سوچ کی غذا

استفسار آگے بڑھنا ہے تو کیلئے ربط کے لحاظ سے چھانٹی کردہ اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ تاریخ کے لحاظ سے چھانٹی کریں سبھی اشاعتیں دکھائیں
استفسار آگے بڑھنا ہے تو کیلئے ربط کے لحاظ سے چھانٹی کردہ اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ تاریخ کے لحاظ سے چھانٹی کریں سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 13 جولائی، 2022

آگے بڑھنا ہے تو قومی بیوقوفیوں کو سدھارنا ہوگا ۔

کچھ قومی سطح کی ایسی غلطیاں ہیں جو دھائیوں سے دھرائی جارہی ہیں مگر ہم نے ان کی اصلاح کے لئے کوئی کوشش نہیں کی اور اگر کی بھی ہے تو اس میں ذاتی مفادات کا عنصر حاوی رہا ہے ۔ ان اصلاحات کو ریاست ، آئین ، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لئے نہیں کیا گیا ۔

تاریخ گواہ ہے کہ جن ریاستوں میں انصاف کا نظام غیر جانبدار اور شفاف تھا ان کا اندرونی یا بیرونی خطرات کچھ نہیں بگاڑ سکے ۔ آج ہمارے نظام عدل کا کیا حال ہے کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ۔ ہماری تاریخ میں ججز کا کردار بوقت ضرورت انصاف کی بجائے کچھ اور ضروریات کے گرد گھومتا رہا ۔

ایک عام شہری کے حقوق سے لے کر ریاست کے آئین کی حفاظت تک کی ذمہ داری نظام انصاف پر آتی ہے ۔ لہذا اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اور ایسی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے جس سے قابل ، اہل اور اچھے کردار کے ججز کی تعنیاتیوں کو عمل میں لایا جاسکے ۔

اگر نظام عدل میں قابل ، اہل اور اچھے کردار کے ججز کو تعینات کیا جائے تو وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے تمام خطرات سے نمٹنے کی جرات اور جذبہ رکھتے ہوتے  ہیں ۔ انکو اپنی جان ، مال اور عزت سے زیادہ ذمہ داریوں کی پرواہ ہوتی ہے

اسی سے جڑا مسئلہ قانون کی پاسداری میں ناکامی ہے ۔ ہم تمام مشکلات کا حل قانون بنانے کو ہی سمجھتے ہیں ۔ قانون  پر عمل میں کوتاہیوں پر ایک اور قانون اور اتھارٹی بنا دیتے ہیں جس سے مزید کشمکش اور ریاست پر مالی بوجھ ڈال دیتے ہیں مگر پہلے سے موجود قانون اور اداروں کو مضبوط اور جوابدہ بنانے پر کوئی توجہ نہیں دیتے ۔  اس کو انتظامی اور عدالتی امور کی مضبوطی  اور توازن سے ہم آہنگ کرکے  بہتر بنایا جاسکتا ہے

میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہم نظام عدل کو سیاست کا حصہ نہ بناتے اور اس کو مضبوط رہنے دیتے تو یہ قومی غلطیاں ابتداء ہی میں رک جاتیں اور یہ نوبت نہ آتی ۔

ایک اور قومی مسئلہ تعلیم و تربیت کا ہے جس نے نام نہاد خود اعتمادی کے نام پر عدم برداشت ، جہالت اور بدتمیزی کی ثقافت کو پروان چڑھایا ہے جس میں زیادہ تر پرائیویٹ سکولوں کے نظام کا کردار ہے ۔ لہذا بنیادی تعلیم کے شعبے کو حکومت کی تحویل میں ہونا چاہیے جس میں ایک جیسا نصاب اور تربیت ہو اور قوم کے اندر ملک و قوم اور اس کی املاک کی ملکیت اور اہمیت کے احساس کو اجاگر کیا جاسکے ۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ کردار سازی پر زیادہ توجہ دی جائے ۔

ایک بڑی قومی غلطی عوامی خزانے سے مہیا وسائل اور وظائف میں تفریق ہےجس نے معاشرے کے اندر محرومی اور طبقاتی تقسیم کو پیدا کیا ہے ۔ ملک میں انتشار ، بدنظمی اور کشمکش کی وجوہات میں ایک بہت بڑی وجہ اس تفریق کی بنیاد پر مہیا کئے گئے ان آسودہ حال افراد کا بھی ہاتھ ہے جو پہلے دوران سروس ان وسائل اور اختیارات کے استعمال سے من مانیاں کرتے رہتے ہیں اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد ایک مافیا بن کر ملکی نظام کو جام کئے رکھتے ہیں ۔ اور اس تفریق نے ہمارے ملک کے اندر ظالمانہ تقسیم  کی بنیاد پر ایلیٹ اور عام شہریوں کے تاثر کو جنم دیا ہوا ہے ۔ لہذا مساوات کو قائم کرتے ہوئے  اصلاح کی غرض سے ان وسائل اور اختیار میں مساوات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے جو قومی سرمایہ اس غیر مساویانہ تقسیم کی مد میں چند ہاتھوں میں جا رہا ہے اسے صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات پر استعمال کرکے  سب کے لئے برابری کی بنیاد پر سہولیات مہیا کرکے ہر ایک کی ضروریات کو بہم پہنچایا جاسکتا ہے جس سے نہ صرف برابری پیدا ہوگی بلکہ محرومیوں کا بھی خاتمہ ہوگا۔  

نظام کو مستحکم بنانے کے لئے ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے ایسی اصلاحات لانا ہونگی جن سے سیاست کو قومی وسائل اور طاقت سے لیس افراد کی خواہشوں اور من مانیوں سے محفوظ کیا جا سکے اور حکومتی معاملات میں مداخلت کو بھی ختم کیا جاسکے ۔ اسے محض اعلیٰ عہدوں پر تعینات شخصیات کی سوچ کے مرہون منت نہیں چھوڑا جاسکتا ۔ اس عدم استحکام کے خوف کو بہرحال ختم کرنا ہوگا اور تمام ریاستی اداروں کو احساس دلانا ہوگا کہ یہ وسائل ، اختیارات اور طاقت کا تعلق قومی ذمہ داریوں سے ہے اور ان کے استمال میں تجاوز مجرمانہ فعل ہے جس کی جوابدہی کو یقینی بنانے کے لئے عملی مثالیں قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔

میڈیا چینلز کو کاروباری لوگوں کے چنگل سے آزاد کروانا ہوگا وگرنہ یہ مافیا جمہوریت کا کوئی بس نہیں چلنے دے گا ۔ یہ صحافت کو یوں ہی غلام بنائے رکھے گا جس سے ٹیگرٹی ، ایمانداری اور غیر جانبداری یوں ہی  روزی کی خاطر رسوا اور نام نہاد صحافتی مداری قوم کو تماشے دکھاتے دکھاتے قومی سلامتی کو کمزور کرتے چلے جائیں گے۔

میڈیا چینلز کی منظوری اور رجسٹریشن کے لئے صحافت کا تجربہ اور اچھی شہرت کے حامل افراد  کی شمولیت کی پالیسی اپنانا ہوگی وگرنہ یہ سیاسی حالات اسی طرح سے ہائی جیک ہوتے رہیں گے ۔ کسی بھی شے کی خوبصورتی اسکے ساتھ متعین حدود قیود سے ہی ہوتی ہے اور اس کو سمجھتے ہوئے جنرل ازم سے منسلک طبقہ  کو بھی اپنے لئے کوئی متفقہ نظم و ضبط اپنانا اور تسلیم کرنا ہوگا وگرنہ یہ کاروباری اپنے مقاصد حاصل کرکے علیحدہ ہوجائیں گے اور صحافت اپنی رہتی سہتی ساکھ بھی کھو بیٹھے گی ۔

آج کل کی نام نہاد فضول کی جذباتی صحافت جو وی لاگز پر چند ہزار ویوز کی خاطر ملکی سلامتی سے کھیل رہی ہے  کو جتنی جلد ہوسکے روکنا چاہیے ۔ اس وقت ہماری سب سے بڑی غلطی جو ابھی جا ری ہے اور جس کا کوئی مداوا بھی نہیں ہوگا وہ فوج کے خلاف نفرت کو پھیلانا ہے اور عوام کو فوج کے خلاف لا کر کھڑا کرنا ہے ۔

جب فوج نے غیر جانبداری کا اعلان کر دیا ہے اور عمل سے ثابت بھی کر رہے ہیں تو پھر اس طرح کی افواہیں پھیلانے اور الزامات لگانے والی سرگرمیوں کو بزور طاقت روکنے کی ضرورت ہے اور یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ صحافت اور سیاست کے بہروپیوں کو کنٹرول کرے اور اگر کوئی معمولی سابھی الزام لگائے تو اس کی تفتیش ہونی چاہیے چہ جائے کہ اتنے بڑے بڑے الزامات لگائے جارہے ہوں اور حکومت بدنامی  کے ڈر سے ان پر ہاتھ ڈالنے سے اجتناب برت رہی ہو  ۔ ملک اداروں سے ہوتے ہیں اور اداروں کی طاقت عوام کی پشت پناہی سے ہوتی ہے ۔

ان قومی  بے وقوفیوں کے  وجہ سے ہماری قومی توانائی ، وقت اور صلاحیتوں کا استعمال غلط سمت میں استعمال  ہوکر بہتری کی بجائے مزید بدحالی کا سبب بنتا جارہا ہے لہذا ہمیں ان کا سدباب کرکے ترقی اور پائیداری کے سفر کا آغاز کرنا ہوگا۔  

جمعرات، 9 جنوری، 2025

عمران خان اپنی مقبولیت کو کیسے ناقابل تسخیر اور انقلابی بنا سکتے ہیں؟

 

ان کی مقبولیت کا کوئی اعتراف کرے یا نہ کرے مگر اس کا احساس اور تشویش ہر سطح پر ضرور موجود ہے لیکن اس کا ان کو متوقع فائدہ کیوں نہیں مل رہا اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ انکی موجودہ سیاسی حکمت عملی جس کا ڈھنگ 2014 والا اور بیانیہ 2022 والا ہے وہ موجودہ سیاسی حالات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے جو سیاسی حکمت عملی 2014 میں بنائی تھی وہ اس وقت کے حالات کے مطابق ٹھیک تھی مگر آج نہیں کیونکہ اس وقت جو سہولیات اور ماحول ان کو میسر تھا  وہ آج نہیں جس کا انہوں نے اپنے تمام تر احتجاج اور ریلیوں اور دوسرے حربے استعمال کر کے اندازہ بھی لگا لیا ہوگا اسی طرح 2022 والا بیانیہ جس کی بنیاد مظلومیت کی بنیاد پر ہمدردیاں اکٹھی کرنا تھا وہ خوب چلا اور اسی سے ان کی 2022 میں گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا ملا لیکن اب اس کو نئی توانائی کی ضرورت ہے جس کے لئے حالات کے مطابق کسی نئی حکمت عملی کو اپنانا ہوگا تاکہ مقبولیت کو پائیدار بنایا جاسکے۔

اب ہمدردیوں کے جذبات سرد اور ترقی کی خواہشوں پر دائیں بائیں سے پڑنے والی جھلکوں کے تاثرات حاوی ہونے والے ہیں جن کا آغاز اب کے پی کے میں حکومت کے خلاف تحفظات اور احتجاج کی صورت انگڑائیاں لیتا ہوا محسوس کیا جا سکتا ہے جس پر آنکھیں بند کرنے سے وہی انجام ہوگا جو 2022 میں عوامی بڑھتی ہوئی مشکلات کے دباؤ پر پی ٹی آئی کے ممبران پارلیمان کی مسلم لیگ نون میں جانے کی دوڑ کا سماں تھا۔  2022 میں تو ان کی حکومت کی تبدیلی سے انکو سیاسی نقصان کی بجائے فائدہ ملا لیکن اب ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ اور اگر وہ اپنی صوبائی حکومت کے مرکز کے ساتھ محاذ آرائی سے ایمرجنسی لگوا کر کارکردگی کی بجائے پھر سے عوام کی مظلومیت کی بنیاد پر ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ ان کی ایک اور بہت بڑی سیاسی غلطی ہوگی جو انکے لئے مذید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

مقبولیت ان کا سیاسی اثاثہ ہے جس کو محفوظ کرنے کا ان کو حق پہنچتا ہے مگر اس کو حکومت کی طرف سے ان کے لئے کھڑی کی جانے والی مشکلات اور محاذ آرائی کے سہارے زیادہ دیر قائم نہیں رکھا جا سکے گا۔ حکومت نے ان کے تمام حربوں کے اثرات کوزائل کرتے ہوئے اپنے ترقی کے اہداف کی طرف سفر کو شروع کر لیا ہے اور جیسے ہی وہ اپنے لئے عوامی تاثرات کے ماحول کو سازگار پائیں گے تو وہ ان کی اسیری جیسی مشکلات میں نرمی اور سہولت کا تاثر پیدا کرکے ان کی اس ہمدردی والے بیانیوں کو کمزور بنا دیں گے۔ اور پھر جیت اور ہار کی بنیاد اگلے انتخابات بن چکے ہونگے جن کی تیاری کرنی ہوگی۔

انکے آپریٹرز نے بنگلہ دیش ماڈل کو بھی آزمانے کی کوشش کی مگر وہ بھی نہ چل سکا اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس مقبولیت کے پیچھے وہ نظریاتی طاقت نہیں جو مقبولیت کو شعوری بنا کر انقلانی بناتی ہے۔ حکومتوں کی طرف سے طاقت کا استعمال اور مزاحمت کا سامنا ہر انقلاب کو ہوتا ہے مگر اس کو عبور کرنے کے لئے اصل طاقت شعور ہی ہوتا ہے۔

جس کی بنیاد ضد۔ ہٹ دھرمی، انا اور شخصیت پرستی نہیں بلکہ حق و باطلا اور صحیح وہ غلط کی پہچان اور بہتری کی نیت ہوتی ہے۔ جس میں اپنا بھی اگر غلط کر رہا ہو تو اس پر تنقید اور مخالف بھی صحیح کر رہا ہوتو اس کی تائید کی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش میں ان کے سامنے کسی سیاسی جماعت کی اندھی تقلید نہیں بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے جذبے، نظریے اور شعور کی طاقت تھی جس نے خود ہی قیادت بھی تلاش کر لی اور مشکلات کے با وجود اپنی منزل پا لی۔ نوجوان سیاسی جماعتوں کے ساتھ الحاق سے بالا تر ہو کر نکلے انکا کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا بلکہ اپنے آپ کو درپیش مسائل کا حل اور ملک کی ترقی و خوشحالی تھا۔

معزرت کے ساتھ انکی مقبولیت کو شعوری کہنا قدرے مشکل ہے کیونکہ اس کی بنیاد مظلومیت پر ہمدردی کا بیانیہ ہے جو حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جسے سمجھنے کے لئے 2018 سے لے کر 2022 تک کے منظرنامے میں جا کر حکومت میں ہوتے ہوئے کارکردگی کی بنیاد پر عوامی تاثرات کو دیکھنا پڑے گا۔ جب وہ مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے انتہائی نالاں تھے حتیٰ کہ انکے ممبران اسمبلی بھی آپ کو چھوڑنے کی راہیں تلاش کر رہے تھے اور اسی کی بنیاد پر اسٹیبلشمنٹ نے بھی مزید انکے ساتھ چلنے سے کنارہ کشی کا فیصلہ کیا جو ایک حقیقت ہے جس کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ اور اسٹیبلشمنٹ سے نفرت کی وجوہات میں ایک 2018 میں آپ کو حکومت دینے اور آپ کے قبول کرنے کی سیاسی غلطی بھی شامل ہے جس کو شعور کے کینوس پر مقبولیت کی راست بنیاد تسلیم کرنا ممکن نہیں۔ سہولت کاری کا حصول، امیدیں اور محاذ آرائی کا یک ساتھ کوئی جوڑ نہیں بنتا۔

اس نئی حکمت عملی میں حقائق کو قوم کے سامنے رکھتے ہوئے جمہوری اقدار اور سیاسی اصولوں پر قائم رہنے والی اپنی سیاست کا آغاز کرنا ہوگا جس میں اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھنے کی بجائے سیاسی حلقوں میں اپنے اثر کو بڑھاتے ہوئے عدالتوں، پارلیمان، الیکشن کمیشن، سوشل میڈیا اور کے پی کے میں اپنی گورننس پر توجہ دیتے ہوئے اپنی سیاسی مقبولیت کو شعوری بنا کر اپنی سیاسی جنگ کو جیتنا ہوگا۔ اپنی دوسرے درجے کی سیاسی قیادت کی صفوں میں پھر سے سنجیدہ سیاستدانون کی جگہہ پیدا کرنے کا ماحول بنانا ہوگا جس سے ملک کی نظریاتی، سیاسی اور جمہوری سطحوں پر ان کی سیاست بارے سنجیدہ تاثر ابھرے۔

اور پارلیمان کی سیاست کو اپنے حق میں کیا جا سکے اور یہ کوئی مشکل کام نہیں سیاست اور محبت میں سب ممکن ہے۔ اگر ان کے نظریاتی طور پر سب سے بڑی مخالف جماعت جے یو آئی کے ساتھ قربت اور مذاکرات کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے جیسا کہ چند ماہ پہلے دیکھا گیا تو باقی جماعتوں کے ساتھ کیوں نہیں؟ حکومت میں شامل بڑی جماعتوں پی پی پی اور مسلم لیگ نون کے اتحادی ہونے کے باوجود بھی اپنی اپنی سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر عوامی پزیرائی کی دوڑ میں نوک جھونک چلتی رہتی ہے تو ان کو بھی آئین کی بالادستی، عوامی حکمرانی کی بنیاد پر اپنی سیاسی حکمت عملی کو ترتیب دیتے ہوئے پارلیمان میں اپنی مثبت سوچ و عمل کے زریعے سے اپنی اہمیت کو پیدا کرنا ہوگا اور عوام کو احتجاج اور دھرنوں کی بجائے اس طرف متوجہ کر کے پارلیمان کے اندر 2022 کی طرز پر عدم اعتماد کے زریعے سے حکومت کی تبدیلی کے آثار پیدا کر کے اپنی مقبولیت کو سہارا دینا ہوگا۔ جمہوریت مضبوط ہوگی تو پائیدار سیاست کا ماحول بنے گا۔

اور سیاسی ماحول کی تبدیلی میں جس طرح سے انہوں نے خود صحافی کے سوال پر یہ اعتراف کیا ہے کہ حکومت نے معیشت کو سنبھال لیا ہے ملک کے سیاسی حالات کو نیا موڑ دینے والے ہیں۔ ان کی اس مقبولیت کو اگر سہارا نہ دیا گیا تو نقصان دینے والے ہیں جن کا آغاز کے پی کے سے ہوگا جہاں انکے پاس پچھلے تین دورانیوں سے حکومت ہے اور عنقریب صوبوں کے درمیان کارکردگی کی بنیادوں پر شعوری مقبولیت کا متحمل مقابلہ ہونے والا ہے جس میں ہر صوبے کے عوام دوسرے صوبوں کے حالات سے متاثر ہوتے ہوئے اچھی کارکردگی پر حوصلہ افزائی اور خرابیوں پر تنقید کرنے پر مجبور ہونگے بلکہ بحث مباحثے اور مذاکرے ہونگے جن کی پیشگی تیاری کرنا ہوگی۔

اور یہ معیشت کی بہتری کا اعتراف ان سے اپنے سیاسی محاسبے کا تقاضہ کر رہا ہے۔ ان کی طرف سے بہتری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی حکمت عملی جس میں انکی صوبائی حکومتوں کی طرف سے آئی ایم ایف کو قرضہ نہ دینے کے خطوط اور ملک کے ڈیفالٹ ہو جانے کا بیانیہ تھا پر ندامت کی بجائے ابھی بھی بیرونی زرمبادلہ میں رکاوٹ بننے کی کوششوں پر قائم ہیں جس کو بدلنا ہوگا۔ اگر انہوں نے معیشت کی بہتری کے اعتراف کے ساتھ مرکزی حکومت کی ترقی پر سوالیہ نشان اٹھایا ہے تو شعوری سطح پر دانشمندی کا یہ بھی تقاضہ ہے کہ اب خیبر پختونخواہ صوبہ جہاں انکی جماعت پچھلے بارہ سالوں سے بر سراقتدار ہے اپنی ترقی کے وہ نمونے عوام کو دکھائیں جن میں وہ دوسرے صوبوں سے آگے ہوں تاکہ عوام میں ان کو مزید پزیرائی ملے۔

اب ان سب سوالوں کا سامنا کرنے کی تیاری کرنی ہوگی جس کے لئے کے پی کے میں گورننس کو بہتر بنا کر عوام کو سہولتیں دینے کی طرف توجہ دینی ہوگی۔ اگر وہاں دوسرے صوبوں میں عدالتوں اور پولیس کو مطلوب افراد کو پناہ مل سکتی ہے۔ ریاستی اداروں کی حصول کی کوشش کے با وجود تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے تو وہاں پر امن کے لئے اپنے اختیارات اور صلاحیتوں کو کیوں نہیں استعمال کیا جا سکتا تاکہ عوام کو ریلیف دے کر ان کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔

فروری 2024 کے انتخابات نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ سوشل میڈیا اب کوئی فرضی بات نہیں رہی بلکہ یہ زمینی حقائق سے ہم آہنگ ایک عملی سیاست کا حصہ ہے جس پر تکنیکی اعتبار سے خلا پر قابض ہونے کی آپ کی جماعت کو برتری حاصل ہے جس کا فائدہ اٹھانے کے لئے اب اپنی مقبولیت کو شعوری بنانے اور آگے بڑھنے کی راہیں تلاش کرنا ہونگی۔ اگر اپنے ووٹرز کو انگیج رکھنے کو وہ اپنی مجبوری سمجھتے ہیں تو اسے سوشل میڈیا کے سپیس میں جاری رکھا جا سکتا ہے بلکہ وہاں ہی ان کو پارلیمانی سیاست میں کوششوں سے متوقع نتائج کی طرف متوجہ کیا جائے۔ اور اس غیر مشروط مقبولیت کو اگر محاذآرائی میں استعمال کرکے فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکا تو ملک و قوم کی فلاح میں مفاہمت کا کوئی بیانیہ بنا کر اس سے مستفید ہونے کی راہیں تلاش کی جائیں۔

اگر وہ ملک و قوم کی فلاح کے لئے مثبت سوچ رکھتے ہیں تو   سیاسی استحکام کا کریڈٹ لینا چاہیے اور اس ضمن میں انہیں اپنی طرف سے میثاق مفاہمت پیش کرتے ہوئے سب سیاسی جماعتوں اوراسٹیبلشمنٹ کو یہ تجویز دینی چاہیے کہ آئیں اگلے پانچ سالوں کے لئے سیاست میں محاذ آرائی کو ختم کرتے ہوئے ملکی فلاح کے لئے سب مل کر دنیا کی ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے مواقعے تلاش کرتے ہیں تو ان کی مقبولیت ناقابل تسخیر بن جائے گی۔اور وہ اس میثاق کو اپنے اسٹیبلشمنٹ کے حکومت سازی میں دخل اندازی سے باز رہنے اور اصلاحات سے مشروط کر کے اپنے ان مخلصانہ مطالبات پر  دوسری سیاسی جماعتوں سے بھی ہمدردیاں  حاصل کر سکتے ہیں۔

موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو اگر وہ دباؤ اور محاذ آرائی سے زیر نہیں کر سکے اور اپنے لئے الٹا مشکلات پیدا کی ہیں تو اس کا سبب ان کی سرگرمیاں اور ان سے ابھرنے والا تاثر ہے وگرنہ ان کی قائدانہ اور ان کی سوشل ٹیم کی اہلیت اور صلاحیتوں سے کسی کو انکار نہیں۔ اگر وہ 27 نومبر 2022، 9مئی 2023یا 26نومبر 2024 جیسی سرگرمیوں کے منفی تاثرات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتے تو اتنی مشکلات پیدا ہی نہ ہوتیں۔اب بھی اصل مسئلہ ہی ان کی طرف سے سیاسی استحکام کی یقین دہانی کا ہے اور جو جو ان کی جماعت میں سے کرواتا گیا وہ امن میں ہے۔  لہذا اگر وہ چاہتے ہیں کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی وہ مجبوری بن جائیں تو وہ اپنی ان صلاحتوں کو محض مثبت سمت دے کر اپنی اہمیت کو نمایاں بنا سکتے ہیں۔  حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو انکی ذات سے نہیں بلکہ ان کی محاذ آرائی سے شکوہ ہے ۔

ان کے لئے مرکزی حکومت سے باہر اور اپنی صوبائی حکومت کے پلیٹ فارم سے بھی  مواقع موجود ہیں۔وہ اپنی سوشل میڈیا کی ٹیم کی بے مثال صلاحیتوں کو  مثبت انداز میں استعمال کرتے ہوئے آئی ٹی سے منسلک کسی ایسے پراجیکٹ کے ماڈل کی مثال قائم کرکے پاکستان کی نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقعوں سے انکی دلچسپیوں کو سہارا دیتے ہوئے ملکی اور عالمی سطح پربحثیت ایک فل ان تھراپسٹ کے شوکت خانم یا نمل یونیورسٹی کی طرز پر  معاشی انقلاب یا پاکستان میں سرمایہ کاری اور ریمیٹنس کی آمد کے لئے اپنا کردار ادا کرکے حکومت کو اپنا احسان مند یاحکومت سے باہر رہ کر بھی عوامی پزیرائی کو اپنے حق میں ٹھہرا سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ ان کی مقبولیت کی صلاحتیوں اور اہلیت کا استعمال ہوتے ہوئے پاکستان کو نمایاں فائدہ پہنچے جس کی ایکنالجمنٹ ان کے حریفوں کو حکومت میں ہوتے ہوئے بھی پیچھے چھوڑ دے۔

ان سے حکومت لئے جانے کی بنیادی وجہ ہی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال تھی جس کا اعتراف ان کے وزراء بھی کر چکے ہیں کہ "اگر ان کی حکومت نہ جاتی تو بہت خرابی پیدا ہونے والی تھی" وگرنہ جس قدر ان کو سہولتیں دی جاتی رہی ہیں ان کی پاکستان کی آمرانہ جمہوریت میں مثال نہیں ملتی جس کی ایک نئی جہت "ہائبرڈ جمہوریت"انہی کی ان سہولتکاریوں اور ایک پیج پر ہونے کے ماحول سے متعارف ہوئی ہے جس کی مخالفت کے وہ اس وقت سب سے بڑے علم بردار ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے برخلاف جس طرح سے ان کا سیاسی بیانیے میں دعویٰ ہے کہ ان کے جانے کے بعد ان سے نہ سنبھال پانے کی وجہ سے معیشت خراب ہوئی ہے تو اپنی اور اپنی ٹیم کی  صلاحیتوں سے اس کا عملی ثبوت دیتے ہوئے اب بھی اگر معیشت میں بہتری کا کوئی ماڈل یا اس میں اپنا کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو ان کی ہر طرح کی محاذآرائی خود بخود ہی منطقی انجام کو پہنچ جائے گی۔ یا پھر  حکومت کی میثاق معیشت پر ساتھ دینے کی آفر پر انہیں متاثر کن تجاویز دے کرمعیشت کی بہتری کے عمل میں سربراہی کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں  یا   اپنی صوبائی حکومت کے لئے مالی امداد یا ترقیاتی پراجیکٹ کے حصول کو مذاکرات میں مدد سے مشروط کرکے فائدے اٹھائے جا سکتے ہیں۔

اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ رکھا جانے والا سلوک مناسب نہیں تو پھر ان کو اپنے دور اقتدار کے حالات کو بھی یاد کرنا چاہیے کہیں یہ مکافات عمل کا ہی تسلسل تو نہیں جس کوختم کرنے کے لئے بھی سیاسی ماحول کو جمہوری اقدار اور اصولی سیاست سے مزین کرنے سے مشروط ہونے کو یقینی بنانے کی طرف بڑھنا ہوگا جو مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ جس کا ان کو 2018 میں اقتدار سنبھالنے سے بھی پہلے سیاسی جماعتوں کی طرف سے عندیہ دیا گیا جس کو انہوں نے نظر انداز کر دیا تھا۔

اگر اس تسلسل میں وہ این آر او کے مرحلے میں داخل ہونا چاہتے ہوں جس کا انہوں نے بظاہر تو انکار بھی کیا ہے لیکن اگر کوئی ایسی امید وابسطہ کی بھی جا رہی ہے تو غیر مناسب نہیں۔ سیاسی بنیادوں پر اسیری کوئی اچھی مثال نہیں اس کا بھی کوئی مستقل حل سیاسی جماعتوں کو باہمی اتفاق رائے سے سیاسی نگرانی والی طرز پر ڈھونڈنا چاہیے تاکہ کل کوئی نیا سیاسی کردار پھر سے اس عمل کا آغاز نہ کر دے۔

بین الاقوامی سطح پر انکی  حمائت کے لئے پی ٹی آئی  سوشل میڈیا کی ٹیم کی کوششیں قابل تعریف ہیں مگر ان کا فائدہ بھی اس لئے نہیں ہو پا رہا کہ پاکستان کے دوست ممالک جن کی پاکستان کے تجارتی اور معاشی پالیسیوں کے ساتھ مفادات اور دلچسپیاں جڑی ہوئی ہیں بھی ان سے اپنی راہ میں رکاوٹ بننے سے خائف ہونے کی بنیاد پر نالاں ہیں جو وہ ہر دفعہ بیرونی ڈیلیگیشن کی آمد پر احتجاج اور دھرنوں سے مشکلات کی صورت اپنے بارے ایک تاثر بنا چکے ہیں کو بھی اب تبدیل کرنا ہوگا اور بیرونی دباؤ کو ان کے ساتھ ہمدردیوں کی سوچ کے ساتھ ہم آہنگ بنانے کی کوشش کرنی ہوگی۔

مقبولیت کا حصول بھی آسان کام نہیں مگر اس کو قائم رکھنا اس سے بھی مشکل مشق ہے۔ اور اس مقبولیت کو اگر سمجھا جائے تو قومی اثاثہ بھی بنایا جاسکتا ہے جس کے لئے سیاستدانوں کو اجتماعی سطح پر سوچ کر اس کو مثبت سمت میں استعمال کرنے کی راہ نکالی جا سکتی ہے۔ اسے اقتدار کے حصول کی طمع سے آزاد کر کے عمران خان کو وہی 1992 والا عمراں خان سمجھتے ہوئے میثاق مفاہمت کی طرز پر کسی معاہدے پر پہنچ کر اپنا ہیرو بنالیں اور انہیں بھی ایسی سوچوں کی راہ ہموار کرنے اوراس پرسب کا ممنون ہونے کا رویہ اپنانے میں پہل کرنی چاہیے۔ اقتدار کی جنگ کا خاتمہ کوئی مشکل کام نہیں جب پوری قوم ایک ہو جائے اور ملک و قوم کی فلاح کی خاطر اپنے اختلافات کو بھلا کر مفاہمت کی پالیسی پر چلنے کی ٹھان لے تویہ عہدے اور وزارتیں علامتی سی بن کر رہ جاتی ہیں۔ساری جماعتیں اپنی اپنی نمائندگی کے تناسب سے وزیر اعظم کا عہدہ بھی سالوں کے دورانیے کے حساب سے لے سکتے ہیں اور وزارتیں بھی اسی نسبت سے لی جا سکتی ہیں۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ جب پوری قوم اور سیاسی جماعتیں کسی ایسے میثاق مفاہمت پر متحد ہوجائیں تو یہ عہدے صرف ذمہ داریاں بن کر رہ جاتے ہیں اور ان کی اہمیت صرف خدمت کے جذبےسےجڑ کر رہ جاتی ہے اور ان کی خواہش بھی معدوم ہو جاتی ہے۔

حکومت اور اسٹیبلشمنٹ  سے بھی گزارش ہےکہ وہ اس مقبولیت کو اپنے حریف کی نہیں بلکہ قومی اثاثہ سمجھتے ہوئے اس کو شعور دےکر اپنی افرادی قوت کی صلاحیتوں اور اہلیتوں کو ملکی سلامتی اور خوشحالی میں استعمال ہونے کے ماحول کو پیدا کر کے اگر وہ اپنی سیاسی  ساکھ کی قربانیاں دے کر ملک کو بچانے کے دعوے کا عملی ثبوت دینا چاہتے ہیں تو  پی ٹی آئی کے ساتھ جاری مذاکرات کو "قومی میثاق مفاہمت" پر ایک ہوجانے سے مشروط کر دیں اور عالمی سطح پر ایک "سافٹ انقلاب" کی نئی مثال قائم کرنے میں اپنے حصےکا کردار ادا کرنے میں دیر نہ کریں یا اس کا کوئی دوسرا حل ڈھونڈیں۔

اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو آپس کی محاذ آرائی کا رجحان نہ صرف قومی افرادی قوت کےزائل ہونے کی خطرات رہیں گے بلکہ سیاسی عدم استحکام سے معاشی بہتری کی رفتار بھی متاثر ہوگی کیونکہ جہاں ایک طرف حکومت کی کوششوں سے سرمایہ آ رہا ہے وہاں سول نافرمانی جیسی تحریکوں سے فارن ریمٹنس بھی متاثر ہورہی ہے اور عوام میں مایوسی سے لوگ سرمایہ لے کر یہاں سے بیرون ملک سکونت اختیار کرنے کی کوششوں میں بھی لگے ہوئے ہیں جس سے اچھے نتائج کی توقعات کم پڑتی جائیں گی۔


جمعرات، 27 اپریل، 2023

چیف جسٹس کو اپنے اختیارات جیورس پروڈنس کے اصولوں کے تابع لانا ہونگے

 

موجودہ پارلیمان اور اعلیٰ عدلیہ کے درمیان کشمکش کی صورتحال محض چیف جسٹس صاحب کے انتظامی اختیارات کا عدالتی رائے پر  ابھرتا ہوا غالب تاثر ہے ۔ انصاف صرف ہونا ہی ضروری نہیں ہوتا بلکہ اس کا آئین، قانون اور جیورس پروڈنس کے تقاضوں پر پورا اترتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہیے ۔

انتظامی اختیارات کاعدالتی رائے پر اثر انداز ہونے کا کوئی جواز نہیں بنتا اور نہ ہی اس طرح کے تاثر کے پیچھے کوئی دانشمندانہ سوچ جھلکتی ہوئی نظر آتی ہے بلکہ یہ سوچ اعلیٰ عدلیہ کی ساکھ کو سبوتاژ کرتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے ۔  

پارلیمان کے سپیکر کی طرف سے چیف جسٹس صاحب کے نام خط  لکھنا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایک اعلیٰ ریاستی ، آئین کے خالق ادارے کے کسٹوڈین کی طرف سے اعلیٰ عدلیہ کے ادارے کے سربراہ کے نام ایک یاداشت ہے جو خدشات اور تحفطات کا مجموعہ ہے  جس میں اسی تاثر کی طرف اشارہ دیاگیا ہے ۔

اورچیف جسٹس کے نام  اس طرح کے خطوط کا سلسلہ سپریم کورٹ کے اندر سے چند قدم پر بیٹھے ایک سنئیر ترین جج جسٹس فائز عیسیٰ نے شروع کیا اور ان خطوط کے زریعے سے اداروں کے اندرونی حالات کی مخبری کا سلسلہ شروع ہوا  جس کا مرکزی متن بھی چیف جسٹس صاحب کے اختیارات کا استعمال ہی تھا جس کی بنیاد پر بنائے جانے والے بنچز کا ذکر خاص کر ملتا ہے جن پرکوئی  توجہ نہیں دی گئی۔ یہ خطوط پر خطوط لکھے جاتے رہے اور آخر کار ان خطوط میں موجود تحفظات عدالتی رائے تک پہنچ گئے اور عدالت کے اندر گونجنے لگے جن کو خاموش کرنے کے لئے پھر اختیارات کا بے دریغ استعمال ہوا اور خاص بندوبست نے جنم لیا اور آج حالات نے ریاست کو یہاں پہنچا دیا ہے ۔

وہی ججز کے بنچز کے خلاف تحفظات کی آواز پارلیمان میں گونجنے لگی ہے اور اس پر نہ صرف قراردادیں منظور ہوئیں بلکہ ان کےاندر فیصلوں کے خلاف مذمتی قراردادیں بھی منظور ہوئیں اور جب ان کو سنجیدہ نہ لیا گیا تو آج پارلیمان کے ہاؤس آف کسٹوڈین کی طرف سے ایک خط چیف جسٹس کے نام ان کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ان کے چیمبر کے دروازے پر بے چین کھڑا ہے ۔

آج میڈیا ہی نہیں بلکہ پارلیمان کے اندر عوامی نمائندے جو زبان بول رہے ہیں وہ سپریم کورٹ کے خلاف نہیں بلکہ اس بنچ کے خلاف ہے جس کے بارے تحفظات بخود سپریم کورٹ کے اندر موجود ہیں اور  پوری قوم اور پارلیمان کو عدلیہ کی رائے کی غیر جانبداری اور غیر شفافیت پر بولنے کا جواز مہیا کر رہے ہیں ۔ سپریم کورٹ اگر تو اپنی ساکھ اور عزت کو بچانا چاہتی ہے تو پھر اپنے اندر کے اختلافات کو معقولیت کے اندر سمونے کی کوشش کرنی ہوگی جو  ایک اجتماعی  انتظامی اور اصولی رائے  کی بنیاد پر ہی ہوسکتی ہے ۔

چیف جسٹس صاحب بھلے اپنے اختیارات  کے استعمال پر کسی  کو جوابدہ نہیں مگر ان کو جیورس پروڈنس کے اصولوں کے تابع رکھنا انکی بحثیت ایک اعلیٰ عدلیہ کے سربراہ کے پہلی ترجیح ہونی چاہیے تاکہ ان کے اختیارات اور فیصلوں پر کوئی آئینی، قانونی ،اصولی حتیٰ کہ اخلاقی نقطہ بھی   نہ اٹھ سکے اور کسی کو ان کے اختیارات اور فیصلوں پر عملدرآمد کرنے یا کروانے  میں کوئی امر مانع نہ آسکے ۔

پارلیمان کی سپرمیسی کو مانے بغیر  نہ صرف ریاست کی رٹ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے بلکہ عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد بھی بے بسی کا شکار ہوسکتا ہے جیسا کہ حالات اعلیٰ عدلیہ کے لئے پریشان حال نظر آرہے ہیں ۔ ان تمام مسائل کاحل اب صرف اور صرف چیف جسٹس کے اختیارات کے استعمال میں غیر جانبداری، شفافیت اور دانشمندی کے عنصر کےواضح نظر آنے سے منصوب ہے ۔

چیف جسٹس صاحب کو تمام آئینی ، ریاستی اور سیاسی مقدموں کی کاروائیوں  کو معطل کرکے پہلے اپنے ادارے کے اندر  پائی جانے والی کشمکش کی طرف توجہ دینی ہوگی تاکہ وہ یہ ثابت کرسکیں کہ وہ ہی اس اعلیٰ عدلیہ کے غیر متنازع سربراہ ہیں اور پورا ادارہ ان کے فیصلوں کے پیچھے کھڑا ہے ۔ عدالتی رائے میں اختلاف ایک جیورس پروڈنس کا اصولی معاملہ ہے اور اس کا ادارے کے فیصلوں کی صحت پر کوئی اثر نہیں۔ ان کو اپنے ساتھیوں کے تحفظات کو دور کرکے بنچز کی تشکیل کو غیر جانبدار اور شفاف بنانا ہوگا  یہ تب ہی ممکن ہے جب وہ اپنے ادارے کا ایک فل کورٹ ریفرنس بلائیں اور تمام صورتحال اس کے سامنے رکھتے ہوئے ایک اجتماعی رائے کے بعد اصول و ضوابط  ترتیب دیں  جن میں آئین ، قانون اور جیورس پروڈنس کے تقاضوں سے ہم آہنگی ہواور پھر ان پر من و عن عمل کو یقینی بنانے کی  تسلی کے ساتھ آگے بڑھیں۔

امید ہے چیف جسٹس صاحب حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے ادارے کی طاقت کو یکسو کرنے کی پوری نیک نیتی سے کوشش کریں گے اور ان کے ساتھی بھی اس  معاملے کو سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ پورا تعاون کریں گے  تاکہ دوسرے ریاستی اداروں کو بھی آئین و قانون پر عمل کرنے پر مجبور کیا جاسکے اور ان کے پاس کوئی جواز نہ چھوڑا جائے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں سے انحراف کرناتو درکنا اس کا سوچ بھی سکیں ۔   

اگر ایسا نہ ہوا تو مبینہ طور پر یہ اطلاعات یا خبریں گردش کر رہی ہیں کہ جن ججز کو انہوں نے اپنے اختیارات کے زریعے سے بنچز سے علیحدہ کیا ہے وہ ان کی اس اختیار کی روشنی  میں شائد ان کے کسی بھی بنچ کا حصہ بننے سے معزرت کرنا شروع کر دیں ۔ اگر ان کے پاس اختیارات ہیں تو دوسرے ججز بھی اختیارات سے خالی نہیں اگر ان کو ان کی مرضی  کے خلاف کسی بنچ سے علیحدہ کیا جاسکتا ہے تو وہ اپنی مرضی سے بھی بنچز سے علیحدگی کا ختیار رکھتے ہیں اور خاص کر ایسے حالات کے بعد جن میں وہ کھلے عام  چیف جسٹس صاحب کی تکنیکی بندوبست کے زریعے سے انکی دبائی جانے والی عدالتی رائے پر اپنا ایک واضح موقف پیش کرچکے ہیں کہ  ان کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کیا گیا ہے ۔

اسی طرح اگر سپیکر قومی اسمبلی کے خط جس میں انہوں نے اپنے تحفظات پیش کئے ہیں اور پارلیمان کی توہین کی طرف اشارہ دیتے ہوئے عدلیہ کے فیصلوں کو ان کی آئینی ذمہ داریوں میں دخل اندازی سے تشبیہ دیا اور عدالت عالیہ کی مخصوص پنچز کے  فیصلوں بارے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے ۔ اگر اس خط کو بھی اپنے ہم منصب جج کے خطوط کی طرح  اہمیت نہ دی گئی تو پھر پارلیمان بھی اپنے آئینی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے  اپنے تحفظات کی گونج   پہلے سے بھی بلند پارلیمان سے اٹھتی ہوئی ان کے اداروے کے در و دیوار سے ٹکرا سکتی ہیں ۔ پارلیمان کی عمارت ان کے ادارے کی عمارت سے زیادہ دور نہیں اور آئین میں پارلیمان اور عدلیہ دونوں کے اختیارات اور ان کا استعمال واضح ہے ۔

سب کو اپنے آئینی اختیارات کو محض جذباتیت سے نہیں بلکہدانشمندی اورملکی و قومی فلاح کے جذبے کے تحت رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا تاکہ ملک و قوم کی ترقی و بقاء کو یقینی بنایا جاسکے ۔  

اتوار، 10 ستمبر، 2023

عوام کو ملک کے ساتھ مخلص سیاسی قیادت کا ساتھ دینا ہو گا

ہمیں بحیثیت قوم ایک ایسی سوچ پیدا کرنا ہو گی جس میں اپنے ذاتی مفادات کو قربان کر کے قومی مفادات کو ترجیح دینا ہو گی۔ ڈالرز کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اپنی کرنسی میں کاروبار کو ترجیح دینا ہو گی۔ دولت کو ملک سے باہر لے جانے کے بجائے واپس لانا ہو گا۔ اپنے وقت، دولت اور توانائیوں سے ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنا ہو گا۔

اگر ہم واقعی ملکی مسائل کے حل کے لئے مخلص ہیں تو پھر ہمیں پہلے قوم بننا ہو گا۔ قوم وہ ہوتی ہے جس کی سوچ ایک ہو۔ جب سوچ ایک تھی تو وسائل نہ ہونے کے باوجود، دنیا کی فاتح قوم سے نجات حاصل کر کے ایک آزاد ریاست حاصل کر لی اور اگر اب دوبارہ اپنی آزاد ریاست کو بیرونی قرضوں اور مداخلت سے آزاد کرا کے جینے کا حق حاصل کرنا ہے تو پھر دوبارہ سے ایک قوم بننا ہو گا۔

ہمیں بحیثیت قوم ایک ایسی سوچ پیدا کرنا ہو گی جس میں اپنے ذاتی مفادات کو قربان کر کے قومی مفادات کو ترجیح دینا ہو گی۔ ڈالرز کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اپنی کرنسی میں کاروبار کو ترجیح دینا ہو گی۔ دولت کو ملک سے باہر لے جانے کے بجائے واپس لانا ہو گا۔ اپنے وقت، دولت اور توانائیوں سے ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنا ہو گا کیونکہ اُس وقت تک یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا جب تک یہ دھرتی بدعنوانی، سمگلنگ، لاقانونیت، حقوق کی خلاف ورزیوں، ناپ تول میں کمی اور ملاوٹ سے پاک نہیں ہو گی اور یہاں رہنے والوں کے دلوں میں دوسروں کی ہمدردی والی سوچ پیدا نہیں ہو گی۔ پاکستان کو اگر حقیقی پاکستان بنانا ہے تو پھر اس کے مطلب و مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے ماحول کو حقیقی بنانا ہو گا۔ پاکستان کا لفظی ترجمہ بھی پاک دھرتی بنتا ہے۔ پاکستان کا مطلب اگر لا الہ الا اللہ ہو اور اس کے اندر ہر وہ برائی جاری ہو جس کا اسلام سے دور دور کا بھی تعلق نہ ہو بلکہ اس کی ممانعت کی گئی ہو اورجسے اسلام اور کفر میں فرق بتایا گیا ہو تو پھر اس کی ترقی کے خواب کو کسی غافل کا خواب تو کہا جا سکتا ہے مگر باشعور انسان کا قطعاً بھی نہیں۔

یہ غربت، مہنگائی، بیروزگاری، لاقانونیت ہمارے ان اعمال کا نتیجہ ہے جو 75 سالوں سے قومی غلطیوں کی صورت ہم بار بار دہرا رہے ہیں۔ کیا رشوت کا لینا دینا، نیچے سے لے کر اوپر تک کمیشن کی لت اور ہر طرح کی بدعنوانی سے کوئی لا علم ہے اور کیا ان کے ہوتے ہوئے اسے پاکستان (پاک سرزمین) کہا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر وہ اوصاف پیدا کرنے ہوں گے جن سے ہم کم از کم یہ دعویٰ تو کر سکیں کہ ہمارے فعل ایک اچھے شہری کے ہیں۔ اس کے لئے ہمیں چھپائے ہوئے ڈالرز کو مارکیٹ میں عام کرنا ہو گا۔ چھپائی ہوئی خوراک، چینی، آٹا، چاول اور دوسری اجناس کو مارکیٹ میں لانا ہو گا۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔ دوسرے پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنی اصلاح کرنا ہو گی۔

ریاست محض جغرافیائی حدود کا نام نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندر رہنے والے عوام اور نظام حکومت بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ عوام کی سوچ و عمل کا ریاست کے معاملات سے گہرا تعلق ہے۔ اس کا نظام حکومت عوام کے سوچ وعمل سے ہی مشروط ہوتا ہے۔ اس کی بہتری یا تباہی میں عوام کی سوچ و عمل کا ہی کردار ہوتا ہے۔ اس ملک کے حکمران ہم میں سے ہی ہوتے ہیں۔ ہم نے ہی ان کی خاندانوں اور معاشرے کے اندر تربیت کر کے ان عہدوں تک پہنچایا ہوتا ہے اور اگر ان کی صحیح تربیت کی گئی ہوتی تو آج یہ وقت دیکھنے کو نہ ملتا۔ عوام کے اندر جس دن اپنے ملک اس کی املاک اور اداروں کی اہمیت اور اس کی ملکیت کا احساس جاگ جائے گا اس دن سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ عوام کو جس دن اچھے اور برے میں تمیز آ جائے گی اپنے ملک کے آئین و قانون کی پاسداری کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا اس دن سے ہماری سمت درست ہو جائے گی اور ہماری ترقی کے سفر کا آغاز ہو گا۔

اس کے لئے ہمیں اپنے سوچ و عمل سے قوم بننا ہو گا اور اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر قربان کرنے کا عملی ثبوت دینا ہو گا۔ اپنے ملک کو اپنا گھر سمجھنا ہو گا اور جس دن ہم یہ سمجھ لیں گے تو پھر ہمیں اس کو لوٹنے کی بجائے اس کو بنانے کی فکر لاحق ہو گی اور پھر ہم اپنے گھر کو لوٹ کر غیروں کے دیس نہیں بھاگیں گے بلکہ ان بھاگنے والوں کا بھی محاسبہ کریں گے۔ بدعنوانی کا حصہ بننے کی بجائے اس کے خلاف ڈھال بنیں گے۔ اس کے وسائل کو ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرنے کی بجائے قومی مفادات کے لئے استعمال کریں گے۔ پھر ہم عوام کو اس کی حفاظت کرنا بھی آتی ہو گی اور اپنی خدمت پر مامور ان لوگوں جن کی تنخواہیں خزانے سے جاتی ہیں، سے کام لینا بھی آتا ہو گا اور اس دن سیاست شوق نہیں رہے گا بلکہ مجبوری بن جائے گا۔ لوگ سیاست سے بھاگیں گے اور عوام خود اچھے لوگوں کو ڈھونڈ کر مجبور کر کے مسند اقتدار پر بٹھائیں گے۔

قوم بننے کا مطلب ہے کہ ہر کوئی اپنی سوچ و عمل کو ملک و قوم کے مفادات سے ہم آہنگ کر کے اپنی اپنی استعداد اور اختیار کے مطابق اپنا حصہ ڈالے۔ مذہبی منافرت، عہدوں اور اختیارات کی مسابقت، قول و فعل کی منافقت اور خود غرضی کی معاشرت کو چھوڑنا ہو گا اور ہر کسی کو اس کے نظریات اور آزادی کے ساتھ آئین و قانون کے دائرے کے اندر رہ کر زندگی گزارنے کا حق دینا ہو گا۔ مذہب کے تقدس کے نام پر قتل و غارت کو ختم کرنا ہو گا اور انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانا ہو گا۔ جبری گمشدگیوں، حق آزادی رائے کی آواز کو دبانے جیسے خوف سے پیدا ہونے والے اپنے ہی دیش میں اجنبیت کے تاثر کو ختم کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنے گرد مذہب، قومیت، علاقائیت، زبان اور دوسرے تعصبات کے حصار ختم کر کے محض پاکستانی ہونے کی شناخت پر اتفاق کرتے ہوئے سب کو مل جل کر اس ملک کی تقدیر کو سنوارنے کے لئے شانہ بشانہ آگے بڑھنا ہو گا۔

قوم کو اچھے برے میں تمیز کرتے ہوئے ان عناصر کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی جو ملک و قوم کے لئے مخلص ہیں اور جن کا ماضی اس اخلاص سے مطابقت رکھتا ہے۔ ہر اس عنصر کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی جن کا قول و فعل ملک و قوم سے اخلاص کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا خواہ اس کا کسی بھی ادارے سے یا کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق ہو۔ سیاست دانوں کے نعروں کو ان کے قول و فعل کے ساتھ مطابقت کے ساتھ دیکھنا ہو گا۔ اور اگر کوئی لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں لاتا یا بدعنوانی کو ختم کرنے میں ساتھ نہیں دیتا تو وہ اس ملک و قوم کے لئے مخلص نہیں ہو سکتا۔

ہمارے پاس اس کی کسوٹی آئین و قانون ہی ہے۔ اگر تو ہم اس کسوٹی پر پورے اترتے ہوں تو پھر ہم اس ملک کے لئے مخلص ہیں اور اگر ہم اس کسوٹی پر پورے نہیں اترتے تو پھر ہمارے کھوکھلے نعرے اس ملک کو کچھ نہیں دے سکتے جیسا کہ ہماری تاریخ اس کی گواہ ہے۔

 

جمعرات، 28 مارچ، 2024

معاشی بحران سے نکلنے کے لیے کشکول توڑنے کی راہ نکالنی ہو گی

 

وزیراعظم کا یہ بیان سن کر انتہائی مایوسی ہوئی کہ ہمیں آئی ایم ایف کا ایک اور پروگرام لینا پڑے گا۔ لگتا ہے وہ بھی اپنے پیش روحکمرانوں کی طرح موجودہ مروجہ مالی نظام جس کی بنیاد ہی سودی نظام پر ہے کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں ۔ ان کے اخلاص ، انتھک محنت اور قومی خدمت کے جذبے پر کوئی شک نہیں مگر انہیں  ماضی کے تجربات کی روشنی میں اپنی سوچوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ روائتی نظام کے ماہرین جن کی اہلیت اور قابلیت ہی اعدادوشمار کی ہیراپھیری کرکے دولت کے بہاؤ کو ایک خاص طبقے کی طرف موڑ کر اپنا حصہ وصول کرنا ہے وہ کیسے خدا اور اس کے رسول سے جنگ کی صورتحال سے ملک و قوم کو نکال کر ایک آزاد ریاست کے خواب کی تعبیر دے سکتے ہیں۔ قرضوں سے محلوں کی تعمیر اور عیاشیوں کا بندوبست کرنے والے مواقعوں کے متلاشی سودے بازکبھی ترقیوں کے محرک نہیں بن سکتے۔

اگر حکومت واقعی مخلص ہے تو پھر دائیں بائیں دیکھنے کی بجائے سخت فیصلے کرنے پڑیں گے۔ قرضوں اور امداد پر انحصار کی بجائے اپنی آمدن اور اخراجات میں توازن لانا ہوگا جس کے لئے پہلے کشکول کو توڑنے کی کوئی راہ نکالنی ہوگی اور فی الفور ایک آئینی ترمیم لانا ہوگی جس کے تحت آج سے اس خداداد ریاست کے لئے قرضے کی بات کرنے والا غدار وطن ہوگا۔ کشتیاں جلا کر آگے بڑھنا ہوگا۔ اس کے بعد اعدادی ہیرا پھیری کے ماہرین کو خزانے پر بیٹھانے کی بجائے مروجہ آزمائے ہوئے طریقوں سے ہٹ کر متبادل زرائعے کا سوچنے والے اس ملک کے ساتھ مخلص، ایماندار، اچھی شہرت ، وسیع علم و تجربہ اور کارکردگی کے حامل حقیقی محب وطن معاشی، سماجی، مالی،  اقتصادی، تجارتی، نظریاتی، کاروباری ، توانائی اور زرعی ماہرین کا تھنک ٹینک بٹھانا پڑے گا جو اس ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی حکمت عملی بنائے۔

یہ کوئی مشکل کام نہیں محض ایک قومی معاہدے کی ضرورت ہے جس کے تحت تجارتی اور گردشی خساروں اور قرضوں کو ختم کرنے کے لئے عوامی جیبوں سے ہاتھ نکال کر اشرافیہ اور عوام کے درمیان حائل آسائشوں کی بنی ہوئی تفریق کے حصار کو توڑ کر عوام کے حکومت پر اعتماد کو بحال کرنا ہوگا اور برابری کی بنیاد پر بنائی گئی صفوں میں سب کو کھڑے کرکے آگے بڑھنے کی راہ کا انتخاب کرنا ہوگا جس کی ہمارے آئین کا دیباچہ اور شہریوں کے حقوق کا ابتدائی باب ضمانت دیتا ہے۔

تمام شہریوں کے درمیان سے خاص و عام کی تقسیم کو ختم کرکے سب کو دو وقت کی سوکھی روٹی اور پانی کا گلاس ہو یا دیسی گھی کی چوری میسر ہو سب کو ایک جیسے حالات میں زندہ رہنے کا ایک قومی معاہدہ کرنا ہوگا اور اس تفریق کو ختم کرنے کے لئے اس ملک کے خزانے سے حاصل تمام سہولتیں اور آسائشوں کو برابری کی بنیاد پر یقینی بنانے کی سادہ سی قانون سازی کرنا ہوگی اور جس دن اس پر عمل شروع ہوگیا وہ اس ملک کی تقدیر کو بدل کر حقیقی انقلاب لانے کی طرف پہلا قدم ہوگا۔

کشکول توڑنے کے لئے تمام تر بیرونی قرضوں کو اندرونی قرضوں میں بدلنا ہوگا جس کے لئے ملک پر موجود قرضوں کی رقم عوام کی جیبوں سے زبردستی نکالنے کی بجائے قوم سے مستعار یا منافع کی شرائط پر لینی ہوگی اور اس پر عمل کے لئے کوئی قومی مالی بانڈز متعارف کروا کر معاملہ حل ہوجائے یا معاشی ایمرجنسی نافذ کرکے قومی اور عوامی اثاثوں سے ان قرضوں کی یکمشت ادائیگی کو عملی طور پر یقینی بنا لیا جائے اس کے علاوہ کوئی حل نظر نہیں آتا۔ اور پوری قوم برابری کی سطح پر مہیا خوراک اور سہولتوں کے عوض اس وقت تک ملکی معاملات چلانے میں رضاکارانہ طور پر خدمت کرے گی جب تک ہم ایک آزادانہ تجارتی پالیسی سے اپنے تمام تر انتظامی، تجارتی، مالی اور کاروباری معاملات کو معمول پر نہیں لے آتے۔ اس کے بعد ایک غیرتمند قوم کی طرح ریاست کو چلانے کے عالمی سطح پر نئے معاہدے کئے جائیں جن میں تمام تر ماضی کی مجبوریوں سے ہٹ کر آزادانہ تجارتی معاہدے ہوں اور جہاں سے جو شے سستی ملے اس کو خریدا جائے اور اپنی مصنوعات کی قیمتوں کا جائز تعین کروانے کے لئے ایماندارانہ حکمت عملی کے تحت کوالٹی کی بنیاد پر کاربند رہنے کے اصول کے تحت اقدامات پر سختی سے عمل کروایا جائے۔

مالی پالیسیوں میں حکومتی اخراجات کو کم کرنے سے بچنے والی رقم سے تعلیم اور صحت کو بہتر کیا جائے اور توازن کے لئے ٹیکسز بڑھانے کی بجائے تجارت کے فروغ اور افرادی قوت کے زرائع کے استعمال کی طرف توجہ دے کر بنیادی تعلیم اور صحت کے علاوہ باقی خدمات کے شعبوں کو نجی حلقے کی طرف بالترتیب لاکر ذمہ داریوں کو کم کیا جاسکتا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کی کوششیں جاری رہنی چاہیں مگر اس کے لئے سرمایہ کار کو امن، منافع ، بدعنوانی سے پاک ماحول اور مالی تحفظ کا احساس دینے کے لئے مالی پالیسیوں کو متعارف کروانا پڑے گا۔

خوراک میں خود کفیل ہونے کے لئے ایک زرعی ملک ہوتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ایک سال کا عرصہ درکار ہوگا جس میں قوم فاقہ کشی کر کے بھی اپنی خوراک کی ضرویات کے پورا ہونے کو یقینی بنا سکتی ہے اور یہ کوئی بہت بڑا ٹارگٹ نہیں ہوگا جس کے لئے صرف ایک جامع زرعی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جس میں اپنی ضروریات کو موجودہ قابل کاشت زمین کے اعدادو شمار سے ہم آہنگ کاشتکاری کا منصوبہ ترتیب دینا ہوگا اور زمین دار کو پیشگی اس کی فصل کے نرخ کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا جو کسی بھی طرح سے مشکل ٹاسک نہیں۔

اس طرح سے توانائی کے بحران کے لئے بھی متبادل زرائعے دیکھنا ہونگے جن کا حل پنجاب اور دوسرے صوبوں کے علاقے جہاں نہروں کا جال بچھا ہوا ہے ان پر ہائیڈرل پاور پلانٹس، جوہری توانائی، سولر اور ونڈ ٹیکنالوجی کی طرف توجہ ہے تاکہ توانائی کے حصول کے سستے ترین زرائع سے حاصل توانائی پر انحصار کی طرف بڑھا جائے۔

ہمارا جتنا بھی ملکی سرمایہ بیرونی ممالک میں پڑا ہوا ہے اس کو قومی جذبے کے تحت رضاکارانہ طور پر واپس لانا ہوگا اور ملک کی پچہتر سالہ تاریخ کے کھوکھلے دعووں اور نعروں کو اب عملی جامہ پہنانے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ اب اس قوم کو اپنی حب الوطنی کے دعووں کا یقین دلانا ہوگا کہ ہم سب بحثیت شہری اس ملک سے حاصل کئے گئے فوائد کے بدلے اس دھرتی کو مشکل میں ہر وہ شے لوٹا دیں جس کا وہ آج ہم سے اس معاشی بحران میں تقاضہ کر رہی ہے اور یہ ہمارا ایک قومی فریضہ بھی ہے اور امتحان بھی۔

اور حالیہ سالوں میں جو بھی ملکی سرمایہ لے کر دیوالیہ ہونے کے خوف سے یہاں سے بھاگے ہیں ان کا پورا ڈیٹا ریاست کے پاس موجود ہے ان کو بھی دعوت دی جائے کہ وہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے اس قومی انقلابی معاہدے میں شامل ہو جائیں اور اگر وہ اس پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کریں تو جو دھرتی ماں کو بیمار چھوڑ کر بھاگے ہیں اور ان کا ضمیر نہیں جاگتا تو ان سے ناطہ ختم کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

دنیا تےجو کم نہ آیا اوکھے سوکھے ویلے

 اس بے فیضےسنگی کولوں بہتر یار اکیلے

اور ہمیں امید ہے کہ اگر حکومت اخلاص کی بنیاد پر کوئی انشیوٹو لے گی تو اورسیز پاکستانی قوم کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔

اور اگر حکومت اور اشرافیہ اب بھی اس طرح کے کسی معاہدے پر مفاہمت کرنے کے لئے تیار نہیں تو پھر قوم کو اس تاثر سے نہیں نکالا جاسکے گا کہ ملک کی اشرافیہ آج بھی اس ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے مخلص دکھائی نہیں دیتی بلکہ ان کو آج غریب عوام کی نہیں بلکہ اپنی آسائیشوں، تنخواہوں، وضائف، مراعات اور عیاشیوں کے ختم ہونے کی خطرات کے پیش نظر ایک اور دھوکے میں ڈالنے کی کوشش ہے وگرنہ اگر وہ واقعی مخلص ہیں تو ان کو اس ملک کے خزانے سے حاصل شدہ آسائشوں اور مراعات کی تقسیم میں امتیازی سلوک کی ظالمانہ پالیسیوں اور قوانیں کو ٹھوکر لگانا ہوگی وگرنہ یہ نئے نئے چہرے بدلنے کے نئے تجربوں سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ۔

ہمارے معاشی بحران ہوں یا سیاسی ان کی زیادہ تر ذمہ دار ہمارے انتظامی امور ہیں جن کی وجہ سے عوامی مشکلات کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہیں وہ خواہ ڈالر کی محبت میں روپے کی قدر کو خاک میں ملانے کی کوششیں ہوں یا فنڈ ریلیز ہونے کے باوجود عوام تک ریلیف نہ پہنچنے کا عمل یا عوامی مشکلات جن میں صحت کا سبب بننے والی ناقص ادویات اور غذاؤں کی بندش میں ناکامی اور عوام کی شکائات سن کر انصاف فراہم کرنے والے اداروں یا انتظامی اداروں کی کارکردگیاں ہوں ان کی انتظامی  نااہلیوں کابہت بڑا کردار ہے جسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے اور اگر ان میں تبدیلی نہ آئی تو یہ قرضوں اور مہنگائی کا سلسلہ نہ صرف جاری رہے گا بلکہ   جس طرح پچھلے پانچ سالوں میں ستر سالوں کےقرضہ  کا دگنا ہوا ہے اس نئے تجربے سے یہ مزید دگنا ہو جائے گا۔

اور اس ملک کی یہ تاریخ گواہ ہے کہ اس قوم نے جس بھی چیلنج سے نمٹنے کی ٹھان لی ہے کبھی بھی ناکامی نہیں ہوئی وہ خواہ محدود وسائل ہوتے ہوئے اٹامک پاور بننے کا خواب ہو یا ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو۔ اس قوم کے پاس بے بہا صلاحیتیں ہیں مگر ان کا غلط استعمال بد عنوانی اور آپس کی چپقلشوں پر ہو رہا ہے اور جس دن ان کی سمت ترقی اور خوشحالی کر طرف مڑگئی تو اس میدان میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں ہوگا بس ضرورت اس کو سمجھ کر اس پر عمل  کے ماحول کو ممکن بنانےکی ہے۔

قومی سطح پر خیالات، پالیسیوں اور عملی تجربوں پر محیط ایک مثبت مقابلہ کروانا ہوگا جس میں ملک کو موجودہ مالی قرضوں سے جان چھڑوانے کی تدابیر اور میکنزم تیار کرکے قومی ٹیلنٹ کو دعوت عام دینی ہوگی کہ وہ عملی طور پر اس کا اطلاق کر کے جو ان بیرونی قرضوں سے جان چھڑوائے اس کو قومی ہیرو مانا جائے گا اس حوصلہ افزائی کے خاطر قانون سازی کرنی ہوگی۔

اگر کوئی ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے قرضوں کی ادائیگی کر کے ملک کو معاشی غلامی سے آزادی دلاتا ہے تو اسے قائد قوم کےقومی جانشین کا درجہ دے کر جہاں جہاں قائد کی تصاویر آوایزاں ہیں وہاں اس ملک کو معاشی غلامی سے نجات دلا کر کشکول توڑنے والے کی تصاویر بھی لگانے کا قومی عہد کرنا ہوگا۔ 


جمعہ، 6 فروری، 2026

دہشت گردی سے قوم اور اداروں کو مل کر نمٹنا ہوگا

ملک میں حالیہ دہشت گردی کی لہر دراصل ملکی دفاعی صلاحیتوں کے حاسدین اور ترقی مخالف سرگرمیوں کا گٹھ جوڑ ہے اور ترلائی اسلام آباد میں مذہبی عبادت گاہ پر نہتے معصوم شہریوں کی جانیں لینے والا دہشت گردی کا قیامت خیز واقعہ بھی اسی منصوبے کی ایک کڑی ہے۔

اب جب میں کالم لکھ رہا ہوں تو اس وقت تک 31 شہادتیں اور 169 زخمی ہسپتالوں میں پڑے ہیں جن میں سے بہت سارے انتہائی تشویشناک صورتحال سے دوچار ہیں جس سے پورے اسلام آباد میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے اور کہرام مچا ہوا ہے جس پر اس کے پیچھے مذموم کرداروں کو اپنی بزدلانہ حرکتوں پر شرم آنی چاہیے۔

مگر چونکہ بیرونی سربراہاں پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں اور اربوں کے منصوبوں کے معاہدے ہونا شروع ہو چکے ہیں جو ہندوستان اور اسے کے حواریوں کی سازشوں کی ناکامی اور مقاصد پر مئی میں لگے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اس لئے اس طرح کی مزموم کوششیں انکی مجبوری ہے جس کا ہمیں پوری تیاری کے ساتھ جواب دینا پڑھ گا 

ہم دکھ بھرے صدمے سے ضرور گزر رہے ہیں مگر ہماری سیکورٹی فورسز کا مورال بلند ہے اور وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ بہت جلد اس میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کر کے  جہنم واصل کریں گے

ان دردناک لمحات میں پوری قوم سوگران کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور ان مشکل لمحات میں ہم تہیا کرتے ہیں کہ ہم اپنی فوج اور دوسرے سیکورٹی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اس سفاکی کا مل کر مقابلہ کریں گے۔

شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول پر نظر رکھیں اور ایمرجنسی نمبرز ہر چھوٹے بڑے کو یاد کروانے کے ساتھ انہیں موبائلز پر ایمرجنسی بٹن کی صورت میں انسٹال کرکے اس کے استعمال کی سوشل میڈیا کے زریعے سے ٹریننگ بھی دی جائے تاکہ جب بھی وہ کسی مشکوک شخص کو دیکھیں تو سب سے پہلے اس سے خود الرٹ ہو ں پھر دوسروں کو آگاہ کریں اورساتھ ہی سیکورٹی اداروں کو اطلاع دینے میں کبھی دیر نہ کریں۔

اس کے لئے سماجی تنظیموں کو بھی آگے بڑھنا چاہیے اور ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے عام شہریوں کی تربیت اور اس کے ساتھ ساتھ ابتدائی طبی امداد کے لئے بھی سکولوں اور کالجز کے طلبہ و طالبات کی تربیت کرنی چاہیے۔ 

سکاؤٹ کی طرز پر ان دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لئے خصوصی ٹریننگ بھی دی جانی چاہیے جس میں ہمارے ریٹائرڈ فوجی تنظیموں کے ممبران اہم کردا ادا کر سکتے ہیں۔ اور اس کے لئے فنڈز کے لئے پاکستان کے بینکوں میں اکاؤنٹ کھلوائے جائیں اور قوم ان کی اپیل پر مالی امداد کے لئے کبھی بھی ان کو مایوس نہیں کرے گی۔

اسی طرح اب یہ وقت ہے کہ اس چیلج سے نمٹنے کے لئے تمام تر سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو بھلا کر تمام صوبوں اور مرکز میں ایک آواز ہوکر اس دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔ اور مل کر ان دہشت گردوں کو ڈھونڈھ کر جہنم واصل کریں۔ 

دیہاتی علاقوں میں تو عموماً سب لوگوں کو ایک دوسرے کی پہچان ہوتی ہے اور اجنبی کا وہاں رہنا ویسے ہی مشکل ہوتا ہے مگر شہروں کے اندر دہشت گردوں کی پہچان کرنا تھوڑا مشکل ہے مگر ناممکن قطعاً بھی نہیں ۔ اس کے لئے بھی سماجی تنظیمیں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ 

شہریوں کی میڈیا، سوشل میڈیا اور مقامی زرائع جن میں مساجد کے اندر اکھٹے نمازیں پڑھنے والوں بازاروں میں دکانداروں کی کمیٹیاں بنائی جائیں جو اجنبیوں پر نظر رکھیں اور شہریوں کو یہ ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ کوشش کریں اپنے علاقے کی مسجد جہاں ان کی جان پہچان ہو نمازیں ادا کریں اور حتی الوسع خریداری بھی اپنی جان پہچان والی قریبی دکانوں سے کریں تاکہ وہاں کی کمیٹیوں کو نظر رکھنے میں دقت نہ ہو۔ اور اگر کوئی شہری سفر میں ہو تو وہ کوشش کرے کہ جماعت کے علاوہ اکیلے میں کہیں مسجد سے باہر یا جماعت کے اوقات سے ہٹ کر نماز ادا کر لے۔

اسی طرح محلوں کے اندر ایک دوسرے سے ملاقاتوں اور ہمسائگی میں ایک دوسرے سے جان پہچان کے عمل کو شروع کیا جائے تاکہ اجنبی مشکوک لوگوں کی آسانی سے نشاندہی کی جا سکے۔  اسی طرح ہر علاقے کی ضروریات اور مسائل کی مطابقت سے حکمت عملیاں ترتیب دی جا سکتی ہیں جس میں وہاں کی مقامی پولیس اور دوسری ایجنسیوں کی صلاحیتوں سےفائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ایس او پیز ترتیب دیئے جا سکتے ہیں۔

اسی طرح ماضی کی طرز پر مساجد اور دوسرے عوامی مقامات پر مقامی لوگوں اور ایجنسیز کی باہمی کوشش سے سیکورٹی کا انتظام کیا جا سکتا ہے تاکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے بر وقت ایکشن کی ہر سطح پر مکمل تیاری ہو۔ اس کے لئے ہمیں پورے ملک کے ماحول کو بدلنا پڑے گا تاکہ دہشت گردی اور اس کی سہولت کاری کو نا ممکن بنا دیا جائے اور پوری قوم اگر اس کے لئے اٹھ کھڑی ہو تو اس کا قلع قمع کرنا کوئی مشکل کام ہی نہیں۔

پوری قوم سے گزارش ہے کہ وہ اداروں اور حکومت کے ساتھ نہ صرف مکمل تعاون کریں بلکہ ان کے دست و بازو بن کر ان کے ساتھ کھڑے ہوں اور ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق اس میں اپنا کردار ادا کرے۔ حکومت اس کے لئے ایک خصوصی سیل بنائے جو شہریوں کی تجاویز کی روشنی میں ایک مکمل لائحہ عمل بنا کر اس کو اپ ڈیٹ کرتا رہے۔  

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین