آدم اکارڈ کی سب سے مضبوط فکری اور سفارتی بنیاد سورہ آلِ عمران کی آیت ۶۴ کے اس آفاقی اسلوب پر قائم ہے: "قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ" (آپ فرما دیجیے: اے اہل کتاب! ایک ایسی بات کی طرف آ جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے)۔ یہاں لفظ "تَعَالَوْا" (مادہ: ع - ل - و) اپنی لغوی گہرائی کے اعتبار سے تمام قوموں کو اپنے مادی تعصبات اور تنگ نظری کی پستی سے بلند ہو کر ایک مشترکہ لائحہ عمل پر کاربند ہونے، مذاکرہ کرنے اور باہمی مکالمے کا آغاز کرنے کی کھلی دعوت ہے۔ یہ اسلوبِ بیان ہی اس کو آدم اکارڈ کے تقاضے کی فطرتی خواہش ظاہر کر رہا ہے کیونکہ اس کا انداز حکم کا نہیں بلکہ "خبر اور مکالمے" کا ہے، جس میں تمام سابقہ قوموں کا تذکرہ ملتا ہے نہ کہ کسی خاص مذہب کا۔ یہ اسلوب ظاہر کرتا ہے کہ جو بھی اللہ، فرشتوں اور رسولوں کے آفاقی نظام کو مانے گا، وہ اس کا مکلف ہوگا۔ اس اکارڈ کا دوسرا ستون "وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ" کا وہ آفاقی اصول ہے جو "بَعْضُنَا بَعْضًا" (ہم میں سے کوئی بھی، کسی دوسرے کو) کے لفظ سے انسانوں کے ہاتھوں انسانوں کے معاشی، سیاسی اور ذہنی استحصال کا مکمل خاتمہ کرتا ہے۔ یہ نظام انسان کو نظریاتی حد تک مکمل آزادی دیتا ہے کہ کوئی زبردستی اپنے نظریات کسی پر مسلط نہ کرے، اور ساتھ ہی ایک ایسا حلقہ بگوش نظم و ضبط لاگو کرتا ہے جیسے جدید دور کی بین الاقوامی ٹریٹیز اور اکارڈز کا تصور، جہاں آزاد ریاستیں اپنی مرضی اور آزادی سے کسی معاہدے کا شریک بن کر اس کی پابندی کی ذمہ داری خود لیتی ہیں۔
یہ آفاقی ضابطہ سورۃ البقرہ کی آیت ۲۸۵ کے اس قانون سے مزید مستحکم ہوتا ہے: "لَا نُفَرِّقُ بَيْنِ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ" (ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے؛ مادہ: ف - ر - q)۔ دنیا کا کوئی اور مروجہ مذہبی نظام اپنے ماننے والوں پر یہ شرط عائد نہیں کرتا کہ وہ دوسرے مذاہب کے بانیوں کو بھی اسی طرح سچا اور معتبر مانیں۔ اسلام مسلمانوں پر یہ پابندی لگاتا ہے کہ اگر وہ حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت عیسیٰؑ تک کسی ایک بھی پیغمبر کی نبوت کا انکار کریں گے، تو ان کا اپنا ایمان ہی باطل ہو جائے گا۔ یہ اصول سکھاتا ہے کہ نہ صرف دوسرے انبیاء کو برحق ماننا ہے، بلکہ ان کے نام لیواؤں (اہلِ کتاب) کو بھی معتبر اور قابلِ احترام سمجھنا ہے۔ جب ایک مسلمان کسی عیسائی یا یہودی کو دیکھتا ہے، تو اس کا باطنی مائنڈ سیٹ اسے "دشمن" نہیں بلکہ "اپنے ہی پیغمبر کی امت" کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس سے عداوت کا خاتمہ ہوتا ہے اور بین المذاہب مکالمے کی ایک ایسی نئی بنیاد پڑتی ہے جو جغرافیے سے آزاد ہے۔
آج کی دنیا کو سب سے بڑا خطرہ باہمی مذہبی اختلافات سے نہیں، بلکہ اس مطلق الحاد اور دِہریت سے ہے جو کائنات کے خالق ہی کے وجود کا انکار کرتی ہے۔ یہ آیات مسلمانوں کی تربیت کر کے انہیں اہل کتاب سے بھی آگے بڑھ کر آج کے دور کے دہریے کو اللہ کی پہچان کروانے کے عالمی مشن کے لیے تیار کرتی ہیں۔ آیت کا جملہ ہے: "آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ"۔ گرامر کی رو سے "وَالْمُؤْمِنُونَ" (مادہ: ا م ن) کا عطف براہِ راست "الرَّسُولُ" پر ہے۔ یہ ربط ظاہر کرتا ہے کہ جو مشن رسول کا تھا، وہی مشن اب ہر اس انسان کا ہے جو "المؤمنون" کی صفت میں شامل ہے۔ اس آفاقی تعریف کے تحت ہر وہ انسان اس محاذ کا حصہ بن جاتا ہے جو مثبت سوچ (Positive Mindset) کا حامل ہے اور فطرتی قوانین کے تحت انسانیت کی بقا چاہتا ہے۔ اگر آج تمام اہل کتاب اور مثبت سوچ کے حامل افراد اپنی اجتماعی حیثیت میں ایک دہریے کو عقلی، سائنسی اور فطرتی دلائل سے لاجواب نہیں کر سکتے، تو ان کے علم و شعور پر یہ آیت ایک سوال کھڑی کرتی ہے۔
موجودہ دور میں لوگ دوسروں کے باطن کو ٹٹولتے ہیں اور فتوے لگاتے ہیں، جس سے معاشرے میں منافقت اور الحاد پھیلتا ہے۔ بہت سے ایتھیئسٹ دراصل خدا کے منکر نہیں ہوتے، بلکہ وہ روایتی مذہبی پیشوا کے کھڑے کیے گئے سخت اور بے لچک خدا سے باغی ہوتے ہیں۔ آدم اکارڈ اس کا نفسیاتی حل پیش کرتا ہے۔ آیت ۲۸۶ کی دعا: "وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا" دراصل اللہ کو انسانی جبلت (Human Nature) کا حوالہ دے کر اپنے لیے گنجائش مانگنے کا اعتراف ہے۔ بندہ کہتا ہے: "یا اللہ! تو نے مجھے کمزور، جلد باز اور غلطیاں کرنے والا بنایا ہے، تو پھر معافیوں کی گنجائش نکالنا میرا حق بنتا ہے"۔ اسی طرح "لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا" (اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا) کا فطرتی راز انسان پر سے فکری بوجھ کو ہٹا دیتا ہے۔ لیکن اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ نظم و ضبط (Discipline) کا ہی پابند نہ رہے؛ بلکہ صلاحیتوں کی یہ انفرادی کمی انسان کو باہمی مدد اور یکجہتی (Social Solidarity) کی ضرورت کو زیادہ اجاگر کرتی ہے۔ جو بوجھ ایک فرد تنہا نہیں اٹھا سکتا، جب پوری قوم ایک لڑی میں پرو کر اسے اٹھاتی ہے، تو وہ ناممکن کام بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ جب ایک پیاسے ایتھیئسٹ کو معلوم ہوتا ہے کہ اس نظام میں کسی انسان کو دوسرے کے ایمان میں تجسس یا دخل اندازی کی اجازت ہی نہیں، بلکہ مکمل فکری آزادی اور باہمی معاونت کا ماحول ہے، تو اس کی ضد اور انا پگھل جاتی ہے اور وہ عاجزی کے ساتھ اللہ کی پہچان کی طرف لوٹ آتا ہے۔
روایتی طور پر فتح کا مطلب جنگی میدانوں میں تلوار یا گولی کا غلبہ سمجھا جاتا ہے، لیکن آدم اکارڈ کے تحت فتح کا تصور بالکل مختلف ہے۔ یہاں آخری جملہ "فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ" دراصل ایک کائناتی معاشرتی ضابطۂ اخلاق (Code of Conduct) کا اعلان ہے۔ کافرین (مادہ: ک ف ر) سے مراد صرف عقیدے کے انکاری نہیں، بلکہ وہ تمام گروہ شامل ہیں جو اللہ کے دیے ہوئے اخلاقی، سماجی اور پرامن احکامات کے باغی اور انکاری ہیں۔ یہ دعا دراصل ایک ایسی اجتماعی طاقت کا تقاضا ہے جو ان ضابطوں کے انکاری قانون شکن عناصر کا محاسبہ کرے اور انہیں ضابطۂ اخلاق کا پابند بنا کر امن کا اہتمام یقینی بنا سکے۔ اس میں "فَإِن تَوَلَّوْا" (پھر اگر وہ منہ موڑیں) کا اسلوب انسانی ارادے کی آزادی اور فاشزم کے خاتمے کی دلیل ہے، یعنی اگر کوئی اس مکالمے سے پیٹھ پھیر بھی لے تو زبردستی نہیں کی جائے گی۔ جب مسلمان اس اجتماعی سوچ کے تحت دعا کرتے ہیں کہ "أَنْتَ مَوْلَانَا" (تو ہی ہمارا کارساز ہے)، تو اس کی مادی صورت یہ بنتی ہے کہ اللہ مسلمانوں کے اندر وہ اخلاقی طاقت اور پرکشش اجتماعی نظام پیدا کر دیتا ہے کہ دوسری قومیں ان کی باہمی محبت کو دیکھ کر دنگ رہ جاتی ہیں اور اس آفاقی نظام میں شامل ہونے کی خواہش کرنے لگتی ہیں۔ اس تربیت کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں کسی قوم کو خصوصی طور پر مخاطب نہیں کیا گیا، بلکہ کوئی بھی قوم ان فطرتی قوانین کا اطلاق کر کے مستفید ہو سکتی ہے۔
عالمی حالات کا تقاضا ہے کہ انسان انفرادیت پسندی (Individualism) کے تنگ خول سے باہر نکلے۔ ان آیات کو رات کو سونے سے پہلے پڑھنے کی حکمت ہی یہی ہے کہ انسان دن بھر کی مادی دوڑ اور قبائلی مصلحتوں سے نکل کر تنہائی میں اپنے عمل کا مواخذہ (Spiritual Auditing) کرے۔ وہ اپنی غلطیوں پر ندامت کا اظہار کرتا ہے اور انفرادیت کو نکال کر "لا الہ الا اللہ" کی بنیاد پر ایک عالمی سوچ کے تحت دعا کرتا ہے۔ یہ مینی فیسٹو دوطرفہ عدل (Reciprocal Justice) کی ایک لازوال تصویر پیش کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات مسلمانوں کو پابند کرتی ہیں کہ وہ دنیا میں کہیں بھی رہتے ہوں، خواہ کسی غیر مسلم ریاست میں ہی مقیم ہوں، وہ وہاں کے قوانین، عہد (Social Contract) اور نظم و ضبط کے مکمل پابند رہنے پر مجبور ہیں۔ دوسری طرف، اگر غیر مسلم کسی اسلامی ریاست کے شہری ہیں، تو ریاست ان کے جان، مال اور آبرو کے تحفظ کی قانونی اور شرعی طور پر سو فیصد ذمہ دار ہے۔ جب پوری امت ایک ہی زبان سے "ہم" پکارتی ہے، تو دعا کے اثرات میں اجتماعی ملٹی پلیکیشن (Multiplier Effect) کا راز ظاہر ہوتا ہے۔ امن کے حالات میں جب مسلمان "فَانْصُرْنَا" کہتے ہیں، تو اس سے مراد ظاہری جنگ نہیں، بلکہ اپنے نفس، منفی سوچوں اور باطل تہذیبوں کی فکری یلغار کے خلاف اپنے اسلامی تمدن کو لاحق خطرات سے نجات پانا ہے، تاکہ قومیت کے نئے اور مستحکم نظریے کے ساتھ ایک طاقت بن کر ابھرا جا سکے۔
سورۃ البقرہ اور آلِ عمران کی یہ آیات دراصل فطری ہدایت کا وہ لائحہ عمل ہیں جو حق اور باطل کو اس طرح نکھار کر سامنے لے آتی ہیں "جیسے پانی میں سے پارہ (Mercury) خود بخود علیحدہ ہو جاتا ہے"۔ آج کے عالمی حالات چیخ چیخ کر جس امن اور فکری پناہ گاہ کا تقاضا کر رہے ہیں، وہ اسی آدم اکارڈ میں پوشیدہ ہے۔ جب پوری انسانیت اس ضابطے کے تحت باہمی مکالمے، برداشت اور عاجزی کا ماحول پیدا کر لے گی، تو "إِلَيْكَ الْمَصِيرُ" (اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے) کے فلسفے کے مطابق اللہ تعالیٰ کی ذات محض ایک روایتی عقیدہ نہیں رہے گی، بلکہ انسانیت کے لیے ایک عملی مشاہدہ بن جائے گی۔ کسی کو دوسرے کے ایمان میں تجسس کی اجازت نہیں ہوگی مگر مکالمے کا ماحول رہے گا، علم اور تدبر کی مشقیں انسانیت کے ارتقاء کے عمل کو جاری رکھیں گی اور اللہ کے فضل کے موتی تلاش کرنے کا عمل جاری رہے گا۔
Disclaimer
نوٹ: "آدم اکارڈ" مصنف کی ایک فکری اصطلاح ہے، جس کا مقصد قرآن مجید کی متعلقہ آیات کی روشنی میں عالمی مکالمہ، انسانی برابری، بین المذاہب احترام اور مشترکہ اخلاقی ذمہ داری کے ایک آفاقی تصور کو بیان کرنا ہے۔ یہ کسی سرکاری یا بین الاقوامی معاہدے کا نام نہیں بلکہ ایک علمی و تمدنی تجویز ہے۔
