سوچ کی غذا

بدھ، 17 جون، 2026

ایران امریکہ امن معاہدہ: پاکستان کو کیا ملا؟

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی ماحول کا خاتمہ، اور پھر یہ سفر مختلف چہ مگوئیوں سے ہوتا ہوا آخر کار ایک تاریخی امن معاہدے تک پہنچ جانا، معاصر تاریخ کا ایک غیر معمولی باب ہے۔ اگرچہ اب بھی اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن جو طاقت اس جنگ کو رکوانے اور فریقین کو میز پر لانے میں کامیاب ہوئی، وہ اس مذاکراتی عمل کی ثالثی کرنے والوں کا بے لوث اخلاص تھا۔

جو خبریں اور حقائق اب سامنے آ رہے ہیں، ان سے واضح ہوتا ہے کہ اس مخلصانہ کوشش کے پیچھے اصل طاقت اللہ کا حکم اور اس کی رضا تھی۔ حال ہی میں پاکستان کے وزیر داخلہ نے علماء سے خطاب کے دوران جو تفصیلات بتائیں، ان میں سب سے اہم بات ان کا اللہ پر توکل، غیر جانبداری، عدل کے ساتھ بات کرنا اور انسانی جانوں کو بچانے کی تڑپ تھی۔ یہ وہ مخلصانہ عمل ہے جس پر غیب سے اللہ کی مدد اترتی ہے اور تاریخ اس کی گواہی دے رہی ہے۔

جب جنگ سر پر کھڑی تھی

جب کوئی اللہ پر توکل کر کے کسی مشن پر نکلے اور انسان کی فلاح اس کا مقصد ہو، تو اس سے بڑا کوئی مشن ہو نہیں سکتا۔ مذاکراتی ٹیم کے احوال بتاتے ہیں کہ انہوں نے کئی دفعہ مذاکرات کو ناکام ہوتے دیکھا۔ جنگ سر پر کھڑی تھی، چند منٹ باقی تھے، طیارے اڑنے کو تیار تھے اور میزائل داغے جانے کے لیے چیمبرز میں آ چکے تھے۔

ایسے نازک ترین لمحے میں، میدانِ عمل میں موجود "مردِ مجاہد" فیلڈ مارشل—جن کی سوچ اللہ کے احکامات اور رہنمائی کی تابع تھی—نے ایرانی قیادت سے، جو اس وقت جنگ کے خاتمے کی طرف مائل نہیں ہو رہی تھی، اپنی خواہش کا اظہار کچھ یوں کیا:

"چلیں جو بھی معاملہ چل رہا ہے، مگر میری ایک بات کی کل قیامت کے دن آپ کو گواہی دینی پڑے گی کہ میں نے پورے خلوص کے ساتھ انسانی جان بچانے کے لیے کوشش کی تھی۔ اگر اب انسانی جان کا نقصان ہوتا ہے، تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔"

یہ وہ الفاظ تھے جنہوں نے اثر دکھایا۔ اللہ کا خوف رکھنے والے دلوں کا ہلنا لازمی امر تھا، اور ایرانی حکومت نے امن معاہدے کے لیے حامی بھر لی۔ یوں فضلِ الٰہی سے یہ معاہدہ دستخط کے مراحل تک پہنچا۔

پاکستان کو کیا ملا؟

دنیا میں فساد پسند طاقتیں یقیناً نہیں چاہتیں کہ یہ امن قائم ہو، اور ان کی سازشیں اب بھی جاری ہیں، مگر انسانوں کی تدبیروں پر اللہ کی تدبیر ہمیشہ بھاری رہتی ہے۔ آج لوگ سوال کرتے ہیں کہ "اس امن سے پاکستان کو کیا ملے گا؟" تو میرا جواب یہ ہے کہ پاکستان کو ملے گا نہیں، بلکہ سب کچھ مل چکا ہے۔

دنیا میں رشتے خواہ خونی ہوں، دوستی کے ہوں، سفارتی ہوں یا تجارتی—ان سب کی اصل اساس اور بنیاد "اعتماد" پر ہوتی ہے۔ اس وقت پاکستان نے اپنے مخلصانہ کردار سے جو عالمی اعتماد حاصل کیا ہے، معاصر تاریخ میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ مشرقِ وسطیٰ کے اسلامی برادر ممالک ہوں، دنیا کی سپر طاقتیں (امریکہ، چین، یورپ) ہوں، ایران ہو یا عالمی تجارتی کمپنیاں—سب کو پاکستان کی نیت اور کردار پر جو کامل اعتماد حاصل ہوا ہے، اس درجے کی سعادت شاید ہی دنیا میں کسی اور ملک کے حصے میں آئی ہو۔ یہ وہ مخلصانہ پذیرائی اور وقار ہے جس کے انمٹ نقوش تاریخ کے اوراق پر ثبت ہو چکے ہیں اور جنہیں رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔

اس جنگ کے محرک کردار یعنی ایران، امریکہ اور اسرائیل کی قیادت جب بھی اپنی سوانح عمریاں لکھے گی، تو ان میں پاکستانی قیادت کی غیر جانبدارانہ، جرات مندانہ اور عدل پر مبنی ثالثی کی داستانیں سنہری حروف سے رقم کرے گی۔ سفارت کاری اور دفاع کے محقق صدیوں تک اپنی تحقیقات میں اس کا حوالہ پیش کرتے رہیں گے۔

مادی مفادات سے بالاتر سفارتی بلندیاں

اگر اس جنگ پر غور کیا جائے تو اس کے کئی پہلو ہیں؛ طاقت کے گھمنڈ سے لے کر معاشی مفادات اور جغرافیائی تبدیلیوں کی خواہشات تک، اربوں ڈالر پانی کی طرح بہائے گئے جو اب اپنی مایوسیوں پر سر پٹخ رہے ہیں۔ عالمی سطح پر یہ مقام کسی کو خیرات میں نہیں ملتا، اس کے پیچھے سفارتی مہارت، اعلیٰ قیادت کی فراست اور سب سے بڑھ کر اللہ کا فضل کارفرما ہوتا ہے۔

جہاں تک مادی مفادات کی بات ہے، تو یہ نہ پاکستان کی نیت تھی اور نہ کبھی ہوگی۔ پچھلے دو سالوں کے دوران درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان نے جس انداز سے یہ عالمی تاریخ مرتب کی ہے، اس کے بعد دنیا کی نظروں میں پاکستان جن سفارتی بلندیوں پر پہنچ چکا ہے، وہاں مادی مفادات اپنی حیثیت کھو بیٹھتے ہیں۔ آج اقوامِ متحدہ جیسے عالمی اداروں کے اہلکار اور عالمی برادری کے سربراہان پاکستان کے لیے "نوبل امن انعام" جیسی سفارشات کر رہے ہیں۔ پاکستان اس عزت افزائی پر شکر گزار ضرور ہے، مگر اس کا مشن ایسے دنیاوی اعزازات سے بہت آگے کا ہے۔

انسانیت کی بقا کا قرآنی وژن

انسانیت کی جان کی حفاظت کا مشن کوئی عام کردار نہیں ہے۔ قرآنِ کریم کا فرمان ہے:

"جس نے ایک انسان کی جان بچائی، اس نے گویا پوری انسانیت کی جان بچائی۔" (المائدہ: 32)

پاکستان نے ایک بڑی جنگ کو ٹال کر اس آیتِ مبارکہ میں چھپی حکمت کو درجہ کمال تک پہنچا دیا ہے۔ حدیثِ قدسی کے مطابق جب کوئی انسان اللہ کی رضا کے لیے بھوک پیاس برداشت کرتا ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ "اس کا صلہ میں خود دوں گا"۔ تو ذرا سوچیے، جس کردار یا قیادت نے اربوں انسانوں کو جنگ کی ہولناکی، بھوک، پیاس اور نسلوں کی تباہی سے بچایا ہو، اس کے اس عمل پر ربِ کائنات نے کس قدر فخر کیا ہوگا اور وہ اسے کیا کیا انعامات اور فضل عطا کرے گا، اس کا حساب کوئی انسان نہیں لگا سکتا۔

سازشی عناصر اور عالمی قیادت کی آزمائش

جو لوگ آج بھی اس امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی افواہیں پھیلا رہے ہیں، ان سے میں صرف اتنا کہوں گا کہ پاکستان اپنا تاریخی کردار ادا کر چکا ہے اور اس امن کو پائیدار بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔ لیکن اب یہ معاملہ اللہ نے اپنے فضل سے یہاں تک پہنچایا ہے، تو وہ کبھی بھی فسادیوں کے شر کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ جب مشکل ترین مراحل میں شرپسند ناکام رہے، تو اب وہ کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

اب آزمائش دنیا کی عالمی قیادت کی ہے اور یہ ان کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شرپسند قوتوں کی حوصلہ شکنی کریں اور اس امن معاہدے کو پائیدار اور مستکم بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ 

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین