرونی جنگ: ایران کے جابر بادشاہ خسرو پرویز کے قتل کے بعد، وہاں کے درباریوں اور شہزادوں میں اقتدار کی ایسی خونریز اور وحشیانہ جنگ چھڑی کہ چند ہی ماہ میں کئی مرد بادشاہ یکے بعد دیگرے قتل کر دیے گئے۔

مردوں کا سیاسی فرار اور نااہلی: جب سلطنت کے تمام بااثر مرد امراء, وزراء، سیاست دان اور جرنیل ملکی دفاع، معیشت اور انتظام سنبھالنے میں بری طرح نااہل اور ناکام ہو گئے، تو انہوں نے اپنی فکری کمزوریوں پر پردہ ڈالنے اور مادی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرنے کے لیے خسرو پرویز کی بیٹی "بوران دخت" کو تخت پر بٹھا دیا اور تمام مادی، عسکری و سیاسی امور کی کلی حاکمیت اس کے سپرد کر دی۔

آپ ﷺ کا حکیمانہ تبصرہ: جب مدینہ منورہ میں یہ خبر پہنچی کہ فارس کے مردوں نے اپنے تمام امور ایک عورت کے سپرد کر دیے ہیں، تو آپ ﷺ نے اس قوم کے حتمی سیاسی زوال اور تباہی کی پیشین گوئی فرمائی۔ یہ ممانعت دراصل عورت کی فطرتی صلاحیت کے خلاف نہیں تھی، بلکہ فارس کے ان مردوں کی بزدلی، سستی اور نااہلی پر ضرب تھی جو خود آگے بڑھ کر سلطنت کا دفاع کرنے کے بجائے ایک خاتون کے پیچھے چھپ گئے تھے۔

ج) "سپردگی" (وَلَّوْا) اور تمام امور کی کلی حاکمیت

اس حدیث کا سب سے اہم لفظ "وَلَّوْا" (انہوں نے سپرد کر دیا) ہے۔ یہ فعل "مردوں" (یا قوم کے کارپردازوں) کی طرف اشارہ کر رہا ہے، عورت کی طرف نہیں۔ تمدنی خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مرد تمدنی تقسیمِ کار (Division of Labor) کے الٹ اپنے تمام کے تمام فرائض اٹھا کر کسی دوسرے پر ڈال دیں۔

حدیث کے الفاظ "أَمْرَهُمْ" (اپنے تمام امور) سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں ممانعت مطلق العنان اور کلی سپردگی (Absolute Autocracy) کی ہے، جہاں ایک ہی فرد کو تمام مادی، عسکری اور سیاسی فیصلوں کا بلا شرکتِ غیرے مالک بنا دیا جائے (جیسا کہ ایران کی ملکہ کو بنایا گیا تھا)۔

جدید مشاورتی و جمہوری نظام کا استثنیٰ: موجودہ دور کے مشاورتی اور جمہوری نظاموں میں، جہاں اقتدارِ اعلیٰ اور تمام امور کسی ایک فرد (چاہے وہ مرد ہو یا عورت) کے پاس نہیں ہوتے، بلکہ پارلیمنٹ، کابینہ، عدلیہ اور مختلف اداروں کے مابین تقسیم ہوتے ہیں؛ اگر ایسے نظام میں کسی شعبے کی مشاورت، وزارت یا انتظامی ذمہ داری کسی لائق خاتون کو دی جائے، تو اس پر اس حدیث کی رو سے کوئی قدغن یا ممانعت کا تاثر نہیں ملتا۔ کیونکہ یہاں "تمام امور کی کلی و آمرانہ سپردگی" کا وہ نااہل تاثر سرے سے موجود ہی نہیں ہے جس کی طرف حدیث نے اشارہ کیا تھا۔

خلاصۂ کلام (حاصلِ سند)

اسلام میں مرد اور عورت کے حقوق و فرائض ان کی فطرتی ساخت، نفسیات اور تمدنی توازن کے عین مطابق تقسیم کیے گئے ہیں، نہ کہ کسی کی تذلیل یا برتری کے لیے۔

عورت کو عدالتی گواہی اور فرنٹ لائن کی عسکری و سیاسی سربراہی کی سخت ترین مادی اصطکاک (Friction) سے اگر مستثنیٰ رکھا گیا ہے، تو یہ اس کا احترام، تکریم اور رعایتی تحفظ ہے، تاکہ خاندانی نظام کا جوہر اور وقار برقرار رہے، نہ کہ اس کی عقل کی کم تری۔

حدیثِ نبوی میں اصل ممانعت مردوں کی اپنی ذمہ داریوں سے فرار، نااہلی اور امور کی کلی و آمرانہ سپردگی پر ہے، نہ کہ جدید مشاورتی اور جمہوری نظام میں خواتین کی انتظامی، علمی اور شعوری صلاحیتوں کے استعمال پر۔

سچا اور حقیقی شعور بیدار ہونے کے بعد انسان مادی وسائل یا اپنی صلاحیت کو اپنی ذاتی مہارت نہیں، بلکہ "هَٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي" (یہ میرے رب کا فضل ہے) سمجھتا ہے، اور یہی وہ الہامی شعور ہے جو تکبر اور جنس کی برتری کی جنگ کا بہترین اور حتمی توڑ ہے 

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین