سوچ کی غذا

‏economy لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏economy لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 18 فروری، 2026

پی ٹی آئی کا شعور نِکھرنے لگا ہے

بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت اپنی جگہ مگر اس کے شعوری ہونے سے اختلاف کو بھی آزادی اظہار رائے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اب تو پی ٹی آئی کے اندر قائدین کی سطح پر اختلافات اور ابھرتی آوازوں کی گونج سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کا شعور نکھرنے لگا ہے۔

 2022 میں جب پی ٹی آئی کی کارکردگی سے مایوس عوام نے اپنی جمہوری سمت کا رخ صحیح کرنے کی کوشش کی تو ملک کے معززین نے ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کی خاطر مرکز میں حکومت کو آئینی طور پر تبدیل ہونے کی راہ میں رکاوٹ کو آزادانہ چھوڑ دیا جس سے پارلیمان کے اندر عدم اعتماد کی تحریک سے عمراں خان کو وزیر اعظم کے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا

لیکن اس پر بانی پی ٹی آئی اپنے رجیم چینج کے بیانیے کی ہمدردیوں سے ایک بار پھر عوام کی مقبولیت کا رخ اپنی طرف موڑنے میں کامیاب ہو گئے جس کو وہ مختلف حیلوں بہانوں سے قائم رکھنے کی کوشش کرتے رہے جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔

حالانکہ انکی کارکردگی کو بے نقاب کرنے کے لئے کے پی کی حکومت نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور نہ ہی اب خدمت کا وقت نہ ملنے کا ان کے پاس کوئی جواز ہے مگر حیران کن طور پر وہ اب بھی سوشل میڈیا کے ہاتھوں یرغمال عوام کو جھوٹے بیانیے کے زریعے سے ذہنی سہارا مہیا کئے ہوئے ہیں جس کی بنیاد کبھی بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کو بنا لیا جاتا ہے تو کبھی بیماری کو مگر اب یہ ہتھکنڈے زیادہ دیر چلنے والے نہیں 

اسکی وجہ یہ ہے کہ کے پی کے علاوہ دوسرے صوبوں میں پی ٹی آئی کی قیادت بانی پی ٹی آئی کی حکمت عملیوں سے کافی دل برداشتہ ہو چکی ہے کیونکہ ان کو دی جانے والی اذیتوں پر ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ کئی ان مصیبتوں سے بچنے کے لئے خود ساختہ صوبائی جلاوطنی میں کے پی میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

جب بھی حکومت کی طرف سےمذاکرات اور رعائت کی امید نظر آتی ہے تو بانی پی ٹی آئی فوج مخالف بیان دینا شروع کر دیتے ہیں جیسا کہ کل ان کی بہنوں نے پریس کانفرنس میں عمران خان کی طرف سے مبینہ طور پر مروانے کا خوف اور اس کا الزام فیلڈ مارشل پر لگانے کا اظہار کیا جس سے دوبارہ مذاکرات کے دروازے بند ہوجاتے ہیں جن سے پارٹی قیادت اور ورکرز کے ذہنوں میں بانی کی حکمت عملی پر شکوے جنم لینا شروع ہوئے جو اب کافی پختہ ہو چکے ہیں۔ 

جن کا اظہار اب پی ٹی آئی کی قیادت کے اندر اختلافات کی صورت میں بھی نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔ ویسے اس کی ابتداء تو کافی عرصہ پہلے سے پی ٹی آئی کی کال پر لوگوں کے کان نہ دھرنے سے شروع ہو چکی تھی جس پر تصدیق کی مہر ضمنی انتخابات نے لگا دی مگر اس پر کچھ حلقوں میں یہ گماں تھا کہ شائد لوگ خوف کی وجہ سے باہر نہیں نکلتے اور ضمنی انتخابات میں کامیابی کے اندر حکومت کے اثر رسوخ اور بندوبست کا کمال ہے۔

لیکن اب پارلیمانی ممبران کا اسلام آباد کے پی ہاؤس اور پارلیمنٹ کے باہر دھرنوں کے اندر کھلے اختلافات اور کے پی میں سڑکوں کی بندش پر انسانی جانی نقصان پر پی ٹی آئی کے اندر سے غلطیوں کا اعتراف وہ اشارے ہیں جو شعور کے نکھرنے کی گواہی دے رہے ہیں۔ 

کے پی کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کھل کر بولے ہیں۔ جس میں انہوں نے پارٹی کے اندر اختلافات سے لے کر پارٹی پر ملکیت کی کوششوں کی طرف بھی اشارہ دیا ہے اور کچھ وی لاگرز پر کھلی تنقید کرتے ہوئے ان کو کہا کہ اگر تمھارے اندر جذبہ ہے تو ادھر پاکستان میں آؤ وہاں بیٹھ کرعوم کو نہ ورغلاؤ۔ عوام کو تلقین کی کہ ان کی خبروں پر تحقیق کر لیا کریں۔

وہاں کے پی میں سڑکوں کی بندش کے دوران کئی پی ٹی آئی ورکرز بھی کھل کر مخالفت کرتے رہے اور عوامی مشکلات اور دباؤ کے پیش نظر پشاور ہائی کورٹ نے بھی سڑکوں کو کھولنے کے احکامات جاری کئے جس پر پولیس نے عملدرآمد کرواتے ہوئے سڑکوں اور موٹر وے کو خالی کروا دیا جس پر کچھ لوگ یہ بھی تبصرے کر رہے ہیں کہ شائد پولیس کے پی کی انتظامیہ کے کنٹرول میں نہیں رہی جو میں سمجھتا ہوں کہ غلط بات ہے کیونکہ سڑکوں کو کھلوانے میں عدالتی فیصلے کا کردار ہے۔

مگر اس سے لوگوں کی سوچوں پر مثبت تاثرات اور انتظامیہ کی رٹ بارے خیالات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اور خاص کر پولیس کی کاروائی کے خلاف مزمت کا نہ ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عوام بھی اب ان دھرنوں سے عوامی مشکلات پیدا کرنے والی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ اب کارکردگی کی بنیاد پر ہوتی ہوئی سیاست اور جمہوریت دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے بانی پی ٹی آئی کے بیانیے سے اختلاف رکھنے والی پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی ضرور حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ کھل کر گنڈاپور کی طرح بولنے لگیں گے۔

دوسری طرف پنجاب حکومت نے 2026 کو نوجوانوں کے نام کر کے پرواز کارڈ، سکل ڈویلپمنٹ کے کورسز، آسان بلاسود قرضوں کی فراہمی، سکالرشپس جیسے کئی ایسے منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے جن سے نوجوانوں کی ترجیحات اور توجہ کو مثبت اور ترقی پسند سوچ ملی ہے اور اب وہ جھوٹ اور دھرنوں کی سیاست کو جہالت شمار کرنے لگے ہیں۔

نوجوانوں کو مریم کی طرف سے دیئے جانے والے حوصلے نے ان کے اندر ایک نیا جذبہ اور ولولہ پیدا کر دیا ہے اور وہ اب اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کرنے کے لئے اپنی ماں، بہن اور قائد کی امنگوں پر اپنی صلاحیتوں کو نچھاور کرنے لئے بے چین دکھائی دیتے ہیں جس کی گواہی اس کا ہر طرف والہانہ استقبال دے رہا ہے۔ وہ خواہ بسنت کی تفریحی سرگرمیاں ہوں یا اس کے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور پنجاب کے دور دراز ضلعوں کے عوامی دورے ہر جگہ اس کو پزیرائی مل رہی ہے۔  

عوام کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوال بھی بجا ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کے اپنے بیٹے باہر بیٹھے ہیں اور یہاں نوجوان بے یار و مددگار جیلوں میں پڑے ہیں۔ بشریٰ بی بی پر جادو ٹونے کے زریعے سے حکومت چلانے سے لے کر کرپشن تک عالمی جریدوں میں چھپنے والی رپورٹس پر بانی پی ٹی آئی کی خاموشی بھی ایک سوالیہ نشان ہے جس کی وضاحت بہرحال عوامی ذہنوں میں ایک خلش کی صورت  موجود ہے۔

اس کے علاوہ حالیہ ہندوستان کے خلاف فوج کی کاروائی پر عالمی پزیرائی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جان کی قربانیوں پر فوج مخالف بیانیہ بھی عوام کے دلوں میں فوج سے والہانہ محبت کے ہاتھوں بری طرح پِٹ چکا ہے اور اب کوئی فوج کے خلاف ایک لفظ بھی سننے کے لئے تیار نہیں۔ بلکہ اب تو ملک کے اندر یکجہتی کی ضرورت کے پیش نظرتمام سیاسی اختلافات کو بھلا کر ایک ہونے کی راہ میں رکاوٹ بننے والی آوازوں کو بھی غداری کے مترادف سمجھا جانے لگا ہے۔

 

پیر، 2 فروری، 2026

حکومتی سطح پر کی جانے والی عوام سے آئینی و قانونی نا انصافیاں


 پاکستان میں ریاستی سطح پر قانونی اور آئینی تحفظ کے  ساتھ نا انصافیاں ہو رہی ہیں جو عوام کی نمائیندہ حکومتوں
    نے باقاعدہ ترامیم کے زریعے سے نافذ کی ہوئی ہیں جس کی کئی مثآلیں ہیں جس میں سے ایک  ٹیکس کے نطام  سے لی جا سکتی ہے جو نہ صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بنتی ہیں بلکہ معاشرے کے اندر رائج رسم و رواج کے پیمانوں پر بھی پورا اترتی دکھائی نہیں دیتی۔

مثلاً اگر کوئی شہری سر چھپانے کی خاطر اپنا کوئی مکان بنانے کے لئے زمیں خریدنا چاہتا ہو تو اس کو کئی ایسے ٹیکسز ادا کرنا پڑیں گے جو انکم ٹیکس کے گوشوارے نہ جمع کروانے والوں پر لاگو ہوتے ہیں خواہ وہ دہائیوں پر محیط محنت مزدوری سے حاصل کردہ آمدن جس پر ٹیکس لاگو ہی نہیں ہوتا تھا سے خرید رہا ہو۔ بھلے وہ پُشتوں سے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہو اس کی  آمدن ٹیکس کی ادائیگی کے زمرے میں نہ آتی تھی اس لئے وہ نان فائلر ہی رہا مگر اب اس کو فائلر نہ بننے کی وجہ سے خواہ مخواہ کے  ٹیکسز ادا کرنا پڑیں گے۔ حالانکہ یہ قانون آئین کے بنیادی انسانی حقوق کے متعلق آرٹیکز کی کھلے عام دھجیاں اڑا رہا ہے؟


منگل، 9 دسمبر، 2025

ریاست کی گورننس پر سوالیہ نشان

ایک ادارے کے ذمہ دار عہدیدار کا ایک قیدی کی سرگرمیوں پر یوں کانفرنس کرنا کوئی عام بات نہیں بلکہ یہ ایک سوالیہ نشان ہے ریاست کی گورننس پر، ملکی انداز سیاست پر اور وزارتوں کی کارکردگی پر کہ ایک سابق وزیراعظم جس کی پروفائل بذات خود ایک کھلی کتاب ہے عسکری ادارے کے سربراہ پر کھلے عام الزامات لگا رہا ہےکہ ملک میں اس کی پالیسیاں چلتی ہیں جو آئین پاکستان کے نفاذ پر ایک سوال ہے۔ کیا ریاست کے وزیر اعظم کے پاس نام کا عہدہ ہوتا ہے؟

ذہنی مریض ہی سہی، قید میں ہی سہی آخر سابق وزیر اعظم بھی تو ہے اس سے وضاحت ہی طلب کر لی جائے کہ وہ یہ سب کچھ اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہے یا کرسی چلے جانے کا دکھ پِٹ رہا ہے۔ اگر واقعی سچ ہے تو پھر وہ اس وقت خاموش کیوں تھا جب کہیں اور بنائی گئی پالیساں اس کے نام سے نافذ ہوتی تھیں؟

سوال ہے اس نظام جمہوریت پر ، اس نظام پر یا اس بندوبست پر جس سے ایک ذہنی مریض بغیر سائیکالوجیکل انیلیسس کے وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچ جاتا ہے اور پھر قومی سطح کے میڈیا پر اس کے نام کے ڈنکے بجائے جاتے ہیں ۔سادہ معصوم ذہنوں پر ملک و قوم کے مستقبل بارے کشیدہ کاری کروائی جاتی ہے۔ عوام کو اس کے واحد نجات دہندہ ہونے کے یقین دلوائے جاتے ہیں۔ امت مسلمہ کا لیڈر ہونے کے نکارے بجائے جاتے ہیں۔

اس وقت کے بچے اب جوان ہو چکے ہیں۔ نوجوان فیملی کے سربراہ اور اس وقت کے سربراہ قبیلوں کی باگ ڈور سنبھال چکے ہیں۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ دہائیوں پر محیط محنت سے بنائے گئے اس یقین کو یکدم ختم کر دیا جائے۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہےکہ اس کی پیشکش اور ہدائت کاری کہاں سے ہوتی رہی؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اتنا بڑا تبدیلی کا نعرہ سب جھوٹ تھا تو اس کے شواہد عوام کو کیوں نہیں دکھائے جاتے؟

عوامی شعور کو بے راہ روی کا شکار کیا گیا اب اگر اس شعور کو گناہگار ٹھہرایا جا رہا ہے تو سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس میں شریک جرم ریاست کی مقتدرہ کو معصوم اور بے قصور کیسے سمجھ لیا جائے؟

ایک قیدی کو سیاست کرنے کی اتنی آزادی کہ اس کے الزامات سوشل میڈیا تک پہنچ کر عوام کے عادی ذہنوں تک پہنچ جاتے ہیں بذات خود ایک سوال ہے؟

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان الزامات پر تحقیقات کیوں نہیں ہو پا رہیں؟ آئین اور قانون خاموش کیوں ہے؟ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کیا ایسے جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈا کو روکنے کی سکت نہیں رکھتی؟ اے آئی کی مدد سےکوئی ایسا سافٹ وئیر ٹول نہیں بنا سکتی جو جھوٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے عوام کو بر وقت حقائق سے آگاہ کر کے عوامی شعور کو درست سمت دے سکے۔

وہ ریاست جو دشمن کے دفاعی نظام کو مفلوج کر کے چند گھنٹوں میں اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتی ہے وہ ایک قیدی کے پراپیگنڈے پر تحقیق یا اس کو روکنے پر اتنی بے بس کیوں ہے جس کو عسکری ادارہ ملکی امن کے لئے خطرہ سمجھتا ہو اس پر ریاست کی گورننس خاموش کیوں ہے؟ کیا وہ مکافات عمل کے سامنے بند باندھنے سے قاصر ہے یا نتائج کی خوشی کی مستی میں۔

بہرحال سوال اپنی جگہ مگر اس کانفرنس کا سنجیدہ پہلو یہ بھی ہے کہ ایمپائر کی انگلیوں کے اشاروں پر سیاست کرنے والوں کو اب حقائق کو سمجھتے ہوئے اپنا ذہن درست کر لینا چاہیےکیونکہ اس بار انگلی کی جگہ ڈنڈا ہے اور اب یہ سیاسی توجیہات کہ وہ فوج کے خلاف نہیں بلکہ کسی شخصیت کے خلاف ہیں یا فوج کے سیاست میں کردار کے خلاف ہیں نہیں چلیں گی۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے خلاف لب کشائی کا جواب فوج کے ترجمان کی زبان سے سن کر تمام غلط فہمیاں دور ہو جانی چاہیں کہ فوج کے سربراہ کے احترام پر ادارے نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور اس کا حکم ہی فوج کا عمل ہوتا ہے۔


منگل، 25 نومبر، 2025

بین الصوبائی مقابلہ ترقی و کارکردگی کے انعقاد کو یقینی بنایا جانا چاہیے

کچھ ہفتے قبل صوبائی سطح پر ترقی و کارکردگی میں مقابلے کے نام پر عوام اور سیاسی جماعتوں کے درمیاں نوک جھوک جاری رہی جس کے حلقے پھلکے مظاہرے ابھی بھی عوام یا سیاستدانوں کی زبانی ہوتے رہتے ہیں کہ کس جماعت نے اپنے صوبے میں زیادہ ترقیاتی کام کروائے ہیں جس میں خاص طور پر  کے پی کے بمقابلہ پنجاب تجزیوں کے زد میں ہے جس کو تقویت تحریک انصاف کے اپنے ہی چند سابقہ قائدین نے بخشی ہے جن میں افضل مروت پیش پیش ہیں۔ جس پر تحریک انصاف کا موقف ہے کہ وہ جماعت سے ناراضگی کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں جو بجا ہے مگر حقائق کو محض ناراضگی کی بنیاد پر جھٹلایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی کسی کے آزادی اظہار رائے کے بنیادی حق کو ختم کیا جا سکتا ہے۔  
اس کے علاوہ مرکزی سطح پر حکومت میں شریک پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون میں بھی کافی حد تک ایک دوسرے پر کارکردگی کی بنیاد پر تنقید کی جنگ باہمی اختلافات کا موجب بنی رہی ہے مگر بعد میں دونوں جماعتوں کے اعلیٰ سطح کےقائدین کو مرکزی حکومت کو محفوظ رکھنے کے لئے بیچ بچاؤ کرنا پڑا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس جنگ کی وجہ سے مرکزی اتحاد کو خطرہ لاحق ہو جائے۔
دیکھا جائے تو اس وقت تمام بڑی سیاسی جماعتوں جن میں تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ شامل ہیں کی ایک ایک صوبے میں حکومت ہے اور کسی کے پاس بھی اب یہ جواز نہیں بنتا کہ ان کو موقع نہیں ملا اور صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار کی حد تک تو قطعاً بھی کوئی بہانہ قابل قبول نہیں کہا جا سکتا۔
تحریک انصاف کو چونکہ سب سے بڑا عوامی مینڈیٹ رکھنے پر فخر  بھی ہے اور پچھلے بارہ سالوں سے کے پی کے میں ان کے پاس حکومت ہے لہذا اب کارکردگی چھپانے کے ایسے بہانے عقل و دانش کے پیمانوں پر پورا اترتے دکھائی نہیں دیتے۔ اگر وہ دوسری جماعتوں کو اقتدار میں رہنے کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو پھر ان کو اپنے دور اقتدار کا بھی عوامی عدالت میں حساب دینا پڑے گا۔ 
پیپلز پارٹی بھی کئی دہائیوں سے سندھ کے تخت پر براجمان ہےاور پاکستان مسلم لیگ بزدار کے چار سال نکال کر عوامی مینڈیٹ کی بنیاد پر پنجاب میں حکومت سازی کی لمبی تاریخ رکھتی ہے۔ اور اسے یہ بھی دعویٰ ہے کہ کارکردگی کی بنیاد پر وہ عوامی مینڈیٹ کی زیادہ حقدار  ہے۔ اس کے تحفظات ہے ہیں انہوں نے مرکز میں 2022 میں حکومت سنبھال کر اپنے مینڈیٹ کی قربانی دی ہے۔ لیکن اب دوبارہ حکومت سازی کے بعد بھی ان کو کارکردگی دکھا کر عوام کے رائے کو ہموار کرنے کا اچھا خاصہ وقت مل چکا ہے
شعوری سیاست کا یہ تقاضہ ہے کہ ایسے مواقعوں پر عوامی سطح پر جماعتی الحاق سے ہٹ کر سوچا جائے مگر بدقسمتی سے ہماری سیاست ابھی اس پختگی اور سنجیدگی کی حامل نہیں بن سکی کہ ہم کارکردگی کی بنیاد پر اپنے ووٹ کے استعمال کا حق استعمال کریں
اگر اس نوک جھوک کی جنگ کو جمہوری پیمانے پر دیکھا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک مثبت عمل ہے اور اس طرح کے نہ صرف لفظوں اور سیاسی بیانیوں تک مقابلے ہونے چاہیں بلکہ اس پر قومی سطح پر ڈائیلاگ اور مناظرے بھی ہونے چاہیں ایسے مناظروں کا انتظام بھی مرکزی حکومت کو کروانا چاہیے جس کی براہ راست نشریات ہوں اور پوری قوم ان کو دیکھے تاکہ سیاسی جماعتوں کے اندر کارکردگی کی بنیاد پر جمہوری مینڈیٹ کا احترام سیاست کے اندر پنپنے کا رجحان عام ہو۔
 اگر ضروری سمجھیں تو مستقبل میں اس مشق کو جاری رکھنے کے لئے صوبوں کے مشورے سے کوئی قانون سازی بھی کی جاسکتی ہے تاکہ اس پر باقائدہ پانچ سالہ دورانیے میں کم از کم  درمیان اور اخیر میں دو دفعہ رپورٹ جاری کی جائے جس میں عوامی نمائندوں کی مرکزی اور صوبائی سطح پر کارکردگی اور قانون سازی کے عمل میں ان کی شرکت کو بھی شامل کیا جائے تاکہ عوام سیاسی جماعتوں کی مجموعی کارکردگی کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے نمائندوں کی کارکردگی کی بنیاد پر اگلے انتخابات میں ووٹ دینے کا فیصلہ کرنے میں مدد حاصل کر سکیں۔ 
اگر ممکن ہو تو تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی اتفاق سے بین الاقوامی سطح پر غیرجانبدار مبصرین کی ایک کمیٹی کو صوبوں کے درمیاں اس مقابلےاور چیلنج پر فیصلہ کن نتائج کا کام سونپا جانا چاہیے تاکہ قوم کو یہ معلوم ہو سکے کہ کون سی جماعت کارکردگی میں بہتر ہےتاکہ عوام کے اندر شعور اجاگر ہو اور عوامی مینڈیٹ کو شعوری بنانےکی راہ ہموار ہو سکے۔
پچھلی ایک دو دہائیوں کی سیاسی تاریخ میں جس طرح سے مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انکو جمہوریت کی مضبوطی کی خاطر میثاق اور قربانیوں کے بعد مشکلات کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ مک مکا کے طعنے بھی سننے پڑے ہیں۔اس کے علاوہ ہر جماعت کو کسی نہ کسی حد تک یہ شکوہ اور تحفظ رہا  ہے  کہ ان کا میریٹ چرایا گیا ہے۔ جیسا کہ مسلم لیگ نون کا دعویٰ ہے کہ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں ان کا مینڈیٹ چرایا گیا جبکہ تحریک انصاف کا دو ہزار بائیس کے انتخابات میں مینڈیٹ کے چرائے جانے کا دعویٰ ہے۔ جس کو اس تقابلی مقابلے کے رجحان سے جمہوری اقدار کو مضبوط اور شعور کو اجاگر کرکے سد باب کرنے میں بھی مدد ملے گی

جمعرات، 9 جنوری، 2025

عمران خان اپنی مقبولیت کو کیسے ناقابل تسخیر اور انقلابی بنا سکتے ہیں؟

 

ان کی مقبولیت کا کوئی اعتراف کرے یا نہ کرے مگر اس کا احساس اور تشویش ہر سطح پر ضرور موجود ہے لیکن اس کا ان کو متوقع فائدہ کیوں نہیں مل رہا اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ انکی موجودہ سیاسی حکمت عملی جس کا ڈھنگ 2014 والا اور بیانیہ 2022 والا ہے وہ موجودہ سیاسی حالات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے جو سیاسی حکمت عملی 2014 میں بنائی تھی وہ اس وقت کے حالات کے مطابق ٹھیک تھی مگر آج نہیں کیونکہ اس وقت جو سہولیات اور ماحول ان کو میسر تھا  وہ آج نہیں جس کا انہوں نے اپنے تمام تر احتجاج اور ریلیوں اور دوسرے حربے استعمال کر کے اندازہ بھی لگا لیا ہوگا اسی طرح 2022 والا بیانیہ جس کی بنیاد مظلومیت کی بنیاد پر ہمدردیاں اکٹھی کرنا تھا وہ خوب چلا اور اسی سے ان کی 2022 میں گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا ملا لیکن اب اس کو نئی توانائی کی ضرورت ہے جس کے لئے حالات کے مطابق کسی نئی حکمت عملی کو اپنانا ہوگا تاکہ مقبولیت کو پائیدار بنایا جاسکے۔

اب ہمدردیوں کے جذبات سرد اور ترقی کی خواہشوں پر دائیں بائیں سے پڑنے والی جھلکوں کے تاثرات حاوی ہونے والے ہیں جن کا آغاز اب کے پی کے میں حکومت کے خلاف تحفظات اور احتجاج کی صورت انگڑائیاں لیتا ہوا محسوس کیا جا سکتا ہے جس پر آنکھیں بند کرنے سے وہی انجام ہوگا جو 2022 میں عوامی بڑھتی ہوئی مشکلات کے دباؤ پر پی ٹی آئی کے ممبران پارلیمان کی مسلم لیگ نون میں جانے کی دوڑ کا سماں تھا۔  2022 میں تو ان کی حکومت کی تبدیلی سے انکو سیاسی نقصان کی بجائے فائدہ ملا لیکن اب ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ اور اگر وہ اپنی صوبائی حکومت کے مرکز کے ساتھ محاذ آرائی سے ایمرجنسی لگوا کر کارکردگی کی بجائے پھر سے عوام کی مظلومیت کی بنیاد پر ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ ان کی ایک اور بہت بڑی سیاسی غلطی ہوگی جو انکے لئے مذید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

مقبولیت ان کا سیاسی اثاثہ ہے جس کو محفوظ کرنے کا ان کو حق پہنچتا ہے مگر اس کو حکومت کی طرف سے ان کے لئے کھڑی کی جانے والی مشکلات اور محاذ آرائی کے سہارے زیادہ دیر قائم نہیں رکھا جا سکے گا۔ حکومت نے ان کے تمام حربوں کے اثرات کوزائل کرتے ہوئے اپنے ترقی کے اہداف کی طرف سفر کو شروع کر لیا ہے اور جیسے ہی وہ اپنے لئے عوامی تاثرات کے ماحول کو سازگار پائیں گے تو وہ ان کی اسیری جیسی مشکلات میں نرمی اور سہولت کا تاثر پیدا کرکے ان کی اس ہمدردی والے بیانیوں کو کمزور بنا دیں گے۔ اور پھر جیت اور ہار کی بنیاد اگلے انتخابات بن چکے ہونگے جن کی تیاری کرنی ہوگی۔

انکے آپریٹرز نے بنگلہ دیش ماڈل کو بھی آزمانے کی کوشش کی مگر وہ بھی نہ چل سکا اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس مقبولیت کے پیچھے وہ نظریاتی طاقت نہیں جو مقبولیت کو شعوری بنا کر انقلانی بناتی ہے۔ حکومتوں کی طرف سے طاقت کا استعمال اور مزاحمت کا سامنا ہر انقلاب کو ہوتا ہے مگر اس کو عبور کرنے کے لئے اصل طاقت شعور ہی ہوتا ہے۔

جس کی بنیاد ضد۔ ہٹ دھرمی، انا اور شخصیت پرستی نہیں بلکہ حق و باطلا اور صحیح وہ غلط کی پہچان اور بہتری کی نیت ہوتی ہے۔ جس میں اپنا بھی اگر غلط کر رہا ہو تو اس پر تنقید اور مخالف بھی صحیح کر رہا ہوتو اس کی تائید کی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش میں ان کے سامنے کسی سیاسی جماعت کی اندھی تقلید نہیں بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے جذبے، نظریے اور شعور کی طاقت تھی جس نے خود ہی قیادت بھی تلاش کر لی اور مشکلات کے با وجود اپنی منزل پا لی۔ نوجوان سیاسی جماعتوں کے ساتھ الحاق سے بالا تر ہو کر نکلے انکا کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا بلکہ اپنے آپ کو درپیش مسائل کا حل اور ملک کی ترقی و خوشحالی تھا۔

معزرت کے ساتھ انکی مقبولیت کو شعوری کہنا قدرے مشکل ہے کیونکہ اس کی بنیاد مظلومیت پر ہمدردی کا بیانیہ ہے جو حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جسے سمجھنے کے لئے 2018 سے لے کر 2022 تک کے منظرنامے میں جا کر حکومت میں ہوتے ہوئے کارکردگی کی بنیاد پر عوامی تاثرات کو دیکھنا پڑے گا۔ جب وہ مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے انتہائی نالاں تھے حتیٰ کہ انکے ممبران اسمبلی بھی آپ کو چھوڑنے کی راہیں تلاش کر رہے تھے اور اسی کی بنیاد پر اسٹیبلشمنٹ نے بھی مزید انکے ساتھ چلنے سے کنارہ کشی کا فیصلہ کیا جو ایک حقیقت ہے جس کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ اور اسٹیبلشمنٹ سے نفرت کی وجوہات میں ایک 2018 میں آپ کو حکومت دینے اور آپ کے قبول کرنے کی سیاسی غلطی بھی شامل ہے جس کو شعور کے کینوس پر مقبولیت کی راست بنیاد تسلیم کرنا ممکن نہیں۔ سہولت کاری کا حصول، امیدیں اور محاذ آرائی کا یک ساتھ کوئی جوڑ نہیں بنتا۔

اس نئی حکمت عملی میں حقائق کو قوم کے سامنے رکھتے ہوئے جمہوری اقدار اور سیاسی اصولوں پر قائم رہنے والی اپنی سیاست کا آغاز کرنا ہوگا جس میں اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھنے کی بجائے سیاسی حلقوں میں اپنے اثر کو بڑھاتے ہوئے عدالتوں، پارلیمان، الیکشن کمیشن، سوشل میڈیا اور کے پی کے میں اپنی گورننس پر توجہ دیتے ہوئے اپنی سیاسی مقبولیت کو شعوری بنا کر اپنی سیاسی جنگ کو جیتنا ہوگا۔ اپنی دوسرے درجے کی سیاسی قیادت کی صفوں میں پھر سے سنجیدہ سیاستدانون کی جگہہ پیدا کرنے کا ماحول بنانا ہوگا جس سے ملک کی نظریاتی، سیاسی اور جمہوری سطحوں پر ان کی سیاست بارے سنجیدہ تاثر ابھرے۔

اور پارلیمان کی سیاست کو اپنے حق میں کیا جا سکے اور یہ کوئی مشکل کام نہیں سیاست اور محبت میں سب ممکن ہے۔ اگر ان کے نظریاتی طور پر سب سے بڑی مخالف جماعت جے یو آئی کے ساتھ قربت اور مذاکرات کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے جیسا کہ چند ماہ پہلے دیکھا گیا تو باقی جماعتوں کے ساتھ کیوں نہیں؟ حکومت میں شامل بڑی جماعتوں پی پی پی اور مسلم لیگ نون کے اتحادی ہونے کے باوجود بھی اپنی اپنی سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر عوامی پزیرائی کی دوڑ میں نوک جھونک چلتی رہتی ہے تو ان کو بھی آئین کی بالادستی، عوامی حکمرانی کی بنیاد پر اپنی سیاسی حکمت عملی کو ترتیب دیتے ہوئے پارلیمان میں اپنی مثبت سوچ و عمل کے زریعے سے اپنی اہمیت کو پیدا کرنا ہوگا اور عوام کو احتجاج اور دھرنوں کی بجائے اس طرف متوجہ کر کے پارلیمان کے اندر 2022 کی طرز پر عدم اعتماد کے زریعے سے حکومت کی تبدیلی کے آثار پیدا کر کے اپنی مقبولیت کو سہارا دینا ہوگا۔ جمہوریت مضبوط ہوگی تو پائیدار سیاست کا ماحول بنے گا۔

اور سیاسی ماحول کی تبدیلی میں جس طرح سے انہوں نے خود صحافی کے سوال پر یہ اعتراف کیا ہے کہ حکومت نے معیشت کو سنبھال لیا ہے ملک کے سیاسی حالات کو نیا موڑ دینے والے ہیں۔ ان کی اس مقبولیت کو اگر سہارا نہ دیا گیا تو نقصان دینے والے ہیں جن کا آغاز کے پی کے سے ہوگا جہاں انکے پاس پچھلے تین دورانیوں سے حکومت ہے اور عنقریب صوبوں کے درمیان کارکردگی کی بنیادوں پر شعوری مقبولیت کا متحمل مقابلہ ہونے والا ہے جس میں ہر صوبے کے عوام دوسرے صوبوں کے حالات سے متاثر ہوتے ہوئے اچھی کارکردگی پر حوصلہ افزائی اور خرابیوں پر تنقید کرنے پر مجبور ہونگے بلکہ بحث مباحثے اور مذاکرے ہونگے جن کی پیشگی تیاری کرنا ہوگی۔

اور یہ معیشت کی بہتری کا اعتراف ان سے اپنے سیاسی محاسبے کا تقاضہ کر رہا ہے۔ ان کی طرف سے بہتری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی حکمت عملی جس میں انکی صوبائی حکومتوں کی طرف سے آئی ایم ایف کو قرضہ نہ دینے کے خطوط اور ملک کے ڈیفالٹ ہو جانے کا بیانیہ تھا پر ندامت کی بجائے ابھی بھی بیرونی زرمبادلہ میں رکاوٹ بننے کی کوششوں پر قائم ہیں جس کو بدلنا ہوگا۔ اگر انہوں نے معیشت کی بہتری کے اعتراف کے ساتھ مرکزی حکومت کی ترقی پر سوالیہ نشان اٹھایا ہے تو شعوری سطح پر دانشمندی کا یہ بھی تقاضہ ہے کہ اب خیبر پختونخواہ صوبہ جہاں انکی جماعت پچھلے بارہ سالوں سے بر سراقتدار ہے اپنی ترقی کے وہ نمونے عوام کو دکھائیں جن میں وہ دوسرے صوبوں سے آگے ہوں تاکہ عوام میں ان کو مزید پزیرائی ملے۔

اب ان سب سوالوں کا سامنا کرنے کی تیاری کرنی ہوگی جس کے لئے کے پی کے میں گورننس کو بہتر بنا کر عوام کو سہولتیں دینے کی طرف توجہ دینی ہوگی۔ اگر وہاں دوسرے صوبوں میں عدالتوں اور پولیس کو مطلوب افراد کو پناہ مل سکتی ہے۔ ریاستی اداروں کی حصول کی کوشش کے با وجود تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے تو وہاں پر امن کے لئے اپنے اختیارات اور صلاحیتوں کو کیوں نہیں استعمال کیا جا سکتا تاکہ عوام کو ریلیف دے کر ان کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔

فروری 2024 کے انتخابات نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ سوشل میڈیا اب کوئی فرضی بات نہیں رہی بلکہ یہ زمینی حقائق سے ہم آہنگ ایک عملی سیاست کا حصہ ہے جس پر تکنیکی اعتبار سے خلا پر قابض ہونے کی آپ کی جماعت کو برتری حاصل ہے جس کا فائدہ اٹھانے کے لئے اب اپنی مقبولیت کو شعوری بنانے اور آگے بڑھنے کی راہیں تلاش کرنا ہونگی۔ اگر اپنے ووٹرز کو انگیج رکھنے کو وہ اپنی مجبوری سمجھتے ہیں تو اسے سوشل میڈیا کے سپیس میں جاری رکھا جا سکتا ہے بلکہ وہاں ہی ان کو پارلیمانی سیاست میں کوششوں سے متوقع نتائج کی طرف متوجہ کیا جائے۔ اور اس غیر مشروط مقبولیت کو اگر محاذآرائی میں استعمال کرکے فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکا تو ملک و قوم کی فلاح میں مفاہمت کا کوئی بیانیہ بنا کر اس سے مستفید ہونے کی راہیں تلاش کی جائیں۔

اگر وہ ملک و قوم کی فلاح کے لئے مثبت سوچ رکھتے ہیں تو   سیاسی استحکام کا کریڈٹ لینا چاہیے اور اس ضمن میں انہیں اپنی طرف سے میثاق مفاہمت پیش کرتے ہوئے سب سیاسی جماعتوں اوراسٹیبلشمنٹ کو یہ تجویز دینی چاہیے کہ آئیں اگلے پانچ سالوں کے لئے سیاست میں محاذ آرائی کو ختم کرتے ہوئے ملکی فلاح کے لئے سب مل کر دنیا کی ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے مواقعے تلاش کرتے ہیں تو ان کی مقبولیت ناقابل تسخیر بن جائے گی۔اور وہ اس میثاق کو اپنے اسٹیبلشمنٹ کے حکومت سازی میں دخل اندازی سے باز رہنے اور اصلاحات سے مشروط کر کے اپنے ان مخلصانہ مطالبات پر  دوسری سیاسی جماعتوں سے بھی ہمدردیاں  حاصل کر سکتے ہیں۔

موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو اگر وہ دباؤ اور محاذ آرائی سے زیر نہیں کر سکے اور اپنے لئے الٹا مشکلات پیدا کی ہیں تو اس کا سبب ان کی سرگرمیاں اور ان سے ابھرنے والا تاثر ہے وگرنہ ان کی قائدانہ اور ان کی سوشل ٹیم کی اہلیت اور صلاحیتوں سے کسی کو انکار نہیں۔ اگر وہ 27 نومبر 2022، 9مئی 2023یا 26نومبر 2024 جیسی سرگرمیوں کے منفی تاثرات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتے تو اتنی مشکلات پیدا ہی نہ ہوتیں۔اب بھی اصل مسئلہ ہی ان کی طرف سے سیاسی استحکام کی یقین دہانی کا ہے اور جو جو ان کی جماعت میں سے کرواتا گیا وہ امن میں ہے۔  لہذا اگر وہ چاہتے ہیں کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی وہ مجبوری بن جائیں تو وہ اپنی ان صلاحتوں کو محض مثبت سمت دے کر اپنی اہمیت کو نمایاں بنا سکتے ہیں۔  حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو انکی ذات سے نہیں بلکہ ان کی محاذ آرائی سے شکوہ ہے ۔

ان کے لئے مرکزی حکومت سے باہر اور اپنی صوبائی حکومت کے پلیٹ فارم سے بھی  مواقع موجود ہیں۔وہ اپنی سوشل میڈیا کی ٹیم کی بے مثال صلاحیتوں کو  مثبت انداز میں استعمال کرتے ہوئے آئی ٹی سے منسلک کسی ایسے پراجیکٹ کے ماڈل کی مثال قائم کرکے پاکستان کی نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقعوں سے انکی دلچسپیوں کو سہارا دیتے ہوئے ملکی اور عالمی سطح پربحثیت ایک فل ان تھراپسٹ کے شوکت خانم یا نمل یونیورسٹی کی طرز پر  معاشی انقلاب یا پاکستان میں سرمایہ کاری اور ریمیٹنس کی آمد کے لئے اپنا کردار ادا کرکے حکومت کو اپنا احسان مند یاحکومت سے باہر رہ کر بھی عوامی پزیرائی کو اپنے حق میں ٹھہرا سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ ان کی مقبولیت کی صلاحتیوں اور اہلیت کا استعمال ہوتے ہوئے پاکستان کو نمایاں فائدہ پہنچے جس کی ایکنالجمنٹ ان کے حریفوں کو حکومت میں ہوتے ہوئے بھی پیچھے چھوڑ دے۔

ان سے حکومت لئے جانے کی بنیادی وجہ ہی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال تھی جس کا اعتراف ان کے وزراء بھی کر چکے ہیں کہ "اگر ان کی حکومت نہ جاتی تو بہت خرابی پیدا ہونے والی تھی" وگرنہ جس قدر ان کو سہولتیں دی جاتی رہی ہیں ان کی پاکستان کی آمرانہ جمہوریت میں مثال نہیں ملتی جس کی ایک نئی جہت "ہائبرڈ جمہوریت"انہی کی ان سہولتکاریوں اور ایک پیج پر ہونے کے ماحول سے متعارف ہوئی ہے جس کی مخالفت کے وہ اس وقت سب سے بڑے علم بردار ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے برخلاف جس طرح سے ان کا سیاسی بیانیے میں دعویٰ ہے کہ ان کے جانے کے بعد ان سے نہ سنبھال پانے کی وجہ سے معیشت خراب ہوئی ہے تو اپنی اور اپنی ٹیم کی  صلاحیتوں سے اس کا عملی ثبوت دیتے ہوئے اب بھی اگر معیشت میں بہتری کا کوئی ماڈل یا اس میں اپنا کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو ان کی ہر طرح کی محاذآرائی خود بخود ہی منطقی انجام کو پہنچ جائے گی۔ یا پھر  حکومت کی میثاق معیشت پر ساتھ دینے کی آفر پر انہیں متاثر کن تجاویز دے کرمعیشت کی بہتری کے عمل میں سربراہی کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں  یا   اپنی صوبائی حکومت کے لئے مالی امداد یا ترقیاتی پراجیکٹ کے حصول کو مذاکرات میں مدد سے مشروط کرکے فائدے اٹھائے جا سکتے ہیں۔

اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ رکھا جانے والا سلوک مناسب نہیں تو پھر ان کو اپنے دور اقتدار کے حالات کو بھی یاد کرنا چاہیے کہیں یہ مکافات عمل کا ہی تسلسل تو نہیں جس کوختم کرنے کے لئے بھی سیاسی ماحول کو جمہوری اقدار اور اصولی سیاست سے مزین کرنے سے مشروط ہونے کو یقینی بنانے کی طرف بڑھنا ہوگا جو مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ جس کا ان کو 2018 میں اقتدار سنبھالنے سے بھی پہلے سیاسی جماعتوں کی طرف سے عندیہ دیا گیا جس کو انہوں نے نظر انداز کر دیا تھا۔

اگر اس تسلسل میں وہ این آر او کے مرحلے میں داخل ہونا چاہتے ہوں جس کا انہوں نے بظاہر تو انکار بھی کیا ہے لیکن اگر کوئی ایسی امید وابسطہ کی بھی جا رہی ہے تو غیر مناسب نہیں۔ سیاسی بنیادوں پر اسیری کوئی اچھی مثال نہیں اس کا بھی کوئی مستقل حل سیاسی جماعتوں کو باہمی اتفاق رائے سے سیاسی نگرانی والی طرز پر ڈھونڈنا چاہیے تاکہ کل کوئی نیا سیاسی کردار پھر سے اس عمل کا آغاز نہ کر دے۔

بین الاقوامی سطح پر انکی  حمائت کے لئے پی ٹی آئی  سوشل میڈیا کی ٹیم کی کوششیں قابل تعریف ہیں مگر ان کا فائدہ بھی اس لئے نہیں ہو پا رہا کہ پاکستان کے دوست ممالک جن کی پاکستان کے تجارتی اور معاشی پالیسیوں کے ساتھ مفادات اور دلچسپیاں جڑی ہوئی ہیں بھی ان سے اپنی راہ میں رکاوٹ بننے سے خائف ہونے کی بنیاد پر نالاں ہیں جو وہ ہر دفعہ بیرونی ڈیلیگیشن کی آمد پر احتجاج اور دھرنوں سے مشکلات کی صورت اپنے بارے ایک تاثر بنا چکے ہیں کو بھی اب تبدیل کرنا ہوگا اور بیرونی دباؤ کو ان کے ساتھ ہمدردیوں کی سوچ کے ساتھ ہم آہنگ بنانے کی کوشش کرنی ہوگی۔

مقبولیت کا حصول بھی آسان کام نہیں مگر اس کو قائم رکھنا اس سے بھی مشکل مشق ہے۔ اور اس مقبولیت کو اگر سمجھا جائے تو قومی اثاثہ بھی بنایا جاسکتا ہے جس کے لئے سیاستدانوں کو اجتماعی سطح پر سوچ کر اس کو مثبت سمت میں استعمال کرنے کی راہ نکالی جا سکتی ہے۔ اسے اقتدار کے حصول کی طمع سے آزاد کر کے عمران خان کو وہی 1992 والا عمراں خان سمجھتے ہوئے میثاق مفاہمت کی طرز پر کسی معاہدے پر پہنچ کر اپنا ہیرو بنالیں اور انہیں بھی ایسی سوچوں کی راہ ہموار کرنے اوراس پرسب کا ممنون ہونے کا رویہ اپنانے میں پہل کرنی چاہیے۔ اقتدار کی جنگ کا خاتمہ کوئی مشکل کام نہیں جب پوری قوم ایک ہو جائے اور ملک و قوم کی فلاح کی خاطر اپنے اختلافات کو بھلا کر مفاہمت کی پالیسی پر چلنے کی ٹھان لے تویہ عہدے اور وزارتیں علامتی سی بن کر رہ جاتی ہیں۔ساری جماعتیں اپنی اپنی نمائندگی کے تناسب سے وزیر اعظم کا عہدہ بھی سالوں کے دورانیے کے حساب سے لے سکتے ہیں اور وزارتیں بھی اسی نسبت سے لی جا سکتی ہیں۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ جب پوری قوم اور سیاسی جماعتیں کسی ایسے میثاق مفاہمت پر متحد ہوجائیں تو یہ عہدے صرف ذمہ داریاں بن کر رہ جاتے ہیں اور ان کی اہمیت صرف خدمت کے جذبےسےجڑ کر رہ جاتی ہے اور ان کی خواہش بھی معدوم ہو جاتی ہے۔

حکومت اور اسٹیبلشمنٹ  سے بھی گزارش ہےکہ وہ اس مقبولیت کو اپنے حریف کی نہیں بلکہ قومی اثاثہ سمجھتے ہوئے اس کو شعور دےکر اپنی افرادی قوت کی صلاحیتوں اور اہلیتوں کو ملکی سلامتی اور خوشحالی میں استعمال ہونے کے ماحول کو پیدا کر کے اگر وہ اپنی سیاسی  ساکھ کی قربانیاں دے کر ملک کو بچانے کے دعوے کا عملی ثبوت دینا چاہتے ہیں تو  پی ٹی آئی کے ساتھ جاری مذاکرات کو "قومی میثاق مفاہمت" پر ایک ہوجانے سے مشروط کر دیں اور عالمی سطح پر ایک "سافٹ انقلاب" کی نئی مثال قائم کرنے میں اپنے حصےکا کردار ادا کرنے میں دیر نہ کریں یا اس کا کوئی دوسرا حل ڈھونڈیں۔

اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو آپس کی محاذ آرائی کا رجحان نہ صرف قومی افرادی قوت کےزائل ہونے کی خطرات رہیں گے بلکہ سیاسی عدم استحکام سے معاشی بہتری کی رفتار بھی متاثر ہوگی کیونکہ جہاں ایک طرف حکومت کی کوششوں سے سرمایہ آ رہا ہے وہاں سول نافرمانی جیسی تحریکوں سے فارن ریمٹنس بھی متاثر ہورہی ہے اور عوام میں مایوسی سے لوگ سرمایہ لے کر یہاں سے بیرون ملک سکونت اختیار کرنے کی کوششوں میں بھی لگے ہوئے ہیں جس سے اچھے نتائج کی توقعات کم پڑتی جائیں گی۔


جمعرات، 28 مارچ، 2024

معاشی بحران سے نکلنے کے لیے کشکول توڑنے کی راہ نکالنی ہو گی

 

وزیراعظم کا یہ بیان سن کر انتہائی مایوسی ہوئی کہ ہمیں آئی ایم ایف کا ایک اور پروگرام لینا پڑے گا۔ لگتا ہے وہ بھی اپنے پیش روحکمرانوں کی طرح موجودہ مروجہ مالی نظام جس کی بنیاد ہی سودی نظام پر ہے کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں ۔ ان کے اخلاص ، انتھک محنت اور قومی خدمت کے جذبے پر کوئی شک نہیں مگر انہیں  ماضی کے تجربات کی روشنی میں اپنی سوچوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ روائتی نظام کے ماہرین جن کی اہلیت اور قابلیت ہی اعدادوشمار کی ہیراپھیری کرکے دولت کے بہاؤ کو ایک خاص طبقے کی طرف موڑ کر اپنا حصہ وصول کرنا ہے وہ کیسے خدا اور اس کے رسول سے جنگ کی صورتحال سے ملک و قوم کو نکال کر ایک آزاد ریاست کے خواب کی تعبیر دے سکتے ہیں۔ قرضوں سے محلوں کی تعمیر اور عیاشیوں کا بندوبست کرنے والے مواقعوں کے متلاشی سودے بازکبھی ترقیوں کے محرک نہیں بن سکتے۔

اگر حکومت واقعی مخلص ہے تو پھر دائیں بائیں دیکھنے کی بجائے سخت فیصلے کرنے پڑیں گے۔ قرضوں اور امداد پر انحصار کی بجائے اپنی آمدن اور اخراجات میں توازن لانا ہوگا جس کے لئے پہلے کشکول کو توڑنے کی کوئی راہ نکالنی ہوگی اور فی الفور ایک آئینی ترمیم لانا ہوگی جس کے تحت آج سے اس خداداد ریاست کے لئے قرضے کی بات کرنے والا غدار وطن ہوگا۔ کشتیاں جلا کر آگے بڑھنا ہوگا۔ اس کے بعد اعدادی ہیرا پھیری کے ماہرین کو خزانے پر بیٹھانے کی بجائے مروجہ آزمائے ہوئے طریقوں سے ہٹ کر متبادل زرائعے کا سوچنے والے اس ملک کے ساتھ مخلص، ایماندار، اچھی شہرت ، وسیع علم و تجربہ اور کارکردگی کے حامل حقیقی محب وطن معاشی، سماجی، مالی،  اقتصادی، تجارتی، نظریاتی، کاروباری ، توانائی اور زرعی ماہرین کا تھنک ٹینک بٹھانا پڑے گا جو اس ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی حکمت عملی بنائے۔

یہ کوئی مشکل کام نہیں محض ایک قومی معاہدے کی ضرورت ہے جس کے تحت تجارتی اور گردشی خساروں اور قرضوں کو ختم کرنے کے لئے عوامی جیبوں سے ہاتھ نکال کر اشرافیہ اور عوام کے درمیان حائل آسائشوں کی بنی ہوئی تفریق کے حصار کو توڑ کر عوام کے حکومت پر اعتماد کو بحال کرنا ہوگا اور برابری کی بنیاد پر بنائی گئی صفوں میں سب کو کھڑے کرکے آگے بڑھنے کی راہ کا انتخاب کرنا ہوگا جس کی ہمارے آئین کا دیباچہ اور شہریوں کے حقوق کا ابتدائی باب ضمانت دیتا ہے۔

تمام شہریوں کے درمیان سے خاص و عام کی تقسیم کو ختم کرکے سب کو دو وقت کی سوکھی روٹی اور پانی کا گلاس ہو یا دیسی گھی کی چوری میسر ہو سب کو ایک جیسے حالات میں زندہ رہنے کا ایک قومی معاہدہ کرنا ہوگا اور اس تفریق کو ختم کرنے کے لئے اس ملک کے خزانے سے حاصل تمام سہولتیں اور آسائشوں کو برابری کی بنیاد پر یقینی بنانے کی سادہ سی قانون سازی کرنا ہوگی اور جس دن اس پر عمل شروع ہوگیا وہ اس ملک کی تقدیر کو بدل کر حقیقی انقلاب لانے کی طرف پہلا قدم ہوگا۔

کشکول توڑنے کے لئے تمام تر بیرونی قرضوں کو اندرونی قرضوں میں بدلنا ہوگا جس کے لئے ملک پر موجود قرضوں کی رقم عوام کی جیبوں سے زبردستی نکالنے کی بجائے قوم سے مستعار یا منافع کی شرائط پر لینی ہوگی اور اس پر عمل کے لئے کوئی قومی مالی بانڈز متعارف کروا کر معاملہ حل ہوجائے یا معاشی ایمرجنسی نافذ کرکے قومی اور عوامی اثاثوں سے ان قرضوں کی یکمشت ادائیگی کو عملی طور پر یقینی بنا لیا جائے اس کے علاوہ کوئی حل نظر نہیں آتا۔ اور پوری قوم برابری کی سطح پر مہیا خوراک اور سہولتوں کے عوض اس وقت تک ملکی معاملات چلانے میں رضاکارانہ طور پر خدمت کرے گی جب تک ہم ایک آزادانہ تجارتی پالیسی سے اپنے تمام تر انتظامی، تجارتی، مالی اور کاروباری معاملات کو معمول پر نہیں لے آتے۔ اس کے بعد ایک غیرتمند قوم کی طرح ریاست کو چلانے کے عالمی سطح پر نئے معاہدے کئے جائیں جن میں تمام تر ماضی کی مجبوریوں سے ہٹ کر آزادانہ تجارتی معاہدے ہوں اور جہاں سے جو شے سستی ملے اس کو خریدا جائے اور اپنی مصنوعات کی قیمتوں کا جائز تعین کروانے کے لئے ایماندارانہ حکمت عملی کے تحت کوالٹی کی بنیاد پر کاربند رہنے کے اصول کے تحت اقدامات پر سختی سے عمل کروایا جائے۔

مالی پالیسیوں میں حکومتی اخراجات کو کم کرنے سے بچنے والی رقم سے تعلیم اور صحت کو بہتر کیا جائے اور توازن کے لئے ٹیکسز بڑھانے کی بجائے تجارت کے فروغ اور افرادی قوت کے زرائع کے استعمال کی طرف توجہ دے کر بنیادی تعلیم اور صحت کے علاوہ باقی خدمات کے شعبوں کو نجی حلقے کی طرف بالترتیب لاکر ذمہ داریوں کو کم کیا جاسکتا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کی کوششیں جاری رہنی چاہیں مگر اس کے لئے سرمایہ کار کو امن، منافع ، بدعنوانی سے پاک ماحول اور مالی تحفظ کا احساس دینے کے لئے مالی پالیسیوں کو متعارف کروانا پڑے گا۔

خوراک میں خود کفیل ہونے کے لئے ایک زرعی ملک ہوتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ایک سال کا عرصہ درکار ہوگا جس میں قوم فاقہ کشی کر کے بھی اپنی خوراک کی ضرویات کے پورا ہونے کو یقینی بنا سکتی ہے اور یہ کوئی بہت بڑا ٹارگٹ نہیں ہوگا جس کے لئے صرف ایک جامع زرعی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جس میں اپنی ضروریات کو موجودہ قابل کاشت زمین کے اعدادو شمار سے ہم آہنگ کاشتکاری کا منصوبہ ترتیب دینا ہوگا اور زمین دار کو پیشگی اس کی فصل کے نرخ کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا جو کسی بھی طرح سے مشکل ٹاسک نہیں۔

اس طرح سے توانائی کے بحران کے لئے بھی متبادل زرائعے دیکھنا ہونگے جن کا حل پنجاب اور دوسرے صوبوں کے علاقے جہاں نہروں کا جال بچھا ہوا ہے ان پر ہائیڈرل پاور پلانٹس، جوہری توانائی، سولر اور ونڈ ٹیکنالوجی کی طرف توجہ ہے تاکہ توانائی کے حصول کے سستے ترین زرائع سے حاصل توانائی پر انحصار کی طرف بڑھا جائے۔

ہمارا جتنا بھی ملکی سرمایہ بیرونی ممالک میں پڑا ہوا ہے اس کو قومی جذبے کے تحت رضاکارانہ طور پر واپس لانا ہوگا اور ملک کی پچہتر سالہ تاریخ کے کھوکھلے دعووں اور نعروں کو اب عملی جامہ پہنانے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ اب اس قوم کو اپنی حب الوطنی کے دعووں کا یقین دلانا ہوگا کہ ہم سب بحثیت شہری اس ملک سے حاصل کئے گئے فوائد کے بدلے اس دھرتی کو مشکل میں ہر وہ شے لوٹا دیں جس کا وہ آج ہم سے اس معاشی بحران میں تقاضہ کر رہی ہے اور یہ ہمارا ایک قومی فریضہ بھی ہے اور امتحان بھی۔

اور حالیہ سالوں میں جو بھی ملکی سرمایہ لے کر دیوالیہ ہونے کے خوف سے یہاں سے بھاگے ہیں ان کا پورا ڈیٹا ریاست کے پاس موجود ہے ان کو بھی دعوت دی جائے کہ وہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے اس قومی انقلابی معاہدے میں شامل ہو جائیں اور اگر وہ اس پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کریں تو جو دھرتی ماں کو بیمار چھوڑ کر بھاگے ہیں اور ان کا ضمیر نہیں جاگتا تو ان سے ناطہ ختم کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

دنیا تےجو کم نہ آیا اوکھے سوکھے ویلے

 اس بے فیضےسنگی کولوں بہتر یار اکیلے

اور ہمیں امید ہے کہ اگر حکومت اخلاص کی بنیاد پر کوئی انشیوٹو لے گی تو اورسیز پاکستانی قوم کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔

اور اگر حکومت اور اشرافیہ اب بھی اس طرح کے کسی معاہدے پر مفاہمت کرنے کے لئے تیار نہیں تو پھر قوم کو اس تاثر سے نہیں نکالا جاسکے گا کہ ملک کی اشرافیہ آج بھی اس ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے مخلص دکھائی نہیں دیتی بلکہ ان کو آج غریب عوام کی نہیں بلکہ اپنی آسائیشوں، تنخواہوں، وضائف، مراعات اور عیاشیوں کے ختم ہونے کی خطرات کے پیش نظر ایک اور دھوکے میں ڈالنے کی کوشش ہے وگرنہ اگر وہ واقعی مخلص ہیں تو ان کو اس ملک کے خزانے سے حاصل شدہ آسائشوں اور مراعات کی تقسیم میں امتیازی سلوک کی ظالمانہ پالیسیوں اور قوانیں کو ٹھوکر لگانا ہوگی وگرنہ یہ نئے نئے چہرے بدلنے کے نئے تجربوں سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ۔

ہمارے معاشی بحران ہوں یا سیاسی ان کی زیادہ تر ذمہ دار ہمارے انتظامی امور ہیں جن کی وجہ سے عوامی مشکلات کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہیں وہ خواہ ڈالر کی محبت میں روپے کی قدر کو خاک میں ملانے کی کوششیں ہوں یا فنڈ ریلیز ہونے کے باوجود عوام تک ریلیف نہ پہنچنے کا عمل یا عوامی مشکلات جن میں صحت کا سبب بننے والی ناقص ادویات اور غذاؤں کی بندش میں ناکامی اور عوام کی شکائات سن کر انصاف فراہم کرنے والے اداروں یا انتظامی اداروں کی کارکردگیاں ہوں ان کی انتظامی  نااہلیوں کابہت بڑا کردار ہے جسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے اور اگر ان میں تبدیلی نہ آئی تو یہ قرضوں اور مہنگائی کا سلسلہ نہ صرف جاری رہے گا بلکہ   جس طرح پچھلے پانچ سالوں میں ستر سالوں کےقرضہ  کا دگنا ہوا ہے اس نئے تجربے سے یہ مزید دگنا ہو جائے گا۔

اور اس ملک کی یہ تاریخ گواہ ہے کہ اس قوم نے جس بھی چیلنج سے نمٹنے کی ٹھان لی ہے کبھی بھی ناکامی نہیں ہوئی وہ خواہ محدود وسائل ہوتے ہوئے اٹامک پاور بننے کا خواب ہو یا ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو۔ اس قوم کے پاس بے بہا صلاحیتیں ہیں مگر ان کا غلط استعمال بد عنوانی اور آپس کی چپقلشوں پر ہو رہا ہے اور جس دن ان کی سمت ترقی اور خوشحالی کر طرف مڑگئی تو اس میدان میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں ہوگا بس ضرورت اس کو سمجھ کر اس پر عمل  کے ماحول کو ممکن بنانےکی ہے۔

قومی سطح پر خیالات، پالیسیوں اور عملی تجربوں پر محیط ایک مثبت مقابلہ کروانا ہوگا جس میں ملک کو موجودہ مالی قرضوں سے جان چھڑوانے کی تدابیر اور میکنزم تیار کرکے قومی ٹیلنٹ کو دعوت عام دینی ہوگی کہ وہ عملی طور پر اس کا اطلاق کر کے جو ان بیرونی قرضوں سے جان چھڑوائے اس کو قومی ہیرو مانا جائے گا اس حوصلہ افزائی کے خاطر قانون سازی کرنی ہوگی۔

اگر کوئی ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے قرضوں کی ادائیگی کر کے ملک کو معاشی غلامی سے آزادی دلاتا ہے تو اسے قائد قوم کےقومی جانشین کا درجہ دے کر جہاں جہاں قائد کی تصاویر آوایزاں ہیں وہاں اس ملک کو معاشی غلامی سے نجات دلا کر کشکول توڑنے والے کی تصاویر بھی لگانے کا قومی عہد کرنا ہوگا۔ 


ہفتہ، 6 جنوری، 2024

جمہوری نظام کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے چلایا جائے

انتخابات کے انعقاد اور ملتوی کروانے کے دونوں بیانیے زور و شور سے جاری ہیں اور انعقاد بھی غیر شفافیت اور جانبداری کے خدشات کے ہاتھوں یرغمال ہوچکا ہے۔ کوئی موسمی سردی اور امن عامہ کو بنیاد بنا کر ملتوی کروانا چاہتا ہے تو کوئی اس کے انعقاد سے متعلق انتظامی بد عنوانیوں کے خدشات کے پیش نظر اس سے راہ فرار تلاش کرنے کی کوشش میں ہے۔

ہمارے سیاسی حلقوں نے اپنے اعمال سے ایسا تاثر پیدا کر دیا ہوا ہے کہ گویا جمہوری نظام اس ملک میں ناکام ہوچکا ہے جب بھی جمہوریت سُکھ کا سانس لیتی ہے تو کوئی نہ کوئی جمہوری غدار اس پر شب خون مروا کر اسے کبھی ہائبرڈ مین کے ہاتھوں یرغمال بنوا دیتا ہے تو کبھی یہ مفاہمتی ہتھکنڈوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتی ہے اور پھر ہمارے سیاسی پنڈت اپنے فرمودات جاری کرنے لگتے ہیں کہ جمہوریت کو چلنے نہیں دیا جاتا۔ جو انتہائی قابل افسوس اور باعثت شرم موقف ہے۔ جب کسی کے مد مقابل کھڑے ہوں تو یہ جواز نہیں پیش کیا جاسکتا کہ مجھے جیتنے نہیں دیا جارہا بلکہ اپنی طاقت، جرات اور حکمت عملی سے دنگل جیتے جاتے ہیں۔ ماحول تو ہلا شیری یا ہار جیت کا اعلان ہی کر سکتا ہے۔ اپنی نالائقیوں کو چھپانے کے لئے کبھی نظام کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیتے ہیں تو کبھی اپنی بے بسیوں پر ہمدردیوں کی بھیک مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کا مطلب تو ہوا کہ نہ نو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی۔ نہ ان کو کوئی کام کرنے دے گا اور نہ یہ پارلیمانی نظام کامیاب ہوگا۔

جب آئین و قانون ان کو نظام کے اندر بالا دستی دیتا ہے تو پھر اپنے ان حقوق اور منصب کو انہوں نے اپنی جرات اور حکمت سے ہی منوانا اور حاصل کرنا ہے جس کے لئے جذبے، دلیری اور قربانیوں اور سب سے بڑھ کر ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اگر سیاست کو کاروبار یا اختیارات کے حصول کو اپنی اجارہ داری کا مقصد بنا لیا جائے تو پھر ایسی سیاست کبھی بالادستی کی ضامن نہیں بن سکتی۔ وہ بھی ریاست کے وسائل اور اختیارات کے بلبوتے پر ذاتی مفادات کی خاطر سب کچھ کرتے ہیں اور تم بھی اگر آزادی ملے تو ان سے کم نہیں۔

اس کے نتائج کو اکثر متازع بنا کر پارلیمان کو عوامی امنگوں کے مطابق قومی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہونے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہی ہیں جس نے سیاسی عمل میں بد اعتمادی پیدا کرکے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔ سیاستدانوں کی ان کمزوریوں کے تحت پارلیمان کے اجلاس بھی انٹیلی جنس کی مدد سے چلائے جاتے رہے ہیں اور جب کہیں ان کی خواہشات کے بر عکس پارلیمان نے چلنے کی کوشش کی ہے تو آمریت کے ہاتھوں نظام ہی یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

آج تیسری دفعہ پارلیمان کے ایوان بالا میں الیکشن کے التوا کے لئے قرارداد جمع کروائی گئی ہے اسے اگر جمہوری کہنے سے انکار نہیں کیا جاسکتا تو پھر اس میں دانشمندی یا سیاسی شعور کی موجودگی کا اعتراف بھی نا ممکن ہے۔ اور اس پر جو تبصرے ہورہے ہیں وہ بھی ربوٹک جمہوریت سے کم تو نہیں۔ جب اجلاسوں کے احکامات اور ایجنڈے کہیں اور سے آنے ہیں تو پھر یہ کام تو ربوٹک پارلیمان بہتر طریقے سے ادا کر لے گی۔

 اسے اگر آرٹیفیشل ٹیکنالوجی سے مزین کرکے آئین و قانون اور اگلے پانچ یا دس سالوں کے ترقیاتی منصوبے دے دیئے جائیں گے تو ان نام نہاد ربوٹس سے تو وہ حقیقی ربوٹک پارلیمان بہترین وژن دینے کے قابل ہوگی۔

تو ایسے حالات میں جب قوم اس کے انعقاد پر تذبذب کا شکار ہے تو کیوں نہ انتخابات کو سیاستدانوں کے درمیان کسی جمہوری معاہدے تک ملتوی کرکے ربوٹک پارلیمان بنا دی جائے اور غیر جانبدار اور غیر متنازع اچھی شہرت اور کردار کی حامل شخصیات پر مبنی ایک کونسل بنا دی جائے جو عوامی رائے اور امنگوں کی پاسداری کے لئے ان سے براہ راست حاصل کردہ تجاویز کی روشنی میں ربوٹک پارلیمان کو سفارشات پیش کرتی رہے۔ جس سے قوم کے 25 ارب کے لگ بھگ اخراجات بھی بچیں گے اور نظام بھی محفوظ رہے گا۔ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ نہ روز انتخابات ہوں اور نہ روز روز پارلیمان آمریت کے ہاتھوں یرغمال ہوکر سیاست اور جمہوریت کے لئے رسوائی کا موجب بنے۔ ان کی بانسری نے پوری دنیا میں پاکستان کو رسوا کر دیا ہے۔

ویسے بھی اگر دیکھیں تو ماضی کی پارلیمان میں اکثریتی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو محض پارلیمان کا حصہ ہوتے ہیں ان کی قانون سازی میں کارکردگی برائے نام ہوتی ہے۔  قوانیں پر عملدرآمد کا کوئی حل نہیں ڈھونڈھ پاتیں اور پھر جو قوانیں بناتی بھی ہیں ان میں تضادات اور ان سے ابھرنے والے سیاسی مسائل ہی اتنے ہوتے ہیں کہ سپریم کورٹ عوامی مقدمات پر توجہ دینے کی بجائے قوانین کی تشریحات پر لگی رہتی ہے۔ اب انتخابات کو وہ زبردستی کروانے کی ٹھان کر بیٹھے ہیں تو 8 فروری تک پاکستان کی ساری عدالتیں انتخابات کے بارے مقدمہ بازی کو ہی نمٹائیں گی اور اس سے کوئی خوش بھی نہیں ہے۔ باقی آمدن اور اخراجات کے ہندسوں کی جمع تفریق ہی ہے جس کو ربوٹک پارلیمان بغیر کسی غلطی کے خدشے کے احسن طریقے سے سر انجام دے لے گی۔ اور قراردادوں کے زریعے سے اگر عدلیہ اور دوسرے اداروں سے اپنے اختیارات کی بھیک ہی مانگنی ہے تو اس کی ربوٹک پارلیمان نوبت ہی نہیں آنے دے گی جب اس کو آئین و قانون اوراگلے پانچ سالوں کے منصوبوں بارے ڈیٹا دے دیا جائے گا تو غلطی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ حکومتی مشینری کو پورا شیڈیول دے دے گا اور اگر کوئی اس شیڈیول کے مطابق نہیں چلتا تو اس پر جرمانہ بھی عائد کر دے گا۔ اس پر عملدرآمد ویسے بھی حکومتی مشینری کے موڈ پر منحصر ہوتا ہے۔

ہاں اگر سیاستدانوں کو عہدوں کا حوس ہے تو اس کا علاج یہ ہے کہ وزیر اعظم کے لئے سادہ اکثریت سے 172 ارب دو تہائی کے لئے 228 ارب کی قیمت رکھ دی جائے اور قومی  وزارتوں کی قیمت سات سات ارب اور صوبائی کی پانچ پانچ ارب رکھ دی جائے۔ ایسے ہی صوبائی اسمبلیوں کی بھی اعداد کے مطابق قیمت متعین کی جاسکتی ہے۔ جو بھی علامتی طور پر وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ یا وزیر بننا چاہے وہ رقم خزانے میں جمع کروا کے ربوٹک پارلیمان کو ثبوت جمع کروا دے اور اگر کوئی دوران عرصہ اسمبلی عدم اعتماد کے زریعے سے عہدہ حاصل کرنا چاہے تو پہلے والے کی ادا کی گئی رقم کو لوٹا کر اس کے برابر خزانے میں جمع کروا کر عہدہ حاصل کر سکتا ہے۔

 جب ایک ایک ممبر مبینہ طور پر ایک ایک ارب تک کے لگ بھگ اپنے حلقوں میں خرچ کرسکتا ہے تو پھر وہ اس عہدے کے لئے خزانے میں رقم کیوں نہیں جمع کروا سکتا۔ اسی طرح پارلیمان کے ایوان بالا کے لئے تو پہلے بھی یہی فارمولے چلتے ہیں جو مختلف لوگوں کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں اس ربوٹک نظام کے زریعے سے وہ خزانے میں آئیں گے۔ صوبوں کے حساب سے جتنی سیٹیں ہیں ان کی بولی کروا لی جائے اور زیادہ آفر دینے والوں کو ممبران چن لیا جائے۔

انتخابات سے لے کر وزیر اعظم اور سینٹ کے انتخاب اور بعد کے سارے معاملات جب پہلے سے ہی مالی بے ضابطگیوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں تو کیوں نہ ان کو مالی ضابطوں کے ماتحت لا کر عوامی فلاح کا زریعہ بنا دیا جائے۔ جو ماضی میں عوام کے نام پر مالی اداروں سے قرضے لے کر عیاشی کرتے رہے ہیں وہ اگر شوق سیاست و حکومت اور اختیارات و اجارہ داری رکھتے ہیں تو پھر اپنی جیب سے ملکی قرضوں کو ادا کریں اور عہدوں کے مزے لیں۔

حد ہوگئی ہے، ہماری ان زاتی مفادات اور خواہشات کے گرد گھومتی سوچوں نے پارلیمان، سیاست، جمہوریت اور حتیٰ کہ ملک و قوم کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہماری اخلاقات کا یہ حال ہے کہ اس سے انسانیت بھی شرمندہ دکھائی دیتی ہے۔ ہم مسائل کو حل کرنے کی بجائے مسائل کا سبب بنے ہوئے ہیں اور مرغوں کی طرح ایک دوسرے کو لہولہان کرنے کے درپے ہیں۔ ہمارے اندر مہذب معاشروں والی کوئی خصلت ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی تو اس سے بہتر نہیں کہ نظام کو خود کار کر دیا جائے وہ دنیا کے بہتریں نظاموں اور بہتری کے اصولوں کو اٹھا کر لاگو کرتا رہے گا۔ اسی طرح اداروں میں بھی جہاں جہاں بے ضابطگیاں ہیں وہاں بھی ربوٹک نگران مقرر کر دئے جائیں جو آئین و قانون کے مطابق حکم صادر کرتے رہیں۔ کم از کم انسانیت کی تذلیل تو نہ ہو۔ دور جدید کی انسان کی بنائی ہوئی مشینری انسان سے زیادہ فعال، وفادار اور ایماندار ہوگئی ہے تو کیوں نہ اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور انسانوں کو سیاسی شعور، اعلیٰ اخلاقیات، وفاداری اور ایمانداری کے حصول تک اپنی اصلاح کے لئے فارغ چھوڑ دیا جائے۔ پاکستان کو پہلی ربوٹک پارلمینٹ ہونے کا عالمی اعزاز بھی مل جائے گا۔

آئین میں تو اس کی کوئی گنجائش نہیں لیکن انتخابات کو ملتوی کروانے کا آئین میں کہاں لکھا ہوا ہے جو ہر آئے دن کوئی نہ کوئی نئی منطق کے ساتھ وارد ہو جاتا ہے۔ کوئی سیاسی جماعت اپنے اندر جمہوریت لانے کے لئے تیار نہیں اور جو انٹرا پارٹی انتخابات کرواتی بھی ہیں تو اپنے بنائے ہوئی پارٹی آئین کا بھی خیال نہیں رکھ پاتیں اور آئینی اداروں کے اختیارات اور ان کی خود مختار حیثیت کو ماننے کے لئے بھی تیار نہیں دکھائی دیتے۔ ہر معاملہ خاص بندوبست سے چلانے کے عادی ہوچکے ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں انتخابات عوامی خدمت کے لئے نہیں بلکہ اقتدار کی حصول کے لئے کروانا چاہتی ہیں۔ نہ کوئی سیاسی اصولوں کی پاسداری ہے اور نہ کوئی جمہوری اقدار کی۔ 

جمعہ، 5 جنوری، 2024

سوشل میڈیا نے سیاست کو تفرقہ بازی اور جمہوریت کو انتشار پسندی کا شکار کر دیا ہے

صحافت، حق آزادی اظہار رائے کی تقدیس اور زرائع ابلاغ کے صحیح استعمال میں توازن بہت اہم ہوتا ہے تاکہ اس سے انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لئے صحافت کی خدمات کو محفوظ اور موثر بنایا جاسکے۔

پاکستان کے معاشی، سیاسی اور معاشرتی بگاڑ کی کئی دوسری وجوہات میں ایک  بڑی وجہ عوام کو صحیح معلومات تک رسائی کا نہ ہونا بھی ہے۔ چونکہ پاکستان ایک جمہوری ریاست ہے اس لئے عوام کے حقائق کو جان لینے تک ان کی رائے کے صحیح نتائج کی امید نہیں لگائی جاسکتی۔ جمہوریت سے مستفید ہونے کے لئے سیاسی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات ضروری ہوتے ہیں جنہیں یہ جھوٹ کی سیاست اور صحافت تباہ کرتی جا رہی ہے۔

ان کے جھوٹے الزامات کی بنیاد پر کئے گئے فیصلوں نے ہماری سیاسی، معاشی اور اخلاقی اساس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جھوٹ بولنے میں سبقت کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ اکثریتی مسلمان آبادی والی ریاست میں اسلام کے سب سے زیادہ نا پسندیدہ عمل جھوٹ کی بھرمار انتہائی قابل افسوس ہے جو ہماری عمومی معاشرت کی بھی عکاس ہے۔ اس کا اندازہ آپ کسی بھی وڈیو کی تھمب نیل سے لگا سکتے ہیں جس کا وڈیو کانٹینٹ سے کوئی خاص تعلق ہی نہیں ہوتا، باہر کچھ لکھا ہوتا ہے اور اندر خبر کچھ اور ہوتی ہے۔ جو ہماری قومی نفسیات کی صوتحال کا پتا دے رہے ہیں جو یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ جب تک مصالہ نہیں لگایا جائے گا سودا نہیں بکے گا۔ ایسے ہی جھوٹوں کی بنیاد پر مہیا کی جانے والی معلومات نے ہماری سادہ لوح عوام اور خاص کر نوجوانوں کے ذہنوں اور سوچوں کو اس قدر خراب کر دیا ہے کہ کوئی امن کی بات سننے کے لئے تیار ہی نہیں۔ قوم اب ان مداریوں کے تماشوں کی عادی ہوچکی ہے اور اس سے نجات حاصل کرنا بھی ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

اس جھوٹ کے پرچار میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا بہت بڑا کردار ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے فائدہ کسی نے اپنی سوچ اور صلاحیت کے مطابق اٹھانا ہوتا ہے۔ اور ہماری قوم صلاحیت ہی اتنی تھی۔ سادہ لوح عوام کو اس تک رسائی تو حاصل ہوئی مگر چونکہ ان کے اندر سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے طریقہ واردات  کو سمجھنے کی سوجھ بوجھ نہیں تھی اس لئے اس نے "گنجے کو اللہ ناخن نہ دے" سے مصداق صورتحال پیدا کردی ہے جس سے عوام اپنی تباہی کا خود ہی سامان پیدا کرنے لگے ہیں۔  کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ معلومات دینے والے کی تعلیم ، تجربہ یا معلومات کا زریعہ کیا ہے۔ سادہ لوح عوام سوشل میڈیا کو سیاسی صحیفے کا درجہ دینے لگے ہیں۔ اس میں عوام کا بھی اتنا قصور نہیں اصل ذمہ دار تو وہ ہیں جو اپنے سیاسی و مالی مفادات کی خاطر اپنی اخلاقی، پیشہ ورانہ، آئینی و قانونی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال کر یہ سب کچھ کر رہے ہیں جنہوں نے عوام کی سوچوں کو ایک خاص سمت دے کر یقین کی حد تک پختہ کر دیا ہے جو اب ان کے سچ جاننے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں۔

سیاست میں اس کا آغاز 2013-14 میں ہوا اور منصوبہ بندی کے تحت ایک سیاسی ہوا چلانے کے لئے دن رات تگ و دو کی گئی جس میں سرمایہ کاری سے لے کر اداروں کی ہدایات تک کی کوششیں شامل حال تھیں اور محض الزامات کی بنیاد پر اخلاق سے گرے ہوئے بیانیے کو چلایا گیا جس کا مقصد ایک خاص سیاسی جماعت کو نجات دہندہ بنا کر پیش کرنا تھا اور اسی منصوبہ بندی کا بیانیہ صادق و امین کے القابات سے شروع ہوا اور اب سازشوں کے بے نقاب ہوجانے کے بعد ان کی پردہ پوشی کے لئے معصومیت کی طرف بڑھنا شروع ہوگیا ہے۔ صادق و امین کہنے والوں نے تو بعد میں اپنے الفاظ کو اسی ایک مقدمے تک محدود کرنے کی وضاحت جاری کر دی تھی مگر اس نئے فلسفہ معصومیت کی وضاحت کب آتی ہے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ اندازہ لگا لیجئے کہ سوشل میڈیا کے اثرات کتنے گہرے ہوتے ہیں جو اب ایک ضد اور جنوں کی صورت اختیار کر چکے ہیں اور اداروں میں اہم عہدوں پر بیٹھی شخصیات بھی اس کا شکار ہوچکی ہیں۔ جس کی مثال ماضی میں کئے گئے عدالتی فیصلوں سے بھی لگائی جاسکتی ہے۔

اُس وقت پاکستان میں اِس طرح کا ٹرینڈ پہلے سے موجود نہیں تھا اس لئے یہ خلاء پر کرنے کا تحریک انصاف کو موقع مل گیا اور سوشل میڈیا کے طریقہ واردات سے انہوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور ابھی بھی کوئی دوسری جماعت ان کا اس میدان میں مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔ در اصل اب دس سالوں سے جھوٹ بولنے والوں کے لئے اپنے کرتوت چھپانا اور ویورشپ انکی مجبوری بن چکی ہے۔

اور اب یہ آگ ہر طرف پھیل چکی ہے جس نے سیاست کو تفرقہ بازی اور جمہوریت کو انتشار پسندی کا شکار کر دیا ہے اور کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں رہا۔ اس میں ملوث کرداروں کی  نجی زندگی سے لے کر اب تو مالی بدعنوانی تک کے الزامات اور ان پر سزائیں بھی سنا دی گئی ہیں جن کی بنیاد پر نااہلی بھی ہوچکی ہے مگر ضد اور جنون اس سے اپنی سوچ کو بدلنے کی بجائے ان کی صفائی کے حربوں میں مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں۔

اور دوسری طرف بدعنوانی کے جھوٹے الزامات پر عدالتی مخبریوں اور فیصلوں میں بریت کے باوجود اس کو ماضی کے حالات پر استدلال کرکے سہولت کاریوں کا نام دیا جارہا ہے۔ یہ سب سوشل میڈیا کا کمال ہے۔ ان دس سالوں میں تقریباً نوے فیصد مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا اس خاص منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں لگا ہوا تھا اور انہوں نے دوسری جماعتوں سے بخل رکھنے والوں کو شکار بنایا اور اب تو سارا منصوبہ بے نقاب ہوچکا ہے اور اس کے معمار اعتراف بھی کر چکے ہیں مگر اس کے باوجود سوشل میڈیا کا بھونچال تاثرات کوصحیح سمت کی طرف بڑھنے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

اس جھوٹ کی بنیاد پر دی گئی معلومات کو شعور کا نام دیا گیا جس نے ہماری سیاست کو ہی نہیں بلکہ ہماری معیشت اور معاشرت کو بھی تباہ کر دیا ہے اور اس شعور کے نام پر بد اخلاقی کے تعلیمات نے مکالمہ، دلیل اور برداشت کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ حالات چیخ چیخ کر الارمنگ دے رہے ہیں مگر جھوٹ کی پیداوار جنوں کسی کوسننے اور حقائق کو جاننے کے لئے تیار ہی نہیں۔

ریاست کو اس حساس معاملے پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے اوراس سے جان چھڑوانے کے لئے سب سے پہلے ان جھوٹ کی فیکٹریوں کو بند کرکے یا ان کو بے نقاب کرکے عوام کو صحیح معلومات تک رسائی کا کوئی میکنزم بنایا جائے تاکہ سادہ لوح عوام کی سوچوں کو درست سمت دی جاسکے جس سے وہ جھوٹ کی بجائے کردار اور کارکردگی کی بنیاد پر اپنے نمائندوں کا چناؤ کرنے کے قابل ہوسکیں تب ہی جمہوریت کے ثمرات سے صحیح معنوں میں مستفید ہوا جاسکتا ہے۔ تب ہی شفافیت اور غیر جانبداری سے کرائے گئے انتخابات سے مطلوبہ مقاصد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اس جنون کے نزدیک ماضی کے احسانات والے ماحول کی شفافیت اور غیر جانبداری کی جو تعریف ہے وہ اقتدار سے کم کسی بھی صورت پر مطمئن اور امن سے بیٹھنے والا نہیں وگرنہ اپریل 2022 کے بعد سے لے کر 9 مئی 2023 تک کے سیاسی عدم استحکام کے حالات دیکھنے کو نہ ملتے۔ جو اس بات کی دلیل ہیں کہ انتخابات جتنے بھی شفاف اور غیر جانبدار کروا لئے جائیں جھوٹ پر مبنی سیاست اس کو اس وقت تک قبول نہیں کرے گی جب تک ان کو مطلوبہ نتائج نہیں مل جاتے۔ زمینی حالات خواہ سنبھال بھی لئے جائیں مگر سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی تھمتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔

لہذا اس جھوٹ کے پراپیگنڈا اور بے بنیاد الزامات کے سلسلے کو روکنے کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ اس جھوٹ کی سیاست اور صحافت میں ملوث عناصر کو عدالتوں سے جھوٹا ڈکلئر کروا کر ان کی لسٹیں شائع کی جائیں اور ریاست ان کواپنی آئینی و قانونی ذمہ داریوں کا پابند بنائے جس سے ان کی اصلاح کا کوئی پہلو نکل سکے اور اس سے صحافت اور آزدی اظہار رائے کے حق کا صحیح استعمال بھی یقینی بنایا جاسکے۔ میڈیا اور صحافی برادری کو بھی اس کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور وہ ایسے گندے عناصر کی جوابدہی کا کوئی میکنزم بنائے کیونکہ اس سے ملک و قوم کے نقصان کے ساتھ ساتھ ان کی پیشہ ورانہ ساکھ کی خرابی کا بھی سبب بن رہی ہے کیونکہ یہ بہروپیے ان کی شناخت کے پیچھے چھپ کر سب کچھ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ میڈیا ہاؤسز کی رجسٹریشن میں اچھی شہرت کی پیشہ وارانہ شخصیات کی شرط لاگو کرنے اور ان کو ضابطہ اخلاق کا سختی سے پابند بنانا بھی ضروری ہے۔

اتوار، 10 ستمبر، 2023

عوام کو ملک کے ساتھ مخلص سیاسی قیادت کا ساتھ دینا ہو گا

ہمیں بحیثیت قوم ایک ایسی سوچ پیدا کرنا ہو گی جس میں اپنے ذاتی مفادات کو قربان کر کے قومی مفادات کو ترجیح دینا ہو گی۔ ڈالرز کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اپنی کرنسی میں کاروبار کو ترجیح دینا ہو گی۔ دولت کو ملک سے باہر لے جانے کے بجائے واپس لانا ہو گا۔ اپنے وقت، دولت اور توانائیوں سے ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنا ہو گا۔

اگر ہم واقعی ملکی مسائل کے حل کے لئے مخلص ہیں تو پھر ہمیں پہلے قوم بننا ہو گا۔ قوم وہ ہوتی ہے جس کی سوچ ایک ہو۔ جب سوچ ایک تھی تو وسائل نہ ہونے کے باوجود، دنیا کی فاتح قوم سے نجات حاصل کر کے ایک آزاد ریاست حاصل کر لی اور اگر اب دوبارہ اپنی آزاد ریاست کو بیرونی قرضوں اور مداخلت سے آزاد کرا کے جینے کا حق حاصل کرنا ہے تو پھر دوبارہ سے ایک قوم بننا ہو گا۔

ہمیں بحیثیت قوم ایک ایسی سوچ پیدا کرنا ہو گی جس میں اپنے ذاتی مفادات کو قربان کر کے قومی مفادات کو ترجیح دینا ہو گی۔ ڈالرز کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اپنی کرنسی میں کاروبار کو ترجیح دینا ہو گی۔ دولت کو ملک سے باہر لے جانے کے بجائے واپس لانا ہو گا۔ اپنے وقت، دولت اور توانائیوں سے ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنا ہو گا کیونکہ اُس وقت تک یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا جب تک یہ دھرتی بدعنوانی، سمگلنگ، لاقانونیت، حقوق کی خلاف ورزیوں، ناپ تول میں کمی اور ملاوٹ سے پاک نہیں ہو گی اور یہاں رہنے والوں کے دلوں میں دوسروں کی ہمدردی والی سوچ پیدا نہیں ہو گی۔ پاکستان کو اگر حقیقی پاکستان بنانا ہے تو پھر اس کے مطلب و مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے ماحول کو حقیقی بنانا ہو گا۔ پاکستان کا لفظی ترجمہ بھی پاک دھرتی بنتا ہے۔ پاکستان کا مطلب اگر لا الہ الا اللہ ہو اور اس کے اندر ہر وہ برائی جاری ہو جس کا اسلام سے دور دور کا بھی تعلق نہ ہو بلکہ اس کی ممانعت کی گئی ہو اورجسے اسلام اور کفر میں فرق بتایا گیا ہو تو پھر اس کی ترقی کے خواب کو کسی غافل کا خواب تو کہا جا سکتا ہے مگر باشعور انسان کا قطعاً بھی نہیں۔

یہ غربت، مہنگائی، بیروزگاری، لاقانونیت ہمارے ان اعمال کا نتیجہ ہے جو 75 سالوں سے قومی غلطیوں کی صورت ہم بار بار دہرا رہے ہیں۔ کیا رشوت کا لینا دینا، نیچے سے لے کر اوپر تک کمیشن کی لت اور ہر طرح کی بدعنوانی سے کوئی لا علم ہے اور کیا ان کے ہوتے ہوئے اسے پاکستان (پاک سرزمین) کہا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر وہ اوصاف پیدا کرنے ہوں گے جن سے ہم کم از کم یہ دعویٰ تو کر سکیں کہ ہمارے فعل ایک اچھے شہری کے ہیں۔ اس کے لئے ہمیں چھپائے ہوئے ڈالرز کو مارکیٹ میں عام کرنا ہو گا۔ چھپائی ہوئی خوراک، چینی، آٹا، چاول اور دوسری اجناس کو مارکیٹ میں لانا ہو گا۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔ دوسرے پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنی اصلاح کرنا ہو گی۔

ریاست محض جغرافیائی حدود کا نام نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندر رہنے والے عوام اور نظام حکومت بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ عوام کی سوچ و عمل کا ریاست کے معاملات سے گہرا تعلق ہے۔ اس کا نظام حکومت عوام کے سوچ وعمل سے ہی مشروط ہوتا ہے۔ اس کی بہتری یا تباہی میں عوام کی سوچ و عمل کا ہی کردار ہوتا ہے۔ اس ملک کے حکمران ہم میں سے ہی ہوتے ہیں۔ ہم نے ہی ان کی خاندانوں اور معاشرے کے اندر تربیت کر کے ان عہدوں تک پہنچایا ہوتا ہے اور اگر ان کی صحیح تربیت کی گئی ہوتی تو آج یہ وقت دیکھنے کو نہ ملتا۔ عوام کے اندر جس دن اپنے ملک اس کی املاک اور اداروں کی اہمیت اور اس کی ملکیت کا احساس جاگ جائے گا اس دن سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ عوام کو جس دن اچھے اور برے میں تمیز آ جائے گی اپنے ملک کے آئین و قانون کی پاسداری کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا اس دن سے ہماری سمت درست ہو جائے گی اور ہماری ترقی کے سفر کا آغاز ہو گا۔

اس کے لئے ہمیں اپنے سوچ و عمل سے قوم بننا ہو گا اور اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر قربان کرنے کا عملی ثبوت دینا ہو گا۔ اپنے ملک کو اپنا گھر سمجھنا ہو گا اور جس دن ہم یہ سمجھ لیں گے تو پھر ہمیں اس کو لوٹنے کی بجائے اس کو بنانے کی فکر لاحق ہو گی اور پھر ہم اپنے گھر کو لوٹ کر غیروں کے دیس نہیں بھاگیں گے بلکہ ان بھاگنے والوں کا بھی محاسبہ کریں گے۔ بدعنوانی کا حصہ بننے کی بجائے اس کے خلاف ڈھال بنیں گے۔ اس کے وسائل کو ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرنے کی بجائے قومی مفادات کے لئے استعمال کریں گے۔ پھر ہم عوام کو اس کی حفاظت کرنا بھی آتی ہو گی اور اپنی خدمت پر مامور ان لوگوں جن کی تنخواہیں خزانے سے جاتی ہیں، سے کام لینا بھی آتا ہو گا اور اس دن سیاست شوق نہیں رہے گا بلکہ مجبوری بن جائے گا۔ لوگ سیاست سے بھاگیں گے اور عوام خود اچھے لوگوں کو ڈھونڈ کر مجبور کر کے مسند اقتدار پر بٹھائیں گے۔

قوم بننے کا مطلب ہے کہ ہر کوئی اپنی سوچ و عمل کو ملک و قوم کے مفادات سے ہم آہنگ کر کے اپنی اپنی استعداد اور اختیار کے مطابق اپنا حصہ ڈالے۔ مذہبی منافرت، عہدوں اور اختیارات کی مسابقت، قول و فعل کی منافقت اور خود غرضی کی معاشرت کو چھوڑنا ہو گا اور ہر کسی کو اس کے نظریات اور آزادی کے ساتھ آئین و قانون کے دائرے کے اندر رہ کر زندگی گزارنے کا حق دینا ہو گا۔ مذہب کے تقدس کے نام پر قتل و غارت کو ختم کرنا ہو گا اور انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانا ہو گا۔ جبری گمشدگیوں، حق آزادی رائے کی آواز کو دبانے جیسے خوف سے پیدا ہونے والے اپنے ہی دیش میں اجنبیت کے تاثر کو ختم کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنے گرد مذہب، قومیت، علاقائیت، زبان اور دوسرے تعصبات کے حصار ختم کر کے محض پاکستانی ہونے کی شناخت پر اتفاق کرتے ہوئے سب کو مل جل کر اس ملک کی تقدیر کو سنوارنے کے لئے شانہ بشانہ آگے بڑھنا ہو گا۔

قوم کو اچھے برے میں تمیز کرتے ہوئے ان عناصر کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی جو ملک و قوم کے لئے مخلص ہیں اور جن کا ماضی اس اخلاص سے مطابقت رکھتا ہے۔ ہر اس عنصر کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی جن کا قول و فعل ملک و قوم سے اخلاص کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا خواہ اس کا کسی بھی ادارے سے یا کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق ہو۔ سیاست دانوں کے نعروں کو ان کے قول و فعل کے ساتھ مطابقت کے ساتھ دیکھنا ہو گا۔ اور اگر کوئی لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں لاتا یا بدعنوانی کو ختم کرنے میں ساتھ نہیں دیتا تو وہ اس ملک و قوم کے لئے مخلص نہیں ہو سکتا۔

ہمارے پاس اس کی کسوٹی آئین و قانون ہی ہے۔ اگر تو ہم اس کسوٹی پر پورے اترتے ہوں تو پھر ہم اس ملک کے لئے مخلص ہیں اور اگر ہم اس کسوٹی پر پورے نہیں اترتے تو پھر ہمارے کھوکھلے نعرے اس ملک کو کچھ نہیں دے سکتے جیسا کہ ہماری تاریخ اس کی گواہ ہے۔

 

پیر، 28 اگست، 2023

حکومت کو انتظامی امور پر توجہ دے کرعوام کو ریلیف دینا ہوگا

عبوری حکومت کوموجودہ معاشی بحران میں  ترقی کے پہیے کو روان کرنے کے لئے ملک کے اندر  مہنگائی ، بیروزگاری اور غربت سے بڑھتی ہوئی بے یقینی کی صورتحال سے نمٹنا ہوگا تاکہ عوام کو سکون کا احساس دے کر بہتری کے لئے پر امید بنایا جاسکے۔ان کی ذمہ داریوں میں انتظامی امور کو بہتر بناتے ہوئے عوام کو ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے زریعے سے حکومت کی منتقلی اور ان کو ایک اچھے انتظامی امور کا نمونہ دینا ہوگا۔ تاکہ اگلی حکومت پر عوام کا ایک نگرانی  کا منصوبہ دیا جاسکےجسے وہ دباؤ سے بحال رکھوا سکیں۔ وہ اگلی حکومت کو اس دلیل کے ساتھ جوابدہ ٹھہرائیں کہ اگر عبوری حکومت حالات کو درست کر سکتی ہے تو پھر ایک انتخابی حکومت کی ناکامی بھی قابل برداشت نہیں ہوسکتی

حکومت کو حقیقت تسلیم کرتے ہوئے عمل سےساکھ کو بحال کرنا ہوگا۔ اب اس ٹیکنالوجی کی دور میں کسی سے بھی کوئی راز پوشیدہ نہیں سب جانتے ہیں کہ  ان کے وجود ، طاقت اور حکمت عملیوں کی بنیاد کیا ہے۔ اور نہ ہی اس تاثر کو بدلنے کی کوششوں میں وقت، توانائی اورپیسہ ضائع کرنے کی کوئی ضرورت ہے بلکہ اس تاثر کو بہتر کرکے اپنی بنیادوں اور محسنوں  کی ساکھ کو بہتر کرکے عوام کے دلوں میں محبت پیدا کی جاسکتی ہے۔

اور اس کے لئے پہلے سے ہی عبوری حکومت کے محدود اختیارات کی حدوں کوکافی حد تک وسعت دی جاچکی ہے اور اس کے لئے کسی طرح کی بھی نئی اصلاحات کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی ان کے پاس اب عوامی مطالبات سے فرار کا کوئی بہانہ ہے۔ صرف موجودہ قوانین پر عمل درآمد کروانے کی ضرورت ہے۔ افسر شاہی میں اچھی شہرت ، تجربہ اور کارکردگی کی بنیاد پر انتظامی عہدوں پرتعیناتیوں  کی ضرورت ہے ۔ ایسے لوگوں کو سربراہ بنایا جائے جو ملک و قوم کی خدمت کو ذاتی فائدوں پر ترجیح دیتے ہوں اور وہ افسر شاہی کے مافیہ کے ہاتھوں یرغمال بننے کئ بجائے ان کو کنڑول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کی وجوہات میں معاشی بحران سے بھی زیادہ بد انتظامی اور بد عنوانی کا ہاتھ ہے۔ ایک ہی شہر کے اندر ایک ہی بازار میں ہر کسی نے اپنی مرضی کے نرخ لگائے ہوئے ہیں  اور متعلقہ محکمے جنہوں نے نرخوں کو حکومتی  تعین کردہ لسٹوں  کے مطابق یقینی بنانا ہے وہ کبھی بازار میں نظر ہی نہیں آئے۔ اگر وہ  کبھی کبھار بھی بغیر اطلاع کے  کم از کم رو زمرہ کی اشیاء خوردو نوش کی نرخ اور ان کی کوالٹی کوچیک کرنے کی روٹین کو بنائے رکھیں تو دکانداروں پر چیکنگ کا خوف رہے اور وہ عوام کے ساتھ ظلم کرنے سے با ز رہیں۔ جس سے نہ صرف عوام کی جیبیں محفوظ ہوجائیں بلکہ ان کی صحت بھی بہتر ہو اور حکومت کی صحت پر اٹھنے والے اخراجات بھی کم ہوجائیں۔

بجلی کے بلوں پر احتجاج کے پیش نظر جس طرح سے گریڈ سترہ اور اس سے اوپر والے افسران کی مفت ترسیل کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے خوش آئند ہے اور اس پر عمل بھی ہونا چاہیے محض سابقہ حکومت کی کفائت شعاری کی پالیسی کی طرح کا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح سے عوامی دباؤ کی بنیاد پرباقی تمام مراعات کوبھی ختم کرکےبرابری کو ترویج دینا چاہیے تاکہ جب ان کی آسائشیں ختم ہوں تو ان کو عوام کی مشکلات اور تکلیف کا بھی احساس ہو کہ وہ کسی طرح سے زندگی گزار رہے ہیں۔

پاکستان میں حکومت کی رٹ کی کوئی کمی نہیں اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ آج تک آپ نے کبھی کسی ڈپٹی کمشنر، جج ، پولیس آفیسر،  جرنیل، وزیریا بیورو کریٹ سے کسی کو بدتمیزی کرتے دیکھا ہے۔ یا کبھی  ان کے اپنے کام رکتے دیکھے ہیں ۔ صرف  مسائل عام عوام کے لئے ہی ہیں۔  ہماری افرادی قوت میں بے تحاشا صلاحیتیں ہیں مگر ان کا استعمال عوام کی خدمت کی بجائے مسائل کھڑے کرنے پر ہورہا ہے۔

انتظامی عہدوں پر بیٹھے اور ریاست  کے اہلکاروں کے اثاثے اور آمدن میں  مطابقت کو دیکھنے کی اشد ٖضرورت ہے اور ان کی سکروٹنی ہونی چاہیے کہ ان کے  شاہانہ اخرجات کہاں سے پورے ہورہے ہیں بلکہ ان کے گھروں کی بھی تلاشی لی جانی چاہیے تاکہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت قوم کو واپس ملے۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان کے ہر ترقیاتی ٹھیکے میں اوپر سے لے کر نیچے تک کمیشن چلتی ہے۔ اسے بند ہونا چاہیے۔

افسر شاہی کو کنٹرول کرنے کے لئے بھی ان کی نفسیات کو پیش نظر رکھ کر لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کی محدود سوچ  اور اختیاراتی اجارہ داری کی سوچ کو خدمت کی طرف موڑنے کے لئے ان کی  سوچ کو عوامی اختیارات سے ہی ضرب لگانی پڑے گی اور ان کے اندر ان کے اختیارات کوآئینی و قانونی اختیارات کی جوابدہی کے تابع لاکر یہ احساس پیدا کرنے اور اس کا یقین بٹھانے کی ضرورت ہے  کہ ان کا کام بادشاہت نہیں بلکہ خدمت ہے اور ان کی تنخواہیں عوام کی جیب سے آتی ہیں۔ کسی ایک مولا جٹ کو نوکری سے فارغ کرکے  جیل بھیج دیں سب ٹھیک ہوجائیں گے جیسے ہی ان کو اپنا عہدہ اور اختیارات خطرے میں لگیں گے یہ اپنی اصلیت کی طرف لوٹ آئیں گے ۔ لہذا ان کو اختیاراتی ڈسپلن میں رکھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔

حکومت کو عوامی اعتماد حاصل کرنے کے لئے فوری طور پر تمام  محکموں کے اندر تنخواہوں میں  برابری اور حکومتی اخراجات میں کمی کردینی چاہیے اور ریاستی وسائل کی بنیاد پر بنائے گئے امتیازی سلوک کو فوری بند کر دینا چاہیے اورعوام کی داد رسی کے لئے سخت اقدام اٹھانے چاہیں

یہ تبدیلی کا سفر حکومت کو نچلی سطح سے شروع کرنا چاہیے۔ صوبوں کی اکائی ضلع کی سطح پر عوام کو ریلیف دے کر امن ، استحکام اور ترقی کا یہ سفر شروع کیا جاسکتا ہے ۔

صوبائی حکومتیں صرف  ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں کیمرہ لگا دیں اور اس کا کنکشن ڈائریکٹ ایک ہوم سیکرٹری کے دفتر میں ہو اور ایک  چیف منسٹر کے دفتر میں اور اسے یہ حکم دیا جائے کہ کوئی بھی سائل آپ سے ملنے آئے اس کو روکا نہیں جاسکتا ۔ آپ کو ہر حال میں اس کی داد رسی کرنی ہوگی۔دفتر کے باہر کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ سارے معاملات خود بخود ہی ٹھیک ہوجائیں گے۔پنجاب  جو آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اس کے 42 اضلاع ہیں  اور 42 مولا جٹوں کو کنٹرول کرنا  اس صوبے کے  چیف منسٹر کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ۔ اسی طرح باقی اضلاع میں بھی  کے پی کے کے 38، بلوچستان 36، سندھ 30، گلگت بلتستان 14، کشمیر 10 اور اسلام آباد 1ضلع ہے جو مجموعی طور پر 171بنتے ہیں ۔کیا اس ملک میں 171 ایماندار ، اہل اور قابل لوگ بھی  موجود نہیں یا اتنےسے لوگوں کو بھی کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔ کچھ بھی ناممکن نہیں بس ضرورت ہے اخلاص اور نیت کی۔

ڈپٹی کمشنر کے پاس ایک ہی بہانہ ہوگا کہ میں کس طرح پورے ضلع کے سائلین کو ڈیل کر سکتا ہوں ۔ سادہ سا حل ہے کہ کسی بھی محکمے کے خلاف کوئی شکائت آتی ہے تو اس کو کہہ دے کہ اپنی کارکردگی ٹھیک کریں ۔ شکائت کا مطلب ہے کہ آپ کی کارکردگی ٹھیک نہیں۔ جب کارکردگی ٹھیک ہوگی تو شکائتیں خود بخود ہی رک جائیں گی۔ اور اگر شکایات نہیں رک رہیں تو اس کا مطلب ہوا کہ  اس کے ضلع میں ماتحت محکموں میں لوگوں کے کام نہیں ہورہے اور وہ انتظام کرنے میں ناکام ہوگیا ہے اس کو تبدیل کر دیا جائے۔

اسی طرح ڈپٹی کمشنر اپنے دفتر میں بیٹھ کر اپنے ماتحت محکموں کے سربراہان کے دفاتر کو کیمروں کے زریعے سے مانیٹر کرے ۔ اس ٹیکنالوجی کے دور میں کوئی کام بھی مشکل نہیں بشرطیکہ ہمارے سیاستدان حل کرنے میں مخلص ہوں تو

بدھ، 9 اگست، 2023

ملکی حالات سے ابھرتے سیاسی خدوخال جمہوری نہیں لگ رہے۔

زمینی حقائق کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شائد جمہوری اقدار ہمیں موافق آتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہیں۔ اس کی ایک وجہ تو قومی سطح پر سیاسی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات کا فقدان بھی ہے جو ایک جمہوری نظام کے اندر کامیابی کے لئے لازم ہوتے ہیں لیکن جو ہماری پارلیمان قانونی اصلاحات کر  رہی ہے ان سے ابھرتے ہوئے تاثر سے لگتا ہے کہ سیاسی جماعتیں  خود بھی یا تو جمہوریت سے نا امید ہوچکی ہیں یا پھر فی الحال ان کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ اس حقیقت کو بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ موجودہ  ملکی معاشی حالات میں  ریاست پچھلے ڈیڑھ سال سےجاری سیاسی عدم استحکام کی سوچ اور سرگرمیوں میں  مزید کسی چھوٹ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

جس کی سب سے بڑی وجہ خود سیاسی جماعتیں ہی ہیں جن کو اس دوران کافی موقع دیا گیا کہ وہ اصولی سیاست کی طرف لوٹ آئیں ، جن میں تحریک ا انصاف کا رویہ تو انتہائی قابل تشویش رہا ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے اپنے آپ کو سیاست سے الگ رکھنے کی پوری کوشش کی گئی ہے مگرسیاسی حلقوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہمارے مذاج  اس طرح کی آزاد، حساس اور با ختیار سیاست کے عادی نہیں ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ہم پچھلی سات دہائیوں سےرائج روائتی  سیاست کے عادی ہوچکے ہیں ، جس میں جمہوریت کی روح رواں طاقت اسٹیبلشمنٹ رہی ہے جس  کا انہوں نے  خود بھی کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ ہر فیصلہ ان کی خواہش کے مطابق ہوتا رہا ہے جس کے پیش نظراب ہمارے سیاستدان  بھی ان سہولت کاریوں کے عادی ہوچکے ہیں ۔

نیوٹرل ہوئی ہےتو اس خلا کو پر کرنے کے لئے دوسرے اداروں نے وہی کردار اپنا لیا ہے اور ایسے حالات بنائے جارہے ہیں جن سے یہ پیغام جارہا ہےکہ وہ سیاست کو آزاد نہ چھوڑیں وگرنہ سیاست کا سنبھلنا ممکن نہیں رہے گا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری سیاسی جماعتوں کے اندر سیاست کو جمہوری اور اصولی رکھنے کی صلاحیتوں کا فقدان ہے

اگر ایسا نہ ہوتا تو ہماری سیاسی جماعتیں یقیناً اسٹیبلشمنٹ کے  اپنے آپ کو سیاست سے دور رہنے کے دعوے پر یقین رکھتے ہوئے اپنے عمل  سے یہ ثابت کرتیں کہ وہ ان کی اس فیصلے سے خوش ہیں اور وہ آپس میں مذاکرات کی میز پر بیٹھ کراصولی سیاست  وجمہوریت  اور اس کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا کوئی مستقبل بارے لائحہ عمل دیتیں ۔ اور اگر پھر بھی کوئی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا اشارہ ملتا تو ان کو جوابدہ بھی ٹھہراتیں۔مگر وہ نہ تو آپس میں مذاکرات کرسکیں اور نہ ہی پر امن سیاسی اور جمہوری ماحول بنا سکیں۔ جس کو اقتدار مل جاتا ہے وہ دوسروں کو انتقام کا نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں اور جن سے اقتدار چلا جاتا ہے انکی سیاست کا محور ملکی فلاح کی بجائے اقتدار کا حصول ہوجاتا ہے اورسیاست کے اصولوں کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔

سپریم کورٹ نے زبردستی تحریک انصاف کو حکومت کے ساتھ انتخابات کے انعقاد کے لئے مذاکرات  پر بٹھایا مگر اس سے کوئی نتیجہ اخذ نہ ہوسکا۔ حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں پر بھی الزام ہے کہ انہوں نے تحریک انصاف کو وہ اہمیت نہیں دی جو دینی چاہے تھی  لیکن تحریک انصاف کے کچھ قائدین کی طرف سے اب یہ بیانات بھی سامنے آرہے ہیں کہ عمران خان نے جان بوجھ کر یہ موقع ضائع کردیا  اور پھر 9 مئی کے واقعہ کے دوران ان کے کارکنان کی سرگرمیوں نے تو ان کی ساری کی ساری سیاست کا کٹہ چھٹہ کھول کر رکھ دیا ہے کہ جیسے وہ اس گھمنڈ میں تھے کہ اپنی مقبولیت کے زور پر سب کچھ زبردستی منوا لیں گےاور وہ کسی بھی صورت اقتدر  کے حصول سے کم کسی بھی حالت  میں امن کے حق میں نہیں تھے۔ جس کی ایک دلیل ان کی وہ ساری سیاسی سرگرمیاں ہیں جن کو وہ  وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہوجانے کے بعد سے جاری رکھے ہوئے تھے جس میں ان کی مکملسیاست چوک چوراہوں تک محدود ہوکر رہ گئی تھی۔جس میں انہوں کئی بیانیے بنائے جن میں ایک سائفر کا بھی تھا جس پر اب ان کے اپنے لوگ ہی سیاسی کھیل کا انکشاف کر رہے ہیں اور عمران خان نے خود کئی یو ٹرن بھی لئے ہیں ۔جس کا آج وہ نقصان بھی اٹھا رہے ہیں ۔

;ان کو چاہیے تھا کہ وہ اگلے انتخابات عوام کی نمائندگی کا حق بھی ادا کررہے ہوتے۔ جس میں; وہ مکمل طور پر ناکام رہے اور ان کی سرگرمیوں کی بدولت جس میں وہ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی خواہش اور بلا حدود و قیود تنقید کی وجہ سے نہ صرف سیاسی جماعتوں کا اعتماد کھو بیٹھے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے قریب بھی اپنا اعتماد ضائع کر بیٹھے۔ اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں کردار پر تو اعتراض کیا جاسکتا ہے جس کاعمران خاں سمیت سب حصہ رہےہیں مگر ان کے ایک ریاستی ادارے کے کردار اور ذمہ داریوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس پر بے جا تنقید کرنی چاہیے۔ عمران خاں وزیر اعظم کے اعلیٰ منصب پر رہ چکے ہیں اس لئے ان کی سوچ اور عمل میں پختگی ہونی چاہیے ۔جب وہ خود اقتدار میں تھے تو وہ فوج کی حکومتی امداد کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے اور فوج پر تنقید کو ملک دشمنی سے تشبیہ دیتے تھے  ۔ویسے بھی ریاست کے کسی ادارے کے سربراہ کے ساتھ کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ملنے  کی خواہش یا  سیاست میں کردار کا مطالبہ نہ تو آئینی طور پر جائز ہے اور نہ ہی جمہوری اور اخلاقی اقدار اس کی اجازت دیتے ہیں ۔  بلکہ وہ خود  عسکری ادارے کے سربراہ کی اپوزیشن سے ملاقاتوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

اب لگتا یوں ہے کہ پچھلے ایک ڈیڑھ سال اور خاص کر 9مئی کے بعد کے سیاسی حالات کے پیش نظر پاکستان کے مقتدر حلقوں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ جب تک ملک کی معیشت سنبھل نہیں جاتی اور پاکستان ترقی کے سفر پرمستقل گامزن نہیں ہوجاتا یا کوئی پائیدار حل نہیں مل جاتا غیر سنجیدہ اور غیرجمہوری سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور اس سے ابھرنے والا تاثر پھر سے ایک ہائبرڈ جمہوریت   کے خدوخال پیش کر رہا ہے جس کا وزیراعظم شہباز شریف سے صحافیوں کی طرف سے سوال بھی کیا گیا جس پر انہوں نے مبینہ طور پرکہا کہ اگر ایسا تاثر ابھرتا بھی ہے تو وہ یہ سب کچھ ملک کی بہتری کے لئے کر رہے ہیں۔ پھر حکومت میں موجود سیاسی جماعتوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہوں نے پاکستانی معیشت کو بہتر کرنے کے لئے سخت فیصلے کئے ہیں جن سے وجود پانے والی مہنگائی اور عوام کو درپیش مشکلات نے ان کی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہےاور  ان کے ساتھ رکھے گئے غیر مساویانہ رویوں اورتحریک انصاف کو مہیا کی گئی سہولت کاریوں سے وجود پانے والی صورتحال کے ذمہ داران  کوہی اپنے کئے کو سنبھالنا ہوگا۔

سیاسی جماعتیں 2018 کے انتخابات کےحقیقی  نتائج کے تناسب والے مینڈٹ کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔ اگر انہوں نے سخت فیصلے کرکے اپنی ساکھ کو داؤ پر لگایا ہے تو اس کی وجہ 2018 کے انتخابات کی دھاندلی تھی  جس کا وہ صلہ ڈیمانڈ کر رہے ہیں ۔جس  کا حل  وہ قوانین میں ترامیم کے زریعے سے  ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہے مگر اس سے مستقبل میں جمہوری حلقوں کو مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ عہدے اور سوچیں بدلنے سے حالات بھی بدل جاتے ہیں اور پھر پچھتاوے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ایسی ایسی قانونی ترامیم کی جارہی ہیں جو بنیادی انسانی حقوق سے بھی  متصادم ہیں جن کی موجودہ حکومت کو قیمت ادا کرنا پڑسکتی ہے۔

"ووٹ کو عزت دو" کا نظریہ بھی بدلا بدلا لگ رہا ہے بلکہ اس کی جگہ اب"طاقت کو عزت دو" کا عملی ماحول بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ گویا مبینہ سول مارشل لاء کا کا تاثر ختم کرنے  کے لئے لاء کو مارشل کیاجارہا ہےتاکہ قانون پرعملدرآمد کے لئے عسکری طاقت میسر ہوکیونکہ جب عدالتوں تک "قانون کی طاقت "کی بجائے "طاقت کے قانون" کی  اشیر باد کو باعث شرف سمجھا جاتا ہے تو پھر قانون کو بھی اسی طاقت سے ہم آہنگ کرنے میں حرج ہی کیا ہے۔ اس پر مریم نوازاپنی خاموشی سے شائد حکومت کے موجودہ انسانی حقوق اور آزادی صحافت سے متصادم قانونی اصلاحات کے گناہوں سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھنے کا جواز پیدا کر رہی ہوں مگر انکی آج کی  خاموشی سے  کل لا تعلقی کا دعویٰ کرنا مشکل ہوجائے گا۔  اسی طرح حکومت میں موجود سیاستدانوں کو بھی اگرکل  انہی قوانیں کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو پھریہ مکافات عمل ہی ہوگا۔

مانا کہ اب پاکستان کے پاس زیادہ وقت نہیں کہ وہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ اور اعتماد کو بحال کرنے اور معاشی طور پر مستحکم ہونے کے حاصل شدہ مواقعوں کو ضائع کرے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ جس نے بھی سیاست کرنی ہے وہ  آئینی، اصولی اور جمہوری اقدار کے حدود کے اندر رہ کر ملکی مجبوریوں کے پیش نظر اپنی سرگرمیوں کو حالات کی مطابقت میں رکھے ۔ یہاں تک کی سوچ تو جائز ہےاور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اسوقت  ریاست کے لئے  معیشت جمہوریت سے بھی زیادہ اہم  ہے مگر اس کی بہتری کا راستہ بھی جمہوریت کی پگڈنڈیوں سے ہی گزرتا ہوا تلاش کرنا ہوگا۔ جمہوریت کو ریگولرائز کرنے کی سوچ تو قابل برداشت ہوسکتی ہے مگر اس کو پابند سلاسل کرنے کی سوچ مزید سیاسی گھٹن پیدا کرے گی۔

اگر ہم پائیدارامن، ترقی اور خوشحالی چاہیتے ہیں تو پھر جمہوریت کو مضبوط کرنا ہوگا اور اس کے لئے طاقت کے ایوانوں کو با اختیار بنانے کی بجائےپارلیمان اور الیکشن کمیشن کو مضبوط اور بااختیار بنانا ہوگا اور اس کی سربراہی کسی عوامی بالادستی پر یقین رکھنے والی سیاسی شخصیت کے حوالے کرنا ہوگا اور اس طرح طاقت کے ایوانوں کو بھی محفوظ سوچ کے تحت رکھنے کے لئے وہاں بھی اصلاحات لانا ہونگی جن سے ر یاست کے اداروں کی طاقت کو  آئین کے تحت لا کر اسے پارلیمان کے دست و بازو بنانا ہوگا۔  اختیارات اور ذمہ داریوں کی شراکت اورجوابدہی کاکوئی لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ جمہوریت کو اپنے قومی اقدار سے ہم آہنگ تو بنایا جا سکتا ہے مگر اس کوانسانی حقوق کی پاسداری اورقانونی کی حکمرانی سے جدا کرکے فائدےحاصل نہیں کیا جاسکتے 

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین