سوچ کی غذا

اتوار، 14 جون، 2026

دنیا کی اسلامی حقیقت: تحقیر یا نسبتی قدر؟

 

(شعور اور بصیرت کے آئینے میں ایک فکری و لغوی جائزہ)

ایک عام مغالطہ اور اس کا ازالہ

عام طور پر مروجہ مذہبی بیانات اور تحریروں میں دنیا کی مادی زندگی کے لیے "حقیر"، "ذلیل" یا "ملعون" جیسے الفاظ اس انداز میں استعمال کیے جاتے ہیں جس سے یہ غلط تاثر ابھرتا ہے کہ یہ کائنات، اس کا مادی وجود اور اس کی حلال نعمتیں بذاتِ خود کوئی ناپاک یا گندی چیز ہیں۔ انسانی سوچ کی اس تِنگ نظری نے مسلم معاشروں میں ایک خاص قسم کی فکری مصلحت پسندی، مایوسی، اور رہبانیت (دنیا سے یکسر کٹ جانے) کے رجحان کو جنم دیا ہے۔

تاہم، اگر ہم قرآن و سنت کا گہرا اور غائر مطالعہ کریں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اسلام کا اصل مزاج دنیا سے "نفسیاتی نفرت" کرنا نہیں، بلکہ اسے ایک عظیم ابدی مقصد کا پائیدار ذریعہ بنانا ہے۔

1۔ عارضی ہونا بمقابلہ حقیر ہونا: ایک اہم فکری فرق

شعور کی آنکھ سے دیکھا جائے تو کسی چیز کا "عارضی و فانی ہونا" اور بات ہے، اور اس کا "حقیر یا قابلِ نفرت ہونا" بالکل دوسری بات ہے۔

دنیا انسان کے لیے ایک آزمائش گاہ ضرور ہے جہاں آخرت کی ابدی زندگی کو مادی فوائد پر ترجیح دینا ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔

دنیا کے عارضی مادی فوائد کے لیے دین اور آخرت کو نظر انداز کرنا یقیناً غفلت ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ دنیا کا فطرتی وجود یا اس کی مادی نعمتیں بذاتِ خود حقیر ہیں۔

قرآنِ کریم میں دنیا کی زندگی کے لیے "قَلیل" (بہت تھوڑا) کا لفظ استعمال ہوا ہے:

فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ

"تو دنیا کی زندگی کا فائدہ آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں مگر بہت ہی قلیل ہے" (سورۃ التوبہ: 38)

یہ لفظ "قلیل" کسی طرح بھی "حقارت یا ذلت" کے معنوں میں نہیں لیا جا سکتا۔ یہ دراصل وقت اور وسعت کی ایک مادی و ریاضیاتی حقیقت کا بیان ہے کہ لا متناہی (Infinite) آخرت کے مقابلے میں انسان کی 60-70 سالہ دنیاوی زندگی ریاضیاتی طور پر خود بخود "قلیل" یعنی نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ یہاں مقصد دنیا کی مادی ذات کو کم تر دکھانا نہیں، بلکہ انسان کو وقت کی قلت کا احساس دلا کر ابدی زندگی کی تیاری کی طرف راغب کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ قلیل در اصل لا متناہی کی وضاحت ہے۔

2۔ حدیثِ نبوی ﷺ میں لفظ "مَلْعُونَةٌ" کا حقیقی سیاق و سباق

جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ مَلْعُونٌ مَا فِيهَا إِلَّا ذِكْرُ اللَّهِ وَمَا وَالَاهُ وَعَالِمٌ أَوْ مُتَعَلِّمٌ

"سن لو! دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس دنیا میں ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ کے ذکر کے، اور اس چیز کے جو اللہ کے قریب کرے (یا اللہ کو محبوب ہو)، اور دین کے عالم اور طالبِ علم کے۔" (جامع ترمذی: 2322، سنن ابن ماجہ: 4112)

سطحی نظر سے دیکھنے والے اس حدیث سے دنیا کی مطلق برائی مراد لیتے ہیں، لیکن حدیث کے الفاظ میں قائم "شرط اور استثناء" (Exception) پر غور کرنے سے پورا فکری منظرنامہ بدل جاتا ہے۔ حدیث کا دوسرا حصہ واضح کرتا ہے کہ:

ذکرِ الٰہی،

اللہ کی اطاعت و رضا میں کیے جانے والے تمام تمدنی کام (وَمَا\ وَالَاهُ)،

علمِ نافع پھیلانے والے (عالم)،

اور علم سیکھنے والے (طالبِ علم) اس ملامت سے بالکل باہر اور آزاد ہیں۔

اب اگر اس استثناء کا دائرہ دیکھا جائے تو اس میں پورا تمدنِ اسلام آ جاتا ہے۔ جب ایک انسان اللہ کے احکامات کے مطابق دیانت داری سے تجارت کرتا ہے، حلال مال کماتا ہے، اولاد کی بہترین تربیت کرتا ہے، حقوق العباد پورے کرتا ہے اور انسانیت کی فلاح کے کام کرتا ہے، تو یہ سب کا سب "وما والاہ" (خدا کی محبت اور اطاعت) میں شامل ہو کر ذکرِ الٰہی بن جاتا ہے۔

حاصلِ نکتہ: ملعون (خدا کی رحمت سے دور) تو صرف وہ مائنڈ سیٹ اور وہ اعمال رہ گئے جن کی اسلام میں قطعی ممانعت آ چکی ہے اور جو انسان کو خالق سے غافل کر دیں۔ پس یہ حدیث دنیا کی مادی ذات سے نفرت نہیں سکھاتی، بلکہ ترجیحات کا درست تعین کرتی ہے۔

3۔ لفظ "أَهْوَنُ" ، "تَعْدِلُ" کی لغوی تحقیق اور نسبتی قدر (Relative Value)

احادیث میں جہاں دنیا کی بے وقعتی کو سمجھانے کے لیے مچھر کے پر یا مردہ بکری کے بچے کی مثال دی گئی ہے، وہاں لفظ "أَهْوَن" استعمال ہوا ہے۔ حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرے ہوئے چھوٹے کان والے بکری کے بچے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:

فَالدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذَا عَلَى أَهْلِهِ

"پس دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ ہلکی اور کم قیمت ہے جتنا یہ بکری کا بچہ اپنے مالکوں کے نزدیک (مردہ ہونے کے بعد) بے قیمت تھا"۔ (جامع ترمذی: 2321)

اگر ہم لفظ "أَهْوَن" کے عربی مادے (ھ - و - ن) پر غور کریں تو لغت کے اعتبار سے یہ 'اسمِ تفضیل' ہے جس کا مطلب "وزن میں ہلکا ہونا، قیمت میں کم ہونا یا رتبے میں نیچے ہونا" ہے۔

نبی کریم ﷺ کا یہ فرمانا کوئی منفی یا ملامت کا اسلوب نہیں ہے، بلکہ یہ "نسبتی قدر" (Relative Value) کا الہامی بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود دنیا کو خوبصورت اور انسان کے برتنے کا سامان بنایا ہے، وہ اپنی تخلیق سے نفرت نہیں کرتا۔ لیکن جب کائنات کے ترازو کے ایک پلڑے میں آخرت کی ابدی، لا متناہی اور غیر فانی بادشاہت رکھ دی جائے، تو دوسرے پلڑے میں موجود یہ پوری مادی کائنات اپنے وزن، اہمیت اور قیمت کے لحاظ سے نہایت ہلکی (أهون) اور بے وزن ثابت ہوتی ہے۔

اسی طرح ایک اور مشہور حدیث میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ مَا سَقَى كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةَ مَاءٍ

لَوْ (اگر) كَانَتِ الدُّنْيَا (یہ دنیا ہوتی) تَعْدِلُ (برابر کا بدل) عِنْدَ اللَّهِ (اللہ کے ہاں) جَنَاحَ بَعُوضَةٍ (ایک معمولی حصے کی )۔۔۔مَا سَقَى (تو وہ نہ پلاتا) كَافِرًا (کسی نافرمان کو) مِنْهَا (اس میں سے) شَرْبَةَ مَاءٍ (پانی کا ایک گھونٹ)۔

"اگر یہ دنیا اللہ کے ہاں ایک معمولی حصے (کی جناح) کے برابر بدل ہوتی، تو وہ کسی نافرمان کو اس میں سے پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا"

۔ (جامع ترمذی: 2320)

"تَعْدِلُ" کا مادی مفہوم: یہ ترجمہ مادہ ع - د - ل کے حقیقی معنی یعنی "برابر کا بدل یا فدیہ ہونا" کو بغیر کسی الجھن کے براہِ راست واضح کرتا ہے۔

"کافر" کا عملی مفہوم: "کافر" کا ترجمہ "نافرمانوں" کرنا جملے کے اطلاق کو وسیع کرتا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے احکامات سے سرکشی کرنے والا ہر شخص اس دائرے میں آتا ہے۔

"شربۃ ماء" کی مادی حقیقت: "پانی کا ایک گھونٹ" کے الفاظ زندگی کی سب سے اہم ترین بنیاد اور عربی بلاغت کے اصل مادی وجود کو سامنے لاتے ہیں۔

یہاں پر دو حکمتیں بتائی گئی ہیں : ایک تو دنیا کے زیادہ یا کم ملنے سے اللہ کی خوشنودی یا ناراضگی کا مطلب نہیں نکا لا جاسکتا اور دوسرا پانی کی مثال دے کر دنیا کی اہمیت کو واضح کر دیا ہے ۔ پانی انسانی زندگی کا ایک اہم جز ہے اور عربوں کے ہاں تو پانی ویسے بھی تیل سے بھی قیمتی ہے۔ اور اس کے گھونٹ سے مراد اس کا معمولی حصہ ہے  مگر کبھی کبھی یہی گھونٹ کا معمولی حصہ بھی بخشش کا زریعہ بن جاتا ہے

تو معلوم ہوا کہ دنیا کو اگر تو حلال اور جائز طریقے سے حاصل اور استعمال کیا جائے تو یہ عبادت بن جاتی ہے اور اگر  ناجائز زرائع اور استعمال ہو تو وبال بن جائے گی۔ 

4۔ مادی حدود سے شعور کی بلندی تک

جب انسان اپنی جسمانی محدودیت اور مادی نظر سے اوپر اٹھ کر "شعور کی آنکھ" (بصیرت) سے کائنات کا مطالعہ کرتا ہے، تو اسے وہ روایتی تفاسیر غیر متعلق لگنے لگتی ہیں جو دنیا کو ایک ناپاک جگہ ثابت کرنے پر تلی ہوتی ہیں۔

آج کی جدید مادی سائنس بھی جب اربوں نوری سال پر پھیلی معلوم کائنات (Observable Universe) کی وسعتوں کو دیکھتی ہے، تو ہماری یہ زمین پوری کہکشاں میں ریت کے ایک ذرے سے بھی چھوٹی دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں خالقِ کائنات کے علمِ محیط کے مطابق اس زمین کا "معمولی حصے" یا شے کے برابر دکھائی دینا ایک مادی، سائنسی اور شعوری حقیقت بن کر سامنے آتا ہے۔ یہ مثال کائنات کی عظمتِ تخلیق کے سامنے دنیا کی مادی حیثیت کا ایک حقیقی سائنسی توازن ہے، نہ کہ اس سے کسی نفرت کا اظہار۔

حاصلِ کلام: دنیا آخرت کا سرمایہ ہے

اسلام دنیا سے رہبانیت یا نفسیاتی دوری کا درس نہیں دیتا۔ دنیا بذاتِ خود بری نہیں، یہ ایک برتن یا آلے (Tool) کی طرح ہے۔ اگر اس کا صحیح اور اسلامی احکامات کے مطابق استعمال کیا جائے، تو اس دنیا میں رہتے ہوئے کیے جانے والے مادی اعمال ہی اس بے بہا قیمتی آخرت کا اصل سرمایہ اور اجر بن جاتے ہیں۔ قرآنِ پاک نے واضح کیا ہے کہ یہ دنیا عارضی ضرور ہے مگر آخرت کمانے کا واحد میدان ہے:

وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ ۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا

"اور جو کچھ اللہ نے تجھے دے رکھا ہے اس میں آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور دنیا میں سے بھی اپنا حصہ نہ بھول" (سورۃ القصص: 77)

اسلام کا مطلوبہ معیارِ شعور یہ ہے کہ دنیا انسان کے ہاتھ اور جیب میں تو ہو (تجارت، مال، حلال رزق اور رفاہِ عامہ کی شکل میں) لیکن اس کے دل پر حکومت نہ کرے۔ یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اور کھیتی کو حقیر کہنا دانشمندی نہیں بلکہ شریعت کی روح کے سراسر منافی ہے۔


ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین