سوچ کی غذا

‏Magazine لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Magazine لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 19 اپریل، 2026

دنیا کو جنگی تجربوں کے بجائے امن کے تجربے کرنے چاہئیں

 

اگر پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کے نتیجے میں ایک بار جنگ بندی ممکن ہو چکی ہے تو اس کے دوبارہ آغاز کے امکانات یقیناً کم ہو جاتے ہیں، تاہم انہیں مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ اگر جنگ دوبارہ بھڑکتی ہے تو یہ محض ایک خطے کی ناکامی نہیں بلکہ پوری دنیا کی اجتماعی ناکامی تصور ہوگی، جو ایک وسیع تر عالمی تصادم کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

عالمی معیشت پہلے ہی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ اگر اس پر مزید دباؤ پڑا تو یہ کمزور معیشتوں کو شدید بحران کی طرف دھکیل دے گا، جس کے نتیجے میں مزید ممالک اس کشیدگی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یوں عالمی سطح پر دھڑے بندی اور بلاکس کی سیاست مزید واضح ہو جائے گی۔

مزید برآں، غلط فہمیوں میں اضافے کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ ماضی میں بھی یہ خدشات سامنے آئے کہ بعض حملوں کا مقصد خلیجی ریاستوں کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا تھا۔ ایسے حساس حالات میں پاکستان نے مثبت کردار ادا کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی، جو قابلِ تحسین ہے۔

ہفتہ، 11 اپریل، 2026

واللہ! پاکستان جیت گیا ہے


10 مئی 2025 کو پاکستان نے اشتعال انگیزی کو شکست دی تھی، اور 10 اپریل 2026 کو امن اور فتح کا پرچم بلند کیا ہے۔

اگرچہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کروانا بذاتِ خود ایک بڑی کامیابی تھی—ایک ایسا لمحہ جب چند ہی لمحوں کے فاصلے پر تیسری عالمی جنگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کے قریب محسوس ہو رہی تھی۔ دنیا کی نظریں اس امر پر جمی ہوئی تھیں کہ کب امریکی صدر ایران پر بڑے حملے کا حکم دیتے ہیں، مگر اسی دوران یہ پیغام سامنے آیا کہ پاکستان کے وزیرِاعظم کی درخواست پر دو ہفتوں کے لیے سیزفائر کر دیا گیا ہے۔

یہ ایک ایسا غیر متوقع سفارتی موڑ تھا جس نے عالمی منظرنامے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ انتشار اور تصادم کی خواہاں سوچیں دم توڑتی نظر آئیں، جبکہ امن، تدبر اور مکالمے کا راستہ روشن ہونے لگا۔

بدھ، 11 مارچ، 2026

میں پاکستان کو کہاں دیکھ رہا ہوں

 

پاکستان کے روشن مستقبل کی گواہیاں ہر طرف موجود اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں ان کو سمجھنے کے لئے حقائق کو پرکھنے والی سوچ کی ضرورت ہے۔

پاک فوج کو خصوصی سلام

پاکستانی قوم تو ہمیشہ سے اس دلی خواہش کا اظہار اور اعادہ کرتی ہی رہتی ہے مگر اب مشرق وسطیٰ سے بھی یہ آواز بلند ہونا شروع ہو گئی ہے جس کا میں نے اپنے چند دن پہلے ایک کالم میں تذکرہ بھی کیا تھا کہ پاکستان اب محفوظ ترین ملک سمجھا جا رہا ہے جس کے دلائل میں اسلامی دنیا کے پاکستان کو بگ برادر ماننے کا  بھی حوالہ تھا۔

اب آپ میڈیا میں یہ خبریں پڑھ رہے ہونگے کہ فیلڈ مارشل سعودیہ جن کے ساتھ پہلے سے ہمارا دفاعی معاہدہ کے دورےپر تھے جس کے بعد اس کے جنگ پر اثرات کا بھی مظاہرہ کیا ہوگا اور بحرین نے فیلڈ مارشل کو دورے کی دعوت دی ہے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ وزارت خارجہ سے رابطہ کریں اور اسی طرح کویت بھی خواہش کر رہا ہے جو پاکستان کی واضح دفاعی صلاحیت کی تصدیق ہے۔

بے خوف قیادت 

قوموں کی قیادت جب بے خوف افراد کے ہاتھوں میں ہوتی ہے تو پھر ایسے مواقعوں کے دروازے کھلتے ہیں اور ہمارے سامنے دنیا میں کئی ایسی مثالیں ہیں جن میں چائنا سر فہرست ہے مگر شرط یہ ہے کہ عوام ایسی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے  سخت فیصلے کرنے میں ساتھ دے

قومی ناسور 

تاکہ ملک سے بدعنوانی اور غدارانہ سوچوں کا قلع قمح کیا جا سکے۔ کیونکہ یہی وہ عناصر ہوتے ہیں جو ملک کی ترقی میں حائل رکاوٹ ہی نہیں ہوتے بلکہ ایک ناسور کی طرح قوموں کی سوچوں سے لے کر معیشت تک کو کھوکھلا کر رہے ہوتے ہیں۔

ناسور کی طرح بڑی تیزی سے زندگی کے ہر شعبہ میں پھیل رہے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو جب وسائل اور مال تک رسائی ملتی ہے تو یہ معاشرے کے لئے کشش بن کر ابھرتے ہیں اور معاشرہ دیکھا دیکھی ان کی تقلید میں تباہی کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔

معاشرت پر منفی اثرات

ان بدعنوان اور غداروں کا انداز رہن سہن اور دولت کے بلبوتے پر ریاست کے اداروں میں اثر رسوخ ایک ماڈل کا روپ دھار لیتا ہے اور یہ لوگ آہستہ آہستہ سیاست، تجارت اور سخاوت کے زریعہ سے اپنے آپ کو اس قدر مضبوط  کر لیتے ہیں کہ قوم ان کو مسیحا اور نجات دہندہ سمجھنے لگتی ہے۔

قومی شعور

اس غلط سوچ و عمل کے خاتمے کے لئے قومی شعور پہلی شرط ہے لیکن ہم یہاں دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ جو بھی اس کا دعوی کرے اسی کو سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ 

درحقیقت شعور اچھے کو اچھا اور برے کو برا سمجھنے کو کہتے ہیں وہ خواہ اپنا ہو یا پرایا۔

سبق آموز عبرت

پاکستان نے اس وقت دہشت گردی سے تقریباً جان چھڑوا لی ہے اور اس کے بعد بدعنوانی اور غدارانہ سوچوں کو سبق آموز عبرت بنانا ہوگا۔

جوابدہی کا عمل

جب حقیقی قیادت اور عوامی شعور کا باہمی ملاپ ہوتا ہے تو پھر ہمیں خواہ وہ حکومتی سطح پر ہو یا عوامی سطح پر جوابدہی کا عملی مطاہرہ نظر آتا ہے اور معاملات شفافیت، غیرجانبداری اور ترقی و خوشحالی کا منظر نامہ پیش کر رہے ہوتے ہیں جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم مثبت سمت میں  جارہے ہیں۔

پاکستان کی پزیرائی 

اس وقت پاکستان کی پزیرائی کسی طاقت کی بنیاد پر دھونس یا کمزور پر مسلط ہونے کے صورت میں نہیں بلکہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو منوا کر امن قائم کرنے کے سوچ و عمل کی بنیاد پر مل رہی ہے جو ایک پائیدار ترقی کی طرف سفر کی دلیل ہے۔

عالمی سطح پر ایک متبادل ماڈل

پاکستان سے دفاعی معاہدے کرنے والے اور پاکستانی دفاعی صلاحیتوں کے کامیاب ماڈل کی حامل ٹیکنالوجی میں دلچسپی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ پاکستان پر اعتماد کرنے لگے ہیں اور اس کے چائنا کے ساتھ اشتراکی ہتھیاروں کو وہ ایک متبادل کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔

دنیا ماڈلز کو مانتی ہے

دنیا محض دعوؤں پر یقین نہیں رکھتی بلکہ وہ عملی طور پر نمونوں پر یقین رکتھی ہے جس کا مظاہرہ پاکستان مئی 2025 سے مسلسل خواہ وہ جنگی میدان ہو، دہشت گردی کے خطرات یا عالمی سطح پر دفاعی نمائش اور امن کی کوششوں میں کوئی انشیٹو اپنی صلاحیتوں کے جوہر نمونے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ جو اس وقت روش، فرانس، امریکہ اور اسرائیل کی ٹیکنالوجی کے مجموعے پر برتری کا تاثر ایک بہت بڑی حیرت بن کر خاموش کشش  بنا ہوا ہے۔

خوف کی دھاک کے پہرے

ہو بھی کیوں نہ عظیم پاکستان کی فضاوں سمندروں یا ڈیجیٹل دنیا کی بادشاہی ہو یا  سرحدوں کے آرپار فسادی حرکاتیں پاکستان کی امن پسند کوششوں کے خوف کی دھاک پہرے دیتی ہوئی پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کئے ہوئے ہے۔

گواہیاں ہر طرف چھائی ہوئی ہیں

جس کی گواہیوں کے طور پر دنیا کی عالمی طاقتوں کی پریس ریلیز ہوں یا میڈیا کے تبصرے ہر جگہ پاکستان کی جرات، صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی کی دھوم مچی ہوئی ہے

پاکستان کا مستقبل

اس موجودہ منظرنامے میں پاکستان ایشیاء جو دنیا کا مستقبل ہے کے اندر اہم شریکدار کے طور پرایک مرکز بن کر  ابھر رہا ہے اور نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ دنیا سے سرمایہ دار پاکستان کو محفوظ ترین ملک سمجھتے ہوئے سرمایہ کاری کے لئے ایڑیاں اٹھا کر دیکھ رہے ہیں اور جیسے ہی ایران، امریکہ اور اسرائیل کی جنگ جو تقریباً اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکی ہے سے امن پائیں گے تو عمل کرنا شروع کر دیں گے۔


اتوار، 1 مارچ، 2026

عالمی حالات نئی فیڈریشنز کا تقاضہ کر رہے ہیں۔

عالمی حالات نئی فیڈریشنز کا تقاضہ کر رہے ہیں۔
اس وقت عالمی حالات امن کی بحال کو ممکن بنانے کے لئے دفاعی، سفارتی اور تجارتی سطح پر ریجنل فیڈریشنز کا تقاضہ کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے اپنی ساکھ کھوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور کوئی ادارہ ان کا متبادل بنتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ غزہ ہو یا کشمیر کہیں بھی ان کی ریزولیشنز پر عمل دکھائی نہیں دیتا۔ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے ورانٹ ایک کاغز کے نکڑے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ امریکہ جیسی عالمی طاقت ان کی کارکردگی پر سوال اٹھا چکی ہے۔ 

نیٹو اپنی ذات میں ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن کر بے بسی کے ہاتھوں حیرت زدہ ہے اور دنیا کا درجہ حرارت موسمیاتی ہو یا تنازعاتی دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ دنیا میں امن کی خاطر نئے پیس بورڈ کا قیام لایا جاتا ہے مگر اس کے قیام کے اگلے ہفتے ہی مشرق وسطیٰ اور ویسٹ ایشیا سے آگ کے شعلے بلند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

دنیا میں امن کا دعویٰ اس وقت محض لفاظی سے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں رکھتا جبکہ عملی طور پر جس کی لاٹھی اسی کی بھینس والی پالیسی نافذ ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لئے ملکوں کے باہمی اتحاد نا گزیر دکھائی دے رہے ہیں۔

ماضی میں بھی فیڈریشن کی تاریخ ہی محفوظ ترین حکمت عملی رہی ہے اور حال میں بھی فیڈریشنز ہی محفوظ سمجھی جا رہی ہیں وہ خواہ یو ایس اے ہو یا شینجن سٹیٹس۔ دوسری طرف یو ایس ایس آر اپنی جارحانہ حکمت عملیوں کے سبب اپنے کھوئے ہوئے وجود پر پچھتاوے کا تاثر دیتے ہوئے اس ضرورت کی اہمیت کو پھر سے اجاگر کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

تاریخ اسباق سے بھری پڑی ہے مگر ضرورت ہے انہیں اکٹھا کر کے فیڈریشن کی صورت کوئی حل تلاش کرنے کی لیکن اس کے اندر بھی بہت بڑے بڑے چیلنجز ہیں جن سے نبرد آزما ہونے کے لئے عالمی تحفظات کو دور کرنے کے لئے ڈائیلاگ کا آغآز کرنا ہوگا۔ اور ان چیلنجز کا حل اعتماد کے رشتوں میں تلاش کرنا ہوگا۔

تیسری عالمی جنگ دستک دے رہی ہے جسے آپس کے روابط، اتحاد اور باہمی اعتماد سے ٹالنے کی کوشش کرنا ہوگی اور مذاہب سے بالاتر ہوکر انسانیت کے رشتوں کو اپنی ترجیح بنانا ہوگا۔ مذاہب کو سنڑل کمانڈ میں لانا ہوگا تاکہ ان کے نام پر تشدد انتہا پسندی اور نفرتوں کے تاثر کو ختم کر کے مذاہب بارے انسانی فلاح کے حقیقی مفہوم کو واضح کیا جا سکے۔ 

ریاستوں کو اپنے وسائل کا ایک بڑا حصہ انسانیت کی بھلائی کے لئے وقف کرنا ہوگا۔ وسائل پر یقین رکھنے والے نظام معیشت کی مہاڑ کو وسائل کی رضاکارانہ تقسیم کی طرف موڑنا ہوگا۔ محبتوں کو فروغ دے کر نفرتوں کو ختم کرنا ہوگا۔

وہ ریاستیں جن کے وسائل اور ٹیکنالوجی تک رسائی محدود ہے انہیں مل کر عالمی امن کو یقینی بنانے کے لئے اپنی خود مختاری کو قائم رکھتے ہوئے دفاعی، سفارتی اور تجارتی سطح پر ریجنل فیڈریشنز کا قیام عمل میں لانا ہوگا 

جس میں ایک سوچ اور باہمی مفادات کی حامل ریاستیں مثلاً چین، پاکستان، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان، آزربائیجان اور ترکی مل کر باہمی فیڈریشن بنا سکتے ہیں اور آپس میں ہر طرح کے جغرافیائی رابطوں کو آسان شرائط کے ساتھ بحال کر سکتے ہیں تاکہ مسقبل کی تجارتی ضروریات سے لے کر دفاع تک کے مشترکہ مفادات میں ایک یکجہتی کی بنیاد پر طاقت بن سکیں۔ 

بظاہر یہ مشکل ہے مگر اس کے اندر بہت زیادہ فائدہ ہے۔ اگر ان تمام ریاستوں کا فی الفور ملنا ممکن نہ ہو تو پاکستان اور چین ملکر کوئی ایسا باہمی ماڈل متعارف کروا سکتے ہیں جس سے دونوں ملکوں کے مستقبل کے تجارتی، سفارتی اور دفاعی اہداف کو محفوظ اور پائیدار بنایا جا سکے۔ مشاہدے اور تجربات کی بنیاد پر دوسرے ریاستیں بھی بعد میں شمولیت کو اختیار کر سکتی ہیں۔

اس پر دونوں ملکوں کی اعلیٰ سطح کی قیادت کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور ملکر درپیش چیلنجز اور دنیا میں ان کے بارے موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے کوئی حکمت عملی ترتیب دے کر عملی قدم اٹھانا چاہیے۔ اس وقت دونوں ممالک پر دنیا کی اکثریتی ریاستوں کا امن پسندانہ سوچوں اور دفاعی صلاحیتوں کی بدولت اعتماد ہے۔

آپس میں طویل المدتی معاہدے ترتیب دے کر اپنے زرائع کی اشتراکیت سے عالمی تجارتی ضرورتوں اور باہمی مشکلات کا احسن طریقے سے حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی کوششوں کی اہمیت اس لئے بھی واضح ہے کہ پاکستان اس وقت ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ  کے اس وقت دنیا کی تمام بڑی با اثر اور عالمی طاقت کی حامل ریاستوں خواہ وہ امریکہ ہو، روس، یورپی یونین، اسلامی دنیا اور مشرق وسطیٰ  یا چین کے ساتھ بہت ہی مثالی تعلقات ہیں اس لئے موجودہ حالات میں ایک تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔  

اس سے نہ صرف حالات کی بہتری ممکن ہوگی بلکہ مواقعوں کے نئے دروازے کھلیں گے جس سے ریجن میں طاقت کے توازن کا ایک نیا باب شروع ہوگا بلکہ خود کفیلی کر طرف بڑھنے میں ایک دوسرے کی مدد میں ممدومعاون ماحول پیدا ہوگا جس سے دفاعی تحفظ کے ساتھ ساتھ سرمائے کے استعمال اور حصول کی محفوظ حکمت عملیاں وجود پائیں گی۔ 

بدھ، 11 فروری، 2026

میڈیا پر غیراخلاقی کرداروں کی پزیرائی کا رجحان پریشان کن ہے


اگر ہم  میڈیا کا بغور جائزہ لیں تو اداکاروں متعلق خبروں کے رجحان سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ گویا یہ طبقہ معاشرے کا رول ماڈل بنتے جا رہے ہیں۔ خاص کر میڈیا پر غیر اخلاقی کرداروں کا پرچار کرتی ان کی ادائیں، ناز و نخرے، عشقیہ داستانیں اور بالآخر ایک دوسرے سے علیحدگی پر مبنی معاشرت ہماری نئی نسل کے لئے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں اداکاری کا معاشروں کی تشکیل میں اہم کردار ہوتا ہے مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں ایسا قطعاً بھی نظر نہیں آرہا جس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں یا تو ہمارے لکھاریوں کی ترجیحات اور ہدائتکاری کی سمت درست نہیں رہی یا پھر ہمارے معاشرے کے اندر منفی پہلوؤں کی مقبولیت کا رجحان غالب آ چکا ہے۔

ڈرامے اور فلمیں کسی بھی معاشرے کے اندر ماحول کی عکاسی کر رہی ہوتی ہیں مگر ان کے پس پردہ اصل مقاصد معاشرتی اصلاح ہوتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسے گماں ہوتا ہے کہ گویا ہم اس اصلاحی ہتھیار کو برائی کی تشہیر یا اس میں کشش پیدا کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ 

اس کی بنیادی وجہ معاشرے میں برائی کی قبولیت کا دوستانہ ماحول بھی ہو سکتا ہے مگر ایسے حالات میں میڈیا کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے معاشرے کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہیے نہ کہ ایسے پہلووں کو جو ہماری قومی اور شرعی اقدار کے خلاف ہوں۔

میڈیا کو ہمیشہ سادگی، دانشمندی اور حکمت پر مبنی معاشرتی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے فضول خرچی، جاہلانہ رسم و رواج اور تخریبی سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے بلکہ ان کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے تاکہ عوام کے اندر مثبت رجحان پیدا کیا جا سکے

ڈرامہ اور فنون لطیفہ معاشروں کی تشکیل میں ایک موثر ہتھیار ہوتے اور اگر ان کا استعمال ٹھیک سے نہ ہو رہا ہو تو تباہی اس قدر سرائیت کر جاتی ہے کہ اس سے چھٹکارہ صدیوں کی محنت سے بھی ممکن نہیں رہتا۔

پچھلے دو دہائیوں سے اداکاری کے اثرات جہاں مختلف طبقہ زندگی پر پڑے ہیں وہاں ان سے سیاست بھی محفوظ نہیں رہ سکی اور کارکردگی سے بے نیاز محض کھوکھلے نعروں اور رقص و سرور کی محفلوں کو ہی سیاست سمجھا جانے لگا تھا جس کے اثرات اس قدر غالب آ چکے ہیں کہ ان کے خلاف اب بات کرنا بھی فضول کوشش سمجھا جانے لگا ہے۔ کارکردگی دکھانے والوں کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا کیا جاتا ہے جو انتہائی تشویشناک صورتحال کی طرف اشارہ ہے۔

حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس پہلو کی طرف توجہ دیں اور علمی و ادبی لوگوں کا ایک ایسا ریسرچ یونٹ بنائیں جو میڈیا، تھیٹر اور فلم انڈسٹری کی سرگرمیوں اور کارکردگی پر نظر رکھتے ہوئے اصلاح کے پیمانوں کو رائج کروائے اور ایسی اداکاری جس سے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہوں کی حوصلہ شکنی اور جوابدہی کو ممکن بنائے تاکہ معاشرے میں بہتری لانے کے عمل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

میڈیا کو بھی چاہیے کہ اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کے لئے کوئی ضابطہ اخلاق بنائے جس میں مثبت تاثر کو عام کرنے کی ترغیب ہو تاکہ تعمیری معاشرہ پرورش پا سکے جو ملک کی ترقی و خوشحالی کے عمل میں ساتھ دینے کے ساتھ ساتھ سیاست، گورننس اور ترقی کے عمل میں نگرانی اور محاسبے کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو چہ جائے کہ تماشائی بن کر اپنی نسلوں کی تباہی پر تالیاں بجاتے رہیں۔  

جمعہ، 6 فروری، 2026

دہشت گردی سے قوم اور اداروں کو مل کر نمٹنا ہوگا

ملک میں حالیہ دہشت گردی کی لہر دراصل ملکی دفاعی صلاحیتوں کے حاسدین اور ترقی مخالف سرگرمیوں کا گٹھ جوڑ ہے اور ترلائی اسلام آباد میں مذہبی عبادت گاہ پر نہتے معصوم شہریوں کی جانیں لینے والا دہشت گردی کا قیامت خیز واقعہ بھی اسی منصوبے کی ایک کڑی ہے۔

اب جب میں کالم لکھ رہا ہوں تو اس وقت تک 31 شہادتیں اور 169 زخمی ہسپتالوں میں پڑے ہیں جن میں سے بہت سارے انتہائی تشویشناک صورتحال سے دوچار ہیں جس سے پورے اسلام آباد میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے اور کہرام مچا ہوا ہے جس پر اس کے پیچھے مذموم کرداروں کو اپنی بزدلانہ حرکتوں پر شرم آنی چاہیے۔

مگر چونکہ بیرونی سربراہاں پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں اور اربوں کے منصوبوں کے معاہدے ہونا شروع ہو چکے ہیں جو ہندوستان اور اسے کے حواریوں کی سازشوں کی ناکامی اور مقاصد پر مئی میں لگے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اس لئے اس طرح کی مزموم کوششیں انکی مجبوری ہے جس کا ہمیں پوری تیاری کے ساتھ جواب دینا پڑھ گا 

ہم دکھ بھرے صدمے سے ضرور گزر رہے ہیں مگر ہماری سیکورٹی فورسز کا مورال بلند ہے اور وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ بہت جلد اس میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کر کے  جہنم واصل کریں گے

ان دردناک لمحات میں پوری قوم سوگران کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور ان مشکل لمحات میں ہم تہیا کرتے ہیں کہ ہم اپنی فوج اور دوسرے سیکورٹی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اس سفاکی کا مل کر مقابلہ کریں گے۔

شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول پر نظر رکھیں اور ایمرجنسی نمبرز ہر چھوٹے بڑے کو یاد کروانے کے ساتھ انہیں موبائلز پر ایمرجنسی بٹن کی صورت میں انسٹال کرکے اس کے استعمال کی سوشل میڈیا کے زریعے سے ٹریننگ بھی دی جائے تاکہ جب بھی وہ کسی مشکوک شخص کو دیکھیں تو سب سے پہلے اس سے خود الرٹ ہو ں پھر دوسروں کو آگاہ کریں اورساتھ ہی سیکورٹی اداروں کو اطلاع دینے میں کبھی دیر نہ کریں۔

اس کے لئے سماجی تنظیموں کو بھی آگے بڑھنا چاہیے اور ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے عام شہریوں کی تربیت اور اس کے ساتھ ساتھ ابتدائی طبی امداد کے لئے بھی سکولوں اور کالجز کے طلبہ و طالبات کی تربیت کرنی چاہیے۔ 

سکاؤٹ کی طرز پر ان دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لئے خصوصی ٹریننگ بھی دی جانی چاہیے جس میں ہمارے ریٹائرڈ فوجی تنظیموں کے ممبران اہم کردا ادا کر سکتے ہیں۔ اور اس کے لئے فنڈز کے لئے پاکستان کے بینکوں میں اکاؤنٹ کھلوائے جائیں اور قوم ان کی اپیل پر مالی امداد کے لئے کبھی بھی ان کو مایوس نہیں کرے گی۔

اسی طرح اب یہ وقت ہے کہ اس چیلج سے نمٹنے کے لئے تمام تر سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو بھلا کر تمام صوبوں اور مرکز میں ایک آواز ہوکر اس دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔ اور مل کر ان دہشت گردوں کو ڈھونڈھ کر جہنم واصل کریں۔ 

دیہاتی علاقوں میں تو عموماً سب لوگوں کو ایک دوسرے کی پہچان ہوتی ہے اور اجنبی کا وہاں رہنا ویسے ہی مشکل ہوتا ہے مگر شہروں کے اندر دہشت گردوں کی پہچان کرنا تھوڑا مشکل ہے مگر ناممکن قطعاً بھی نہیں ۔ اس کے لئے بھی سماجی تنظیمیں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ 

شہریوں کی میڈیا، سوشل میڈیا اور مقامی زرائع جن میں مساجد کے اندر اکھٹے نمازیں پڑھنے والوں بازاروں میں دکانداروں کی کمیٹیاں بنائی جائیں جو اجنبیوں پر نظر رکھیں اور شہریوں کو یہ ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ کوشش کریں اپنے علاقے کی مسجد جہاں ان کی جان پہچان ہو نمازیں ادا کریں اور حتی الوسع خریداری بھی اپنی جان پہچان والی قریبی دکانوں سے کریں تاکہ وہاں کی کمیٹیوں کو نظر رکھنے میں دقت نہ ہو۔ اور اگر کوئی شہری سفر میں ہو تو وہ کوشش کرے کہ جماعت کے علاوہ اکیلے میں کہیں مسجد سے باہر یا جماعت کے اوقات سے ہٹ کر نماز ادا کر لے۔

اسی طرح محلوں کے اندر ایک دوسرے سے ملاقاتوں اور ہمسائگی میں ایک دوسرے سے جان پہچان کے عمل کو شروع کیا جائے تاکہ اجنبی مشکوک لوگوں کی آسانی سے نشاندہی کی جا سکے۔  اسی طرح ہر علاقے کی ضروریات اور مسائل کی مطابقت سے حکمت عملیاں ترتیب دی جا سکتی ہیں جس میں وہاں کی مقامی پولیس اور دوسری ایجنسیوں کی صلاحیتوں سےفائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ایس او پیز ترتیب دیئے جا سکتے ہیں۔

اسی طرح ماضی کی طرز پر مساجد اور دوسرے عوامی مقامات پر مقامی لوگوں اور ایجنسیز کی باہمی کوشش سے سیکورٹی کا انتظام کیا جا سکتا ہے تاکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے بر وقت ایکشن کی ہر سطح پر مکمل تیاری ہو۔ اس کے لئے ہمیں پورے ملک کے ماحول کو بدلنا پڑے گا تاکہ دہشت گردی اور اس کی سہولت کاری کو نا ممکن بنا دیا جائے اور پوری قوم اگر اس کے لئے اٹھ کھڑی ہو تو اس کا قلع قمع کرنا کوئی مشکل کام ہی نہیں۔

پوری قوم سے گزارش ہے کہ وہ اداروں اور حکومت کے ساتھ نہ صرف مکمل تعاون کریں بلکہ ان کے دست و بازو بن کر ان کے ساتھ کھڑے ہوں اور ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق اس میں اپنا کردار ادا کرے۔ حکومت اس کے لئے ایک خصوصی سیل بنائے جو شہریوں کی تجاویز کی روشنی میں ایک مکمل لائحہ عمل بنا کر اس کو اپ ڈیٹ کرتا رہے۔  

منگل، 23 دسمبر، 2025

عدالت عالیہ کا جذباتی اور جارحانہ حکمنامہ

عدالت عالیہ نے پنجاب پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس کے تحت فیصلوں کو نہ صرف روک دیا بلکہ کئے گئے فیصلوں کو بھی واپس کر دیا جو ایک انتہائی حیران کن انصاف ہے جس کے اندر قانون و انصاف کے تقاضے کہاں تک پورے کئے گئے وہ بہتر جاتنی ہونگی مگر ان کے اخبارات کی زینت بننے والے کمنٹس سے ابھرتے جذبات اور جارحانہ انداز سے بہت ہی مختلف اشارہ مل رہا ہے۔

انکا یہ کہنا کہ اگر آرڈیننس رہ گیا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں خالی کروا لیا جائے گا بالکل اسی طرح کا انداز منصفی ہے جو بابا رحمتے قانون ساز اسمبلی کے ممبران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ دو چار ایم پی اے تو میں کھڑے کھڑے گھر بھیج دونگا۔ 

انہوں نے مبینہ طور پر چیف سیکرٹری کو مخاطب کرتے ہوئے کمیٹی کے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کو زیادہ انصاف کا شوق ہے تو ایل ایل بی کا امتحان دیں جج لگ جائیں۔ میرے خیال میں تو وہ امتحان  دے کر ہی اس عہدے پر بیٹھے ہیں لیکن جج بننے کے لئے امتحان دینا کوئی شرط نہیں جس کی مثال کے لئے عدالت عالیہ یا عظمیٰ کے کسی بھی جج کا عہدہ کافی ہے۔

عدالت عالیہ سے عرض ہے کہ  ایل ایل بی قانون کو سمجھنے کے لئے ہوتی ہے لوگوں کے تنازعات ختم کرنے کے لئے ضروری نہیں اور اگر کسی کو ایل ایل بی کرنے کے بعد بھی قانون کی سمجھ نہ آئے تو پھر اس کا کیا کیا جائے یا جو جج بننے کے بعد بھی قانون کی دھجیاں اڑاتا پھرے اس کا کیا کیا جائے؟ کیا ایل ایل بی پڑھنے کے بعد آئین کی ایک ہی جج دو تشریحات کر سکتا ہے؟ قانون تو کیا یہ عقل کے پیمانوں پر بھی پورا اترتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ ایل ایل بی تو قانون ساز اسمبلی کا ممبر بننے کے لئے بھی ضروری نہیں جو قانون و آئین کے خالق ہیں۔ جن کے قلم کی جنبش سے آئین و قانون ہی نہیں بلکہ عدالتیں معرض وجود میں آئیں۔

ایل ایل بی میں تو انہی قوانین کے مجموعے کا علم اور اس کے استعمال اور ڈاکٹرائن پڑھائی جاتی ہیں جسکا عملی اطلاق ہو رہا ہوتا تو آج ہمارے ملک کا یہ حال ہوتا؟ 

عصر حاضر کے قاضی کے لئے علم و تجربہ سے زیادہ ریفرنس چاہیے ہوتے ہیں۔ اگر قاضی کی اہلیت کی شرائط کو دیکھا جاتے تو اس میں پہلی شرط ہی یہ ہے کہ اس کو اس عہدے کی خواہش نہ ہو۔ آج ہمارے نظام عدل میں کتنے ایسے ججز ہونگے جو اس شرط پر پورے اترتے ہونگے؟

اگر آرڈیننس کو پڑھا جائے تو ان کمیٹیوں کو ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹیوں کا نام دیا گیا ہے جو چھ ممبران پر مشتمل ہوتی ہیں جن میں ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، متعلقہ اسٹنٹ کمشنر، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، علاقے کا متعلقہ ڈپٹی پولیس آفیسر اور ایک کسی سرکاری ایجنسی سے کمیٹی کی طرف سے لیے گئے ممبر پر مشتمل ہوتی ہے۔ 

پاکستان کا آئین و قانون ہی کمشنرز کو زمینوں کے متعلق تنازعات کے فیصلوں کا اختیار دیتا ہے اور ان کی تعناتیوں کے لئے ایل ایل بی کا ہونا کوئی شرط نہیں۔

تنازعات کو ختم کرنے کے لئے تو عدالت کا ہونا بھی ضروری نہیں پولیس کو تنازعات نمٹانے کا اختیار ہے اور ان کی تنازعات متعلق تفتیشیں ہی عدالتی فیصلے کی بنیاد ہوتی ہیں اور ان کی رائے پر عدالتیں انصاف کی مہر ثبت کرتی ہیں۔

ہم نے پنچائتوں کے ایسے ایسے انصاف دیکھے ہیں جن پر عدالتیں بھی بڑے فخر سے اپنی مہر ثبت کرتی ہیں۔ انکی ساکھ ہی انکے فیصلوں کی اتھارٹی ہوتی ہے۔ انکی غیر جانبداری، شفافیت اور برابری کا عمل ہی ان کا برانڈ ہوتا ہے۔ 

ان کمیٹیوں اور ٹربیونلز نے ریاست کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے کتنی محنت سے معاملات کو نمٹایا ہوگا۔ یہ کمیٹیاں تو حقوق ملکیت کے ریکارڈ پر فیصلے کرتی ہیں جن کے اندر نا انصافی کے نہ ہونے کے برابر چانس ہوتے ہیں۔

اب اگر کسی کی طبیعت یا رسم و رواج پر بھاری اترے تو کیا کہا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں تو بیٹیوں اور بہنوں کو جائیداد میں حصہ دینا یا مانگنا بھی بے غیرتی اور بے عزتی سمجھا جاتا ہے۔ ایسی عزت اور غیرت کی رکھوالی کے لئے عدالتوں کے سہارے سال ہا سال مقدمات زیر التوا رہتے ہیں۔ 

ہو سکتا ہے اس آرڈیننس میں قانونی سقم ہوں مگر ان کی نشاندہی کر کے اصلاح کی کوشش کی جاتی۔ ہو سکتا ان کے قریب یہ بھی سقم ہو کہ اس میں وکیل کے زریعے نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ بھی قانونی سقم ہو کہ عدالت میں اگر کوئی معاملہ زیر التوا ہو تو عدالت کو عرض کر سکتے ہیں کہ وہ معاملہ ان کو بھیج دیں۔ انکے نزدیک یہ بھی سقم ہو گا کہ وہ طوالت پر مبنی ضابطوں کا نہیں اپناتے جن میں بابے آدم کے دور کے اخباری اشتہارات وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ بھی سقم ہوگا کہ فیصلہ 90 دنوں میں کرنا انصاف کا تقاضہ ہے۔ انکے نزدیک یہ بھی سقم ہوگا کہ قبضہ کا حصول فیصلے کا حصہ ہے ایسا نہیں کہ سائل کے ہاتھ میں فیصلہ تھما دیا جائے اور وہ اس پر عمدرآمد کے لئے در بدر دھکے کھاتا پھرے۔

مگر یہ قانونی سقم نہ تو اس آئین و قانون کی خالق قانون ساز اسمبلی کے نزدیک ہے اور نہ اس آئین کی اتھارٹی کے نزدیک جس کو آئین ہی آرڈینس جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے اور نہ ہی اس غریب عوام کے نزدیک جن کے مظلوم، بے یارومددگار اور بے کس افراد اپنے حقوق کے حصول کے لئے سالہا سال عدالتوں کے باہر دھکے کھاتے ہیں مگر حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ 

کیا روائتی نظام انصاف میں کوئی سقم نہیں جس کے اندر دادا انصاف کے لئے جاتا ہے اور پوتا فیصلہ تو شائد حاصل کر لے مگر اس کو یہ کئی نسلوں تک سمجھ نہیں آتی کہ اب اس پر عملدرآمد کیسے اور کب ہونا ہے؟ 

آپ کو معلوم ہے کہ اس آرڈیننس کے زریعے سے اپنا حق حاصل کرنے والوں کے عدالت عالیہ کے اس حکم امتناہی پر کیا ریمارکس ہیں؟ آج کل سوشل میڈیا پر کھل کر عدلیہ بارے عوامی اعتماد پر بات ہو رہی ہے۔ چند فیس بک کے حوالے سے شئیر کرتا ہوں۔

"تم لوگوں کو عدالتی سپریمیسی کی فکر ہے لیکن جس غریب کے پلاٹ کا قبضہ عدالت چھڑوانے میں 30 30 سال لگا دیتی ہے کسی قتل کے ملزم کو سزا دینے میں عدالت 20 20 سال ٹرائل کرتی ہے کسی غریب کی جمع پونجی لوٹی جانے پر عدالتیں ریکوریوں میں 5 5 سال گھسیٹتی ہے

کسی طاقتور سے غریب کے حق حلال کے پیسے دلوانے میں عدالتیں ملزمان سے حلفیہ بیان لیکر چھوڑ دیتی ہوں ایسے عدالتی نظام پر بلڈوزر پھیر دینا چاہیے"۔(عظمت علی)

"عدالتی بالا دستی کے نام پر نہ خود دھائیوں سے کچھ کیا نہ کسی اور کو کرنے دینا ہے سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ اگر ہماری عدالتیں اپنا کام کرتیں تو اس قانون کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی؟"(ناصر بٹ)

"آخر ججوں اور وکیلوں نے بھی تو روزی روٹی کمانی ہے۔ قتل، اغوا برائے تاوان جیسے مقدمات سی سی ڈی حل کر دے، تجاوزات اور قبضے پیرافورس چھڑوا دے تو ان دیوانی مقدمات کا کیا بنے گا جو یہ جج اور وکیل ملی بھگت سے سے تاریخ در تاریخ دے کر لٹکائے رکھتے ہیں؟ با اثر مجرم ہی پیسے والا ہوتا ہے ریٹ بھی زیادہ وہی دیتا ہے اب اگر حکومت ان طاقتور پارٹیوں کو فِکس کرنے لگے تو ہمارا نظام انصاف تو بے روزگار ہو جائے گا۔ عدلیہ اپنی برادری کے معاشی قتل عام پر خاموش کیسے رہ سکتی ہے۔

یقین کریں کہ پاکستان میں ہر خرابی کی جڑ ہماری عدلیہ ہے اور ہر جُرم کے سرپرست مسند عدل پر بیٹھے انصاف فروش درندے ہیں"۔(ظفر الاسلام)

 ان میں سے بہت سارے سخت فقرے میں حزف کئے ہیں۔ ان کی باتیں ٹھیک ہیں کیونکہ ہمارا مروجہ نظام انصاف ظالم کی حمائت میں زیادہ اور مظلوم کے حق میں کم ہے۔ ظالم جائیدادوں پر قبضے کرکے عدالتوں سے اسٹے آرڈر لے لیتے ہیں اور پھر سالوں اس پر طوالت کے زریعے فائدے اٹھاتے رہتے ہیں۔

اگر قانونی سقم ہوں تو بھی کوئی جج اپنے سامنے مقدمے پر تو حکم امتناہی جاری کر سکتا ہے مگر کسی آئینی و قانونی انتظامی عہدیدار یا کسی آئینی و قانونی کمیٹی، ٹربیونل یا اتھارٹی کے ایسے فیصلے جن کا ان کو علم ہی نہ ہو کو بغیر دیکھے کیسے ختم کر سکتا ہے؟ 

میرا یہ بھی سوال ہے کہ زمینوں کے تنازعات کے فیصلےکرنے کا جو اختیار محکمہ مال کے پاس ہے وہ آئینی و قانونی ہے یا نہیں اور کیا عدالتیں ان کے ریکارڈ کے بنیاد پر فیصلے نہیں کرتیں؟ 

کمیٹیوں کو مبینہ طور پر اس بنیاد پر کام کرنے سے روکا گیا ہے کہ اس سے سول رائٹس اور جوڈیشل سپرمیسی ختم کی گئی ہے حالانکہ آرڈیننس میں اگر کمیٹی فیصلہ نہ کر پائے تو ٹربیونل کو بھیج سکتی ہے جس کو سول کورٹ کا درجہ حاصل ہے جس میں لاء گریجویٹ ہی ہونگے اور اس کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے جسے چیف جسٹس کا بنایا ہوا ڈویژن بنچ سنے گا۔ 

عدالت عالیہ نے کیس کو فل کورٹ بنچ کو بھیج دیا ہے جو خوش آئیند ہے کہ کم از کم انہوں نے اپنے جذباتی اور جارحانہ سوچ کی طبع آزمائی کی بجائے فل کورٹ کو ایک اجتماعی رائے قائم کرنے کا موقع دیا اور یقیناً یہ فیصلہ پاکستان کی تاریخ میں کیس سٹڈی ثابت ہوگا۔ چونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے اس لئے اس پر مزید کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ ان کے آئینی و قانونی رتبے کے تقدس کا بھی احساس ہے مگر اس بھی زیادہ اپنی عزت کا خیال ہے۔

حکومت سے گزارش ہے کہ یہ آرڈنینس مفادات عامہ کا معاملہ ہے اس لئے اس پر پوری تیاری کے ساتھ پیش ہوں اور اس معاملے کو وفاقی آئینی عدالت کو ریفر کیا جانا چاہیے تاکہ قانون ساز اسمبلی اور عدالتوں کے اختیارات کی تشریح احسن طریقے سے ہو سکے۔ اس کیس کی کاروائی بھی قومی نشریاتی اداروں کے زریعے سے براہ راست دکھائی جانی چاہیے۔

پیر، 20 جنوری، 2025

مذاکرات سے"قومی مفاہمتی معاہدے" کی صورت پائیدار مستقبل کا حل ڈھونڈنا ہوگا

  

مذاکرات میں تیسرے مرحلے کے اندرپی ٹی آئی کی طرف سے تحریری مطالبات بھی دئیے جا چکے ہیں لیکن اب  پھر سے خدشات شر اٹھانے لگے ہیں اور عمران خان نے مذاکرات کو ختم کرنے کی دھمکی بھی دی ہے  جو تشویشناک عمل ہے۔ مذاکر اب رکنے نہیں چاہیں بلکہ سنجیدگی سے کسی بہتری کے حل کو تلاش کرنا ہوگا۔

 جمہوری نظام میں بہتری کی گنجائش ہر مرحلے پر موجود ہوتی ہے ۔ اس میں عوامی نمائندوں کے چناؤ کے مراحل میں مکالمہ کے زریعے اور بعد میں پارلیمان کے اندر ڈسپلن، نگرانی اور جوابدہی کے عمل سےحکومتی امور کو چلانے کے لئے وسیع ترعوامی مفاد میں ہر طرح کے زرائع کو استعمال کرتے ہوئے مناسب فیصلوں کے لئے ہر ممکن کوشش کی جاسکتی ہے۔ یہ سب تب ہی ممکن ہے جب جمہوریت کے اندر تسلسل ہو۔

اب پارلیمان میں ایسا ماحول پیدا کرنا پارلیمانی سیاسی جماعتوں کی ذمہ داریوں میں آتا ہے تاکہ  قومی سطح پر نہ صرف امن، خوشحال اور ترقی کی پائیداری کو یقینی بنایا جاسکے۔ جس کے لئے انکو ذاتی اختلافات، خواہشات سے بالا تر ہو کر سوچنا چاہیے۔ اور اس کے لئے مستقبل کو در پیش خطرات اور ان کےحل کی بھی ان کو فکر ہونی چاہیے۔  جو ہمارے ہاں قطعاً بھی نہیں کی جاتی اسی لئے ملک ایک قدم آگے جاتا ہے تو دو قدم پیچھے چلا جاتا ہے۔

اب حکومت نے اپوزیشن کی تمام تر کوششوں اور حربوں کے باوجود معیشت کو سنبھال لیا ہے لیکن اگر اس کو سیاسی طور پر امن کا ماحول میسر ہوتا تو یہ اس سے بھی زیادہ بہتر ہوتی۔ اسی طرح 2013 میں بھی معیشت کو بہتر بنا لیا گیا تھا مگر 2018 کی سیاسی انجئنیرنگ نے ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔ اس لئے اب بھی مستقبل میں ایسے خطرات سے محفوظ رہنے کی سوچ کے پیش نظر اصلاحاتی اقدامات کی ضرورت ہے جن کو کامیاب بنانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہونا چاہیے جس کے لئےمذاکرات انتہائی ضروری تھےجن کا آغازہو چکا ہے اور اب کوشش کر کے ان میں تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کر لینا چاہیے تاکہ جمہوریت سے مستفید ہو کر قومی صلاحیتوں کو ملک کی فلاح اور امن کے لئے استعمال کرنے کا ماحول بنایا جا سکےجس کے لئے محاذ آرائی کی سیاست کو مفاہمتی سیاست میں بدلنے کی ضرورت ہے۔

اب اقتدار کی جنگ کو ملکی فلاح کی لئے خیر باد کہنا ہوگا۔ جب سب کا دعویٰ جمہوریت کی مضبوطی اور ملک و قوم کی فلاح ہے تو پھر اس پر اکٹھے کوئی لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ بھی حب الوطنی کا دعویٰ  رکھتی ہے اور اگر انکاملک کو درپیش خطرات کے پیش نظر مجبوری کے تحت ایسے اقدامات اُٹھانے کا دعوی سچ ہے تو ایسے میں ان کو بھی جمہوریت کی مضبوطی اور سیاسی نظام کی کڑی نگرانی کے لئے اصلاحات کا ساتھ دے کر ایسی مجبوریوں کی ممکنات کو ختم کرنے کے لئے اپنی تجاویز دینی چاہیے۔ ادارے ریاست کے دست وبازو ہوتے ہیں اس لئے ریاست کے اندر عوام کی نمائندہ حکومت  یا سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیاں محاذ آرائی کی سوچ اور ماحول کسی بھی صورت ملک و قوم کے لئےمناسب نہیں ہوتے۔ لہذا اگر سب کے دعووں کا مطمہ نظر ایک ہی ہے تو پھر اس کے حصول کی خاطر مفاہمت کی کوشش میں رکاوٹ کیوں ہے؟

اس کو مذاکرات کی میز پر ہی جانچا اور اس کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت مفاہمت کے لئے ایک سازگار ماحول ہے۔ متحرک اپوزیشن پی ٹی آئی بھی حکومت کو مجبور کر کے اپنے مطالبات منوانے کے تمام تر حربے استعمال کر چکی ہے اور حکومت اس کے باوجود اپنے معاشی بہتری اور ترقی کے اہداف کی طرف بڑی کامیابی سے بڑھ رہی ہے جس کا بانی پی ٹی آئی نے بھی اعتراف کیا ہے۔

مقبولیت ان کا سیاسی اثاثہ ہے جس کو محفوظ کرنے کا ان کو حق پہنچتا ہے مگر انہیں قومی سوچ کے تحت یہ بھی سوچنا اور سمجھنا ہوگا کہ  محاذآرائی کی سیاست میں وہ اپنے فالوورز کی صلاحیتوں کو ضائع کر رہے ہیں ۔ کتنے پڑھے لکھے نوجوان 9 مئی کے بعد سے جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں  اور ابھی 26 دسمبر کو بھی بہت بڑا نقصان ہوا ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح آگے بڑھتا رہا توحالات ناقابل تلافی نقصان کی طرف بھی جا سکتے ہیں ۔مقبولیت کا حصول بھی آسان کام نہیں مگر اس کو قائم رکھنا اس سے بھی مشکل مشق ہے۔ اور اگر سمجھا جائے تو یہ مقبولیت قومی اثاثہ  ہوتا ہے اور اس کااستعمال بھی ذاتی یا جماعتی مفادات کی بجائے امانت سمجھتے ہوئے قومی و ملکی مفادات کے لئے ہونا چاہیے  اور عوام کا اگر ان پر اعتماد ہے تو ان کی صحیح راہنمائی کرتے ہوئے ایسا شعور دینا ہوگا جوملک کو اچھی قیادت دینے کے قابل ہو اور اس اثاثے کو ضائع ہونےسے بچانے میں سب سے بڑی ذمہ داری ان کی ہے۔ ذولفقار علی بھٹو کوبھی مقبولیت ضرور ملی قوم نے ان سے بے پناہ محبت کا والہانہ اظہار کیا مگر وہ بھی اس قوم کو وہ شعور نہ دے سکےجو قوموں کی تقدیریں بدلتا ہےوگرنہ اس ملک میں قومی سطح پر اگر شعور کسی نے دیا ہوتا تو  آج یہاں  یوں قیادت کا فقدان نہ ہوتا۔

اب حکومت نے جب ان کے تمام تر مشکلات کھڑی کرنے کے حربوں کے باوجود معیشت کو سنبھال لیا ہے تو عنقریت ملک کے سیاسی حالات اپنی کروٹ بدل بھی سکتے ہیں ۔ اب ہمدردیوں کے جذبات سرد اور ترقی کی خواہشوں پر دائیں بائیں سے پڑنے والی جھلکوں کے تاثرات حاوی ہونے والے ہیں ۔

بانی پی ٹی آئی کی اس مقبولیت کو جب بھی دھچکا لگے گا وہ خیبرپختونخواہ سے ہوگاکیونکہ وہاں کے عوام نے ان کو پچھلے بارہ سالوں سے حکومت دی ہوئی ہے اور وہاں کے عوام  کا بھی حق ہے کہ باقی ملک کی طرح ان کو بھی آسائشیں اور سہولتیں میسر ہوں ۔ وہاں اس کے اثرات میں دیر اس لئے لگی کہ وہاں کے عوام محنتی ہیں اور تجارت میں وہ دوسرے صوبوں کے عوام سے آگے ہیں  وگرنہ کے پی کے میں وہ ترقی نہیں ہو پائی جو پنجاب میں مسلم لیگ نون کے حکومتی ادوار میں ہوئی اور ابھی بھی پنجاب دوسرے صوبوں سے کافی آگے ہے جس کا اثر یقیناً دوسرے صوبوں کے عوام کی سوچوں پر بھی پڑے گا۔

جس کا آغاز اب کے پی کے میں حکومت کے خلاف تحفظات اور احتجاج کی صورت انگڑائیاں لیتا ہوا محسوس  بھی کیا جا سکتا ہے جس پر آنکھیں بند کرنے سے وہی انجام ہوگا جو 2022 میں عوامی بڑھتی ہوئی مشکلات کے دباؤ پر پی ٹی آئی کے ممبران پارلیمان کی مسلم لیگ نون میں جانے کی دوڑ کا سماں تھا۔ 

اور اب اس مقبولیت کو حکومت کی طرف سے ان کے لئے کھڑی کی جانے والی مشکلات اور محاذ آرائی  کی ہمدردیوں کے سہارے زیادہ دیر قائم نہیں رکھا جا سکے گا۔ وہ مقبولیت سے متوقع فائدے حاصل کرنے میں کامیاب اس لئے نہیں ہو پا رہے کہ یہ مقبولیت خالصتاًشعوری نہیں بلکہ ہمدردانہ ہے بلکل ویسے ہی جس طرح 2008 میں پیپلز پارٹی کو بے نظیر کی شہادت پر ہمدردیوں کے عوض حکومت ملی مگر وہ اس مقبولیت کو سنبھال نہ پائے۔ اسی طرح کاتجربہ ان کو بھی 2018 سے 2022 تک ہو چکا ہے گو اس کے حقائق کچھ مختلف تھے مگر جاتی ہوئی مقبولیت کا نظارہ وہ کرچکے ہیں جو بعد میں دوبارہ ان کو  2022 میں حکومت جانے سے ہمدردیوں کی صورت ملی

اُس وقت تو حکومت کی تبدیلی سے پی ٹی آئی کو سیاسی نقصان کی بجائے فائدہ ملا لیکن اب ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ اب ان کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو وہ کے پی کے میں کارکردگی کو دکھا کر اگلے انتخابات کی تیاری شروع کریں یا پھر  مرکز کے ساتھ محاذ آرائی سے ایمرجنسی لگوا کر کارکردگی کی بجائے پھر سے عوام کی مظلومیت کی بنیاد پر ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کریں جو ان کی مروجہ سیاسی حکمت عملی ہے لیکن یہ ان کی ایک اور بہت بڑی سیاسی غلطی ہوگی جو انکے لئے ماضی کی نسبت زیادہ مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

حکومت نے اپنے ترقی کے اہداف کی طرف سفر کو شروع کر لیا ہے اور جیسے ہی وہ اپنے لئے عوامی تاثرات کے ماحول کو سازگار پائیں گے تو وہ ان کی اسیری جیسی مشکلات میں نرمی اور سہولت کا تاثر پیدا کرکے ان کی اس ہمدردی والے بیانیوں کو کمزور بنا دیں گے۔ اور پھر جیت اور ہار کی بنیاد اگلے انتخابات بن چکے ہونگے جن کی تیاری کرنی ہوگی۔ لہذا ان کو بھی اپنی مقبولیت کو بحال رکھنے کے لئے مفاہمتی سوچوں کی راہ ہموار کرنے اور اس پر دوسری جماعتوں کو ممنون ہونے کا رویہ اپناتے ہوئے مذاکرات کے لئے صاف دل کے ساتھ ہاتھ بڑھانے میں پہل کرنی چاہیے۔

 اور باقی سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو  بھی اجتماعی سطح پراس  سوچ اور مقبولیت کو مثبت سمت میں استعمال کرنے کی راہ نکالنے میں اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انکی سیاسی بصیرت کا یہ امتحان ہے کہ وہ ملک و قوم کی بہتری کے لئے کس قدر اپنی خواہشات اور ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر قربان کرتے ہوئے مفاہمتی عمل کو کامیاب کرواتے ہیں۔

مذاکرات کو کامیاب بنانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ متنازع مینڈیٹ ہے کہ اس میں ردوبدل کیا گیا ہے جس کو حل کرنے کا ایک ہی حل ہے کہ ایک "قومی معاہدہ مفاہمت" ترتیب دیا جائے جس کے تحت اگلے پانچ سالوں کے لئے تمام اختلافات کو بھلا کر تمام بڑی جماعتوں کو ملکی فلاح، امن اور سیاسی استحکام کے لئے ایک ہونا پڑے گا اقتدار کے تنازعے کا خاتمہ کوئی مشکل کام نہیں جب پوری قوم ایک ہو جائے اور ملک و قوم کی فلاح کی خاطر اپنے اختلافات کو بھلا کر مفاہمت کی پالیسی پر چلنے کی ٹھان لے تویہ عہدے اور وزارتیں علامتی سی بن کر رہ جاتی ہیں۔ساری جماعتیں اپنی اپنی نمائندگی کے تناسب سے وزیر اعظم کا عہدہ بھی سالوں کے دورانیے کے حساب سے لے سکتے ہیں اور وزارتیں بھی اسی نسبت سے لی جا سکتی ہیں۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ جب پوری قوم اور سیاسی جماعتیں کسی ایسے میثاق مفاہمت پر متحد ہوجائیں تو یہ عہدے صرف ذمہ داریاں بن کر رہ جاتے ہیں اور ان کی اہمیت صرف خدمت کے جذبےسےجڑ کر رہ جاتی ہے اور ان کی خواہش بھی معدوم ہو جاتی ہے۔

حکومت اور اسٹیبلشمنٹ  سے بھی گزارش ہےکہ وہ بھی یہ نہ سمجھیں کہ انہوں نے تمام رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہوئے حالات پر قابو پا لیا ہے تو ان کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں اور عمران خان کی مقبولیت کو اپنے حریف کی نہیں بلکہ قومی اثاثہ سمجھتے ہوئے اس کو شعور دے کر قومی افرادی قوت کی صلاحیتوں اور اہلیتوں کو ملکی سلامتی اور خوشحالی میں استعمال ہونے کے ماحول کو پیدا کرنے کے لئے کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ اپنی سوچ کو اقتدار کی طمع سے آزاد کر کےاسے وسیع تر قومی مفاد سے ہم آہنگ بنائیں۔ عمران خان کی سیاسی حکمت عملی  سے اگر اختلاف بھی ہو تو بھی ان کی مقبولیت کے پیچھے عوامی مینڈیٹ کا احترام تو ان کا آئینی، شہری اور قانونی حق ہے۔ اگر وہ اپنی سیاسی  ساکھ کی قربانیاں دے کر ملک کو بچانے کے دعوے کا عملی ثبوت دینا چاہتے ہیں تو  پی ٹی آئی کے ساتھ جاری مذاکرات کو "قومی میثاق مفاہمت" پر ایک ہوجانے سے مشروط کر دیں اور عالمی سطح پر ایک "سافٹ انقلاب" کی نئی مثال قائم کرنے میں اپنے حصےکا کردار ادا کریں ۔ ملک کے مستقل کو سیاسی انتہاءپسندی سے بچانے کا اس سے بہتر اور کوئی حل نہیں۔

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین