سوچ کی غذا

‏ghorofikr لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏ghorofikr لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 28 اپریل، 2026

اسلامی تعلیمات عقائد اور ایمان کو پرکھنے کی کسوٹی ہیں، نہ کہ افراد پر کفر و شرک کے فتوے جاری کرنے کا اختیار۔

اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو نہ صرف اللہ سے جوڑتا ہے بلکہ امتِ مسلمہ کو ایک وحدت میں پروتا ہے۔ اس کی بنیادی روح اتحاد، اعتدال اور باہمی احترام پر قائم ہے۔ اسی لیے قرآن مجید میں واضح حکم دیا گیا:

“اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو” (آل عمران: 103)

اور ایک اور مقام پر سخت تنبیہ کی گئی:
“جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور فرقے بن گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں”
(الانعام: 159) یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اسلام میں اصل چیز وحدتِ امت ہے، نہ کہ گروہ بندی۔

ہفتہ، 4 اپریل، 2026

طاقت، توازن اور انسانیت: ایک نئے فکری فریم ورک کی ضرورت

اگر طاقت انسانیت کے تابع نہ ہو تو وہ ہمیشہ تباہی کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ 


دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں طاقت کا توازن بظاہر موجود تو ہے، مگر انصاف، اخلاقیات اور انسانیت کا توازن تیزی سے بگڑتا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر جاری تنازعات، اقتصادی مفادات کی کشمکش، اور طاقت کے بے دریغ استعمال نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا موجودہ عالمی نظام واقعی انسانیت کی فلاح کے لیے کام کر رہا ہے یا محض طاقت کے ارتکاز کا ذریعہ بن چکا ہے؟

یہ حقیقت اب کسی دلیل کی محتاج نہیں رہی کہ طاقت کا استعمال زیادہ تر اقتصادی اور سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ہو رہا ہے، جبکہ انسانی اقدار، ریاستی خود مختاری اور اخلاقی اصول ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے میں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے:
کیا طاقت کو کسی اخلاقی اور انسانی توازن کے تابع کیا جا سکتا ہے؟

اسی سوال کے تناظر میں ایک نئے فکری زاویے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، جسے ہم “Human-Centric Balance Framework” کا نام دے سکتے ہیں۔

جمعہ، 20 مارچ، 2026

رمضان کی تربیت اور عید کی حقیقی خوشی

جب یہ سطور آپ کی نظر سے گزر رہی ہوں گی تو کہیں عید کی خوشیاں دم توڑ چکی ہوں گی اور کہیں ان کے استقبال کی تیاریاں عروج پر ہوں گی۔ عید، جو مسلمانوں کے لیے مسرت، شکر اور اجتماعیت کا پیغام لے کر آتی ہے، ہم ہر سال روایتی جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں، مگر شاذ و نادر ہی اس خوشی کے اصل مقصد اور اس کے پس منظر پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی خوشی اس وقت تک اپنی معنویت کھو دیتی ہے جب تک اس کے سبب اور مقصد کو نہ سمجھا جائے۔ جیسے ہم کسی دعوت میں شریک ہونے سے قبل اس کی وجہ جاننا ضروری سمجھتے ہیں، ویسے ہی عید کی خوشی کو سمجھنے کے لیے رمضان المبارک کی روح کو جاننا ناگزیر ہے۔
رمضان محض بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل تربیتی نظام ہے، جو انسان کو تقویٰ، صبر، شکر، استغفار اور ایثار جیسے اوصاف سے آراستہ کرتا ہے۔ یہ مہینہ دراصل ایک سالانہ تربیتی کورس ہے، جس کے ذریعے ایک مسلمان اپنی اصلاح کرتا اور اپنی زندگی کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی مشق کرتا ہے۔

منگل، 10 فروری، 2026

زندہ و جاوید ہونا

زندہ و جاوید ہونے کے لئے مقصد کو زندہ کرنا پڑتا ہے۔ اگر دنیا کی تمام آسائشیں بھی مل جائیں تو بھی زندگی مقصد کے بغیر بے معنی سی رہتی ہے یہی وہ راز ہے جو اس  زندگی میں خوبصورت رنگ بھرتا ہے۔ زندگی کے ان خوبصورت رنگوں میں ڈھلنے  کے لئے خاص سوچ، دل اور نگاہ چاہیں جنہیں ان سب رنگوں کے دلکش حسین امتزاج کا ادراک ہو سوچ کی غذاء

اتوار، 19 جنوری، 2025

منبر، مسجد و مدرسے کا انتظام سنجیدہ سوچوں کے سپرد کئے بغیر فرقہ واریت سے چھٹکارہ ممکن نہیں۔

مدارس کی رجسٹریشن کا نیا قانون بن گیا ہے جس پر مولانا فضل الرحمن، جنہیں پارلیمان میں مذہبی حلقوں کی نمائندگی کا شرف حاصل ہے نے اسے  پارلیمان کی بالادستی کہتے ہوئے مذہبی حلقوں کو مبارکباد دی ہے کہ اس سے ان کی آزادی اور خود مختاری قائم رہے گی۔  اس معاملہ کے متعلق پائے جانے والے دیرینہ فرقہ واریت کے تاثرات بارےخدشات میں کوئی کمی آئے گی یا نہیں بارےحتمی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا  لیکن محسوس یوں ہو رہا ہے کہ اگر مسالک اور نظریات کی شناخت کے ساتھ رجسٹریش جاری رہتی ہے تو پھر اس سے فرقہ واریت میں فرق پڑنے کی بجائے اسے مزید  تحفظ فراہم   ہوگا۔

 عسکریت پسندی، شدت پسندی، مذہبی منافرت پر مبنی سرگرمیوں میں مدارس کی تعلیم و تربیت کےکردار بارے شکوک شبہات دور کرنے کے لئے قانون میں ترامیم بھی کی گئی ہیں جن کی رو سے مدارس میں عسکریت پسندی، شدت پسندی یا مذہبی منافرت بارے مواد شائع کرنے یاپڑھانے پر پابندی لگائی گئی ہے مگر میرے خیال میں تو پہلے بھی اس طرح کا کوئی خاص نصاب نہیں پڑھایا جاتا جس میں باقاعدہ عسکریت پسندی، شدت پسندی یا فرقہ واریت کی تعلیم دی جاتی ہو۔

دراصل اس طرح کی ذہن سازی تو اسلامی تعلیمات کی تشریحات کے دوران فرضی داستانوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے جس کا زیادہ تر احتمال یا انحصار ہی سینہ بہ سینہ چلنے والی کہانیوں  پر ہوتا ہے جن میں  ایک فرقہ دوسرے کو درود شریف کا منکر تو دوسرا اپنے آپ کو موحد اور دوسروں کو مشرک کہتے ہوئے اپنے پیروکاروں کے ایمان  و یقین کو پختہ کرتے ہوئے ان خدشات کو ایمان کا حصہ بنا رہا ہوتا ہے اور کوئی اہل بیت کی محبت میں صحابہ کی زندگیوں کے متعلق خدشات اور کوئی  صحابہ کے حب میں ان خدشات کو کفر کی بنیاد بنا کر فتوے جاری کر رہا ہوتا ہے جس کی بنیاد ایسا اختلافی لٹریچر ہے جن کے مصنفین کا تعلق مخالف فرقوں سے ہوتا ہے جو نہ تو مدارس میں پڑھایا جا رہا ہوتا ہے اور نہ ہی ڈھونڈنے پر کبھی ملا ہے۔

حالات و واقعات سےمحسوس ایسے ہوتا ہے کہ اس کی حساسیت کا ابھی تک ہمیں اندازہ ہی نہیں ہو پا رہا  اور اس کا حل اس وقت تک ممکن نہیں  جب تک مذہبی حلقوں کو خود یہ احساس نہ ہو کہ مذہبی منافرت سے دین کا نقصان ہو رہا ہے جس کے لئے حکومت کو اس حساس مسئلے کے نقصانات بارےمذہبی حلقوں کو باور کروانا ہوگا جس کی ذمہ داری اسلامی نظریاتی کونسل کو سونپی جا سکتی ہے۔ اور باقائدہ اصلاحات لا کر ایسا ماحول پیدا کرنا پڑے گا جس میں علماء کا حکومت پر اعتماد بڑھ کر مذہبی حلقوں اور حکومت کے درمیان عدم اعتماد کا ماحول ختم ہو اور ساتھ ساتھ تعلیمی نظام کے اندر ہم آہنگی پیدا کی جائے خواہ وہ دینی مدارس کی تعلیم ہو یا دوسرے سکولوں اور کالجز کی۔ تعلیم میں اس بات پر توجہ دی جائے  کہ ہمارے فارغ التحصیل انسانی ذرائع کا علم و ہنر کیا ہماری قومی ضروریات سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ ان مدارس سے فارغ طلباء بھی اس ریاست کے انسانی وسائل ہیں جن کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا کوئی لائحہ عمل ہونا چاہیے تاکہ ان کے لئے بھی مواقعے پیدا ہوں  اور جب وہ کسی ذمہ دار عہدے پر ہونگے تو خود بخودہی ریاست کے ضابطہ اخلاق کے اطلاق کے تحت آ جائیں گے۔

مدارس میں تعلیمات کے حصول کے بعد طلبا فارغ اوقات میں  کچھ نہ کچھ تو کریں گے اور کچھ نہیں تو ان کے کسی نہ کسی مذہبی تنظیم کا حصہ بن کر  ان کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا احتمال بڑھ جاتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا کے دور میں زمانے کے انداز بدلنے سے تبلیغ کا انداز بھی بدل گیا ہے جس کے متعلق سب سے بڑا مسئلہ اس وقت نگرانی  کا ہے جو پہلے ہی حکومت کو سیاسی سطح پر بھی درپیش ہے۔ سوشل میڈیا پر مذہبی پروگراموں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے جس سے معاشرے میں ان اختلافی مسائل پر بحث مباحثہ پہلے سے بھی زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر کسی شرعی یا مذہبی نقظے پررائے دینے کے متعلق قانون بنایا جانا چاہیے جس میں مبلغ کے لئے کسی مذہبی مدرسے سے مستند تعلیم، کسی ماڈل مدرسے میں درس وتدریس کا تجربہ اور کسی جامع مسجد میں کم از کم دس سال خطابت کے تجربے کو بنیادی شرائط رکھا جائے  تاکہ سنجیدہ سوچ کے حامل لوگوں کےسوشل میڈیا پر مذہبی معاملات میں رائے دینے کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی طرح کچھ مساجد کی امامت اور خطابت شروع کر دیتے ہیں جہاں ان کی سوچ و عمل کامعاشرے کی تشکیل پر سب سے گہرا اثر دیکھنے کو ملتا ہے۔

مساجد کا کردار صرف عبادات تک ہی  محدودنہیں بلکہ ان کے اندر دی جانے والی تعلیم و تربیت کا ہماری مجموعی معاشرتی زندگی سے لے کر ریاست کے انتظامی معاملات تک گہرا اثر پڑتا ہے۔ آج بھی دیہاتی علاقوں میں بچہ جب بولنے اور چلنے کے قابل ہوتا ہے تو اس کو مسجد میں بھیجنا شروع کر دیا جاتا ہے جہاں ان کے عقیدوں اور نظریات کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اسلام سے محبت اور دین کی اتباع کا درس دیا جاتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول تک پہنچنے کے لئے مولوی کی اتباع سے مشروط ہے اور دین کو سمجھنے کے لئے ہمارا پورا معاشرہ انہیں مساجد کے اماموں اور خطیبوں کی مرہون منت ہے اور آج بھی ہمارے ملک میں جوانتہا ءپسندی کی شکار سرگرمیاں جاری ہیں ان کا کسی نہ کسی طرح سے ایسی ہی تراغیب سے تعلق نکلتا ہے۔

مذہبی منافرت اور انتہاء پسندی کی سرگرمیوں میں باقائدہ مساجد میں اعلانات کر کے اشتعال انگیزی کی شہادتیں رپورٹ ہوتی ہیں اس لئے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کی ذمہ داری کا دینی ماحول سے جڑے ہونے کے تاثر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اپنے نظریات اور عقائد کی تقلید میں دوسرے نظریات اور عقائد کے پیروکاروں پر تشدد اور ان کی جانوں کو لینے کے سلسلے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سب علماء کا ہی یہی حال ہے مگر معاشرے کی عمومی حالت کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے اس معاشرتی تربیت کے متبادل نظام کی اصلاح کی اشد ضرورت  ہے جس کی بدولت  آج ہم اس انتہاء پسندی کی آگ میں جھلس رہے ہیں۔ اگر ہم اس تسلسل کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو پھر ان تربیت گاہوں کے انتظامی امور کو مثبت سوچوں کے حامل لوگوں کے  سپرد کئے بغیرکنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔

مسجد اللہ کا گھر ہے اور اس کا انتظام ایک اسلامی ریاست کے اندر حکومت کی ذمہ داریوں میں آتا ہے۔ اگر تمام مساجد کا انتظام حکومت کے لئے ممکن نہیں تو کم از کم جامع مساجد کے لئے آبادی اور خطیب کے لئے مستند تعلیم یافتہ ہونے کی شرائط تو رکھی جائیں جس کے اندر ریاست کے انتظامی معاملات میں اس کے مثبت کردار کے لئے بھی کوئی ریفریش کورسز کا اجرا کیا جائے تاکہ ان کو اپنے ریاست کے اندر کردار کا اندازہ اور اس کی نزاکت کا احساس تو ہو۔ اسی طرح فتوؤں کے اجراء کے لئے بھی حکومت کو مدارس سے فارغ مفتیاں کی رجسٹریشن کی کوئی اتھارٹی قائم کرنی چاہیے جس میں وہ کم از کم ٹیسٹ کے بعد یہ اہلیت حاصل کریں اور کسی ضابطہ اخلاق کی پابندی بھی ان پر لاگو کی جا سکے۔ اسی طرح نئی مسجد اور مدرسے کی رجسٹریشن سے قبل اس کے امام یا استاد کے متعلق شرائط کو پورا کرنا لازمی قرار دیا جائے۔

جب ایک سکول یا کالج کے استاد کو ساٹھ یا سو کے قریب طلباء کو تربیت دینے کے لئے پیشہ ورانہ تعلیم اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں نفسیات سے لے کر تربیت کی مختلف تھیوریز پڑھائی جاتی ہیں اور ایک استاد کم از کم دس سال کے تجربے کے بعد اسٹنٹ پروفیسر بنتا ہے تو جس نے پورے معاشرے کی عمومی تربیت کرنی ہوتی ہے کیا اس کو کسی پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی اس کے لئے بس علماء والا حلیہ ہی کافی ہے جس میں داہڑی، ٹوپی اورہاتھ میں تسبیح  ہو۔

جب اس کائنات کے خالق نے اپنی قربت کا معیار تقویٰ رکھا ہے تو کیا اس کے گھر مسجد کا انتظام دیتے ہوئے اس کی قربت کے معیار کا خیال نہیں رکھا جانا چاہیے؟ کیا اس کے گھر کا انتظام سنبھالنے والے کے دل میں اللہ کے رسول کے لقب رحمت العالمیں ہونے کی خوبی کی توقع نہیں کی جانی چاہیے؟ کیا اپنی امت جس میں مسلمان اور کافر دونوں شامل ہیں کی فکر میں کھولتے  ہوئے پانی کی طرح کی آواز دیتے  ہوئے سینے کی لاج نہیں رکھی جانی چاہیے؟ کیا اس سوچ کی اطباع میں مسجد کے امام کے دل میں انسانیت کی محبت کو نہیں دیکھا جانا چاہیے؟ کیا مسجد کا انتظام سونپتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جانا چاہیے کہ اس شخص کا معاشرے کی تعمیر و تربیت میں کتنا تجربہ اور  سابقہ کارکردگی   یا سرگرمیاں کیا ہیں؟  کیا اس کو اپنے پیشہ میں ماہر ہونے کے لئے معاشرے کی نفسیات  اور ملکی نظم و ضبط کو سمجھنے کی کوئی ضرورت نہیں؟

دینی مدارس کی رجسٹریشن میں بھی تعلیمی درجات کی مطابقت سے کوئی نگرانی کا عمل ہونا چاہیے اور جید علماء کی نگرانی میں چلنے والے مدارس  جیسا کی جسٹس تقی عثمانی، قاری منیب اور کئی دوسرے علماء شامل ہیں کو ماڈل مدرسوں کا درجہ دیا جائے اور ہر خطیب کے لئے کم از کم ان ماڈل مدارس میں ایک سال کی درس وتدریس کی شرط کو لاگو کیا جائے تاکہ وہاں ان جید علماء کی نگرانی میں ان کے رویوں کواسلامی اقدار کے حامل  معاشرے کی تشکیل کی خوبیوں اور صلاحیتوں سے مزین کیا جاسکے اور ایک مدرس کی ذمہ داریوں متعلق ان کی تربیت کو یقینی بنایا جا سکے ۔ مذید ان کی درس و تدریس میں ریاست کے قوانین اور انتظامی معاملات کو جاننے اور سمجھنے کی  قابلیت کو یقینی بنانے کے لئے بھی ریفریش کورسز کا انتظام ہونا چاہیے۔ ان ماڈل مدارس میں درس و تدریس سے منسلک اساتذہ کی باقائدہ تربیت بڑی بڑی یونیوروسٹیوں میں پڑھانے والے اساتذہ کی طرز پر کی جائے تاکہ تعلیمی نظام میں یکسانیت کی ضرورت کو پورا ہونے کو  بھی یقینی بنیا یا جا سکے۔

اسی طرح ان مدارس سے تعلیم پانے والوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے  کوئی  ایسا میکنزم بھی بنایا جائے جس میں دینی تعلیم والوں کے لئے ذمہ داریوں اور ملازمتوں کے مواقع پیدا  ہوں۔ جن میں عدالتوں میں معاون، شرعی مسائل پر فتوے جاری کرنے کے لئے رجسٹریشن کا ادارہ، قاضی کورٹس، تھانوں کی مصالحتی کمیٹاں، یونین کونسلوں کی ثالثی کمیٹیاں، پولیو یا دوسرے صحت کے مدافعانہ سکیموں کی ٹیموں کی معاونت کا کردار اور اسی طرح تحصیل اور ڈسٹرکٹ لیول کی مساجد کے علماء کو انتظامی کمیٹیوں میں شامل کر کے حکومتی پالیسیوں کے اطلاق میں ان کے مثبت کردار میں مدد لی جا سکتی ہے۔ اگر ان لوگوں کی ایسی جگہوں پر شمولیت ہوگی تو نہ صرف  وہ خود ضابطہ اخلاق کے پابند ٹھہریں گے بلکہ دوسروں کی اخلاقات کی درستگی میں بھی ممدومعاون ہونگے اور اس سے دین اور دنیا کے درمیاں حائل تعصب بھی ختم ہوگا۔

ایسی اصلاھات کے زریعے سے دینی حلقوں کے کردار کو فعال نظام کا حصہ بنانے میں مدد ملے گی۔ اس کے لئے حکومت کو شروعات کرنی چاہیں مگر اس کی کامیابی کا راز مذہبی راہنماؤں کی رضاکارانہ کوششوں سے مشروط ہے اس کے بغیر خاطر خواہ فائدہ تو کیا اس کوشش کو مزاحمت سے بھی نہیں بچایا جا سکتا ہے اور یہی خوف آج تک اس معاشرتی بگاڑ کی اصلاح میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے جس کا تاثرموجودہ قانون سازی کے عمل کے دوران بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔

میری اس ملک کے جید علماء جن میں مولنا فضل الرحمن، قاری منیب، جسٹس تقی عثمانی اور داسلامی نظریاتی کونسل کے ممبران علماء اکرام ہیں سے بھی گزارش ہے کہ جب وہ مدارس دینیہ کو اسلام کے قلعے اور پاکستان کے نظریاتی جغرافیے کے محافظ سمجھتے ہیں تو پھر ان کو ان قلعوں اور محافظوں کے معیار اور آپس کے اختلافات سے اسلام کی شناخت کے بگڑنے کے عمل بارے بھی فکر مند ہونا چاہیے۔ ان قلعوں کے کمانڈروں کے آپس کے اختلافات سے اس طاقت کے کمزور پڑنے کااحساس بھی ہونا چاہیے۔

علماء انبیاء کے وارث ہیں ان کا بہت بڑا مقام ہے اور یہ وراثت قرآن و حدیث کا علم ہے جس کے ثمرات محبت، امن، اخلاق حسنہ، اخوت، بھائی چارہ، برابری، بردباری، تقویٰ، ایثار اور احسان ہیں ۔اس وراثت کی تقسیم اور ذمہ داری کی کارکردگی کو پرکھنے کا پیمانہ ہماری معاشرت جس میں عبادات سے لے کر ہمارے معاملات تک کا ہر عمل شامل ہے سے ابھرتا ہوا عمومی تاثر ہے جس کا اندازہ ہمارے آج کے ماحول سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

اس لئے علماء اگر علماء بر نہ منائیں تو ان کو اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لئے آپس کے اختلافات کو باہمی گفت شنید کا ماحول دینا ہوگا جو اصلاح کی بنیادی شرط ہے۔ انہیں اپنے علمی اختلافات کو اپنی باہمی نشستوں تک محدود  رکھتے ہوئے عام لوگوں تک  فروعی اختلافات کے نقصانات سے بچنے کا ماحول اخلاق حسنہ کے ثمرات کا پہنچنا یقینی بنانا ہوگا ۔اپنی انبیاء کی وراثت کو اس کا اصل مقام دینا ہوگا جس کی تقسیم اور اگلی نسلوں کے سپرد کرنے کی ذمہ داری انہوں نے خود رضاکارانہ طور پر اٹھائی ہوئی ہے جس کی ان سے یوم حساب کو جوابدہی بھی ہوگی۔

تاریخ کا اگر مطالعہ کریں تو اس وراثت کی ترسیل کے دوران ہمیں نبی آخرالزمان ﷺ اور خلفاء راشدین کے ادوار میں کہیں بھی  کسی کلمہ گو کو کافر، مشرک یا بدعتی کہنے کی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی لہذا ہمیں بھی اپنے انداز تبلیغ  کو انہیں اقدار اور معیار کے مطابق بنانا ہوگا۔ اور اگر کسی کے پاس اس کی توجیح یہ ہو کہ اس وقت اس طرح کے اعمال کئے ہی کب جاتے تھے تو میراسوال ہے کہ یہ اعمال شروع کس نے کئے؟ یہی تو میرے پہلے سوال میں چھپا ہوا مطمع نظر ہے۔

قابل صد احترام ان داعیوں سے گزارش ہے کہ ان تمام تر اعمال جن سے شرک، کفر اور بدعت کے تاثر کا گمان ملتا ہے کا تعلق انہی  کی انفرادی شناخت کے متحمل عقائد سے ہے جن کے اندر اپنے سوا اوروں  کو کافر، مشرک یا بدعتی سمجھنا ہی ایماندار اور پکا مسلمان ہونے کے یقین کی تعلیم و تربیت کی شرط رکھی جاتی ہے، اور اسی سوچ و عمل سے ان فرقوں نے جنم لیا ہے۔

 میں سمجھتا ہوں کہ  ہمارے ملک جس کو اسلامی تعلیمات پر عمل کے لئے حاصل کیا گیا کے اندر اسلام کی شناخت میں یکسانیت کو بحال کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ جس کے لئے فرقوں کی ترجیحات کو چھوڑ کر، مسجدوں سے نظریات اور مسالک کے پہرے اٹھا کر انہیں اللہ کا گھر سمجھتے ہوئے مسلمانوں کو عبادات کی ادائیگی میں آزادی دینی ہوگی۔ ان کے اندر سے فرقہ واریت کی تعلیمات سے عبادات کی قبولیت کے خوف کو ختم کرکے تقویٰ اور خشوح و خضوع کو ان کی توجہ کا مرکز بننے کا ماحول مہیا کرنا ہوگا تب ہی اسلام کے اصل مقصود انسانیت کی فلاح کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

 اس بگڑتی ہوئی صوتحال کی فکر کرتے ہوئے حکومت کو مساجد کی سرپرستی اور علماء کو اس کا ساتھ دینا ہوگا۔ دینی حلقوں سے گزارش ہے کہ اپنے مدارس کو شہروں، سلفاء اور اکابریں کے ناموں پر  رکھتے ہوئے اسلام کی شناخت کو فرقوں میں بانٹنے کی بجائے اپنے اعمال اور تعلیم و تربیت سے اسلام کی شناخت میں یکسانیت کو فروغ دیں۔ جب انکی تعلیم و تربیت، تبلیغ اور عمل سے اسلام کی شناخت میں یکسانیت کے ثمرات سے اسلام سرفرازی حاصل کرتے ہوئے امن، بردباری اور بھائی چارے کو فروغ ملے گا تو لوگ ان کی درسگاہوں اور اکابریں کی کاوشوں تک  سراغرسانی کرتے ہوئے خود ہی پہنچ جائیں گے اور پوچھیں گے کہ اسلام کے اس خدمتگار کی تعلیم و تربیت کے حصول کی نسبت کس مدرسے یا بزرگ سے ملتی ہے۔

اور اگر اسی طرح ان ناموں کی نسبت سے فرقہ واریت جاری رہی تو ان سے نفرتوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اور اگر اس حساس مسئلے پر توجہ نہ دی گئی تو فرقہ واریت کی آگ میں جھلستے معاشرے کی دین سے بڑھتی ہوئی نفرت سے لوگ اسلام سے دور ہوتے جائیں گے اور حالات کا ذمہ دار ان علماء اور اسلامی تعلمات کو ٹھہرایں گے  جن میں ایک فرقے کا عالم دوسرے فرقے کے مولوی سے نفرت پیدا کر کے دین میں تفریق سے اسلام کی شناخت اور یک جہتی کو نقصان پہنچا رہا ہے اور نتیجتاً وہی مذاہب کے دخل  سے آزاد سیاست پر زور دیا جانے لگے گا جس کا وقت حکومت اور سنجیدہ علماء دنوں اطراف سے احساس کے جگانے کا تقاضہ کر رہا ہے۔

 

ہفتہ، 31 اگست، 2024

قومی سطح پر اسلامی تشخص کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔


پاکستان کو، اس کے سرکاری نام کی نسبت سے، عالمی سطح پر ایک اسلامی جمہوری ریاس کی پہچان رکھنے کا شرف حاصل ہے جس کی بنیاد اس کی آزادی کے حصول کی تحریک ہے جو آج بھی ہمارے آئیں کے دیباچے کا بنیادی جز ہے جس کے تحت پاکستان میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت سے متصادم نہیں بنایا جا سکتا۔ یوں ہمارا آئین ہمیں قومی سطح پر اسلامی تشخص اپنانے کا پابند بھی ٹھہراتا ہے جس کا اطلاق کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں اخلاقی و شرعی طور پر  ہی نہیں بلکہ  آئینی و قانونی لحاظ سے بھی قومی اور عالمی سطح پر اسلام کی روح سے ہم آہنگ تاثر کو یقینی بنانے کی ذمہ دار ہیں۔  جس کا احساس سرکاری سطح سے لے کر عوامی سطح تک اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جس میں قانون کے اطلاق کو یقینی بنانے والے اداروں، اسلامی نظریاتی کونسل اور مذہبی حلقے کے علماء کا اہم کردار بنتا ہے۔

مگر ہمارے ہاں اس کےبرعکس سیکولر دکھنے کی کوشش ایک فیشن بنتی جارہی ہے جو ہماری اندر کی نفسیاتی کمزوریوں کی طرف نشاند ہی ہے جس کی بنیاد ہماری ان سوچوں کی عکاسی ہے جنہوں نے ہمارے اندر مذہب، تعلیم اور نظریات کی بنیاد پر گہری خلیجیں حائل کر رکھی ہیں۔ ہم اپنے اپنے شعبے، کام اور عمل میں خواہ سیاست ہو یا  رسومات مذہب کے نام پر اسلامی ٹچ تو دینا چاہتے ہیں لیکن عملی طور پر ہم اس کی تعلیمات پر عمل کو دقیانوسی سمجھتے ہیں جو ہماری معاشرتی تباہی کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ ہم مسلمانوں کی شناخت تو رکھتے ہیں مگر شخصیت نہیں۔ حالانکہ اسلام کی تعلیمات تو مثالی ہیں جو ایک مثالی معاشرہ اور جمہوری ریاست بنئے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں بشرطیکہ ہمیں اس کا ادراک ہو تو۔ ہم اگر اسلامی اصولوں کو اپنی جمہوریت اور سیاست کا حقیقی معنوں میں حصہ بنا لیں جن میں اقلیتوں کے حقوق سے لے کر حکومت سازی، احتساب کے عمل اور برابری کو بنیادی شرط رکھا گیا ہے، تو دنیا میں ایک نمونے کے طور پر اسلامی جمہوری ریاست ہونے کا شرف حاصل کر سکتے ہیں جو اسلامی دنیا ہی نہیں بلکہ سیکولر ریاستوں کے لئے بھی بہترین گورننس کے طور پر ایک مشعل راہ ہو۔ 

ہمارے قومی سطح پر اسلامی تشخص کے بگاڑ کی کئی ایک وجوہات میں سے بنیادی وجہ فرقہ واریت بھی ہے جس کی بنیاد اسلامی تعلیمات کی غلط تشریح ہے جس میں ہمارے مذہبی پیشواؤں کے ماحول اور ذاتی خواہشات کا رنگ بھی نظر آتا ہے۔ ہمارے ماحول کے اسلامی تعلیمات پر اثرات سے دین کی تشریحات نے ہمیں ہماری خواہشات اور ماحول کی بنیاد پر تقسیم کر کے ہمارے درمیان خلیجیں حائل کر دی ہیں۔

خطابت اور بلاغت کے عقب میں معاشرے کی تشکیل  کی بجائےاسے تباہ کیا جا رہا ہے ۔ معاشرے کے اس ۔ نہ صرف مذہبی حلقوں کے درمیاں بلکہ رسمی اور دینی تعلیم رکھنے والوں کے درمیان بھی ضد کی بنیاد پریہ خلیجیں مزید گہری ہورہی ہیں۔

یہ جو  ایک دوسرے کو کافر اور مشرک کہنے کا رواج پنپ چکا ہے، بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں ہر ایک کو اس کے اپنے ایمان، عبادات اور معاملات کو ٹھیک کرنے کے احکامات اور کسوٹی مہیا کی گئی ہے مگر کسی فرد کو دوسرے فرد کے ایمان اور عبادات کو پرکھنے کا کوئی اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ اس کی بنیاد پر شرک اور کفر کے فتوے جاری کرتا پھرے۔ یہاں سب اپنے ایمان کو کسوٹی پر پرکھنے کی بجائے دوسروں کے ایمان کی کھوج مین لگے ہوئے ہیں اور یہ سلسلہ علماء کے عمل سے شروع ہوا ہے۔ ایک فرقے کا مولوی جب دوسرے فرقے کے مولوی سے نفرت کروا رہا ہوگا تو معاشرے میں فطور پھیلنے کے علاوہ توقع بھی کیا کی جاسکتی ہے؟ بلکہ یہی عمل حکومت کے انتظامی اور عدل کے امور کے دائرہ کار و اختیار میں دخل اندازی کا موجب بن رہا ہے۔ اور سوسائٹی اسی سوچ کے تحت ایک ایسا پریشر گروپ بن چکی ہے کہ انتظامیہ اور عدلیہ ان کے دباؤ کی وجہ سے ان نظریاتی دہشت گردوں کو حکومت گرفتار کرنے اور عدلیہ ان کے خلاف فیصلہ دینے سے گھبراتی ہے اورتوہیں مذہب کے مقدمے سالہا بغیر کاروائی کے پڑے رہتے ہیں۔ اگر ریاست کا آئیں و قانون کسی کے حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی پر دادرسی کا طریقہ کار بھی مہیا کرتا ہے جس کو اس کی مطابقت سے ہی منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے نہ کہ افراد یا گروہ کی خواہشات اور دباؤ کے تحت۔

اگر ہم اسلامی تعلیمات کے صحیح تصور کو سمجھیں تو توحید، رسالت اور ریاستی امور کی بلترتیب اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے اور ایک اسلامی ریاست کے امیر کی اطاعت کو بھی حکما" لاگو کیا گیا ہے۔ اگر اسلامی تعلیمات کی صحیح تشریح اور معاشرے کی اسلامی اقدار پر قائم تشکیل ہوئی ہوتی تو آج جو یہ آئے دن مذہب کے نام پر احتجاج، ہڑتالیں،توہین رسات اور مذہب کے نام پر قتل و غارت کی جاتی ہے یہ کبھی بھی نہ ہوتی۔

کسی بھی مذہبی یا انسانی حقوق کی پاسداری کا قانون فرد یا گروہ کی خواہشات کے تابع نہیں چھوڑا جا سکتا اور اس بارے ہم قومی سطح پر اسلامی تشخص کی تباہی کا نقصان بھی اٹھا رہے ہیں جو کبھی اپنی ہی قومی املاک کو جلا کر تو کبھی انسانی جانوں کے ضیاع تو کبھی دوست ممالک سے مہمانوں کی جانوں کو سر عام ضائع ہونے سے ملکی و قومی غیرت و حمیت کا جنازہ نکلتے ہوئے عالمی سطح پر رسوائی سمیٹتے ہوئے۔

جس ماحول کے اندر ہمارے معاشرے میں اسلامی تعلیمات دی جاتی ہیں ان کا جائزہ لینےسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اس نظام کے اوپر اٹھنے والے اخراجات صدقہ ، خیرات اورزکواۃ کے پیسے سے ہوتے ہیں جس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس نظام کے اندر  معاشرے کے زیادہ تر مالی وسائل سے محروم طبقات کی شرکت رہی ہے جس کا غالب تاثر آج بھی موجود ہے اور دوسری طرف مالی وسائل سے آسودہ حال طبقہ دین کو سمجھنا ضروری نہیں سمجھتے اور کردار سازی کا عمل دونوں اطراف میں ہی انتہائی ابتری کا شکار ہے۔ تکبر، حسد اور نفرت دونوں اطراف میں انتہا کو چھو رہی ہے۔ ایک طرف بے بسی نے قناعت کا روپ دھارا ہوا ہے تو دوسری طرف آسودگی نے کمینگی کو بھی مات دی ہوئی ہے۔ایک دوسرے کو اس صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے مذہبی طبقہ دنیا داروں اور آزاد خیالوں کو بے دین سمجھتے ہیں اور ان کو  سیکولر ہونے کے طعنے دیئے جاتے ہیں جبکہ دنیا داروں کی طرف سے مذہبی طبقات کو تنگ نظر ، بنیاد پرست اور انتہا پسند کہا جاتا ہے جس سے نقصان ہمارے نظریات، مذہب اور عالمی سطح پر ابھرنے والی قومی تشخص کا ہورہا ہے۔ آسودہ حال سمجھتے ہیں کہ دین کی تعلیم کا حصول معاشی طور پر محروم لوگوں کا کام ہے۔

ہے کہ جیسے اسلام کی تعلیمات دینے والوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر دین کو دنیا کے معاملات اور دنیا داروں سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے جس کا مقصد شائد ان کو حاصل صدقہ خیرات اور زکواۃ کے استعمال  سے معاشرے کی تشکیل کے دوسرے امور  سے دور اور بے دخل رکھنا تھا جس کی پاداش میں دنیا داروں  انکے معاملات، دین کے علم اور دوسرے علوم کے درمیان ایک لمبی خلیج حائل کر دی گئی۔ یہاں تک کہ دوسرے شعبہ جات کی تعلیمات کو ہی اسلامی تعلیمات کے خلاف پیش کرتے رہے جس سے آج ہمارے اکثریتی عوام کی یہ سوچ ہے کہ  دین کی تعلیمات کے علاوہ دوسرے علوم کا انسان کی صرف دنیاوی زندگی سے تعلق ہے اور اس کا انسان کی آخرت کی زندگی میں کوئی فائدہ نہیں جو کہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے بنیادی تصور کے ہی خلاف ہے بلکہ انسانی عقل اور شعور کے تقاضوں پر بھی پورا نہیں اترتا۔

کیوں ہم بھول جاتے ہیں کہ اسلام میں حقوق العباد کی کیا اہمیت ہے؟ حقوق العباد کے الفاظ انسانیت کے رشتے کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ آج ہمارے رویوں پر اگر غور کیا جائے تو یہ انسانیت کو یکسر نظرانداز کئے ہوئے ہیں۔ ہماری ان تنگ نظرویوں میں کہیں ذاتی مفادات قومیت پر حاوی دکھائی دیتے ہیں تو کہیں قومیت اور نظریات انسانیت کے رشتوں پر بھاری حالانکہ دنیا کے تمام مذاہب اور افکار نے انسانیت کے رشتوں کو اپنی تعلیمات کی بنیاد رکھا ہے۔ ہمارے نبی آخرالزمان نے بھی اپنی امت پوری انسانیت کو کہا ہے، اسلام نے انسانیت کو مخاطب کیا ہے اور جبر کی نفی کرتے ہوئے اس کو قبول کرنے والوں اور انکار کرنے والوں کی نویدوں اور وعیدوں کے باوجود حقوق العباد پر کسی بھی دوسرے تعلق کو حاوی نہیں ہونے دیا۔ مسلمانوں کو اپنی ریاستوں کے اندر اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کا پابند ٹھہرایا ہے۔ اسلام نے حقوق العباد کی عالمگیریت کو محترم ٹھہرایا ہے بلکہ انسانوں کے علاوہ جانوروں جہاں مذاہب اور نظریات کی شرائط لاگو ہی نہیں ہوتیں ان کے ساتھ برتاو کے بارے میں بھی جوابدہ ٹھہرایا ہے۔

الاقوامی سطح پر بنیاد پرست اور انتہاپسند سمجھا جاتا ہے تو اسکے پیچھے کارفرما ہمارے اجتماعی اعمال سے ابھرنے والا تاثر ہے جس کا اندازہ ہماری نفسیات سے بخوبی عیاں ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی اسلام یا اسلامی شعائر کے خلاف کوئی بات کرے تو ہم اپنے ہی ملک کے اندر احتجاج کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں اور اپنی ہی جان و مال اوراملاک کو نقصان پہنچا کر سکون تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ہمیں اس بات کا کوئی احساس نہیں کہ یہ نقصان ہماری اپنی ہی جانوں، مال اور املاک کا ہے جس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہم عقل شعور سے خالی جذبات رکھتے ہیں، ہمیں فائدے یا نقصان کے اندر کوئی تمیز نہیں اور نہ ہی ہمارے اندر قومی سطح پر کوئی رحم دلی کا عنصر پایا جاتا ہےجس سے ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری اوراپنی ذمہ داریوں کے پورا کرنے کے فقدان کی سوچ کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔

حرمین شریفین میں عالمی اتحاد بین المسلمین کا ماحول ہونے کے باوجود اگر وہاں مسلمانوں کے رویوں اور عمل کے زریعے سے ان کے معاملات پر نظر دوڑائیں تو اکثریت کی حالت۔ اکثریت کے اندر وہاں بھی ایثار نظر نہیں آتا،

یہاں تک کہ انکے اٹھنے بیٹھنے کے اندازوں سے بھی تنگ نظری جھلکتی دکھائی دیتی ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔  وہاں کی انتظامیہ کی بے مثال خدمت اور انتظامی کوششوں کے باوجود راستوں کو بند کرنے سے لے کر پہلے پہچنے والوں کی بڑی بڑی چوکڑیوں اور بعد میں آنے والوں کو جگہ دینےمیں حوصلے کی کمی نہ صرف انکے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے رحمدلی اور محبت کے فقدان بلکہ خود پسندی اور سوچوں کے بگاڑ کی عکاس ہے جو اس وقت ہمارے مسلمانوں کے متعلق ہونے والے عالمی سطح پر منفی پرچار کی تصدیق ہے۔ دنیا کو ہماری عبادات سے کوئی غرض  نہیں مگر معاملات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام ہمیشہ اعلی اخلاقیات کی طاقت کی بنیاد پر پھیلا اور آج اگر تنگ نظری، انتہاپسندی اور دہشتگری کو مسلمانوں سے جوڑا جا رہا ہے تو اس میں مسلمانوں کے رویوں اور علمی و تحقیقی میدان میں پیچھے رہ جانے کی وجوہات شامل حال ہیں۔

حالانکہ دین کا تو مقصد ہی دنیا کی زندگی کو اللہ کے احکامات اور رسول اللہ کی سنت کے مطابق گزارنے کا نام ہے۔ دین و دنیا میں تقابلی مطالعہ در اصل دین کی غلط تشریحات کا نتیجہ ہے۔ دراصل دین دنیا کی مادی چیزوں کو ضروریات کی حد تک اہمیت دیتا ہے اور اصل اہمیت انسانیت کی ہے اور اسی تصور کے تحت اس زندگی کا آخرت کی زندگی سے تعلق قائم کرتا ہے۔ اور ہماراے ہاں دین و دنیا کی تقسیم کے تصور نے دونوں اطراف کو ایک دوسرے کے مدمقابل لا کھڑا کیا ہے اور دیندار دنیا داروں کو سیکولر کے طعنے دے رہے ہوتے ہیں اور دنیا دار دینداروں کو مسلمانوں کے اندر جدید علوم اور ترقی کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ اس وقت اسلامی کے بنیادی تصور سے دوری کا ہی نتیجہ ہے کہ ہماری مادی ترقی نے خالق کائنات کے فطری حسن کو لالچ و طمعہ میں بگاڑ کر اسے ترقی کا نام دے دیا ہے۔ جس سے انسانی کی بہتری کے اسباب کم اور بگاڑ کے زیادہ پیدا ہوئے ہیں۔

در حقیقت اس کا تعلق دین و دنیا، لبرل ازم، سیکولرازم سے نہیں بلکہ تعلیم و تربیت، اخلاقیات، ہماری ثقافت اور رسومات سے پیدا ہونے والے ماحول سے ہے جس نے ہمیں ان دو مخالف انتہاؤں پر پہنچا کر ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے اور ہم اصل حقائق کو سمجھنے سے اس لئے دور ہو چکے ہیں کہ ہمارے درمیان حائل خلیج ہمارے ایمان اور یقین کا حصہ بن چکی ہے جو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ہی نہیں دیتی کہ ہم ان مسائل کی اصل وجوہات کو سمجھ سکیں۔ ہمارے ان نفسیاتی مسائل نے ہمیں آج اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ ہمارےدونوں اطراف کے طبقات سے تعلق رکھنے والے سمجھتے ہیں کہ کامیابی و ناکامی کی اصل تعریف ان کو معلوم ہے مذہبی اطراف والے سمجھتے ہیں کہ جنت کی اسناد ان کے پاس ہیں اور ان کی سوچ و عمل کے نتائج کی صورتحال یہ ہے کہ انسانی جانوں کی حفاظت پر مامور  ہی زندگیوں کے لئے خطرات بن چکے ہیں اور ان کو یہ احساس تک نہیں رہا  کہ ان کو سونپی گئی حفاظت کی ذمہ داری کتنی اہم ہے اور وہ اپنی غیر شرعی اور غیر قانونی اقدامات پر عدالتوں اور ریاستی اداروں سے بھی توقعات رکھتے ہیں کہ وہ انہی آئین و قانون کو بھی نظر اندازکرتے ہوئے ہر طرح کی سہولیات اور تحفظات مہیا کریں اور ان کی سوچوں کو ہی زندگی کا اصل مقصد سمجھیں۔

حکومت کو اپنی آئینی و قانونی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس پر توجہ دے کر قانون سازی سے لے کر تعلیم و تربیت اور قانون پر عملدرآمد تک کی کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے کی صحیح تشکیل، انسانی حقوق کا تحفظ اور انصاف کی فراہم کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانا ہونگے۔

اس کے لئے ہمارے پاس مشعل راہ کے طور پر اسلامی تعلیمات اور عبادات کا مرکز جہاں پوری دنیا کے مسلمان اپنے فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں حرمین شریفین میں رائج نمونہ ہے۔ جہاں نظریاتی اختلافات کی موجودگی کے باوجود سب ایک ساتھ اللہ کی بارگاہ میں ایک ساتھ قیام اور سجود میں عاجزی کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی علماء اپنے نظریاتی اختلاف ضرور رکھیں مگر اللہ کے گھر مساجد کو تو ان نظریات کے پہروں سے آزاد کر دیں۔ وہاں عبادت کو اللہ اور اس کے بندے کا معاملہ رہنے دیں اور جو جیسے چاہے اپنی عبادت کرے ہر کسی کو حرمیں شریفین کی طرز پر آزادی سے عبادت کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اور حکومت کو چاہیے کہ اس پر تمام مکاتب فکر کے علماء اور ان کے پیروکاروں کو اکٹھا ہونے کے لئےقانون کا اطلاق کرتے ہوئے آمادہ کریں۔ حرمین شریفین میں بھی اگر اس پر عمل ہو رہا ہے تو اس میں اہم کردار حرمین شریفین کے انتظامی امور کی ذمہ دار سعودی حکومت ہے جنہوں نے فقہی نظریات کااللہ کے گھروں مساجد میں عبادات پر اطلاق نہیں ہونے دیا اور یہی صحیح اسلامی تصور بھی ہے۔ مساجد اللہ کے گھر ہیں اور ان کے اندر اللہ کے بندوں کی عبادات پر کسی بھی طرح کے کسی بھی فقہی نظریات کے پہروں کو رکاوٹ بننے کی قطعا اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ملک کی تمام مساجد حکومت کی تحویل میں ہونی چاہیں اور ان کے امام اور خطیب حکومتی عہدیدار ہونے چاہیں جس کے اندر بہتری لانے کے لئے مساجد اور ان سے متصل تعلیمی درس گاہوں اور علماء کو سرکاری سطح پر قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ مذہبی حلقوں سے وابسطہ انسانی وسائل کی صلاحیتوں کا تشکیل معاشرہ کے لئے مثبت اور صحیح استعمال ممکن بناکر ان کو فرقہ واریت کے فروغ کی بجائے اس کی روک تھام، محبت، اخوت ، بھائی چارہ اورامن کے لئے استعمال کیا جا سکے۔

اس مقصد کی تکمیل کے لئے آئین و قانون کے اطلاق کے ساتھ ساتھ عملی طور پر معاشرے کے اندر اس طرح کے ماحول کو اجاگر کر نے کی ضرورت ہے جس میں سرکاری سطح سے لے کر عوامی سطح پر اللہ کے رسول خاتمنبیین کے اعلی ٰاخلاقیات کی تعلیمات عام ہوں تاکہ ریاست کے معاملات، سیاست اور مذہب کے درمیان حائل دوریوں کو ختم کیا جا سکے جس سے نہ صرف اپنے اعلیٰ اخلاقیات اور اوصاف کی بنیاد پر مذہبی حلقوں کا طبقہ سیاست اور ریاست کے انتظامی امور میں اپنی جگہ بنا سکے بلکہ حکومتی اور سیاسی سطح پر بھی اسلامی شعار پر عمل سے حقیقی محبت کا تاثر ملے۔ اگر اس مملکت خداداد کے اسلامی تشخص کی بحالی کی فکر ریاستی سطح پر موجود ہو تو اس کے عملی تاثر کے ماحول کی جھلک وزیراعظم اور صدر کے ریاست کی بڑی مرکزی مساجد کی امامت کے ذوق شوق اور قابلیت و اہلیت کے عملی اظہار کی صورت نظر آنی چاہیے۔ معاشرے کے آسودہ، خوشحال اور صاحب اختیار واقتدار لوگوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اگر ان کو اسلام اور اپنے قومی تشخص کی فکر ہے تو پھر اپنے اندر وہ صلاحیتیں پیدا کریں جو ان کو اللہ کی دی ہوئی دنیاوی نعمتوں کے ساتھ ساتھ دین کی سمجھ اور اشاعت کا زریعہ بھی بنائیں جس کے لئے ان کو اپنے اندر وہ صلاحیتیں پیدا کرنا ہونگی کہ ان کو منبر و مسجد کے ماحول میں بھی مقام حاصل ہو اور معاشرے کے لئے  ایک مثال بنیں اور اس سے دین و دنیا میں حائل خلیج کو کم کیا جا سکے۔ اگر گاؤں کے چوہدری سے لے کر ریاست کے سربراہوں تک کے دل میں دین کی محبت ہو تو کیوں نہ مساجد کے منبر اور امامت کا شوق ان کی زندگیوں میں دیکھنے کو ملے جو ہمارے اسلاف کا عمل رہا ہے۔

جمعہ، 1 ستمبر، 2023

توہین مذہب کے معاملے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے

 

ناموس مذہب کے نام پر افراتفری، تشدد، قتل و غارت، انتشار اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہمارا بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہم مسلمان جو کبھی بردباری، عفوودرگزر، صبروتحمل اور انسانی حقوق کے محافظ سمجھے جاتے تھے آج عالمی سطح پر انسانی حقوق کی پامالی کرنے والے اور شدت پسند کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ اگر ہم پاکستان کے موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو مذہبی توہین کے واقعات میں بہت ہی ذیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ مروجہ توہین مذہب کی منطق انسانی عقل و شعور ہی نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات سے بھی کوئی مطابقت نہیں رکھتی اور قابل افسوس بات یہ ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی سرا اسلام کی خدمت پر خود ساختہ مامور  مذہبی طبقے سے بھی جڑتا ہے جنہوں نے معاشرے کے اندر  اس اشتعال انگیزی کو ہوا دی جس کی لپیٹ میں اب پوری قوم آچکی ہے۔  اس کے ذمہ دار وہ نام نہاد علماء ہیں جنہوں نے بغیر علم کے دین کے نام پرمسجد ومنبر کو روزگار کا زریعہ اور تبلیغ  کو سیاسی دکانداری بنایا ہوا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو معاشرے کے اندر دین کے پیشوا کے طور پر جانا اور سمجھا جاتا ہے  جو معاشرے کے اندر ایک نمونے کے طور پر دیکھے جاتے ہیں ۔کل انہوں نے اپنی نفرت بھری تقریروں سے معاشرے کا جینا دوبھر کیا ہوا تھا  اور آج خود ہی اپنی محنت کی زد میں آچکے ہیں ۔

اخباری اطلاعات کے مطابق آج راولپنڈی کے رہائشی حافظ شاہد محمود اور عمران اصغر کی شکائت پر مفتی حنیف قریشی کے خلاف 298 اے کے تحت پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ مبینہ طور پر کہا جاتا ہے کہ ممتاز قادری کی اشتعال انگیزی سے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے پیچھے بھی انہی صاحب کی تبلیغ کا اثر تھا۔رپورٹ کے متن کے مطابق مفتی حنیف قریشی پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے صحابہ کے خلاف بغض  کا اظہار کیا ہے جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔ 

اگر ہم اعدادوشمار دیکھیں تو ٢٠٠١ سے لے کر اب تک دو درجن کے لگ بھگ ایسے واقعات ہوچکے ہیں  جن میں پچاس کے قریب جانیں ضائع ہوئیں اور 150 کے قریب لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ اور ان جرائم میں ملوث افراد کی ہر سطح پر عملی طور پرحوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ اور مظلوموں کی داررسی کرنے والوں کو  سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔وکلا کو محض اس لیے نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ ایسے مقدمات میں پیروی کیوں کرتے ہیں۔ سال ٢٠٠٤ سے اب تک تقریبا اٹھارہ کے لگ بھگ وکلا لقمہ اجل بن گئے اور ان کے ساتھ اتنے ہی عام لوگ بھی مارے گئے جیسے کہ اسلام آباد ٢٠٠٧ کے واقعہ میں تقریبا ١٧ عام شعری بھی مارے گئے۔ اسی طرح  ملتان  میں رشید رحمان کو مار دیا گیا۔ حالیہ جڑانوالہ اور فیصل آباد میں  عیسائی عبادت گاہوں اور ان کی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا جس کی تحقیق بھی مبینہ طور پر ایک مذہبی سیاسی جماعت کے ملوث ہونے کے ثبوت مل رہے ہیں  ۔ اسلام آباد کچہری میں کتنی الم ناکی سے وکلاء کوظلم و بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ میں خود اللہ کا شکر سے بمشکل بچا تھا ،اگر ایک منٹ کی تاخیر ہوجاتی تو آج بیان کرنے کی بجاے بیان ہو رہا ہوتا۔ احمدیوں کی عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کے کئی ڈاکٹرز اور وکلاء کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔  

حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان میں توہین مذہب کے قانون کی خلاف ورزی میں زیادہ تر سزائیں بھی مسلمانوں کو ہی ہوئی ہیں اور جہاں جہاں بھی کسی غیر مسلم پر کوئی مقدمہ بنایا گیا ہے اس کی تہہ میں جانے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی ذاتی رنجش کی بنا پر مقدمہ کا اندراج کروایا گیا یا اس کے پیچھے اشتعال انگیزی تھی۔ سیالکوٹ کا واقعہ کتنا دردناک تھا جس میں سراسر غلط معلومات کی بنیاد پر مشتعل ہجوم نے ہمارے دوست ملک کے ایک باشندے کو اتنی بے دردی سے بھرے بازار میں قتل کیا کہ پوری قوم کے سر ندامت سے جھک گئے۔ اسی طرح کوٹ رادھاکشن  اور اسلام آباد کے واقعات انتہائی دردناک تھے۔ اور یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا  جس کی کڑی جڑانوالہ  کا واقع ہے جس میں کتنی املاک کا نقصان ہوا، اسی طرح چند روز قبل  فیصل آباد میں واقعہ ہوا، جس سے ہماری اقلیتی برادری کے اندر ایک خوف سا پھیل چکا ہے جس سےنہ صرف پاکستان کی بلکہ پورے  عالم اسلام کے مسلمانوں کی رسوائی ہورہی ہے جس کے سدباب کے لئے حکومت   کو  اس سے سختی سے نمٹنے کا کوئی لائحہ عمل بنانا چاہیے۔

اگر ہم اس معاملے کا جائزہ لیں تو چند عوامل ایسے ہیں جن  سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ مذہبی سے زیادہ معاشرتی معاملہ  بن چکا ہے۔ میں معاشرتی اس اعتبار سے کہتا ہوں کہ اس میں مذہبی تو ہین تو گاہے بگاہے ہی ثابت ہوتی ہے مگر معاشرتی پستی ، لاقانونیت اور اخلاقی اقدار کی کمی ہر جگہ نطر

اب اگر اسلامی اور قانونی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جہالت اور لا قانونیت کے سوا کچھ بھی نہیں کیو نکہ اگر کوئی چھوٹی بڑی غلط فہمی یا غلطی سر زد ہوتی بھی ہے تو قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا نہ تو اسلام میں کوئی جواز موجود ہے اور نہ ہی  جدیدقانون میں۔ ایک جمہوری اور اسلامی ریاست میں ریاست ہی کے خلاف کاروائی اور سزا دینے کا حق رکھتی ہے۔

اسلامی نقطہ نظر بہت ہی واضح ہے کہ “ایک انسان کا نا حق قتل پوری انسانیت کا قتل ہے“ یہاں مسلمان نہیں کہا گیا بلکہ انسان کہا گیا ہے اور پیغمبر اسلام صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں بہترین اخلاقیات کو پروان چڑھانے اور عام کرنے کے لیے بھجا گیا ہوں۔ انسانیت کا قتل بغیر کسی ثبوت یا صفائی کا موقعہ مہیا کئے، گمراہی نہیں تو اور کیا ہے ۔ اور ایک اسلامی معاشرے میں اقلیتوں کے مال و جاں کی حفاظت ریاست کے ذمہ سونپی گئی ہے اور اگر محافظ ہی قاتل بن جائیں تو اس سے بڑی بددیانتی اور گمراہی کیا ہو سکتی ہے۔ جیسے ایک صوبے کے گورنر کو اس کے محافظ نے قتل کردیا۔ دیکھیں توجتنے بھی واقعات ہوئے ان میں اشتعال اور ذاتی رنجش کا عنصر ضرور سامنے آیا مگر اس کے باوجود بھی اس کی طرف سنجیدگی سے توجہ نہیں دی جا رہی ۔ ان نفساتی پہلوؤں کو  زیر غور لاکر ان کے بارے کوئی حکمت عملی ترتیب دی جانی چاہیے۔اس ضمن میں چند تجاویز دینا چاہوں گا۔

تمام مکاتب فکر کے علماء کی قومی سطح پر ایک کانفرنس بلائی جانی چاہیے جس میں ملک کے جید علماء اپنے متفقہ فتوے کے زریعے سے علماء کے اندر اس معاملے کی حساسیت کو پیدا کرتے ہوئے ان کو ترغیب دیں کہ وہ اپنے اپنے مراکز پر عوام کی اصلاح کی کوشش کریں اور عوام کے اندر دین کی روح سے غافل ملاؤں کی طرف سے غلط ذہن سازی کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اسی طرح سکولوں کے سلیبس کے اندر بھی سیرت طیبہ کے درگزر کرنے، مساوات، شفقت ، بردباری، اور ایک اسلامی ریاست کے اندر غیر مسلموں  کی حفاظت کی ذمہ داری ، اللہ کے بنی ﷺ کے اخلاق اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ ان کے سلوک  کی اعلیٰ مثالوں جیسے موضوعات کو شامل کیاجائے تاکہ بچوں کے اندر اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی کے وہ پہلو اجاگر ہوں جن سے معاشرے کے اندر محبت اور رواداری فروغ پا سکے۔

مسلمانوں کو اللہ کے نبی ﷺکے اخلاق پر عمل کرکے اسلام کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہیے جن کی ان کے بد ترین دشمن بھی تعریف کرتے تھے ۔ ان کی بعثت سے قبل ان کی چالیس سال کی زندگی میں پورے عرب و عجم میں احترام کی وجہ ان کا اعلیٰ اخلاق تھا۔انکو نبوت کی فضیلت تو چالیس سال کی عمر میں ملی اس سے پہلے ان کے انسانوں کے ساتھ معاملات اور اخلاق کی وجہ سے وہ ایک منفرد مقام رکھتے تھے  جن میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔  

اسی طرح ملک کے اندر اب تمام مساجد اور مدارس کی رجسٹریشن مکمل ہوچکی ہے تو پھر ان کے مہتم اور ذمہ داران کو بھی ایک ڈسپلن کے تحت لا کر ان کے لئے بھی کوئی ضابطہ اخلاق ہونا چاہیے تاکہ ان اداروں کا کوئی ذمہ دار مہتمم ہو اور ان کی کوئی ٹریننگ ہو کہ اداروں کو کیسے چلایا جاتا ہے ۔ مدارس اور مساجد  ہمارے بہت ہی اہم ادارے ہیں اور ہماری تعلیم و تربیت میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ضرورت ان کو صحیح طرح سے استعمال کرنے کی ہے ۔ان لوگوں کے اندر بہت زیادہ پوٹینشل ہے ضرورت ان کو استعمال کر کے ترقی کے عمل کا حصہ بنانے کی ہے۔ اس طرح کی  مذہب کے نام پراشتعال انگیزی کبھی بھی کوئی ذمہ دار آدمی نہیں کرتا اور جب ان اداروں کی باگ ڈور ذمہ دار لوگوں کے سپرد ہو گی تو ایسی اشتعال انگیزی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ ان ذمہ داروں کے چناو میں تعلیم کا بھی خیال رکھا جائے۔پھر ان کو ملکی ترقی کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے  انہیں اور بھی ذمہ داریا ں سونپی جاسکتی ہیں ۔یہ ہمارے پاس رضاکاروں کا ایک بہت بڑا  ریسورس ہیں ضرورت توجہ دینے کی ہے۔ جیسے ان کو نکاح خواں کی رجسٹریشن دی گئی ہے اسی طرح اور بھی ذمہ داریاں مثلا‘ پولیو  یا وبائی امراض کے بارے مہم سازی ،ثالثی ، امن کونسلوں  جیسی ذمہ داریاں اور نمبرداروں کی طرح تصدیق کے عمل میں شمولیت وغیرہ سونپ کر مصروف کیا جا سکتا ہے۔

ان کی ذہن سازی کرکے  ان کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ ان کے رویوں کی وجہ سے نہ صرف ہمارےمعاشرے میں نفرتیں جنم لے رہی ہیں بلکہ  ہم اسلام کی بدنامی کا سبب بھی بن رہے ہیں جس سے اسلام کی تبلیغ بھی متاثر ہورہی ہے۔ جب ایک مولوی دوسرے مولوی سے نفرت کروا رہا ہوگا تو پھر معاشرے میں امن کیسے بحال ہوسکتا ہے۔ جب ہم نے اللہ کے گھروں  (مسجدوں) پر نظریات اور مسلک کے پہرے لگائے ہوئے ہونگے اور کسی کو آزاد مرضی سے وہاں گھسنے اور عبادت کرنے کی اجازت ہی  نہیں دیں گے تو پھر ہماری اس اجارہ داری سے اسلام کے ایک دوسرے کو سننے  ، حال جاننے اور اجتماعیت کے تصور کو پنپنے کا کیسے موقع ملے گا۔ جب ہم ایک دوسرے سے بات ہی نہیں کریں گے تو پھر اصلاح کا عمل کیسے وجود پا سکتا ہے۔

ہماری علمی سطح کا یہ حال ہے کہ  مبینہ طور پر بہالپور یونیورسٹی کا ایک نوجوان لیکچرار کو صرف اس لئے جیل میں ڈال دیا گیا کہ وہ خدا کے وجود کا انکاری تھا۔ ہم ایک اسلامی ریاست کے اندر تمام مکاتب فکر کے علماء  کا علم اور ریاستی وسائل ہونے کے باوجود کسی  کو دلیل سے قائل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور ہمارے پاس اس کا ایک ہی حل ہے کہ اس کو پابند سلاسل کر دیا جائے  یا اس کا سر تن سے جدا ۔ یہاں جس پر ایک دفعہ جھوٹا یا سچا مذہب کے متعلق توہین کا کوئی الزام لگ جائے تو پھر ہمارے معاشرے کے اندر جنونیت سے خوف زدہ ذہنوں کے پاس اس کا کوئی شعوری حل ممکن نہیں بلکہ اس کو معاشرے کی خواہشوں کے طابع لے کر ہی چلنا ہوتا ہے ۔ عدالتوں کے جج ایسے مقدمات سے کتراتے ہیں کوئی وکیل ایسے ملزم کے لئے پیش ہونے کی جرات نہیں کرسکتا اور  تو اور اس موضوع پر لکھنا بھی  موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ 

 

 

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین